سچائی نہیں، جھوٹ کی دنیا —- Robert Fisk

0

ہم سچائی کی دنیا میں نہیں جی رہے۔ نہ تو مشرق وسطیٰ میں، نہ مغرب میں اور نہ ہی روس میں۔ ہم جھوٹ کی دنیا میں آباد ہیں۔ اور ہم ہمیشہ سے جھوٹ کی دنیا ہی میں رہتے آئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کی تباہی اوراس کے قابلِ نفرت آمروں کی تاریخ پر نظر ڈالیں۔ وہ سب بدعنوانی کے بل بوتے پر پروان چڑھے تھے اور معمر قذافی کے سواتمام کے تمام اپنے اقتدار کا جواز پیش کرنے کے لیے انتخابات کا ڈھونگ رچاتے تھے۔ اُن کا دعویٰ تھا کہ وہ عوام میں بے حد مقبول ہیں۔ کچھ تو جمہوری حکمران ہونے کے بھی دعویدار تھے۔

اب میرا خیال ہے کہ ہم بھی جھوٹ کی بنیاد پر باقاعدہ انتخابات کرانے کے ماہر ہوچکے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہم آنے والے دنوں میں ٹرمپ اور عرب دنیا کے آمروں کے درمیان گاڑھی چھنتی دیکھیں۔ ٹرمپ مصرکے صدر فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی کو پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹرمپ دبئی میں گولف کورٹ بناچکے ہیں۔ اُن کی جھوٹ کی صنعت کی پیداوار سچے حقائق ہیں، چنانچہ وہ مشرق وسطیٰ کے کافی قریب ہوں گے۔ عرب دنیا کے نمایاں خد و خال خواتین سے نفرت، سیاسی مخالفین کو کچلنا، آمریت، جبر، تشدد، اقلیتوں کی توہین وغیرہ ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ان باتوں سے پریشان ہوں گے۔ اسرائیل کی طرف دیکھیں۔ امریکا کے اسرائیل کے لیے متوقع سفارت کار امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے لیے بے چین ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ فلسطینیوں کے مقابلے میں امریکا میں بسے ہوئے بائیں بازو کے یہودیوں سے زیادہ مخاصمانہ رویہ رکھتے ہوں۔ تو کیا ٹرمپ عربوں کو مشتعل کریں گے؟ یا وہ داخلی طور پر اسرائیلی سفارت خانے کا ایسا انتظام کرکے مطمئن ہوجائیں گے کہ خلیج کے عربوں کو کم از کم اتنا تو یقین ہو کہ اسرائیل شام، ایران اور حزب اﷲ کا مخالف ہے۔

جہاں تک انتہا پسندوں، جہادیوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کا تعلق ہے تو فی الحال اُنہیں بھول جائیں اور مت پوچھیں کہ یہ لوگ اب ان کے خلاف کیوں صف آرا ہیں؟ عوام کا کیا ہے، اُنہیں بہرطور یقین دلا دیا جائے گا۔

مجھے شک ہے کہ سچ کے بعد کی دنیا میں مکر و فریب سے بھرپور انتخابات کی بجائے سوشل میڈیا کا زیادہ عمل دخل ہوگا۔ مشرقی حلب کی جنگ کی رپورٹنگ میں سوشل میڈیا ہی غیر معمولی طور پر ’’جنگی، خونی، خطرناک، عجیب اور ہلاکت خیز‘‘ تھا، جبکہ ایک بھی مغربی صحافی مشرقی حلب کے محاذ پر موجود نہ تھا۔ اس غفلت نے صحافت، اور کسی حد تک سیاست دانوں، کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے ہمیں یک طرفہ کہانی سننا اور ماننا پڑی۔ اُس جنگ کی کوریج میں کسی صحافی کا کوئی کردار نہیں۔ سب کچھ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی ہم تک پہنچا۔ ہم نے صحافت کو سوشل میڈیا کے حوالے کردیا اور سوشل میڈیا اُس خطے سے اپنا پیغام پھیلا رہا تھا، جو مسلح افراد کے کنٹرول میں تھا۔ تو کیا اگلی جنگیں بھی اسی ’’منصوبہ بندی‘‘ کے ساتھ لڑی جائیں گی؟ کیا سوشل میڈیا ہاتھ آئی سچائی کو آئندہ صحافت کے حوالے کرنے پر راضی ہوجائے گا؟ میں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہوسکے گا۔ اب وہ اِدلب جائیں گے ۔ اس خطے کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ باقی شامی صوبوں کی نسبت غیر معمولی حد تک بڑا ہے، چنانچہ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ تمام مشرق وسطیٰ میں حقائق کو من پسند انداز کی ملمع کاری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ مشرقی حلب میں ڈھائی لاکھ افراد پھنس کر رہ گئے ہیں اور اب ۳۱ ہزار اِدلب جانے کو تیار ہیں۔ دوسرے بہت سے لوگوں کا رخ مغربی حلب کی طرف ہے اور ان کی تعداد ۹۰ ہزار سے کم نہیں۔ ان تمام افراد کو نکلنے کا موقع نہیں مل سکا ہے۔ اب تک کسی کو معلوم نہیں کہ یہ اعداد و شمار سب سے پہلے کس نے سوشل میڈیا پر پھینکے تھے۔ نہ ہی کوئی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اب جبکہ وہاں داعش واپس آچکی تو تدمر میں کتنے شہری موجود ہیں؟ اور پھر موصل سے کیا خبریں آرہی ہیں؟ دس لاکھ سے زائد گھرے ہوئے شہریوں کو بچانے کے حوالے سے کیا کیا جارہا ہے؟

اب امریکیوں کا کہنا ہے کہ عراقی فورسز عراق کے دوسرے بڑے شہر کے گرد خود کو دوبارہ منظم کرتے ہوئے پوزیشن سنبھال رہی ہیں۔ ڈنکرک (Dunkirk) سے پسپائی کے وقت برطانوی فورسز نے بھی یہی حکمت عملی اپنائی تھی۔ ہم ٹرمپ یا بریگزٹ کے بلند آہنگ نقیبوں کی دروغ گوئی پر کیا شکایت کریں، جب ہم صحافی خود مشرق وسطیٰ کے حقائق کا قیمہ بنا کر پیش کر رہے ہیں؟ ابھی تک ہمارے اخبارات اور ٹیلی وژن اسرائیلی کی دیوار کو ’’سیکیورٹی فینس‘‘ اور اس کے غاصبانہ قبضے کو ’’نئی بستیاں ‘‘ قرار دیتے ہیں۔ کیا ہم سیاست دانوں کی طرف سے انتخابات کے مواقع پر بولے گئے جھوٹ پر افسوس کرسکتے ہیں جبکہ ہم خود اپنے قارئین اور ناظرین سے اتنا جھوٹ بولتے رہے ہوں؟ میرے پسندیدہ صحافی اور فلاسفر ، فنٹان او ٹولے ہیں جو ’’دی آئرش ٹائمز‘‘ کے لیے لکھتے رہے ہیں۔ اس ماہ انہوں نے ایک عمدہ بات کہی کہ ۲۰۱۶ء کی سیاست میں دروغ گوئی حیرت انگیز طور پر موثر رہی۔ بریگزٹ ریفرنڈم کے موقع پر جھوٹ بولا جاتا رہا کہ یورپی یونین سے نکلنے کی صورت میں ہونے والی بچت ۳۵۰ ملین پاؤنڈ فی ہفتہ کو نیشنل ہیلتھ سروس پر خرچ کیا جائے گا، لیکن بہت جلد اس جھوٹ کا پردہ چاک ہوگیا۔ پھر بھی جھوٹ کا شکار ہونے والوں کو اس سے کچھ فرق نہ پڑا۔ اوٹولے کا کہنا ہے کہ جھوٹ بہت تیزی اور آزادی سے سفر کرتا ہے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ اسے ثبوتوں کی بیساکھیاں درکار نہیں ہوتیں۔ نازی فورسز کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام یعنی ہولو کاسٹ کو اب سوشل میڈیا پر بے بنیاد کہانی قرار دیا جاتا ہے۔ ’’باخبر‘‘ قاری اسے نیو نازی پروپیگنڈا قرار دے کر کاندھے جھٹکتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔ کسی بھی کمپنی یا سرکاری ادارے پر کوئی الزام عائد کیجیے تو وہ ’’سوچ کے فرق‘‘ کی دلیل لے آتا ہے۔ اب معاشرے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کا ذکر کرتے ہوئے پورے وثوق سے کہا جاتا ہے کہ ’’ہولو کاسٹ نامی واقعہ کبھی رونما ہی نہیں ہوا‘‘۔

میری یاد داشت ساتھ نہیں دے رہی کہ میں نے اس سے زیادہ طنزیہ الفاظ کہاں سنے تھے؟ اس کے بعد جب میں اتفاقاً، پولینڈ میں تھا، مارٹن جبرٹ کا ’’جرمن عقوبت خانوں کے بارے میں جھوٹ‘‘ اور امریکا اور برطانیہ کی جرمن عقوبت خانوں کو بند کرانے کے لیے فوجی کارروائی کی ناکامی کے بارے میں پڑھ رہا تھا۔ وہاں میں نے ۳۰ ستمبر ۱۹۴۲ء کے ایڈوولف ہٹلر کے یہ الفاظ پڑھے تھے ’’جرمنی میں تو کبھی یہودی بھی میری پیش گوئیوں پر ہنستے تھے۔ میں نہیں جانتا کہ وہ اب بھی کہیں مسکرارہے ہوں گے یا نہیں۔ کیا اب اُن کے قہقہوں کا جذبہ سرد پڑ چکا ہے؟‘‘ ۱۹۲۵ء میں جیل سے رہا ہونے کے بعد ہٹلر نے “Volkischer Beobachte” میں ایک مضمون لکھا اور اس میں یہودیوں، مارکسی اور ویمر نظریات رکھنے والوں پر سخت نکتہ چینی کی۔

کسی بھی غصیلے شخص کے لیے توہین آمیز الفاظ برداشت کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ یقیناً فرایج نازی یا ٹرمپ نہیں۔ یورپ کے دائیں بازوکے سیاست دان ہمیں نسل پرستی سے مسلسل خائف بھی نہیں رکھتے، لیکن میرا خیال ہے کہ اس وقت سب سے خوفناک چیز سچ کو جھوٹ سے الگ کرنا ہے۔ یہ سوچ بھی ایک طرح کی فسطائیت ہے کہ ہم خود فیصلہ کر رہے ہیں کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا؟ آج ہمیں خبر جاری کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے پاس انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا ہے۔ یہ اِس دور کا نشہ ہے۔ ’’سوچ کا فرق‘‘ ایک کارگر فارمولا بن کر ہمارے سامنے آچکا ہے۔ اب کسی بھی سچ یا جھوٹ کو چھپانا ایسا آسان نہیں رہا۔ معمولی سا رپورٹر بھی دیکھ سکتا ہے کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔ اب سے پہلے ناظرین کی بھی اتنی تعداد نہ تھی۔ اب ناظرین خود فیصلہ کرتے ہیں کہ درست کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر اس کے باوجود جھوٹ کا بازار گرم ہے۔

آج آپ صرف تاریخ ہی کو نہیں جھٹلاتے، بہت سے جھوٹ تخلیق بھی کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے مشرق وسطیٰ میں ہمارے صحافتی تعاون سے دروغ گوئی کی صنعت پروان چڑھ رہی ہے۔ آج ہر آمر دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے۔ امریکا، نیٹو، ایران، روس، حزب اﷲ اور خلیج کے تمام آمر ایک صف میں کھڑے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ کچھ شرمناک وجوہ کی بنیاد پر یمن کو اس فہرست میں شامل کرنے سے گریزاں ہوں۔ اس دوران چین، جاپان، آسٹریلیا اور گرین لینڈ کیا کر رہے ہیں؟ دستر خوان بچھا ہوا ہے مگر اس پر انصاف نام کا پکوان نہیں۔ بہت کم سیاست دان، صحافی اور سفارت کار اس کے ذائقے سے آشنا ہیں۔ کچھ نے یہ لفظ کبھی سنا ہی نہیں۔ نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی کلنٹن یا بریگزٹ کے حامی انصاف کی بات زبان پر لانے کے روادار ہیں۔ میں یہاں دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد کو انصاف دلانے کی بات نہیں کر رہا بلکہ برطانوی ووٹروں کی بات کر رہا ہوں، جن سے یورپی یونین سے نکلنے کے فوائد کی بابت جھوٹ بولا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ سال سیاسی دنیا میں آنے والے بھونچال نے ہمیں جھوٹ کو دہرانے پر ندامت کی اذیت سے بے نیاز کردیا ہے۔ جنگ میں جھوٹ ایک معمول کی بات بن جاتا ہے اور اسے محاذ کی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ آج کی دنیا ایک ایسا محاذ بن چکی ہے جہاں جھوٹ کی تصدیق کے بھی پیمانے موجود ہیں۔ جہاں موجود نہ ہوں، وہاں وضع کرلیے جاتے ہیں۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“We are not living in a ‘post-truth’ world, we are living the lies of others”.(“independent”. December 29, 2016)

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: