جلیل عالی کے مضمون ’ہماری قومی تہذیبی شناخت اور عالمی استعماری فکریات‘ کے ضمن میں۔۔۔۔ علی عمر عمیر‎

0

اس ہفتہ حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی کا اجلاس اپنے موضوع کے اعتبار سے خاصی اہمیت کا حامل تھا۔

پروفیسر جلیل عالی صاحب نے مضمون (عالی صاحب کی پوری گفتگو کا لنک اس تحریر کے آخر میں دیا گیا ہے) کے بینر تلے ایک حساس موضوع پر گفتگو کا آغاز کیا۔ موضوع تھا، “ہماری قومی تہذیبی شناخت اور عالمی استعماراتی فکریات”۔ میں نے ہمیشہ عالی صاحب کو عالمی اور اسلامی دنیا کے ایک دوسرے پر اثرات جیسے وسیع موضوع کے بارے میں بات چیت کرتے سنا ہے۔ اس میدان میں عالی صاحب کا مطالعہ اور مشاہدہ بھی خوب ہے اور مطالعہ و مشاہدہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے نظریات میں بھی عالی صاحب بالکل واضح اور معتدل ہیں۔

اجلاس کے شرکاء کے نام گنوانے کی بجائے میں کوشش کرتا ہوں کہ عالی صاحب اور باقی شرکاء کی گفتگو میں سے اہم نکات اور اپنا نکتہ نظر پیش کرتا ہوں۔ واضح رہے کہ میں اجلاس کی کارروائی بالکل نہیں لکھ رہا۔ میرے لیے اہم صرف یہ موضوع اور اس کی جزئیات ہیں۔
جلیل عالی صاحب نے مضمون کی ابتدا میں ہی شرط رکھی تھی کہ بحث کا دائرہ موضوع تک ہی محدود رکھا جائے۔ لیکن ایسا ممکن نہیں تھا کیوں کہ یہ موضوع بے حد وسیع ہے۔

موضوع کی مناسبت سے عالی صاحب نے چند بیرونی(عالمی استعماراتی) فکری تحریکوں کی مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بیرونی استعمار ہماری (پاکستانی قومی اسلامی) شناخت کی تشکیل پر ان تحریکوں کے ذریعے سے اثر انداز ہو رہا ہے۔

ان بیرونی فکری وارداتوں میں ایک یہ کہ مسلم قوم کی وحدت کو علاقائی اور ملکی حدود کی نذر کر دیا گیا۔ یعنی ترکی کا مسلمان انڈیا اور پاکستان کے مسلمان سے مختلف مسلمان ہے۔ حتی کہ اس وقت انڈیا اور پاکستان کا مسلمان بھی ایک دوسرے سے مختلف تہذیبی تشخص کا حامل ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے جدیدیت، تانیثیت، نو آبادیات سمیت کچھ مزید اثرات کا ذکر کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کے مضمون کو آگے بڑھایا جاتا، شناخت اور اس پر بیرونی فکری اثرات کے ضمن میں تجزیاتی اور تنقیدی بحث کی جاتی اور ہماری قومی تہذیبی شناخت کی اصل کو واضح کیا جاتا۔ مگر مجھے یہ محسوس ہوا کہ شرکاء عالی صاحب کی گفتگو کی جزئیات پہ غور کرتے گئے اور انہی کو گفتگو کا حصہ بناتے گئے۔ کسی دوست کو جدیدیت کی عالی صاحب کی تفہیم پر اعتراض تھا تو کسی نے تانیثیت کی ڈیفینیشن سمجھانی شروع کر دی، کسی کو تہذیب کا دائرہ کار طے کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور کسی کو مذہب اور معاشرہ یاد آ گیا۔

اس تمام گفتگو سے مجھے یہ محسوس ہوا کہ ہم لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر بڑے مسائل سے کیسے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عالی صاحب نے اپنے مضمون میں ہی احباب کی اس دانستہ یا نادانستہ غیر سنجیدہ روش کی طرف اشارہ نائنٹیز کے زمانے کی مثالوں سے کر دیا تھا۔

عالی صاحب نے مضمون میں کم از کم اتنا تو ہوتا کہ ہماری قومی تہذیبی شناخت کا دائرہ کار ہی طے ہو جاتا۔ اور میرے خیال میں عالی صاحب بذاتِ خود اپنے مضمون میں قومی تہذیبی شناخت کا دائرہ کار طے کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ حاضرین نے ان سے وضاحت بھی چاہی اور وہ وضاحت دینے کے باوجود بھی یہ دائرہ مکمل آشکار نہیں کر سکے۔

شناخت کے حوالے سے فرخ ندیم صاحب نے ایک بات کہی کہ شناخت کے نقصانات بھی بہت ہیں۔ مثلاً ہمیں ہماری شناخت کی بنا پر امریکا یا انہی جیسے یورپین ممالک میں تذلیل آمیز رویے سے نوازا جاتا ہے۔ مثلاً شناخت کی بنیاد پر افغانستان، عراق، برما میں صرف مسلمانوں پر ہی مظالم ڈھائے جا رہے ہیں وغیرہ۔۔ اول تو فرخ صاحب نے وہ لفظ شناخت استعمال کیا، جس کا سیاق و سباق بے حد مختلف ہے۔ عالی صاحب کے مضمون میں استعمال کیے گئے لفظ شناخت کا مطلب شناخت نہیں، بلکہ اچھی شناخت ہے۔ اور اچھی شناخت کا مطلب اچھا امیج، اچھا تعارف، اچھی شہرت ہے۔ اگر اس سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو فرخ ندیم صاحب کی بات زیادہ متاثر کن نہیں لگتی۔ کیوں کہ مضمون میں اس شناخت کی بات کی گئی ہے جو ہماری اچھی شناخت ہے اور جس پر استعماراتی فکریات اثر انداز ہو کر اسے ہماری بری شناخت بنا چکی ہیں (جس کی بنا پر ہمیں پوائنٹ کر کے تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے)۔

دلچسپ بات اس مضمون کے حوالے سے یہ ہے کہ اس میں عالی صاحب نے چیدہ چیدہ حوالوں کے ساتھ یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ جدت پسندی، مارکسزم، تانیثت، فیمینزم اور گلوبلائزیشن جیسی فکری تحریکوں کا پاکستانی، اسلامی، قومی شناخت پر اچھا اثر نہیں پڑا۔ انہی فکریات نے ہی قوم کے تصور کو اتنا الجھا دیا کہ اب ہر ایک کے نزدیک قوم کا الگ ہی تصور ہے۔

عالی صاحب کے مضمون میں جو احساس نظر آ رہا تھا وہ یہ تھا کہ سب کچھ امپورٹ کر لیا جائے لیکن فکر امپورٹ نہ کی جائے ورنہ آپ کی شناخت یا تو ختم ہو جائے گی یا پھر اچھی سے بری کی طرف منتقل ہو جائے گی اور ہمارے ساتھ ایسا ہوا ہے۔ مختلف فکروں نے قومی شناخت کے معاملے کو الجھا کر ملی، قومی، ملکی یا نظریاتی وحدت کا کوئی خالص تصور باقی نہیں رہنے دیا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے ایک ہی مذہب کے لوگ اپنے آپ کو ایک قوم کہنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

نوٹ: عالی صاحب کی مکمل گفتگو اس لنک پہ سنی جاسکتی ہے

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: