ترکی: سلطنت عثمانیہ کے بعد کی بڑی تبدیلی

0

ترکی میں انتخابات کے محکمے نے ۱۶؍اپریل کو ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ریفرنڈم میں ترک عوام ملک میں پارلیمانی نظام ختم کر کے صدارتی نظام نافذ کرنے سے متعلق فیصلہ دیں گے۔ ایردوان صدارتی نظام کے خواہش مند ہیں۔

خلافت عثمانیہ کا دور ختم ہونے کے بعد وجود میں آنے والی جدید ترک ریاست کے سیاسی نظام میں سب سے بڑی تبدیلی کے لیے یہ ریفرنڈم کرایا جا رہا ہے۔ اس ریفرنڈم میں ترک عوام ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کے حق اور مخالفت میں ووٹ ڈالیں گے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان ملک میں موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام ختم کر کے صدارتی جمہوری نظام قائم کرنے کی خواہش کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ایردوان کا یہاں تک کہنا ہے کہ ترکی کے سیاسی نظام کی مخالفت کرنے والے ترکی کے دشمن ہیں۔

سیاسی تبدیلی کے بعد ترک صدر کو صدارتی حکم نامے جاری کرنے، ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے، وزراء اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی تقرری کرنے جیسے اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔ اس تبدیلی کے بعد ممکنہ طور پر موجودہ صدر ایردوان نیٹو کی رکن اور یورپی یونین میں شمولیت کی خواہاں ریاست کی باگ ڈور ۲۰۲۹ء تک اپنے ہاتھوں میں رکھ سکیں گے۔

ایردوان کے حامیوں کی رائے میں ترکی میں سکیورٹی کی موجودہ صورت حال، عراق اور شام جیسے ہمسایہ ممالک میں عدم استحکام، داعش اور کرد جنگجوؤں سے لاحق خطرات کے تناظر میں سیاسی نظام کی تبدیلی، ملکی استحکام اور بے یقینی کی کیفیت کے خاتمے کی ضامن ہے۔

دوسری جانب مخالفین کو اندیشہ ہے کہ صدارتی نظام سے ملک میں آمریت کا خدشہ ہے۔ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے پہلے ہی ہزاروں عام شہری، اساتذہ، صحافی اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے ملازمین زیر حراست ہیں۔

ایردوان اس ریفرنڈم میں عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ سیاسی نظام میں تبدیلی نہ لانے کا فائدہ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سمیت دیگر ملک دشمن قوتوں کو پہنچے گا۔ حکومت کے حامی ایک تھنک ٹینک کے زیراہتمام ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایردوان کا کہنا تھا، ’’سیاسی تبدیلی کی مخالفت کون کر رہا ہے؟ پی کے کے مخالفت کر رہی ہے۔ وہ لوگ جو اس ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، وہ مخالفت کر رہے ہیں اور وہ لوگ مخالفت کر رہے ہیں جو ترک قومی پرچم کے خلاف ہیں‘‘۔

ایردوان کا کہنا تھا کہ موجودہ پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے اور گزشتہ ۹۳ برسوں کے دوران جدید ترک جمہوریہ میں ۶۵ حکومتیں بنیں۔ اوسطاً ایک حکومت صرف ۱۶ مہینے قائم رہی۔

ترکی میں اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتیں، سی ایچ پی اور ایچ ڈی پی سیاسی نظام میں تبدیلی کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے ملک میں طاقت کا توازن ختم ہو جائے گا اور پہلے ہی سے طاقتور ایردوان کا اثر و رسوخ مزید بڑھ جائے گا۔

ایردوان کی ہر تقریر کی طرح گزشتہ روز کی گئی تقریر کو بھی ملک کے تقریباً سبھی نشریاتی اداروں نے براہ راست نشر کیا۔ سی ایچ پی کے سربراہ نے انقرہ میں صحافیوں سے کی گئی اپنی ایک گفتگو میں کہا، ’’یہ ریفرنڈم شفاف طریقے سے نہیں ہو گا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ایردوان کا حامی میڈیا اپوزیشن جماعتوں کا موقف عوام تک نہیں پہنچائے گا اور عوام کو یہ تاثر دیا جائے گا کہ ہم ریاست کے خلاف سرگرم ہیں‘‘۔

ترک اخبار ’جمہوریت‘ کے مطابق اپوزیشن جماعت ایم ایچ پی کی ایک اہم خاتون سیاست دان میرائل اکشنر ہفتے کے روز اپنے حامیوں سے خطاب کرنے لگیں تو ہوٹل کی انتظامیہ نے، جو ایردوان کی حامی تھی، بجلی بند کر دی جس کے باعث اکشنر کو میگا فون کے ذریعے اپنے حامیوں سے خطاب کرنا پڑا۔

(بحوالہ: ’’ڈی ڈبلیو ڈاٹ کام‘‘۔ ۱۲؍فروری ۲۰۱۷ء)

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: