چاند تارے کی طاقت ——– محمد مدثر احمد

0

2009 ء میں مردان سے پشاور رات کا گشت دلچسپ مگر پُر خطر تھا۔ اُن دنوں میں بطورِ پولیس انسپکٹر اس علاقے میں تعینات ہوا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ زوروں پر تھی اور افسوس ناک جان لیوا واقعات روز کا معمول بن چکے تھے۔ نیٹو کے فوجی سازو سامان سے لدے کنٹینر ز اور فوجی گاڑیوں کے قافلے بھی یہاں سے گزرتے تھے۔

پہلے دن پٹرولنگ کرتے ہوئے میں نے اپنے ڈرائیور سے پوچھاکہ۔
’’بھئی! کیا حالات ہیں؟کوئی مسئلہ تو نہیں؟‘‘
’’سر! کوئی مسئلہ نہیں۔ میڈیا یونہی سرا سیمگی پھیلا رہا ہے۔ یہ علاقہ پاکستان کے کسی بھی دوسرے علاقے کی طرح ہی محفوظ ہے۔‘‘
اُس کا جواب سن کر میں مطمئن ہو گیا۔ باتوں باتوں میں میری نظر گاڑی کے دروازے میں کچھ سوراخوں پر پڑی۔

’’یار یہ کیسے سوراخ ہیں؟‘‘
’’سر! یہ بس ایسے ہی ہیں۔ ایک دفعہ گاڑی پر کافی فائرنگ وغیرہ ہوئی تھی۔ یہ اس کے نشان ہیں۔ باہر سے تو ڈینٹنگ پینٹنگ کروالی تھی بس یہ اندر سے تھوڑا سا کام رہتا ہے۔‘‘
’’یار! فائرنگ ہوئی تھی تو گاڑی میں کون تھا۔ بچت ہوگئی تھی؟‘‘
’’سر! ایک شہید ہوگیا تھا۔ شاید آپکو اس واقعہ کا پتا نہیں۔ دوسرا وہ ہے نا ولی محمد جو وائرلیس روم میں ڈیوٹی کرتا ہے۔ وہ بے چارہ بڑا زخمی تھا۔ اب ٹھیک سے سیدھا کھڑا نہیں ہو سکتا اس لیے اس کی ڈیوٹی بدلی کر دی ہے اب وہ دفتر یا وائرلیس کا کام دیکھتا ہے۔‘‘

مزید بات جاری رکھنے کی مجھ میں ہمت نہ تھی۔ اس کے بعد مجھے پچھلی سیٹ پر پڑی بُلٹ پروف جیکٹ پہننے کا مشورہ دیا گیا۔ اس کے بعد پھر ایک اور تسلی دی گئی۔اس تسلی کے مطابق بھی سب ٹھیک تھا۔صرف میڈیا ٹھیک نہیں تھا۔

اس بات کا مجھے بخوبی اندازہ تھا کہ یہ بلاشبہ ایک حساس علاقہ تھا۔ خطرناک حد تک مہم جویانہ۔ ابتدا ئی تشویش کے بعد میں بتدریج معاملات کو سمجھتا گیا۔ ڈیوٹی تین شفٹوں میں ہوتی تھی۔ صبح کی شفٹ محفوظ ترین اور رات کی سب سے غیر محفوظ سمجھی جاتی تھی۔ میرا انتخاب عام طور پر رات کی شفٹ تھی۔ رات جاگنا، ویرانوں میں گھومنا، گود میں AK-47رکھ کر ایف ایم پر غزلیں سننا مجھے ویسے بھی پسند تھا۔ آدھی رات کے بعد موٹروے مکمل ویران ہو جاتی تھی۔ اکا دُکا گاڑی لمبے وقفے سے نظر آجاتی تھی۔ ایسے میں میری کوشش ہوتی کہ میں تمام انڈر پاسز اور فلائی اوورز کے ساتھ ساتھ کچھ دیر حساس پوائنٹس کو گاڑی سے اتر کر اچھی طرح سے کلیئر کروں۔

اپنے ساتھی عملے کو بلاوجہ اس دعوت میں شریک نہیں کرتا تھا۔ یونیفارم والے ریگولر شوز پہننے کی بجائے جوگر ز پہنتا تھا تاکہ موٹروے کے جنگلے کے باہر کھیتوں، کھلیانوں اور ندی نالوں وغیرہ میں زیادہ محترک انداز اپنا سکوں۔ اپنی گن اور ٹارچ لیے اللہ کا نام لے کر میں ان تمام مقامات میں بے خوف و خطر اتر جاتا۔ اپنی حفاظت کی ضروری تدابیر اختیا ر کرنا اگرچہ ضروری سمجھتا تھا لیکن آدھی رات کو پولیس کی وردی پہنے ہوئے دہشت گردی سے متاثرہ علاقے میں قانون کی عمل داری کو یقینی بنانے کی کوئی بھی کارروائی کسی بھی وقت جان کا نذرانہ مانگ سکتی تھی۔ وردی میں پتہ نہیں کیا خاص بات ہوتی ہے۔ کوئی جادو ہوتا ہے یا اس پر لگے سبز ہلالی پرچم میں کوئی قوت ہے۔عام سا بندہ شیر بن جاتا ہے۔

میں تقریباََ چار ماہ اس علاقے میں رہا۔ ایک سے بڑھ کر ایک بہادر سپوتوں سے ملاقات رہی۔ ایسا عزم ایسا ولولہ کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ اعصاب شکن، روح فرسا واقعات کے درمیان بھی غیرمتزلزل اور جرّی پولیس افسران، یہ موٹروے پولیس کے ہو ں یا خیبر پختون خواہ پولیس کے، دہشت گردی کے لیے خصوصی طور پر تربیت یافتہ کوبرا اسکواڈ تمام ستائش کے مستحق ہیں۔ ان افسران اور جوانوں کی خدمات کو قوم نے اگرچہ بھر پور انداز سے سراہا ہے، لیکن پھر بھی ہمارے یہ ہیرو جس داد اور حوصلہ افزائی کے مستحق ہیں اس سے محروم رہے ہیں۔ میں اس علاقے کا مقامی نہیں تھا۔اس لیے بھی مجھے یہ ایڈوانٹج حاصل تھا کہ دہشت گرد میرا آگا پیچھا نہیں جانتے تھے۔ میری رہائش بھی پولیس کے انتہائی محفوظ کیمپ آفس میں تھی۔ اس کے بر عکس مقامی افسران اپنی فیملی سمیت قریبی علاقوں میں ہی رہتے تھے۔ ان کے لیے کسی بہادری کا مظاہرہ کرنے کے بعد اپنی شناخت چھپائے رکھنا ممکن نہیں تھا۔ وہ گھر سے اکیلے رات یا دن کو میلوں کا سفر کر کے ڈیوٹی کے لیے نکلتے تھے۔ یہ افسران آسان ہدف تھے، پھر یہ سب جانتے بوجھتے بھی انہوں نے فرض کو مقدم رکھا اور اعصاب کی اس جنگ میں خوف کو عبرت ناک شکست دی۔

پچھلے دنوں میں وہاں سے گزرا تو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ مردان سے پشاور موٹروے اب گلاب کے پھولوں سے لدی ہوئی ہے۔ یہ علاقہ ہر آنے والے دن کے ساتھ محفوظ تر ہوتا جارہا ہے۔ دن ہو یا رات موٹروے انتہائی محفوظ ہے۔ وردی پہنے سجیلے جوان رات بھر جاگتے ہیں۔ ہر رات جیتتے ہیں۔ سوچتا ہوں چاند تارا بندے کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔

(Visited 1 times, 13 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: