’’ممتاز مفتی‘ کا شاہکار کتاب ’ علی پور کا ایلی‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔ ابن اظہر

0

شروع میں تو سمجھ نہیں آتا کہ ممتاز مفتی کی ہزارصفحے پر مشتمل کتاب ” علی پور کا ایلی ” کو آخر کہیں کیا۔ سوشل میڈیا خاص طور پر ٹویٹر اور اختصار پسندی کے اس دور میں اردو ادب کے اس شاہکار کو بقول مفتی صاحب ” ڈھیر” کہنے پر دل آمادہ نہیں ہوتا۔ اگر اس کو مفتی صاحب کے سمجھانے پر “آپ بیتی ” مان لیا جائے تو کتاب کا افسانوی اور داستان گوئی کا پہلو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔ اگر قصہ کہانی سمجھ کر پڑھیں تو کتاب میں جا بجا بکھری حقیقتیں واشگاف الفاظ میں اپنی سچائی کا اعلان کرتی ہیں اور اگر اس کو زندگی کے سفر میں ڈبکیاں کھاتے ھوے ایک منتشر، آوارہ اور احساس کمتری کے مارے ھوے بے چین انسان کا سفر نامہ کہیں تو بھی بات بن تو جاتی ہے مکمل نہیں ہوتی۔

درحقیقت ” علی پور کا ایلی” بقول ابن انشا قلم نہیں بلکہ کیمرے کی آنکھ سے لکھا گیا ہے اور غالباً اس شاہکار کی یہی خصوصیت اسے اردو ادب کی ناول نگاری میں اس قدر بلندی عطا کرتی ہے کہ آپ کے سامنے کاغذ پر لکھی ہوئی تحریر ایک پلازما سکرین میں تبدیل ہو جاتی ہے اور آپ اس ہائی ریزولوشن منظر میں زندگی کے گرداب میں مصنف کے ساتھ ساتھ غوطے کھاتے چلے جاتے ہیں۔ جب یہ طوفانی ریلہ گزر جاتا ہے تو آپ صحرا میں کھڑے اس مسافر کی طرح حیران پریشان ادھر ادھردیکھتے ہیں جس میں چلنے کی ہمت صرف سراب کی جھلک سے پیدا ہوتی ہے۔ کتاب ختم ہو جاتی ہے، آپ سیر بھی ہو جاتے ہیں لیکن تشنگی باقی رہتی ہے۔

” علی پور کا ایلی” کی سب سے بڑی خوبی اس کی نڈر اور بے باک سچائی ہے۔ منٹو کی طرح معاشرے کی ننگی حقیقتوں پر افسانے لکھنا اور بات ہے لیکن خود اپنے گھر میں جھانک کر سچائیوں کو سامنے لانا بہت دل گردے کا کام ہے۔ اردو یا دنیا بھر کے ادب میں کتنے لکھنے والے ہونگے جو خود اپنے والد کی زندگی پر اس قدر کھل کر لکھ سکیں۔ علی احمد کا کردار اپنی رنگین مزاجی سے زیادہ اس بات پر حیران کر دیتا ہے کہ لکھنے والا کوئی اور نہیں اس کا اپنا بیٹا ہے۔ مفتی صاحب کہنے کو ایک کمزور اور احساس کمتری کے مارے ھوے لڑکے لگتے ہیں لیکن ایلی کے روپ میں ان سا شہ زور اور دلیر آدمی شائد ڈھونڈے نہ ملے۔

کتاب کی دوسری بڑی خوبی اس کی کردار نگاری ہے تقریباً سو برس پہلے کے کردار آپ کو یوں دکھائے جاتے ہیں گویا آس پاس موجود ہوں اور مفتی صاحب کا قلم، کیمرے کا کام خوب انجام دیتاہے۔

تقریباً سو سے بھی زیادہ کرداروں کی تشکیل اس کی جزیات میں جاکر اس طرح بیان کی جاتی ہیں کے اگر وہی کردار حقیقی زندگی میں سامنےلا کر کھڑا کر دیا جائے تو شاید سواے سانس چلنے کے اور کوئی بات اضافی محسوس نہ ہو۔

جنس کی چھاپ یقیناً ایلی کے کردار پر بہت گہری ہے۔ علی احمد کا ” ٹین کا سپاہی” اور “ربڑ کی گڑیا ” کی باہمی دھینگا مشتی کی منظر کشی اس طرح سے کی گئی ہے کہ دل میں ویسی ہی کراہت پیدا ہو جاتی ہے جیسی خود ایلی کو ہوتی ہو گی۔

شہزاد کا کردار ناول کا وہ تیسرا ستون ہے جس نے اس عمارت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔

چھ بچوں کی ما ں سے عشق لڑانا اور پھر اس کو بھگا کر شادی کر لینا کسی سورما کا ہی کام ہو سکتا ہے لیکن جس عورت کے گرد یہ کردار بنا گیا وہ بھی ایک حیرت ناک کردار ہے۔ خوبصورت ہونا،ایک بات ہے، اس حسن کا احساس ہونا دوسری بات لیکن ان سب کے ساتھ ساتھ بے باک اور نڈر ہونا بہت کم عورتوں کے حصے میں آتا ہے۔ ایلی جیسے احساس کمتری کے مارے ھوے لڑکے کو ایسے محبوب کا مل جانا بھی کمال ہے اور اس کو سمجھنے میں وقت درکار ہےکہ قصوروار کس کو کہیں اور باکمال کس کو۔

سادی ایلی کا وہ عشق ہے جو شہزاد کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔ لاہور میں سفید محل کی مقیم سادی حسن و عشق کا مکمل استعارہ ہے جو رفتہ رفت ا یلی کو یوں اپنی گرفت میں لیتا ہے کہ جان چھوڑے نہیں چھوڑتی۔ علی احمد، ایلی، شہزاد اورسادی کے علاوہ سو سے زائد کردار اس قدر مہارت سے بیان کیے گئے ہیں کہ گویا پردہ پر ابھرتے ہیں ہیں اور اپنا کردار خوبی سے ادا کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔

جس قدر بے باکی سے ایلی نے کام لیا ہے اس کو پڑھنے کے لئے بھی حوصلہ چاہیے چہ یہ کہ لکھا جائے۔

متحدہ ہندوستان کی تحصیل گورداسپور سے شہروں ہونے والی یہ کہانی لاہور، ساہیوال، شیخوپورہ، قصور، ایمن آباد سے ہوتی ہوئی امرتسر سے چوبیس میل دور دوبارہ علی پور یعنی بٹالہ پر جا کر ختم ہوتی ہے جہاں آخری دفعہ آنے کا مقصد اپنے بیٹے کو زندہ سلامت پاکستان پہنچانا ہوتا ہے۔

علی پور کا ایلی کی مثال احرام مصر کی طرح ہے جو دور سےبہت ہموار اور نفیس نظر آتا ہے لیکن جوں جوں اس کے قریب ہوتے جائیں اس کی ہیت سینکڑوں من وزنی پتھروں کی بدولت ناہموار اور خطرناک نظر آتی ہے یا پھر بالکل زندگی کی طرح جو اپنے اندر طوفان اور شدت لئے ہوتی ہے چاہے سطح پر سمندر کتنا ہی خاموش کیوں نہ نظر آ رہا ہو۔

یہ کتاب آپ کو بازار حسن کے درشن بھی کرے گی اور پیروں سے بھی ملواے گی، اس میں محلے کی عورتوں کی چہ مگوئیاں بھی ہیں اور دیوانوں کے واشگاف نعرے بھی، اس میں فحش اشارے بھی ہیں اور دلپذیر ادائیں بھی، اس میں لڑکپن کی جھجک بھی ہے اور جوانی کی بے باکیاں بھی۔ اس میں عشق کی پاکیزگی بھی ہے اور ہوس کی حیوانگی بھی، اس میں مہارانی اور نوکرانی کا روپ بھی ہے اور محبوبہ سے بیوی بنانےتک کا اذیت ناک سفر بھی۔

یہ کتاب صرف پڑھنے کے لئے نہیں ڈوبنے کے لئے ہے یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ ” علی پور کا ایلی” پڑھ کر شرم میں ڈوب جاتے ہیں یا کسی گہری سوچ میں!۔

علی پور کا ایلی کے کرداروں کا چارٹ

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: