سید جمال الدین افغانی : اک بھولا ہوا تاریخی کردار —- پروفیسر غلام شبیر

0

یہ صرف عالم اسلام ہے جومتصل جغرافیے اورمذہبی کشمکش کی وجہ سے یورپ کے ساتھ گزشتہ چودہ سوسالوں سے جنگ یا امن ہر دو صورتوں میں مسلسل مصروف کارہے۔ اسلام نے آغازمیں ہی زرتشتی ایران کومذہبی سیاسی اورثقافتی سطح پرفتح کرلیا تھا۔ مگراپنے غرب میں عیسائی بازنطینی سلطنت کوبتدریج ایشیاء سے فارغ کیا۔ اگرچہ متحدہ یورپ نے تین صدیوں تک صلیبی جنگوں میں الجھائے رکھا مگر جہانگیراخلاقی پروگرام کی بدولت اسلام ایشیاء، افریقہ اوریورپ میں طویل عرصے تک ناقابل فتح رہا۔ تاہم ملوکیت جہاں اس کے عالمی اخلاقی پروگرام میں کینسرکی طرح داخل ہوئی وہاں اس کے خمیرسے جنم لینے والے سانحہ کربلا نے عالم اسلام کوشاید دائمی بنیادوں پرتقسیم کردیا۔ عثمانی سسلی اورویاناتک پہنچ چکے تھے بقول برنارڈلیوس اگرصفوی ایران کا خطرہ نہ ہوتا توعثمانی پورے یورپ پرقبضہ کرسکتے تھے۔ تاہم ان جنگوں میں کم وبیش دونوں طرف ایک طرح کے ہتھیاراورایک طرح کے فنون اورپیشوں سے وابستہ لوگ معرکہ آزما تھے۔

پندرہویں صدی میں نشاۃ ثانیہ نے یورپ میں سائنس اورٹیکنالوجی، صنعت وحرفت، فلسفہ، الٰہیات سیاسیات وسماجیات، آئین اورقانون کے میدان میں ایسا انقلاب عظیم برپا کیا کہ معاصراسلام جواب توکیا دیتا اسے سمجھنے سے بھی قاصرتھا۔ اٹھارہویں صدی سے پسپائی شروع ہوئی اوربیسویں صدی کی پہلی چوتھائی تک پورا اسلامی ایشیاء اورافریقہ مغربی استعمارکے سمندرمیں غرق آب تھا۔ علاج کا پہلا مرحلہ تشخیص ہوتاہے۔ دوسرے مرحلے میں دوا تجویز کی جاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں نجد سے وہابی تحریک اٹھی شمالی افریقہ سے سنوسی تحریک نے جنم لیا۔ یہ دونوں تحریکیں سراپا احیائی تحریکیں تھیں جن کے نزدیک سارامسئلہ ساتویں صدی کے حقیقی اسلام سے انحراف کا نتیجہ ہے۔ اور علاج تاریخ کوریورس گیئر لگانے میں مضمرہے۔ واپسی تاریخ کے شایان شان نہیں ہے۔ قدامت پسند طبقہ روایت کودانتوں سے پکڑے ہوئے تھا، احیاء پسندوں کے پاس نیا کچھ نہیں تھا، حقیقی منزل قدیم اخلاقی روح کے برخلاف قدیم روایت کا احیاء تھی۔ ایسے میں گرہ بھنورکی کھلے تو کیونکربھنورہے تقدیرکا بہانہ۔ مغربی استعماریت اور استحصالیت کی پِیٹی امت مسلمہ کی نجات دہندہ بھیجنے کی دعاؤں کے بارآور ہونے کا وقت آیا تو عالم اسلام کے پسماندہ ترین خطے افغانستان کے ضلع کابل کے مضافاتی علاقے کنڑ اسدآباد میں 1838میں ایک اعلیٰ ترین شہ دماغ شخصیت نے جنم لیا جسے تاریخ سید جمال الدین افغانی کے نام سے جانتی ہے۔

ہمہ جہت علم الٰہیات، فلسفہ، تاریخ، سماجیات، علم بلاغت، تصوف، منطق، فزکس، میٹافزکس، علم فلکیات، میڈیسن، اناٹمی سمیت دیگرعلوم میں کماحقہ درک وکمال نے افغانی کوعلم کی ایسی قوس قزح میں ڈھال دیا تھاجس کے نورسے عالم اسلام توکیا عالم مغرب کی بڑی بڑی علمی شخصیات کی بصیرت بھری نگاہیں خیرہ ہوجاتی تھیں۔ وہ ایک ایسا مغنی تھا جس کے ترنم میں کلاسیکی، فوکس اورجدت کے سب رنگ حصہ بقدرجثہ موجودتھے۔ افغانی جب منظرعام پرآئے توسلطنت عثمانیہ میں نمیک کمال اوررفقاء، مصرمیں مفتی عبدہ اوراحباب جبکہ برطانوی بھارت میں سرسیداحمد خان اوران کے دیگرساتھی اپنے اپنے معروضی حالات اور چیلنجزکی روشنی میں سرگرم عمل تھے۔

عثمانیوں کے ہاں تشخیص یہ ہوئی کہ مارصرف فوجی تربیت، سائنس اورٹیکنالوجی کے میدان میں پڑرہی ہے۔ علاج ؟ یہ چیزیں یورپ سے مستعارکرلیں باقی ہرمیدان میں خود کفالت پربھروسہ کیا جائے۔ مصر اور باقی مشرق وسطیٰ کے ہاتھ محمدبن عبدالوہاب نے امام ابن تیمیہ سے استفادہ کرتے ہوئے احیاء کا طرح مصرعہ دے دیا تھا ہرچند کہ امام ابن تیمیہ منگول حملے کا ردعمل تھے اوراب جدید یورپ کا چیلنج درپیش تھا۔ کم وبیش یہی عالم افریقہ کی سنوسی تحریک کا تھا۔

Image result for ‫جمال الدین افغانی‬‎

مسلم برصغیرکی قیادت ایک ایسی شخصیت کے ہاتھ آئی جو نہ توروایتی عالم دین تھے اورنہ ہی جدید تعلیم یافتہ، بنیادی رسمی تعلیم اپنے نانا سے حاصل کی جو ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازم تھے۔ یوں مغربی کلچرکی چکاچوند سے آشنا۔ تاہم حقیقی معنوں میں 1857کی جنگ آزادی میں مسلم خون کی ارزانی سے ان کی چشم بصیرت وا ہوئی۔ پہلے اس بے وقعتی سے تنگ آکرمصرمنتقل ہونے کا سوچا پھراس نتیجے پہ پہنچے کہ قوم کو میری ضرورت ہے۔ تشخیص یہ کی کہ سارا مسئلہ جدید تعلیم سے محرومی اورتہذیبی پسماندگی میں پنہاں ہے۔ علاج؟ برطانیہ یہاں رکنے کیلئے آیاہے۔ وفاداری کا دم بھرا جائے ایسی ہرکاوش سے مفر جو 1857کو دہرائے۔ ایک دارالترجمہ بھی قائم کیا مگرعملیت پسندی اتنی بڑھی کہ علی گڑھ کالج کا ایجوکیشن میڈیم انگلش ٹھہری۔ اسلام کی تعبیرڈارون ازم کی بھینٹ چڑھادی گئی۔ زمانے کی نبض شناسی کا خداداد وژن موجود تھا مگر الٰہیات، فلسفہ تاریخ اورعلم سماجیات سے عدم واقفیت قیادتوں کوبسا اوقات ایسا اتائی بنا دیتی ہے جوایک مرض کا علاج کرکے دس دیگرامراض کا سنگ بنیاد رکھ دیتا ہے۔ شاید حالات کے جبرنے ایسی بند گلی میں پہنچا دیا تھا کہ سرسید کی عملیت پسندی اورصبرواستقامت کو یہی نسخہ کارگر لگا۔

تاریخ کے اس نازک ترین موڑپروہ حاذق حکیم جس نے مرض ملت کی صحیح تشخیص اورتیربہ ہدف نسخہ تجویزکیا وہ نکتہ پرکارحق سید جمال الدین افغانی تھے۔ ان کا موقف تھا یہ عہد پہلے مذہبی احیاء اوراصلاح (Revival & Reform) کا متقاضی ہے۔ پہلے تجدید واحیائے دین سے اخلاقی اصلاحات بیڑا اٹھایا جائے اوریہ اصلاحات نوآبادیاتی شکنجے میں رہتے ہوئے ممکن نہیں۔ پہلے آزادی لی جائے پھراخلاقی تطہیرکے بعد تعلیم سمیت دیگراصلاحات اس عالمگیراخلاقی تصورکی روشنی میں لائی جائیں۔

اگراسلام کے (Moral World view) سے نظام تعلیم کشید نہیں کیا جاسکا تو یورپی نظام تعلیم جوانہوں نے صدیوں کی ریاضت سے اپنی ضروریات اور اخلاقی تصورکے تحت تشکیل دیا ہے ہمارے بھلے میں نہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ ان کی انتظامی مشینری کا کام دے گا اوران کیلئے ملت فروش ایجنٹ اور غدار پیدا کرے گا۔ یہ بات الٰہیات اورفلسفہ تاریخ کا کوئی عظیم عالم ہی سمجھ سکتا ہے۔ اس میدان میں اپنے ہم عصروں میں کوئی افغانی کا ہم پلہ نہیں تھا۔ پہلے سیاسی آزادی دوسرے مرحلے میں الٰہیات کی تعبیرنواوراس کی روشنی میں اخلاقی اورعلمی اصلاحات۔ ایسے پروجیکٹ کیلئے نسلیں درکارہوتی ہیں جسے سرانجام دینے کیلئے افغانی تنہا عازم سفرہوئے تھے۔

سرسید کا پہلا پڑاؤ میدانِ تعلیم تھا۔ جس کی بیماری معمولی ہواسے موتی اور مرجان کی تلاش کیونکرہو؟ وہ خوش ذائقہ خمیرہ گاؤزبان اورابریشم سے کام چلائے گا۔ آخرعلی گڑھ مدارس کے بوریا نشین حالی، شبلی اور آزاد وغیرہ کی ہم پلہ کوئی شخصیت کیوں نہ پیدا کرسکا۔ سرسید آخرکار علی گڑھ کی لاٹ کو شیطان کہنے پرکیوں مجبورہوئے۔ وژنری سرسید کو اس ضرورت کا احساس ہوا تھا کہ ہمیں ایک نئے علم الٰہیات کی ضرورت ہے جو یا توموجودہ سائنسی تصورات کی تصدیق کردے یا ردکرے۔ شبلی نے علم الکلام پرکتاب بھی لکھی مگروہ ابن سینا اور دیگرمسلم مفکرین کے خیالات کی کاربن کاپی تھی اوریوں نئے علم الٰہیات کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ یوں علی گڑھ سوئے قسمت غرب زدگی، روزی روٹی اور انگریز سے وفاداری کا وسیلہ بن گیا۔ حیدرآباد دکن میں قیام کے دوران افغانی کی ایماء پرمسلمانوں اورہندوؤں کومشترک زبان اردومیں تعلیم دینے کیلئے جوہندکی نشاۃ ثانیہ کیلئے عثمانیہ یونیورسٹی بنی تھی کامیاب ہوجاتی تو حقیقی قومی شعورجنم لے سکتا تھا۔ مگرملازمت کے لئے انگریزی جاننا ضروری تھی تواکثریت نے علی گڑھ کا رخ کیا۔ کجا کہ تعلیم وتربیت کواسلامی الٰہیات اورقومی ضروریات کے تحت دیکھا اورسمجھا جاتاعلی گڑھ ایلیٹ نے سیکولر تعلیم کے عدسے سے اسلام کا جائزہ لیا۔ نتائج ویسے نکلنے تھے آخرعبداللہ یوسف علی جیسا مایہ ناز مسلم اسکالرتقسیم کے وقت مفادپرست یونینسٹ پارٹی کا کیوں ہمنوا تھا کہ برطانیہ کو برصغیرسے نہیں جانا چاہئے۔

تاہم نباض حقیقت سید جمال الدین افغانی جدید تعلیم کیلئے اتنے ہی خواہاں تھے جتنے سرسیداحمدخان، مگرفرق طریقہ کارکا تھا۔ الٰہیات، فلسفہ اورتاریخ اسلامی کے شناورافغانی نے حجۃ الاسلام امام غزالی کا حوالہ دیاـ اگرکوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسلام جیومیٹری کے فارمولوں، فلسفیانہ دلائل اور طبیعات کے قوانین کا مخالف ہے وہ اسلام کا احمق ترین دشمن ہے۔ کیونکہ طبیعات کے قوانین، جیومٹری کے فارمولے اورفلسفے کے دلائل بدیہی حقیقت ہیں اور کوئی کہے کہ اس کا مذہب بدیہی حقیقتوں کو ردکرتا ہے تو یہ خود مذہب کو جھٹلانے کے مترادف ہے” یوں سرسیداورافغانی جدید سائنسی تحقیق اورتعلیم کی بابت ایک صفحے پر تھےاورجب سپرمیسی کے خبط میں مبتلا مغربی دماغ ایشیاء اورافریقہ کو Unpeople or lesser Human) ) سمجھتے ہوئے وائٹ مین برڈن کہہ رہے تھے اوراسلام کو بدویت کا مظہرقراردیتے ہوئے سائنس اور ترقی کا ناقابل علاج دشمن قراردے رہے تھے تو موثرترین جواب افغانی کا تھا۔

فرانسیسی مفکررینان نے کہا ہے کہ اسلام میں جتنے مفکرین پیدا ہوئے سب ہاران، ایران اوراندلس سے تعلق رکھنے والے غیرعرب تھے۔ افغانی نے مدلل جواب لکھا حضورابن خلدون کا نام پڑھیئے، عبدالرحمان الحضرمی عرب سرزمین حضرموت سے تعلق رکھتے تھے اورکیا ابن خلدون اورابن رشد کی اندلس میں رہتے ہوئے زبان عربی نہ تھی۔ تاریخ میں نپولین کا شجرہ نسب دیکھووہ عرب ثابت ہوگا۔ مگرکیا اسے عرب مانو گے؟ یہ جو آپ نے مسلمانوں کو وحشت اوربربریت کا پیکرقراردیا ہے کیا اس سے کروڑوں افرادکی دل آزاری نہیں ہوئی؟۔ حکمائے اسلام کا یورپ کی ترقی میں کوئی کردارنہیں؟ تاریخ کا دامن ٹٹولواسلام عقل وخرداورسائنس کو نمودینے والا مذہب ثابت ہوگا۔

ڈاکٹر فضل الرحمان لکھتے ہیں:

If to state that Islam is not against reason and science was the task of Al-Afghani, it fell to the Egyptian Abduh and the Indian Sayyed Ahmad khan to prove this statement.

وہ لکھتے ہیں کہ وہ پہلی آوازجس نے مسلمانوں کو مغربی استعماریت کیخلاف سپرانداز ہونے کیلئے اپنے علمی اوراخلاقی معیاربلند کرنے کی ضرورت وہ عالم اسلام کے پہلے حقیقی جدت پسند(The First Genuine Muslim Modernist) سیدجمال الدین افغانی کی تھی۔

افغانی سے جب پوچھا گیاکہ اگراسلام ہرزمان ومکاں کیلئے ہے تو عالم اسلام مغلوب کیوں ہے؟ جواب تھا” خداکسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتاجب تک اس کے انفس میں انقلاب برپا نہیں ہوتا(13:11).۔ امریکی مصنفہ نکی کیڈی لکھتی ہیں تاریخ اسلام میں پہلی باراس آیت کریمہ کی تعبیرسید جمال الدین افغانی نے مسلمانوں کی سیاسی بیداری کیلئے کی، پھرہرمسلم اسکالرکی یہی ادا ٹھہری۔
اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے
جوبھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے
ہم نے جو طرزفغاں کی ہے قفس میں ایجاد
فیض گلشن میں وہی طرزبیاں ٹھہری ہے

Related image

مقبرہ جمال الدین افغانی

سید صاحب کوفہم قرآن کا ایسا ملکہ تھا کہ ان کے موقف پرقرآن کی دلیل کی مہرتصدیق یوں ثبت کرتی کہ سنتی زبانیں گنگ ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ کیا آج بھی قرآن کا دعویٰ یہی نہیں ہے کہ ” طاقت خدا اس کے رسول اور مومنوں کی ملکیت ومیراث ہے (63:8). یہ پاورغیرکے ہاتھ میں ہے توہمیں اپنا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے کیا؟ کیا خدا نے مومنین سے عظمت اورغلبے کا وعدہ نہیں کیا تھااورمسلمانوں کو استخلاف فی الارض سے نہیں نوازا تھا۔ قرآن نے امت مسلمہ کو بہترین امت اور نسل انسانی کی کریم قرار نہیں دیا کیا؟ کیا قرآن نے ہمیں ہروقت گھوڑے تیاررکھنے کا حکم نہیں دیا (8:60) کیا اسلام صرف روزے نماز اورحج کے قیام کا نام ہے۔ یہ سب تو منافق بھی کرسکتا ہے؟ وہ صرف مومنین ہیں جواپنا سب کچھ قربان کرکے اپنی جان سے بھی گزرسکتے ہیں اور یوں جہاد ہی مومن اور منافق کے درمیان حدِ فاضل ہے۔ قرآن کو رب تعالیٰ نے موعظۃ من ربکم وشفاء لما فی الصدورنہیں کہا(10:57).۔ پھرفلسفہ سماجیات نے افغانی کو ہر اس تاریخی قوت کی طرف مائل کیا جس سے امت مسلمہ کی آزادی کا نشاں ملتا ہو۔ بھارت میں استعمارسے آزادی کیلئے وہ ہندومسلم اتحاد پرزوردے رہے تھے۔ ایران اورمصرمیں آئینی حکومتوں کا قیام افغانی کا مرہون منت ہے۔ وہ عثمانیوں سے کہہ رہے تھے کہ سائنس اورٹیکنالوجی کی تعلیم اسی وقت بارآور ثابت ہوگی جب فلسفہ اورسماجی علوم میں انقلاب برپا ہوگا۔ جب تک آئینی حکومت کا قیام نہیں ہوگا محض فوجی ترقی اورجدید اسلحے سے مغرب کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ افغانی کا یہ خواب تھا کہ اگرخلیفہ عبدالحمید کو امت مسلمہ کی اخلاقی سپورٹ مل جائے تو مسلم اتحاد سے استعمارکی راہ کھوٹی کرسکتا ہے بشرطیکہ عبدالحمید اپنے مفاد کے بجائے مسلم مفاد پرتوجہ دیں۔ ایسے میں وہ ابومسلم خراسانی کی طرح کام کریں گے جواس نے عباسی خلافت کے قیام کیلئے کیا تھا یا Peter Hermit کی طرح جس نے اسلام کے خلاف صلیبی جنگوں کیلئے یورپ کو متحد کرلیا تھا۔ افغانی نے یہی سفارش شریف حسین آف مکہ اورمصرکے خدیو سے بھی کی کہ اگروہ مسلمانوں کے متفقہ خلیفہ بن جائیں تو ہمیں اتحاد نصیب ہوسکتا ہے۔ افغانی مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے کچھ عربی بولنے والے ممالک کومشترکہ زبان کی بنیاد پرمجتمع ہونے کا درس دے رہے تھے۔

سیدجمال الدین افغانی وہ پہلے موثرمسلم رہنما ہیں جنہوں نے شیعہ سنی تفریق کو اتحاد بین المسلمین کیلئے سدرہ جانا اوراس بعد کو پاٹنے کی بھرپورکوشش بھی کی اور کامیاب بھی رہے۔ ان کی کوششوں سے سنی عثمانیوں اور ایران شیعہ انتظامیہ نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا۔ افغانی کے یورپی سوانح نگاربراؤن نے 1910ء میں لکھا تھاکہ افغانی وہ پہلا شخص ہے جس نے شیعہ سنی اتحاد کی بنا ڈالی۔ سنی عثمانیوں نے شاہ ایران کو تسلیم کیا اورشیعہ ایران نے سنی عثمانیوں کو تسلیم کیا۔ افغانی دونوں سلطنتوں کے سربراہوں کو نہ صرف مشترکہ دشمن کے خلاف متحد کرنے میں کامیاب ہوا بلکہ ان کے فروعی اختلافات ختم کرکے مبادیات پرمجتمع کرنے میں کامیاب رہا۔ افغانی کی کوششوں کے نتائج مندرجہ ذیل ہیں:

1: 1906میں کازان میں مسلم کانگریس دونوں مکتبہ ہائے فکرکیلئے مشترک درسی کتابوں سے جوائنٹ اسکول سسٹم پرمتفق ہوئی۔

1911 میں نجف میں عثمانی اورایرانی Jurists کا مشترکہ اجلاس ہواجس میں شیعہ سنی عقائد کا نزاع ختم کیا گیا اورکانفرنس کے اختتام پراعلامیہ جاری کیا گیا کہ دونوں ریاستوں کے درمیان تعاون بڑھایا جائے گا۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد اسماعیلی کمیونٹی کے سربراہ سرآغاخان اوربرصغیرکے پہلے مسلم گریجوایٹ “اسپرٹ آف اسلام ” کے شیعہ مصنف سید امیرعلی بھی شیعہ سنی اتحاداورخلافت عثمانیہ کی بحالی کیلئے سرگرم رہے۔
رشید رضا لکھتے ہیں کہ افغانی کا حقیقی مقصد ایک ایسے پاوربلاک کا قیام تھا جو استعمار کے خلاف مسلمانوں کا متفقہ پلیٹ فارم بنے۔ مصرسے آغازکیا جب کوششیں بارآورنہ ہوسکیں تو سوڈان میں مہدی سوڈانی کی تحریک سے امیدیں وابستہ کرلیں۔ پھرایران میں سرگرم ہوئے اورآخری امید سلطنت عثمانیہ کوبنایا۔ جہاں وہ (Half Guest Half Prisoner) رہے۔

سید جمال الدین افغانی کو امت مسلمہ میں اٹھنے والی سب تحریکو ں کا باپ کہا جاسکتاہے۔ پان اسلام ازم ہویا مسلم ممالک میں مسلم نیشنلزم کی تحریکیں دونوں ایک ہی سکے کے دورخ ہیں اورسب افغانی سے انسپائریشن لیتے ہیں۔ افغانی نے مشرق وسطیٰ اورکچھ افریقی ممالک کو زبان پریکجا ہونے کا پیغام دیا توپان عرب ازم کی تحریک نے جنم لیا۔ برطانوی ہند میں برطانوی استعمار کیخلاف ہندومسلم اتحاد کا نعرہ لگایا تو وہ تحریک خلافت کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ افغانی وسطی ایشیاء میں روسی پیش رفت کیخلاف انگلینڈ ترکی ایران افغانستان سمجھوتے کیلئے تیارہوئے تھے بشرطیکہ انگلینڈ مصراورسوڈان پر اپنا غلبہ ختم کرے۔ جب انگلستان اپنے وعدے سے پھرگیا تویہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی، پھرشاہ ایران کی سفارش پربرطانوی استعمارکیخلاف مدد حاصل کرنے افغانی روس بھی گئے۔ زارسے ملاقاتیں بھی ہوئیں ایک سال تک روس میں افغانی نے قیام بھی کیا۔ بین الاقوامی سیاست میں ہوائوں کا رخ تبدیل ہونا وفاداریوں کا ادل بدل معمول کا واقعہ ہے مگرافغانی کے دورہ روس کو مغربی استعمارنے خوب کیش کیا۔ انٹرنیشنل پریس میں افغانی کو روس کا ایجنٹ قراردیا گیا۔ گاہے فری میسن مشنری کا ایجنٹ کہا گیا۔ ڈاکٹرشریعتی لکھتے ہیں کہ زرعی معاشرتوں میں بادشاہتوں کا دستورعام تھا کہ ان کے اقدامات کو مذہبی طبقات سندِ جوازبخشتے تھے۔ روشن خیالی کے بطن سے جنم لینے والی صحافت اوردانشورطبقے نے مادہ پرستانہ استعماری جمہوریتوں کے مفادات کو سند جوازبخشنے کا یہ ٹھیکا اپنے ذمے لے لیا۔

Image result for ‫جمال الدین افغانی‬‎

افغانی کی کوششیں جب الگ الگ مسلم ممالک میں بارآورثابت نہ ہوئیں تو وہ اس نتیجے پرپہنچے کہ مسلم ممالک آزادی کی جنگ تنہا نہیں لڑسکتے تو انہوں یہ رائے پیش کی کہ مسلمان ممالک باہم اتحاد سے آزادی کی کوشش کریں یہ تحریک Pan-Islamism کہلائی۔ یہ تحریک دفاعی نوعیت کی تھی۔ افغانی نے جب دیکھا کہ الجیریا کے عبدالقادر، مصرکے اعرابی پاشا اورسوڈان کے مہدی اور caucus کے امام شامل اپنی اپنی ریاستوں میں کامیاب نہیں ہوسکے توافغانی کو ایک مسلم متحدہ فرنٹ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مغربی میڈیا اوردانشورایلیٹ نے پان اسلام ازم کی اس Defensive posturing کوبھی جارح اقدام سے تعبیرکیا اورافغانی کو مسلم شدت پسند(fanatic) قراردیا۔ افغانی تو پان اسلام ازم سے بھی آگے (Pan-Orientalism) کا خاکہ ترتیب دے رہے تھے انہوں نے العروہ میں لکھا کہ پورا عالم مشرق یورپ کا باجگزاربن چکا ہے۔ اہل مشرق کو بلا تفریق مذہب اوررنگ ونسل کے یہ جنگ مشترکہ طورپرلڑنا ہوگی۔ اقبال افغانی کایہ پیغام یوں پیش کرتے ہیں۔

شرق را ازخودبردت تقلیدغرب،
، بایدایں اقوام را تنقیدغرب۔ تقلید
(ترجمہ: مغرب نے اہل مشرق کے ہوش اڑادیئے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ مغرب کو تنقیدی نگاہ سے دیکھیں)۔ سرسیداورجمال الدین افغانی میں جوہری فرق یہی تھاکہ افغانی جہاں زمانہ وسطیٰ کے مسلم افکارکی تقلید کورد کررہے تھے وہاں مغرب کی تقلید محض بھی ان کے نزدیک ملی شناخت پرسمجھوتے سے عبارت تھی۔

اقبال “افکاراسلامی کی تشکیل جدید” میں لکھتے ہیں

“وہ پہلا شخص جس نے اپنے اندرنئی روح کو محسوس کیا وہ دہلی کے شاہ ولی اللہ تھے۔ تاہم وہ شخص جس نے ٹاسک کی اہمیت اورشدت وجامعیت کو کماحقہ محسوس کیا، جو مسلم فکروحیات اورتاریخ اسلامی کے باطن کا شناورتھاجس کی وسیع المشربی اورکثیرسفری نے اس کی صلاحیتوں کو اتنا صیقل کیا تھا کہ وہ اپنے جامع وژن کی بنا پرمسلم ماضی اورمستقبل کے درمیان ایک نامیاتی (زندہ) لنک بن سکتا تھا وہ سید جمال الدین افغانی کی شخصیت تھی۔ اگراس کی ناقابل شکست مگرمنقسم توانائیاں اسلام کو بطورانسانی ضابطہ حیات وکردارثابت کرنے پرصرف ہوئی ہوتیں توعالم اسلام آج دانشورانہ طورپرکہیں زیادہ ٹھوس بنیادوں پراستوارہوتا”۔

تاہم افغانی کے نزدیک سب سے پہلا مرحلہ آزادی تھی اس کے بعدافکاراسلامی کی تشکیل جدید۔

ایک مذہبی اورسیاسی مصلح ہونے کے سبب وہ سمجھتے تھے یہ مرحلہ عقائد کی درستگی کا بھی نہیں ہے۔ کیا عیسائی یورپ فرسودہ نظریہ تثلیث کے باوجود ترقی نہیں کررہا، اورکیا ہندوگائے کی پوجا پاٹ پرایمان کے باوجود ترقی کی راہ پرگامزن نہیں ہیں، سردست ہمیں مذہب کے ان پہلوئوں پربات کرنی چاہئے جو ترقی اورعمل کی راہ میں رکاوٹ ہیں، مذہبی افکارکی تطہیرکا مرحلہ سیاسی آزادی کے بعد کا ہے۔ اقبال نے فقہ اسلامی کی تدوین نو کیلئے جامعہ الاظہرکے ریکٹرکو خط لکھا تھا کہ کیا ہمیں ایسے وسیع المشرب دماغ میسرہیں جو یہ کا م سرانجام دے سکیں پھرکہا کہ نہیں جب تک محکومی کا شکنجہ نہیں ٹوٹتا فقہ اسلامی کی تدوین نوکا فریضہ سرانجام دینا بارآورثابت نہیں ہوسکتا۔ یہ دراصل اقبال میں افغانی کی بازگشت ہے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اقبال کو مولانا رومی سے کہیں زیادہ جمال الدین افغانی سے عشق تھا۔ جاوید نامہ کا مطالعہ کیجئے اقبال اوررومی افغانی کی اقتداء میں نمازپڑھتے نظرآئیں گے۔ جبرائیل افغانی سے رموزقرآں سیکھتا دکھائی دے گا۔ اقبال پوچھتا ہے کہ کمیونزم اورکیپٹلزم کا زمانے میں طوطی بول رہاہے۔ آپ کی کیا رائے ہے ؟ افغانی فرماتے ہیں۔

زندگی ایں را خروج، آں را خراج
درمیان ایں دوسنگ آدم زجاج
( ترجمہ: کمیونزم کیلئے زندگی کا مقصودومدعا بغاوتوں سے ماسوا کچھ نہیں ہے۔ کیپٹلزم کیلئے مقصدحیات خراج کی وصولیوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ابن آدم ہے کہ شیشے کی طرح ان دوپتھروں کے بیچ کرچی کرچی ہورہا ہے۔ )

جب اقبال پوچھتے ہیں کہ کوئی ایسا نظام ہے جوابن آدم کو رفعت بخشے کہتے ہیں ہاں نسل ورنگ کا دشمن یہ نظام قرآن ہے “شام اوروشن ترازصبح فرنگ”
(ترجمہ: جس کی شام اہل مغرب کی صبح سے زیادہ روشن ہے)۔

المیہ یہ ہے کہ افغانی سے ہم نے غیروں جیسا سلوک کیا۔ آج ہمارے ہاں جامعات اور کالجزتوکیا اسکول کی سطح پربھی افغانی سے آگاہی کا کوئی نصاب نہیں ہے۔

مغربی اسکالرشپ نے افغانی کو روسی ایجنٹ قراردیا، فری میسن کا کارندہ ظاہرکیا۔ اگلے لمحے افغانی کی قومیت کو متنازعہ بنایا گیا۔ نکی کیڈی سمیت کتنے مغربی اسکالرزہیں جو افغانی کو ایرانی ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زورلگاتے ہیں تاکہ سنی اکثریت کی نظرمیں سید جمال الدین افغانی معتبر حوالہ نہ بن سکیں۔ نکی کیڈی ایران (قم) کی درسگاہوں اورعراق کے شیعہ مدارس سے افغانی کو فارغ التحصیل ثابت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اقبال کہتے ہیں

“عالم اسلام کا پسماندہ ترین خطہ (افغانستان) اگرسید جمال الدین افغانی جیسے دنیا کے لائق ترین شہ دماغ کو جنم دے سکتا ہے تو میں اسلام کے روشن مستقبل سے مایوس ہرگزنہیں ہوں”

وہ مزید لکھتے ہیں کہ کتنا وقت بیت چکا مگرافغانی سے متاثرہونے والوں کا سلسلہ جاری ہے اورنہ جانے یہ سلسلہ کب تک جاری رہتاہے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اقبال کی دومرادیں تھیں کاش قونیہ میں مولانا رومی کے مزارسے مشت خاک میری مٹی میں ملادی جائے تواسے میں سامان نجات سمجھوں گا۔ ترک حکومت نے یہ خواہش پوری کردی مولانا روم کے مزارسے مشت بھرمٹی اقبال کے مزارمیں شامل کی گئی۔ اقبال سید جمال الدین افغانی سے ملاقات کو نجات دیدہ ودل سمجھتے تھے۔ رب عزوجل نے یہ بھی پوری کردی۔ 1942میں جب ترک اورافغان حکومت کے درمیان جذبہ خیرسگالی کے تحت سید جمال الدین کے جسد خاکی کو افغانستان کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہواتوبحری جہازکے ذریعے افغانی کے جسد خاکی کوممبئی لایا گیا اور واہگہ کے راستے لاہورسے پشاوراور پھرکابل منتقل کیا گیا۔ تاہم لاہورپہنچانے پراقبال کی افغانی سے روحانی وارفتگی کے پیش نظررات بھرافغانی کے جسد خاکی کو لاہورمزاراقبال کے احاطے میں رکھا گیا۔

بے شک سرسیداحمد خان نے مسلم برصغیرکیلئے گراں قدرخدمات سرانجام دی ہیں۔ اورتحریک پاکستان کا ہیولیٰ سرسید کی قائم کردہ علیگڑھ یونیورسٹی سے اٹھا۔ لیکن غیرمشروط تقلید مغرب کا سہرا بھی سرسید کے نام جاتا ہے۔ ہمارے فارغ التحصیل گریجوایٹس روح اسلام سے عدم وقفیت کی بنا پر سیکولرازم کا شکارہوتے ہیں نتیجۃً غرب زدگی اورمرعوبیت ہمارا مقدرٹھہرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں سید جمال الدین افغانی کے افکاراس زہرکا بہترین تریاق ثابت ہوسکتے ہیں لیکن یہ کیونکرہوکہ افغانی جہاں مغربی استعمارکیخلاف سینہ سپرتھا وہاں وہ مقامی مسلم بادشاہوں شہنشائوں اورڈکٹیٹرزکیلئے بھی سم قاتل ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  بھٹو : بھارت کا خیرخواہ دشمن —– ڈاکٹر غلام شبیر

(Visited 1 times, 10 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: