خراشیں ——– محمد مدثر احمد

0

باقی سب تو ٹھیک تھا البتہ گیٹ تھوڑا تنگ تھا۔ گاڑی اس میں سے بمشکل گزرتی تھی۔ گاڑی پارک کرنے اور باہر نکالنے کے لیے بڑی احتیاط سے ایک خاص زاویہ اختیار کرنا پڑتا تھا۔ غلطی کی گنجائش محدود تھی۔ اس نئے کرائے کے مکان میں گاڑی بغیر خراش کے کھڑی کرنا اور ریورس کر کے باہر نکالنے کا ہنر آتے آتے ہی آیا۔ اس سیکھنے کے عمل میں بعض اوقات یہ بھی ہوا کہ جلد بازی یا زیادہ خود اعتمادی کی بنا پر ضروری احتیاط کو نظر انداز کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ گاڑی گیٹ کی اندرونی دیواروں سے مس ہو کر گذری۔ ایسی تمام غلطیاں میری گاڑی پر نشان چھوڑتی گئیں۔ وقتاََ َفوقتاََـ گاڑی پر لگی یہ گہری یا سطحی خراشیں اس کی چمک قدرے ماند کرتی گئیں۔ ہر خراش اپنے ساتھ کسی دور میں ہوئی بے احتیاطی، جلد بازی یا غلطی کی تفصیل گا ڑی کی سطح پر اپنے ساتھ محفوظ کرتی گئی۔

اب ایسی ہر خراش کو دیکھ کر مجھے قدرے ملال ہوتا ہے یہ گاڑی جب میرے استعمال میں آئی تو بے عیب تھی۔ کسی بدنما داغ یا خراش کا کہیں وجود نہ تھا۔ اس کی صاف ستھری چمک دار سطح پر نظر نہ ٹھہرتی تھی۔ اس کی خوبصورتی، چمک اور نفاست کو بر قرار رکھنے کے لیے جو اہتمام ضروری تھا وہ نہ کیا جا سکا۔ آج جبکہ میں ان غلطیوں اور خراشوں کے ابتدائی دور سے تھوڑا آگے نکل آیا ہوں اور گاڑی کو بحفاظت پار کرنے کے لیے صحیح تکنیک اور زاویہ کی پہچان پا چکا ہوں، لیکن پھر بھی غلطی کا امکان کسی حد تک ہمیشہ موجود رہے گا۔ اس غلطی کے امکان کے ساتھ ساتھ ماضی میں کی گئی غلطیوں کا احساس بھی موجود رہے گا۔

بعض اوقات سوچتا ہوں کہ میں کتنا بے وقوف تھا جو ایسے الٹے سیدھے انداز میں گاڑی چلاتا رہا۔ ضروری احتیاط سے گریز کرتا رہا۔ آخر ایسی بھی کیا جلدی ہوتی تھی۔ کسی کی مدد کیوں نہ لی۔ سیکھنے میں اتنی دیر کیوں کردی اور یہ سبق اتنا مشکل بھی تو نا تھا۔ آخر اس بات کو معمولی اور کم اہم کیوں سمجھتا رہا۔

گاڑی کی خراش کا معاملہ اس کے ڈرائیور تک محدود نہیں ہوتا، دوست احباب ان خراشوں کے ذمہ دار کی صلاحیت اور شخصیت کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔ ساری گاڑی کو چھوڑکر نظر کسی تازہ خراش پر رک جاتی ہے۔ گاڑی میں مفت سفر کرنے والے اگرچہ شکریہ ادا کرنا بھول جاتے ہیں لیکن دروازے پر لگی خراش کی وجہ ضرور جاننا چاہتے ہیں۔ بعض اوقات مجھے لگتا ہے کہ یہ دھبے وقت کے ساتھ ساتھ صاف ہو چکے ہیں اور اب کسی کو نظر نہیں آتے یا جب گاڑی پر ہلکی سی گرد کی تہہ ہو تو یہ بالکل غائب ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر کوئی ایسا شخص جو اس کے ماضی سے واقف نہ ہو تو اس کو تو بالکل نظر نہیں آسکتے۔ گرد آلود سطح کو جیسے صاف کیا جائے یا سروس اسٹیشن سے دھلوا کر لاؤں تو یہ خراشیں پھر سے نمایاں ہو جاتی ہیں۔

مجھے کچھ دوستوں نے ان خراشوں کو نظر انداز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے خیال میں اب ان کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ ان خراشوں کے باوجود گاڑی ٹھیک ٹھاک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر رنگ کروا بھی لیں تو ہر گز پہلے والی بات نہیں آ سکتی۔ رنگ کو بالغ نظر لوگ آسانی سے پہچان لیتے ہیں اور ویسے بھی اس سے گاڑی کی قیمت پہلے جیسی نہیں رہی۔ ان باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میں ذاتی طور پر ان خراشوں سے جلدازجلد چھٹکارا پانا چاہتا ہوں۔ اگر میں اس کو کسی معیاری ورکشاپ پر لے جا کر کام کرواؤں تو اس پر مجھے دو خدشات ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس پر کافی خرچہ آئے گا اور یہ قیمت ادا کرنے کے لیے میں فی الحال تیار نہیں ہوں۔ دوسری مجبوری یہ ہے کہ ماہر کار یگر ان ظاہری خراشوں کے علاوہ اور بھی بہت سے عیبوں کی نشاندہی کر دے گا کہ جو ابھی تک میری اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں اور ان عیبوں کے ہوتے ہوئے بھی گاڑی چلی جا رہی ہے۔

ایک دن تنگ آکر میں نے ان داغوں سے چھٹکارا پانے کے لیے بازار سے Scratch remover لیا۔ گاڑی کی سطح کو پانی سے صاف کرکے خوب رگڑا۔ تھوڑی دیر بعد بغورجائز ہ لینے سے پتا چلا کہ خراشیں قدرے معدوم ہو چکی ہیں۔ میرے دل کو اطمینان ہوا کہ وقت گزرنے اور گاہے بگاہے Scratch remover کے استعمال سے یہ داغ دھل جائیں گے اور پھرگاڑی کی پرانی چمک دمک بحال ہو جائے گی۔

آج دفتر سے چھٹی کرکے جب میں گاڑی کی طرف بڑھا تو ڈرائیور خدا بخش کو سامنے کھڑا پایا۔ ’’ہاں بھئی خدا بخش! کیسے ہو؟‘‘ ’’صاحب !اللہ کا شکر ہے۔ مجھے بھیجا گیا ہے کہ آپ کی گاڑی کو ورکشاپ لے جاؤں اور گاڑیوں کے بجٹ میں سے کام کروا کا اس کی خراشیں دور کردوں۔‘‘ میں نے لمحہ بھر کے لیے ڈرائیور اور پھر ان خراشوں کو دیکھا۔ خدا بخش کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔  ’’خدا بخش! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں گاڑی کی خراشوں کو اپنی ذات پر منتقل کر لوں۔‘‘

اس مختصر گفتگو کے بعد گاڑی میں بیٹھتے ہی میں نے سیٹ بیلٹ باندھی اور شیشوں کو ایڈجسٹ کیا۔ کالا چشمہ لگا کر میوزک آن کیا۔ تھوڑی دیر میں خراشوں والی گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی۔ سٹیرنگ پر رکھے ہاتھ کی انگلیاں موسیقی کی لے کے ساتھ رقصاں تھیں۔

مصنف کی کتاب ’سوچ سرائے‘ سے انتخاب

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: