مغرب کو بدھ مذہب کیوں پسند ہے اور اسلام کیوں ناپسند؟ —- احمد الیاس

1

اس سوال کو پھیلا کر یوں بھی کیا جاسکتا کہ سیکولر جدیدیت کو ابراہیمی دینی روایت کیوں ناقابلِ قبول لگتی ہے لیکن ہندوستانی مذہبی روایت کو وہ کیوں برداشت کرنے پر تیار ہے؟ اکثر مغرب زدہ دانشوروں کو ہم نے ابراہیمی مذاہب بالخصوص اسلام پر تنقید کرتے اور ہندوستانی عقائد بالخصوص بدھ مذہب سے متاثر ہوتے دیکھا ہے۔ “نئے دور کی روحانیت” (new age spirituality) زیادہ تر ہندو، جین اور بدھ مذہب وغیرہ سے ہی متاثر ہے۔ دلائی دلاما، ستگُروُ اور اوشو جیسے چوٹی کے pop spiritualist بھی ان ہی مذاہب کے پس منظر سے آئے ہیں۔ ایسا کیوں؟

آسٹریا کے یہودی النسل نو مسلم محمد اسد نے پچاس کی دہائی میں “روڈ ٹو مکہ” کے دیباچے میں اسلام سے متعلق مغرب کے اس رویے پر کچھ روشنی ڈالی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانوں کی طرح تہذیبوں کی بھی نسلیں ہوتی ہیں اور ایک نسل فکری و نظری طور پر گزشتہ نسل سے مختلف بھی ہو تب بھی وہ کچھ عصبیتیں اور تعصبات ورثے میں ضرور پاتی ہے۔ جدید سیکولر مغربی تہذیب نے قرونِ وسطیٰ کی مذہبی مسیحی تہذیب سے اسلام کا وہ خوف اور مسلمانوں کے خلاف وہ تعصب وراثت میں پایا ہے جو صلیبی جنگوں کا محرک تھا۔ اس کے برعکس چونکہ اس دور میں ہندوستان اور چین کے ساتھ مغرب کا کوئی براہ راست رابطہ نہ تھا لہذا ان خطوں کے تمدن مغرب سے بالکل جدا ہونے کے باوجود مغرب کے مقابل نہ آسکے۔

اسلام ابراہیمی مذہب ہونے نیز جدید استقرائی و علمی ذہنیت کے قریب تر ہونے کے سبب مغربی ذہن کے لیے مجموعی طور پر بطور اساسِ حیات قابلِ قبول بھی ہوسکتا ہے۔ گویا اسلام مغربی تہذیب کے لیے واحد ممکنہ وجودی چیلنج کے طور پر موجود ہے۔

جدید مغرب کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اسے اس بات کا احساس ہے کہ صرف اسلام ہی اسے اس کے گھر میں replace کرسکتا ہے کیونکہ ایک تو تاریخی طور پر صرف اسلام ہی ہے جس نے جغرافیائی اور معنوی طور پر متوسط تمدن ہونے کے سبب یورپ سمیت اپنے ارد گرد ہر تہذیب میں پاؤں جمائے اور دوسرا یہ کہ اسلام ابراہیمی مذہب ہونے نیز جدید استقرائی و علمی ذہنیت کے قریب تر ہونے کے سبب مغربی ذہن کے لیے مجموعی طور پر بطور اساسِ حیات قابلِ قبول بھی ہوسکتا ہے۔ گویا اسلام مغربی تہذیب کے لیے واحد ممکنہ وجودی چیلنج کے طور پر موجود ہے۔ بدھ مت یا ہندو مذہب مغرب میں زیادہ سے زیادہ ایک فیشن یا ٹرینڈ بن سکتے ہیں، متبادل تہذیب ہرگز نہیں۔

لیکن معاملہ محمد اسد کے اس ابتدائی استدلال سے بھی زیادہ پھیلا ہوا اور گھمبیر ہے۔ صرف اسلام ہی نہیں بلکہ مسیحیت کے خلاف بھی جدید مغربی سیکولر ذہن تعصب کا شکار ہے۔ وہی باتیں جو بدھا کے نام سے مغربی ذہن یا مغرب زدہ ذہن کو “روایتی روحانی حکمت” لگتی ہیں جب کسی ابراہیمی حوالے حتیٰ کہ سیدنا مسیح کے حوالے سے کی جاتی ہیں تو غیر منطقی اور رجعت پسندانہ لگنے لگتی ہیں۔

دراصل ابراہیمی ادیان (بالخصوص اسلام اور یہودیت) میں زندگی کی عملیت پسند اور قدرے ترقی پسند بنیادیں موجود ہیں۔ جدید مغربی سیکولرازم نے چونکہ ایک ابراہیمی دین (مسحیت) کی ہی کوکھ سے جنم پایا ہے لہذا اس کو اپنے رشتہ داروں (بالخصوص چچا اسلام) سے اب بھی خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ اس کے طرزِ زندگی پر تسلط نہ پالیں۔ اس کے برعکس ہندو، جین اور بدھ مذہب چونکہ ایک بالکل مختلف خاندان سے ہیں، بہت قدیم ہیں اور جدید ذہن سے بنیادی طور بالکل غیر مطابق ہیں اور مغربی ذہن کو “یونیک” ہونے کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ کچھ دیر کے لیے حیران تو کرسکتے ہیں لیکن فتح نہیں کرسکتے لہذا سیکولر فکری اسٹیبلشمنٹ ان کو برداشت کرتی بلکہ توہم سے متعلق انسانی فطری تقاضوں کی تسکین کے لیے کسی حد تک فروغ تک دیتی ہے۔

دراصل بدھ مذہب کے حوالے سے عمومی تاثر میں مغرب وہ تمام خصوصیات بھرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے مذہب میں درکار ہیں (اگرچہ ان میں سے بہت سے عناصر حقیقی بدھ مذہب میں ہیں بھی نہیں) اور اسلام کے حوالے ے عمومی تاثر میں مغرب وہ تمام رنگ بھرنے کی کوشش کرتا ہے جو اسے مذہب میں نہیں چاہیئیں کیونکہ وہ اس کو چیلنج کرتے ہیں (اگرچہ ان میں سے بہت سے عناصر اسلام میں ہیں ہی نہیں)۔ پھر اورئینٹلزم کی آزمودہ تکنیکوں کے مطابق بدھ ازم وغیرہ کو ایک خوبصورت سی مگر نازک مشرقی بچی کے طور پر متعارف کروایا جاتا ہے اور اسلام کو ایک خوفناک جن کے طور پر۔ اور غیر محسوس طریقے سے دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کی خوبصورت نازک مشرقی بچیوں کو اس خوفناک جن سے صرف مغربی سپر مین ہی بچا سکتا ہے۔

Image result for buddhism in USAسیکولر تہذیب کو مذہب اس صورت میں بالکل ناپسند نہیں جب یہ معاشرتی زندگی کے کئی رنگوں میں سے ایک رنگ بن کر رہ جائے۔ آخر فینٹسی فکشن، آسٹرولوجی اور ہوروسکوپ اور پامسٹری وغیرہ بھی تو مغربی تمدن میں بہت مقبول ہیں۔ مغرب چاہتا ہے کہ مذہب اس کے مادیتی نظریات پر اثر انداز ہونے یا انہیں چیلنج کرنے کی بجائے فینٹسی فکشن اور آسٹرولوجی وغیرہ کی طرح پوپ کلچر کی ایک شئے بن کر رہے (اس صورت میں روحانیت انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا حصہ بن کر جدید منافع بخش انڈسٹری بھی ہوگی۔ اوشو، دلائی لاما اور ستگُروُ کی مثالیں سامنے ہیں)۔

اب ظاہر ہے ابراہیمی ادیان جیسی شاندار روایتوں کے لیے اور بالخصوص اسلام کے لیے اس کردار پر اکتفا کرنا ناممکن ہے۔ کبھی تصوف کو مسخ کرکہ اور کبھی تصوف کا انکار کرکہ اسلام کا ایسا ورژن تیار کرنے کی بہت سی کوششیں ہوئیں جو نیو ایج روحانیت کے سانچے میں فٹ ہوسکیں، لیکن مسلمانوں نے کبھی ایسی کسی کوشش کی جانب توجہ نہ کی۔ اس کے برعکس اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کلاسیکی اصولوں پر کھڑی جامع اسلامی تہذیب کا احیاء کوفہ و بغداد سے نہیں بلکہ مغرب کی تازہ بستیوں سے ہی ہوگا۔ جدلیات کے اصول کے لحاظ سے اسلام اور مغرب کی کشمکش کا نتیجہ ہونا بھی شاید کچھ ایسا ہی چاہیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اتنے علمی جوابات کی کیا ضرورت تھی اصل وجہ یہ ہے کہ مغرب دنیا عالم اسلام کے وسائل کے مسلسل استحصال کے نتیجے میں ترقی یافتہ ہوی ہے نوآبادیاتی نظام نہیں ہوتا تو کبھی بھی مغرب اس ترقی کو حاصل نہیں کر سکتا تھا تو چور تو ھمیشہ ہی ڈرتا ھے اسلیے ڈر ہے اور خوف ہے اسلام سے کیونکہ اسلام ہی اصل میں حریف ہے جسے سازش سے جعلی حکمرانوں کے زریعے دبایا ہوا ہے لیکن آخری جنگ انشاء اللہ ایک دن حضرت امام مھدی بلاجماع اور حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی قیادت میں برپا ہو گی اور قرآن میں ھے کہ مجرمین کی آنکھیں نیلی ہوں گی یہ نیلی آنکھ والے گوری اقوام ان کی تباھی مقدر ہے

Leave A Reply

%d bloggers like this: