رنجیت سنگھ کا مجسمہ اور دیگر کہانیاں —- فرحان کامرانی

0

حال ہی میں لاہور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مجسمے کا افتتاح ہوا۔ مبارک مبارک، سلامت سلامت! رنجیت سنگھ صاحب کے اس مجسمے کا بڑا قصیدہ ہمارے انگریزی اخبارات اور روشن خیالوں کے سوشل میڈیا فیڈ میں ہوا۔ چلئے ہمیں بھی رنجیت سنگھ صاحب کے مجسمے پر کوئی اعتراض نہیں، وجہ اس کی یہ کہ بہرحال جو کچھ آپ کی تاریخ کا حصہ ہو اسے یاد رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ رنجیت سنگھ برصغیر میں مسلم اقتدار کے زوال اور خاتمے کا ایک عندیہ تھا۔ اس کا اقتدار اس نے خود پیدا نہیں کیا تھا، جاننے والے جانتے ہیں کہ سکھ قوت کا آغاز دراصل گرو ہرگو بند سنگھ کی تلوار سے ہوا تھا۔ ہرگو بند سنگھ کے ساتھ کیا ہوا تھا، وہ یہاں درج کرنے کا موقع نہیں، اس لیے کہ یہ مضمون ”ظفر نامہ“ نہیں۔ مغل جب تک قوی تھے وہ سکھوں کو اور مرہٹوں کو کچل کر رکھتے تھے مگر جب وہ کمزور پڑنے لگے تو ان دونوں محاذوں پر انہیں بڑی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سکھوں نے تقریبا پنجاب میں وہی کیا جو داعش نے عراق اور شام میں کیا تھا۔ ان کے اس دور کے سورماؤں کے کارنامے پڑھئے تو معلوم ہو گا کہ  ِاس سورما نے اتنی مساجد ڈھائیں، اُس نے اتنے مزارات اکھاڑے۔ تب مسلمانوں پر بڑے مظالم ڈھائے جاتے اور غنڈہ گردی اور ظلم کے لئے تب ہی لفظ ”سکھا شاہی“ عام ہوا۔ ابتداء میں سکھ اقتدار میں کوئی مرکزی قوت نہیں تھی، بس ڈکیتوں کے گروہ تھے جنہیں آپ آج کی اصطلاح میں وار لارڈ (War Lords) کہہ سکتے ہیں۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ اس اعتبار سے اپنے سابقین سے بہتر تھا کہ اس نے ایک مرکزی حکومت قائم کی اور اپنے اقتدار کو تب کی ریاستوں کے معیارات پر استوار کرنے کی سعی کی۔ اس نے ایک جدید فوج بنانے کے لیے نپولین کے ایک بھاگے ہوئے جرنیل کو اپنے یہاں پناہ دی اور اسی طرح کے دیگر کئی اقدامات کرتا رہا مگر اس کے دور میں بھی مسلمان انتہائی مظالم برداشت کر رہے تھے۔ اسی کے دور میں حضرت سید احمد شہید اپنے لشکر کے ساتھ سرحد کی جانب سے حملہ آور ہوئے مگر آپ اپنوں کی ہی غداری کی وجہ سے بالاکوٹ کے مقام پر شہید ہوئے۔

بہرحال مسلمان تو سکھ اقتدار کو پنجاب سے ختم نہ کر سکے مگر انگریز نے سکھ ریاست کو بھی قابو کر لیا۔ پھر دوبارہ مسلم سکھ تناؤ کا موقع 1947ء میں آیا اور تب سکھوں کا سارا تعصب اور مسلم عداوت کھل کر سامنے آگئی۔ جب مسلم ریاست دوبارہ اس خطے میں قائم ہوئی اور سکھوں کے تعصب اور مظالم کا تجربہ پرانا ہونے لگا اور دنیا جہاں کی نقل میں ایک عجیب نوع کی قوم پرستی ہمارے وطن کی قومیتوں اور لسانی اکائیوں میں بھی سر اٹھانے لگی تو پھر سندھ کے قوم پرستوں کو بڑی شدت سے راجہ داہر یاد آیا اور پنجاب کے حنیف رامے اور مستنصر حسین تارڑ وغیرہ کو بڑی شدت سے مہاراجہ رنجیت سنگھ صاحب کی یاد ستانے لگی۔ تب سب کو بڑے فاقوں کے بعد ایک لفظ ”سن آف سوائل“ (son of soil) بولنا آیا۔ پھر اعتزاز احسن جیسے پنجابی قوم پرست پیدا ہوئے جنہوں نے سندھ ساگا جیسی کتب تصنیف فرمائیں۔

واقعی جب دین کی قوت کمزور ہوتی ہے تو ایسے ہی مظاہر معاشروں میں پیدا ہو اکرتے ہیں۔ مصر والوں کو بھی جمال عبدالناصر کے عہد میں فرعون بہت یاد آتا تھا اور لیبیا کے معمر قذافی صاحب نے اپنے بیٹے کا نام ہینی بال رکھ دیا تھا۔ مگر چلئے ان اقوام کے پاس کم از کم فراعین اور ہینی بال تو تھے۔ فراعین کہ جنہوں نے اپنے عہد کی سپر پاور قائم کی اور ہینی بال کہ جس نے یورپ پر ہاتھیوں سے چڑھائی کی۔ مگر یہ رنجیت سنگھ تاریخ عالم میں کیا مقام رکھتے ہیں؟ یہ کیا اکبر جیسے حاکم یا بابر جیسے فاتح تھے؟ کیا یہ تیمور جیسے جرنیل یا ولید بن عبدالملک جتنی بڑی مملکت کے مالک تھے؟ تواریخ عالم میں ایک چھوٹی سی مملکت کے غیر اہم سے حاکم کا تذکرہ محض ایک سطری ہے، اور ہمارے پنجابی قوم پرست شائد اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ ان کے عظیم ”سن آف سوائل“ صاحب ساری عمر فارسی میں دربار کرتے رہے۔ (شائد ”سن آف سوائل“ کو پنجابی بولنے میں شرم آتی تھی؟) اور ”سن آف سوائل“ صاحب کے سکے پر بھی گورمکھی نہیں فارسی میں ہی ”نانک“ درج ہے. مہاراجہ صاحب اس قدر کم ”سن آف سوائل“ اور پنجابی تھے کہ ان کا گھوڑا ”عربی“ تھا۔ (معلوم نہیں پنجابی گھوڑوں میں کیا برائی تھی؟) پھر محترم کو پانی فوج کو ”جدید“ خطوط پر استوار کرنے کے لئے ایک فرانسیسی جرنیل کی خدمات کی ضرورت پڑی مگر پھر بھی ان کی ریاست بہرحال انگریز کے ہاتھوں میں بڑی آسانی سے آ گئی۔ تارڑ صاحب کی ملکہ اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پڑپوتی بمباسودھر لینڈ عیسائی ہو گئی تھی اور کراچی کے گورا قبرستان میں مدفون ہے۔ رنجیت سنگھ اور ساری سکھ تہذیب ہی دراصل صرف برصغیر پاک و ہند کا ایک چھوٹا سا رنگ ہے، سکھ نہ تو تاریخ میں یونانی تہذیب کی عظمت اور وسعت حاصل کر سکے نہ ہی رومۃ الکبرہ سا جلال۔ نہ ہی بازنطینی، ساسانی، ساماری، مصری، ٹیوٹانک یا برطانوی ہی بن سکے۔ اسلامی تہذیب سے سکھا شاہی کا موازنہ ہی ایک مذاق ہے، ایک تہذیب جو مراکش سے انڈونیشیا تک اور سوڈان سے کاشغر تک پھیلی ہے، اس کا ملیر کوٹلا سے خوشاب تک کے راجواڑوں سے کیا موازنہ؟ کیا مقابلہ؟ مگر یہ بات اور ”سنز آف سوائل“ کو سمجھ کب آتی ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: