استعارہ، خصوصی شمارہ محمد حسن عسکری نمبر — عزیز ابن الحسن

0

محمد عمر میمن مرحوم کے رسالے ’’سالانہ دراسات اردو‘‘ (The Annual of Urdu Studies) 2012ء کے سات برس بعد، ہمارے علم کی حد تک، یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ا دبی رسالے نے محمد حسن عسکری پر ایک خاص نمبر شائع کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ الحمد پبلی کیشن، لاہور کے زیر اہتمام شائع ہونے والے اس مؤقر ادبی جریدے کا پہلا شمارہ اکتوبر- دسمبر 2017ء میں چھپا تھا۔ اور اس کا پانچواں شمارہ دسمبر 2018ء میں آیا اور اب اس کا آئندہ یعنی چھٹا شمارہ، خصوصی شمارہ محمد حسن عسکری نمبر ہے۔

اردو میں ادبی جرائد کی کمی نہیں۔ نت نئے پرچوں کی وہ بھرمار ہے کہ برساتی کھمبیوں کی طرح اگتے ہیں مگر بے موسم اگتے ہیں، پھول پھول کے موٹے یعنی ضخیم تر ہوتے جاتے ہیں مگر مقررہ مدت ــ یک ماہی سہ ماہی و ششماہی وغیرہ ــ کا وعدہ برقرار نہیں رکھ پاتے اور پھر کبھی کبھی چہرہ نمائی کرتے کرتے سال سال کے بعد شکل دکھا کر آہستہ آہستہ نہوڑا جاتے ہیں۔ مگر ایسے پرچے جو متعینہ مدت کے اندر شائع ہوں، تواتر سے شائع ہوں، جنہوں نے بہت جلد اپنا مقام بنایا اور ہندوستان اور پاکستان کے اہم ادیبوں کی توجہ حاصل کرلی ان میں “استعارہ” کا ایک خاص نام ہے۔ یہ متعینہ مدت کے اندر بھی چھپتا ہے اور باقاعدگی سے بھی چھپتا ہے۔ یہ ایک سہ ماہی پرچہ ہے۔ دو سال کی مدت میں اب تک اس کے پانچ شمارے آچکے ہیں۔
اردو میں ادبی پرچہ نکالنا کوئی خاص مشکل کام نہیں ہے لیکن اس میں باقاعدگی پیدا کرنا، اسے ایک خاص معیار پر رکھنا، اس کی اشاعت میں تواتر قائم کرنا اور اسے بروقت شائع کرتے رہنا بلاشبہ ہمت کا کام ہے جو اس رسالے، استعارہ، کے باہمت مدیروں ــ امجد طفیل اور ریاظ احمد ــ نے اب تک تو کر کے دکھایا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ ان کا یہ استقلال قائم رہے۔

نومبر 2019ء میں اردو افسانے اور تنقید ایک بڑے نام محمد حسن عسکری کی پیدائش کو سو سال پورے ہو رہے ہیں۔ اردو تنقید و تہذیب اور پاکستان کی مخصوص ثقافتی صورتحال میں عسکری کی جو حیثیت اور معنویت ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدرِشعبہ اردو کے حیثیت سے میری کوشش ہے کہ اس سال نومبر میں محمد حسن عسکری کا صد سالہ جشن ولادت ان کے شایان شان طریقے سے منایا جائے۔ اس سلسلے میں ہم نے ضروری تیاریاں شروع کردی ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کی کسی یونیورسٹی کا یہ پہلا اعزاز ہوگا کہ اردو کے سب سے بڑے نقاد کو اس کے صد سالہ یومِ ولادت پر اُن کے شایانِ مقام طریق پر یاد کیا جائے۔ راقم نے اگلے ایک دو ماہ میں عسکری پر آنے والی اپنی ایک کتاب محمد “حسن عسکری: ادبی اور فکری سفر” جو عسکری صد سالہ جشن ولادت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، کے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ

’’بر صغیر پاک وہند کی تاریخ میں پاکستان کا قیام جس تہذیبی روح کو مجسم کرنے کی ایک کوششں تھی پاکستان میں محمد حسن عسکری کی تنقید ی سرگرمیاں انہی اقدار وتصورا ت کو ادب میں متشکل کرکے عصری طرز حیات اور مسائل کے شعور کو اس ادب کا لازمی جز دیکھنا چاہتی تھیں۔ پاکستانی کلچر اور پاکستانی ادب کی بحثیں اس کے سوا کچھ نہیں۔ قیام پاکستان کے زمانے میں ہمارے ہاں دو ادبی تصورات کارفرما تھے: ترقی پسند نظریۂ ادب اور جدیدیت۔ ترقی پسند تو پاکستانی کلچر اور ادب کے ان تصورات سے سخت نالاں تھے جبکہ جدیدیت پسند ان معاملات کو ادب کا مسئلہ ہی نہ جانتے ہوئے اس بحث سے بالکل لاتعلق تھے۔عسکری کا تصور ادب ان دو نوں انتہاؤں سے الگ ہوکر جس طرح فعال اور سرگرم رہا، وہ بڑی تحریکوں اور رجحانوں کے درمیان ایک فرد واحد کی انتھک جدوجہد اور رجحان ساز اپج کی انوکھی مثال تھا۔ پاکستان میں عسکری کی کوئی سیاسی پشت پناہی نہیں تھی۔ وہ اگر حکمران طاقت کی مخالف انتہا پر نہیں تھے تو اس کے ہم نواؤں میں بھی کبھی نہیں رہے، بلکہ پہلے ترقی پسندوں کے مسئلے میں اور پھر امریکی اور سرمایہ دارانہ مفادات کو تحفظ دینے کی وجہ سے ان کا عمومی رخ مسلم لیگی و مارشل لائی پالیسیوں کے نقاد کا ہی رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوںکہ پاکستان کی مذہبی، تہذیبی، قومی اورادبی روح اپنی صدیوں پرانی شناخت کے لیے اگر کبھی کسی کو اپنے تنقید ی اظہار کا واحد نمائندہ قرار دے گی تو وہ عسکری ہی ہوں گے‘‘۔

ادبی جرائد کے مدیروں میں عسکری کے بارے میں کچھ ایسے ہی خیالات میرے یار غار مدیرِ استعارہ امجد طفیل کے بھی ہیں۔ اسی لئے انہوں نے اپنے مؤقر جریدے استعارے کا پہلا خصوصی شمارہ نمبر 6، (جنوری جون 2019ء)محمد حسن عسکری نمبر کے طور پر شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عسکری کے ایک قاری کے طور پر یہ امر نہایت دل خوش کن ہے۔ اس خصوصی نمبر کے چند لکھنے والوں کے نام اور ان کی مقالات کی عنوانات یہ ہیں:

1۔       فتح محمد ملک، ’’محمد حسن عسکری کا قومی اور ملی طرز احساس‘‘
2۔       عتیق اللہ، ’’محمد حسن عسکری شناسی کی دقتیں‘‘
3۔       ندیم احمد، ’’محمد حسن عسکری‘‘
4۔       عزیز ابن الحسن، ’’محمد حسن عسکری: اُردو تنقید کا قطبی ستارہ‘‘
5۔       عزیز ابن الحسن، ’’محمد حسن عسکری کے خطوط کی زمانی ترتیب‘‘
6۔       عزیز ابن الحسن، ’’محمد حسن عسکری: تنقیدی مطالعہ۔ ایک جائزہ‘‘
7۔       عزیز ابن الحسن، ’’عسکری پر آنے والی ایک عمدہ انگریزی کتاب‘‘
8۔       عزیز ابن الحسن، ’’مخمصہ عسکری برادران کے ناموں کا‘‘
9۔       منور عثمانی، ’’اسالیب نثر کے مسائل: محمد حسن عسکری کی نظر میں‘‘
10۔    ایم خالد فیاض، ’’ ’حرام جادی‘ کا تجزیاتی مطالعہ‘‘
11۔    اشتیاق احمد، ’’محمد حسن عسکری اور جدیدیت‘‘
12۔    ڈاکٹر ظفر حسن، ’’استادِ محترم عسکری صاحب مرحوم‘‘
13۔    ڈاکٹر سعادت سعید،
14۔    امجد علی شاکر،
15۔    مبین مرزا،
16۔    امجد طفیل، ’’عسکری اور فکشن کی تنقید‘‘

ایسے مؤقر لکھنے والے(راقم کے علاوہ)ناموں کو دیکھ کر ہوتا اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان و ہندوستان میں محمد حسن عسکری سے دلچسپی کم نہیں ہوئی۔ امید ہے کہ استعارہ کا یہ خصوصی شمارہ عسکری شناسی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔

عسکری نے اپنے زمانے کے بڑے ادبی تہذیبی اور ثقافتی سوالات کے شعور کے ساتھ پاکستانی ادب اور کلچر کے مسائل چھیڑے۔ اردو تنقید کو مغربی ادب کے اہم سروکاروں سے آگاہ رکھا۔ پاکستان کی تہذیبی و ثقافتی روح کو اپنے شعور میں زندہ رکھنے کا احساس پیدا کیا اور اردو زبان اور نثر کو جو پُر اعتماد اور منفرد لب و لہجہ عطا کیا ہے اس کی بنا حق تو یہ ہے کہ پاکستان کی دیگر بڑی یونیورسٹیاں اور علمی ادارے بھی ان کے بارے میں کانفرنسیں اور سیمینار کریں اور دیگر ادبی رسائل و جرائد بھی ان کے بارے میں خصوصی نمبر شائع کریں۔آغاز کار کے طور پر شعبہ اردو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ(IRD) اسلام آباد کے تعاون سے ایک ایسی ہی کانفرنس کے انعقاد کی تیاریا شروع کردی ہیں اور یہی ادارہ اس موقعے پر محمد حسن عسکری: ادبی اور فکری سفر کے عنوان سے ایک کتاب بھی شائع کر رہا ہے۔

ایسے میں جریدہ استعارہ کا عسکری نمبر شائع کرنا اردو کے اس ادیب نقاد اور دانشور و مفکر کو ایک عمدہ خراج تحسین ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: