فنون لطیفہ، پینٹنگ، نیوڈ Nude اور ہمارا معاشرہ —— حلیمہ سعدیہ/ سجاد خالد

0

فنون لطیفہ ان فنون میں سے ہے جس کا بنیادی سرچشمہ انسان کے دل کی وہ تحریک اور امنگ ہے جس کے نتائج عمل سے اس کو کوئی مادی فائدہ نہیں بلکہ صرف ایک خاص قسم کی روحانی حظ حاصل ہوتا ہے، قدیم زمانے میں فنون لطیفہ نے تو کچھ کم ترقی نہ کی، تاہم علمی حیثیت سے وہ مدون نہ تھے۔ لیکن زمانہ حال کی ترقیوں نے اب ان کو مستحکم اور پائیدار استقلال بخش دیا ہے۔
فنون لطیفہ کی حقیقت سمجھنے کے لئے سب سے پہلے خود فن کی حقیقت سمجھنی چاہیئے۔

فن کیا ہے:
فن انسان کے جذبات، حسن پرستی اور لذت طلبی کا ردعمل ہے، دل اور دل کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے، انسان کی خوشی و مسرت کا سامان کرتا ہے۔

مسلمانوں کی نقاشی کا رواج ساتویں آٹھویں عیسوی سے شروع ہوا تھا مگر اس نے ترقی کے مدارج اس سرعت کے ساتھ طے کیے کہ آج مطالعہ سے اس کے ہر قدم اور ہر دور پر تعجب ہوتا ہے۔ تصویر کشی کے آغاز اور اس کے عروج تک مسلمانوں نے تصویر کشی کو غیر فطری نہیں کہا نہ کبھی اپنے فنکاروں کو فطری جذبے کے اظہار سے روکا، جو آئے دن اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے تھے۔ اور زی روح تصویروں کی تخلیق کے تاثر رکھتے تھے۔

مغلوں کے دور میں مسلمانوں کے علم وہنر اور تصویر کشی کا چرچا تھا۔ وہ ثقافتی زندگی جس سے ہندوستان جنت کہلایا، جس کے باعث شاعر مشرق ڈاکٹر سر اقبال نے اسے سارے جہاں سے اچھا اور پیارا وطن قرار دیا۔ جن کے تاثرات کے زیر اثر شہنشاہ شاہ جہاں نے
اگر فردوس بروئے زمین است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
کا نعرہ بڑے طمطراق سے بلند کیا۔ ان سب کا بہت گہرا تعلق مسلمانوں کے تعمیری نظریے اور فن مصوری سے ہے۔ وہ زندگی کے نشان، وہ یادگاریں، جو مسلمانوں کی بلند نگاہی، اولوالعزمی اور فراخ دلی کی بدولت زندہ کھڑی ہیں اور بنانے والوں کے فطری انہماک کا پتا دیتی ہیں، مسلمانوں کے زوق شاہانہ، ان کی شاندار روایات اور ان کے پر شکوہ مسلک پر بھی روشنی ڈالتی ہیں۔ مسلمانوں کی یہ ناقابل فراموش خدمت محض تاج محل آگرہ،لال قلعہ،جامع مسجد، موتی مسجد، اعتمادالدولہ قطب مینار، گولکنڈہ، گول گنبد بیجا پور، سکندرہ، روزہ اکبر اعظم، مقبرہ ہمایوں اور فتح پور سیکری کے ماحول تک ہی محدود نہیں اس کے ساتھ مسلمانوں کی وہ مصوری بھی ہے جس نے ہند و ایرانی مغل اسکول، دکنی اسکول، کوجھستانی و کانگڑہ سکول،گجراتی و جین سکول کو جنم دیا، مصوری کے ان مختلف اسکولوں کی انفرادی خصوصیات اور طرز نگارش کو بھی مسلمانوں نے ہی پروان چڑھایا اور اس طرح پروان چڑھایا کہ آج اس فن کو دنیا کی تاریخ میں وہی مقام حاصل ہے جو زندہ قوموں کے زندہ فن کو حاصل ہوتا ہے۔

اس ساری تمہید کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہمارا معاشرہ چونکہ اسلامی معاشرہ ہے تو یہاں فن مصوری میں کچھ حدود و قیود کا تعین کرنا ضروری ٹھہرتا ہے۔

نیوڈ مصوری یا جسمانی خدوخال کو نمایاں طور پر پیش کرتی تصویر کشی ہمارے معاشرے اور مذہب کے لحاظ سے نہ صرف نا قابل قبول ہے بلکہ غیر ضروری بھی ہے۔ ہر معاشرے کی روایات میں انسانی جسم کے جنسی حصوں کا چھپایا جانا لازم قرار دیا جاتا ہے، برہنہ تصویروں پر ہر جگہ قدغن لگائی جاتی ہے۔ اس لئے جو طبقہ کچھ مخصوص عزائم لیکر گاہے بگاہے سامنے آتا ہے اس کی یہاں بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔ فن مصوری سے کسی طور انکار نہیں لیکن درپردہ نیوڈٹی اور فحاشی کے ابلاغ پر ضرور روک لگانے کی ضرورت ہے۔

اس تحریر کی تحریک ممتاز خطاط، آرٹسٹ اور دانشور جناب سجاد خالد سے ملی جو انہوں نے ’دانش‘ سے گفتگو کرتے ہویے کی۔ یہ خوبصورت وڈیو ذیل میں ملاحظہ کیجئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: