ضمیر کی فتح ——- اے خالق سرگانہ

0

ہمارے ہاں ماضی میں جب بھی کوئی سیاسی بحران آیا ہے تو ضمیر کا لفظ اکثر سننے میں آتا ہے۔ عام حالات میں ضمیر سویا ہی رہتا ہے۔ اب جب سے اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا اُس دن سے پھر ضمیر کا لفظ اکثر تحریروں میں نمایاں ہو گیا۔ کل تو ’’ضمیر کی باقاعدہ بڑی واضح فتح ہوئی جب سینیٹ میں چیئرمین کے خلاف ووٹنگ ہوئی۔‘‘ پچھلے کئی دنوں سے اپوزیشن اپنے سینیٹرز کو اکٹھا رکھنے کے لئے لنچ اور ڈنر کا انتظام کر رہی تھی اور سینیٹرز خوب مزے کر رہے تھے۔ کل جب سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ محمد ظفرالحق نے چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کیلئے تحریک پیش کی تو 64 سینیٹرز نے کھڑے ہو کر تحریک کی حمایت کی لیکن جب خفیہ رائے شماری ہوئی تو پتہ چلا کہ تحریک کے حق میں صرف 50 ووٹ پڑے ہیں گویا 14 سینیٹرز کا ضمیر جاگ اُٹھا تھا اور یوں تحریک ناکام ہو گئی لہٰذا چیئرمین صادق سنجرانی ہی رہیں گے بعد میں ڈپٹی چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کے لئے حکومت کی تحریک پر ووٹنگ ہوئی تو 33 کے قریب ووٹ پڑے یعنی تحریک ناکام ہو گئی۔ اپوزیشن نے مجموعی طور پر ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا تاہم چند ایک نے یہاں بھی ضمیر کی آواز پر بائیکاٹ کو مناسب نہیں سمجھا۔ گنتی کے درمیان جوں ہی یہ اشارہ ملا کہ تحریک ناکام ہو گئی ہے تو اعلان سے پہلے سرکاری بنچوں نے دو تین دفعہ انتہائی جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور زبردست نعرے بازی کی۔ اپوزیشن کے چہرے اُتر گئے غالباً انہیں ضمیر کی طاقت کا صحیح اندازہ نہیں تھا۔ چند دن پہلے تک وہ کہے رہے تھے کہ کوئی دبائو نظر نہیں آیا اور ہارس ٹریڈنگ کا کوئی امکان نظر نہیں آتا لیکن ظاہر ہے ہر چیز تو نظر نہیں آتی۔

اب متحدہ اپوزیشن حکومت کے خلاف پہلا رائونڈ بری طرح ہار گئی ہے اور حکومت کا مورال بلند ہو گیا ہے لیکن یہ واقعہ اگرچہ نیا نہیں ہماری تاریخ ضمیر فروشی کی ایسی کہانیوں سے بھری پڑی ہے تاہم اِسے ایک روٹین تصویر کرنا بھی مشکل ہے۔ اس کے یقینا کچھ اثرات ہماری قومی زندگی پر مرتب ہوں گے۔ اپوزیشن اب آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرے گی۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹروں نے تو اپنے استعفے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پاس جمع کرا دیئے ہیں اور نواز کھوکھر ایک چینل پر کہہ رہے تھے کہ انہیں اب اس ایوان میں بیٹھنے پر شرم آ رہی ہے اس لئے استعفیٰ پارٹی چیئرمین کے پاس جمع کرا دیا ہے۔ سینیٹر میر حاصل بزنجو نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کافی سخت بات کی ہے جس کا ذکر نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ یہ سب باتیں آن ایئر جا چکی ہیں لیکن یہ تو ہوا فوری ردعمل اب دیکھیں اپوزیشن عملی طو رپر کیا فیصلے کرتی ہے اور ’’باضمیر‘‘ لوگ کیسے اور کب بے نقاب ہوتے ہیں جلد یا بدیر یہ ہو کر رہے گا۔ ایک لسٹ سوشل میڈیا پر آ چکی ہے۔

اگر ماضی میں جائیں تو چشم زون میں حکومتیں بدلی گئی ہیں۔ لوگ اپنی وفاداریاں علی الاعلان تبدیل کر لیتے تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں پیٹریاٹ کا گروپ حکومت میں شامل ہوا۔ اس سے پہلے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت تحریک عدم اعتماد سے بڑی مشکل سے بچی تھی۔ لوٹے کی اصطلاح عام ہوئی پھر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نے سبق سیکھا اور پارٹیاں بدلنے کی اس روایت کے خاتمے کیلئے قانون سازی کی۔ اس کے مطابق اگر کوئی شخص پارلیمنٹ میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیتا ہے تو اُسے اپنی نشست سے محروم ہونا پڑتا ہے لہٰذا حکومتوں کو غیرمستحکم کرنے کے اس عمل کی کافی حوصلہ شکنی ہوئی اور سیاسی عدم استحکام کی صورتحال میں بہتری آئی لیکن جہاں جہاں خفیہ رائے شماری ہوئی ہے اُس میں ہارس ٹریڈنگ ہوتی رہی۔ فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ نے ’’ضمیر‘‘ کی آٰواز پر ہمیشہ حکومت وقت کی حمایت کی اس دفعہ بھی ایسا ہی ہوا ہے لیکن 14 اور ’’معززین‘‘ نے اس دفعہ اس مکروہ روایت کو آگے بڑھایا۔ میرے خیال میں پارٹیوں کے لئے اور عوام کیلئے اٍسے ہضم کرنا مشکل ہو گا۔ غالباً اب صورتحال کے خاتمے کیلئے خفیہ رائے شماری کو ختم کرنا ہو گا۔ عمران خان بھی ماضی میں یہی رائے دے چکے ہیں اب پتہ نہیں کہ اگر اپوزیشن یہ فیصلہ کرے تو وہ اس پر یوٹرن لے لیں۔ البتہ پارٹیوں کو اس بات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا کہ وہ کس قسم کے لوگوں کو ٹکٹ دیتے ہیں یہ کئی لحاظ سے ضروری ہے مثلاً کل کی رائے شماری میں مسلم لیگ نواز کی سینیٹر نجمہ حمید عمر اور صحت کی وجہ سے بیلٹ پیپر پر صحیح جگہ مہر لگانے کے قابل نہیں تھیں لہٰذا انہیں دوبارہ بیلٹ پیپر ایشو کیا گیا اور سینیٹ سٹاف میں سے ایک خاتون کو اُن کی مدد کیلئے ساتھ بھیجا گیا۔ کئی اور ارکان بھی چلنے میں دشواری محسوس کر رہے تھے ایسے لوگ قومی معاملات میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بظاہر تو اپوزیشن ہار گئی ہے لیکن حقیقت میں شکست حکومت کی ہوئی ہے جب اُن کے پاس ووٹ کافی کم تھے تو 14 لوگوں کے ’’ضمیر‘‘ انہوں نے کیسے جگائے یہ سمجھنے کیلئے بہت ذہانت کی ضرورت نہیں۔ حکومت کے کٹر حامی تو جشن منائیں گے لیکن پوری قوم کو بیوقوف بنانے کا خیال اجتماعی دانش کی توہین ہوگی۔ حکومت کے ترجمان اپنے دفاع میں اکثر ماضی کی مثالیں دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم وہی حرکتیں دہراتے رہیں گے یا آگے بڑھیں گے اور اچھی روایات قائم کریں گے۔ عمران خان نے تو ریاست مدینہ بنانی ہے تو کیا ریاست مدینہ میں بھی ایسی ہی روایات جاری رہیں گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس واقعے سے ایمانداری اور اُصول پرستی کی سیاست کا بول بالا ہوا ہے یا حکومت ہائی مارل گراونڈ لوز کر گئی ہے؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: