برسات رحمت یا زحمت ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسماء ظفر

0

برسات ایک رومان پرور تصور ہے شعراء نے دیوان بھر ڈالے برسات پر اشعار غزلیں نغمے لکھ لکھ کر ساون کے جھولے پینگیں بھرتی مٹیار پکوان کیا ہے جو اس ایک لفظ برسات سے نہیں جڑا ہے۔

مجھے آج بھی بچپن کے ساون کی یاد آتی ہے بارش میں بھیگنا کاغذ کی ناؤ بنانا گرم گرم پکوان دال بھرے پراٹھے پکوڑے ہر چیز آج بھی ویسی ہی ہے آج بھی پکوان بنتے ہیں آج بھی بارش میں بھیگتے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ اب بارش کی پیشنگوئی کے ساتھ ہی دل دھڑکنے لگتا ہے دعا بے ساختہ ہونٹوں سے نکلتی ہے الٰہی خیر کی برسات ہو سب کچھ خیر عافیت سے گزر جائے کوئی حادثہ نا ہو کوئی ناگہانی نا ہو آج کے کراچی اور پندرہ بیس برس پہلے کے کراچی میں بہت فرق ہے سیوریج کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے پہلے مون سون سے پہلے برساتی نالوں کی صفائی ہوجاتی تھی اب اگر متعلقہ اداروں کو صفائی یاد بھی آتی ہے تو مون سون کے شروع ہوتے ہی اور نالوں سے نکلنے والا کچرا فورآ ٹھکانے نہیں لگایا جاتا بلکہ نالے کے دونوں جانب ڈھیر کردیا جاتا ہے نتیجہ برسات ہوتے ہی گند غلاظت پورے علاقے میں پھیل کر مذید تکلیف کا باعث بن جاتی ہے۔ پانی پہلے بھی اوور فلو ہوجاتا تھا مگر ایک آدھ دن میں برسات کم ہوتے ہی کسی حد تک خشک بھی ہوجاتا تھا کیونکہ سیوریج کا سسٹم آج کے مقابلے بہتر تھا آبادی بھی کم تھی۔

ہمیشہ سے وسائل کی کمی تو رہی ہے ہم ایک غریب ایشیائی ملک کے شہری ہیں ہمارے پاس اصل مسئلہ ہی یہی ہے مگر موثر منصوبہ بندی اور تھوڑی سی سمجھ بوجھ سے بہت سے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے مون سون سیزن شروع ہوتے ہی ہمیں برساتی نالوں کی صفائی کا خیال آتا ہے تھوڑا پہلے یہ کام کیوں نہیں ھوسکتا ؟ گٹر لائنوں کی ہر چار چھ ماہ میں صفائی ہوجائے تو کیا مضائقہ ہے بھلا ؟

سب چھوڑیں محلہ کمیٹی کی طرز پر چھوٹے پیمانے پر خود بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں ہم کم از کم اپنے محلے میں چند لوگ مل کر مون سون سے پہلے گٹر لائنوں کی صفائی کا بندوبست کر لیں ہر کام کے لیئے حکومت کامنہ دیکھنا کیا ضروری ہے ؟

دوسری سب سے اہم بات بجلی کا نظام ہے دو بوندوں کے ساتھ ہی کئی فیڈر ٹرپ کرجاتے ہیں آدھے سے زیادہ شہر تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔ کرنٹ لگنے سے ہر سال کئی اموات لازمی ہوگئی ہیں کے الیکٹرک رسمی اور روایتی طور پر ایک بیان جاری کردیتی ہے کہ بجلی کی تنصیبات اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں جو کہ کافی نہیں جب تک کوئی عملی اقدام نا کیئے جائیں ۔

حالیہ برسات میں صرف شہر کراچی میں کرنٹ لگنے سے چھ بچوں سمیت انیس افراد کی ہلاکت کے الیکٹرک کے منہ پر تمانچہ ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت کے باوجود نا وفاقی نا صوبائی حکومت نا ہی بجلی سپلائی کرنے والے ادارے کی جانب سے کوئی اقدام کیا گیا شہری جان سے جارہے ہیں ان پر کوئی اثر نہیں ہو رہا۔ آخر تھوڑی سی برسات سے کھمبوں میں کرنٹ کیسے آجاتا ہے اور بجلی کے ڈھیروں تار کیسے گر جاتے ہیں؟ اس سلسلے میں کوئی موثر انتظام کیوں نہیں کیا جاتا کیا تین تین دن بجلی بند رکھ کر اسکا حل نکالا جاسکتا ہے؟ جبکہ ہلاکتیں اسکے باوجود بھی ہو رہی ہیں عوام ہر برس باران رحمت کے لیئے دعا کرتے ہیں اور رحمت جو زحمت میں بدلتے دیکھ اللہ سے برسات نا ہونے کی دعا کرنے لگتے ہیں ہر طرف کھڑا پانی ٹوٹی ہوئی سڑکیں سفر کو دشوار بنانے کے ساتھ ساتھ حادثوں کا بھی باعث ہیں گھر سے کام کے لیئے اسکول کالج جانے کے لیئے نکلنے والوں کے لیئے گھر والے خیریت سے گھر واپسی تک دعائیں ہی کرتے رہتے ہیں ۔

زیادہ بہتر یہ ہے کہ ضرورت کے تحت ہی گھر سے باہر نکلا جائے چھوٹے بچوں کے لیئے خصوصاً یہ احتیاط کریں کہ وہ بڑوں کے ساتھ ہی گھر سے باہر نکلیں بجلی کے وہ کھمبے جو آپکے گھر کے قریب ہیں انہیں برسات سے پہلے لکڑی کے تختوں سے رسی کے ذریعے باندھ کر کور کردیں جان سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے بروقت احتیاط سے آپ بہت سے حادثات سے بچ سکتے ہیں سوشل میڈیا پر گردش کررہی دو معصوم بچوں کی لاشیں مجھے دو دن سے سونے نہیں دے رہیں احمد اور عابر ہماری آپ کی طرح اپنی منی سی سائیکل پر تین چار برس بعد ہونے والی مون سون کی بارش سے لطف اٹھانے گھر سے نکلے تھے کیا خبر تھی موت کا فرشتہ انہیں آن پکڑے گا آن واحد میں ننھے بچے خونی بجلی کے کھمبے کے قریب سے گزرتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔

خدارا اگر متعلقہ ادارے بے حس ہیں تو آپ خود اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت سے لاپرواہ نا ہوں نعت گوئی کا شوقین احمد اور فٹبالر بننے کا سپنا سجائے عابر اب اس دنیا میں نہیں رہے غفلت کسی کی بھی تھی مگر انیس سے زائد لوگ کرنٹ لگنے سے یہ دنیا چھوڑ گئے ۔

ساون جس سے پیاسی دھرتی جی اٹھتی ہے شجر ہرے بھرے ہو کر جھومنے لگتے ہیں ہر شے پر تازگی اور بہار چھا جاتی ہے کوئی سوچ سکتا ہے کہ تھوڑی سی لاپرواہی سے یہ رحمت بھرا موسم کس طرح زحمت بن سکتا ہے۔ موسم اپنے وقت پر جب سے دنیا بنی آتے جاتے رہتے ہیں دنیا کا توازن اللہ نے قائم کیا ہوا ہے برسات نا ہو تو یہ دنیا تباہ ہو جائے زیر زمین پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں کم برساتوں سے گلوبل وارمنگ بڑھ رہی ہے فصلیں تباہ ہو رہی ہیں اسلیئے ہمیں ابر رحمت کی اشد ضرورت ہے انسانی غفلت اور بے احتیاطی نے اس رحمت کو زحمت میں بدل ڈالا ہے ضرورت ہے تو تھوڑی سی سمجھ بوجھ اور احتیاط کی تا کہ اس حسین مون سون سے ہم پہلے کی طرح لطف اندوز ہو سکیں اللہ کی رحمت کو زحمت نا بنائیں ساون کو برسنے دیں سبزے کو لہرانے دیں باغوں میں کوئل کی کوک اور پینگوں کو روکنے کی دعا نا کریں یہ تو اس دھرتی کا حسن ہیں۔ اللہ سے دعا ہے ہم انسانوں کو موسم برتنے کی صلاحیت دے ہر موسم حسین ہے اگر ہم میں اسے سلیقے سے گزارنے کا ہنر ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: