افغانستان آزادم ۔ کھانافری یم! (قسط ۴) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زاہد عظیم

0

’’ تین دن!۔ یہ تو کچھ بھی نہیں۔ وہاں تو تین ماہ بھی محض تین سیکنڈ میں گزر جاتے ہیں۔‘‘ پروفیسر صاحب ہمیں ہر صورت اگلے دن اپنے ساتھ لے جانے پرمُصر تھے۔

’’ لیکن ہم نے طے کر رکھا ہے کہ ہم پہلے گرم چشمہ جائیں گے، پھر کوغذی اور گولین کا رخ کریں گے۔ کافرستان کی باری بعد میں آتی ہے۔‘‘میں نے اپنا پروگرام بتاتے ہوئے کہا۔

’’ سب بے کار ہیں۔ یہ جگہیں تو دیکھنے کے لائق ہی نہیں۔ صرف کافرستان ہی دیکھنے کی جگہ ہے۔‘‘ پروفیسر صاحب اپنی بات پر اڑے ہوئے تھے۔

’’آپ نے یہ جگہیں پہلے کتنی بار دیکھی ہیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔

’’ دیکھی تو خیر نہیں ،بس سنا ہے کہ صرف کالاش کافرستان ہی دیکھنے کی جگہ ہے۔ باقی آپ کی مرضی۔‘‘ پروفیسر صاحب پہلی بار پسپا ہوئے تھے۔

’’ زاہد بھائی میری تصویر تو بنا دیں۔‘‘ اظہار کی آواز کہیں بلندی سے آرہی تھی۔دیکھا تو وہ پولو کے ایک گھوڑے پر سوار میرے پاس ہی کھڑا تھا۔

’’ جلدی سے تصویر بنا لو ۔ گھوڑے پر کھوتا بیٹھا پہلی بار دیکھا ہے۔‘‘ واجد پاس ہی سے بولا۔

میں نے وہ تصویر بنائی تو گھوڑا بدک کر ایک طرف کو دوڑا۔ سوار اناڑی تھا مگر وہ اس طرح گھوڑے سے اترا کہ آج تک ہم فیصلہ نہیں کر پائے کہ اظہار گھوڑے سے گرا تھا یا اترا تھا۔

پروفیسر صاحب نے میرے گروپ کے باقی لوگوں کو بھی باری باری اگلے دن کالاش جانے کا مشورہ دیا اور کالاش لڑکیوں کی اتنی تعریفیں کر ڈالیں کہ مجھے حالات پہ قابو پانا مشکل ہو گیا۔اس معاملے سے کنارہ کش ہونے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ پروفیسر صاحب سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے۔لہٰذا ہم چترال کی سیر کے بہانے وہاں سے اٹھے ، کیونکہ پولو میچ کے اختتام کے بعد سب لوگ واپس جا رہے تھے۔پروفیسر صاحب نے رات کو ملنے کا وعدہ لیا اور اپنے ہاسٹل کا ایڈریس دیا جہاں انکا پڑاؤ تھا۔

ہم وہاں سے نکل کرچترال کے بازار میں آگئے اور دکانوں میں موجود چترالی مصنوعات کا سروے شروع کیا اور خریداری کی۔ میں نے دیکھا کہ اظہار اور واجد سب سے آخر میں چلتے ہیں اور لگاتار کسی گہری گفت و شنید میں مصروف ہیں۔ لیکن جونہی کوئی انکی طرف متوجہ ہوتا، وہ ایک دوسرے سے یوں منہ موڑ لیتے جیسے اجنبی ہوں۔

’’ لگتا ہے سودا طے نہیں پایا۔‘‘ زبیر نے سرگوشی کی۔

’’ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو خود ہی کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔‘‘ میں نے جواب دیا اور ایک ایسی دکان میں چلا گیا جہاں چترال کی نایاب اشیا ، کالاش کی مصنوعات اور قیمتی پتھر بِک رہے تھے۔ ایک کونے میں پرانی تلواریں اور دوسرا جنگی سامان سجا ہوا تھا۔دوسرا گوشہ اینٹیک زیورات سے بھرا ہوا تھا۔ گویا حسن اور جوانی نے بہادری اور شجاعت کے پڑوس میں سکونت اختیار کر رکھی تھی۔

تلواریں اور زیورات دو تین صدیاں پرانے تھے۔ نجانے کیوں میں بھی انھیںصدیوں میں جا پہنچا جہاں ایک بہادر جنگجو ، زرہ پہنے ایک ہاتھ میں ڈھال اور دوسرے میں اپنے گھوڑے کی باگ سنبھالے ، دشمن کی سرکوبی کے لیے جانے کو تیار ہے اور اسکی ایک ایک سانس پر سو سو بار قربان ہونے والی لڑکی نیلی بلور آنکھوں میں ساون بسائے اس کی میان میں تلوار درست کرتے ہوئے اسے رخصت کر رہی ہے۔ بہادر جنگجو ، لڑکی کے گلو بند کو چھوتا ہے جس میں جڑے قیمتی پتھر ،پھٹی پھٹی آنکھوںسے نوجوان کا چہرہ تکتے تھے۔ایک طرف سے تسلیاں تھیں تو دوسری طرف سے دعائیں۔گھوڑے کی ٹاپوںکے ساتھ ،تلوار،ڈھال اورزرہ کی آہنی جھنکار سنائی دے رہی تھی۔ ان آوازوں میں سونے چاندی کے کنگنوں، چوڑیوںاور پائلوں کی جھنکار بھی شامل ہونے لگتی ہے۔گھوڑے کے سُموں سے اڑتی دُھول میں سے ترچ میر کی چوٹی دونوں کو دیکھ رہی ہے۔ و ہ ا ن دونوں کی لازوال محبت کی لافانی گواہ ہے۔ترچ میر نے بھی لڑکی کو دلاسا دینے کی لیے اپنی برفانی چادر کو سرد ہوا کی صورت اس کے کاندھوں پر اوڑھا دیا۔

’’کہاںکھو گئے ہو سرکار؟‘‘ شعیب نے مجھے جھنجوڑ کر پوچھا۔

اور میں واپس دکان میں آکھڑا ہوا ، جہاں اب کچھ نگینے گر جانے سے گلو بند کی آنکھیں بے نور ہو چکی تھیں۔پائلوں کے چھوٹے گھنگروٹوٹے تو وہ بھی گونگی ہو گئیں ۔تلوار ،ڈھال اور زرہ نے ہمیشہ ساتھ دینے کا اپنا وعدہ نبھایا ۔ وہ ہتھیار اب بھی انھیں زیورات کے ساتھ پڑے تھے۔جب میں اس دکان سے باہر نکلا تو سامنے چناروں کے جھنڈ کی اوٹ میں سے ، محبت کی لافانی گواہ ترچ میر ہمیں دیکھ رہی تھی۔

شاہی بازار چترال میں ہم نے شام کو رات کیا اور چترالی پٹی کی بنی اشیاء خریدیں۔ بازارمیں ہمیں عورتیں بالکل نظر نہیں آئیں، تمام مرد روشن آنکھوں والے اور تیکھے نقوش والے تھے۔شلوار قمیضاور چترالی پٹی کی واسکٹ زیبِ تن کیے، سر پر چترالی پٹی ہی کی ٹوپی میں پھول سجائے ، ہر مرد ہمیں یوں دیکھتا تھاجیسے کہہ رہا ہو ’’ خوش آمدید! آپکا اپنا علاقہ ہے ۔ اپنا گھر ہے،سکون سے گھومو پھرو‘‘۔ لیکن سکون کیسے ملتا کہ ہر مرد کے ہاتھ میں بندوق تھی اور ہر بچے کے پاس غلیل۔ بڑے میاںتو بڑے میاں ،چھوٹے میاں سبحان اللہ۔

بازار میں ایک دکان پر ہمیں پروفیسر صاحب پھر مل گئے اور ہمیں اپنے ساتھ ہی، اس ہوسٹل لے آئے جہاں ان کا قیام تھا۔ بچارے طلبا کو جس کونے کھدرے میں جگہ ملی، بستر بچھا کر زندگی کے حقائق کوقریب سے دیکھنے میں مشغول تھے۔

’’یہ کیا چیز ہے جی؟‘‘ پروفیسر صاحب نے شعیب کے ہاتھ سے بانسری لے کر پوچھا۔

’’بانسری لگتی ہے !‘‘ خود ہی جواب دیا۔

’’آؤجی! یہی ہماری عارضی قیام گاہ ہے۔‘‘ایک کمرے میں گھستے ہوئے پروفیسر صاحب بول رہے تھے۔ہم سب چارپائیوں پر بیٹھ گئے اور پروفیسر صاحب بانسری کے اعصاب پر اپنے پھیپھڑوں کی تمام تر صلاحیتوں سمیت سوار ہوگئے۔ بانسری اس زور سے چیخی کہ طلبا جو کونے کھدروں میں بنات النعش کی صورت نہاں تھے، اچھل کر عریاں ہوئے ۔یعنی ایک ایک بستر سے تین تین سر نمودار ہوئے اور خونخوار ہوئے۔

’’بہت شور مچاتی ہے یہ بانسری۔‘‘ پروفیسر صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے۔

’’بانسری بچاری کا کوئی قصورنہیں۔‘‘ میں بولا ۔

’’نالی میں سے دریا گزرنے پرتھوڑا بہت احتجاج تو ہو سکتا ہے۔‘‘میرے جواب سے پروفیسر صاحب نے کوئی مطلب نکالنا پسند نہیں کیا۔ پھر بولے

’’اسکی آواز مزیدار نہیں، بانسری بجے تو ویسے ہی نیند آجاتی ہے۔ کیا خیال ہے؟‘‘۔

شعیب بولا’’ لیکن بانسری بجانی آتی ہو تو آواز مزیداربھی نکلتی ہے اور نیند بھی آ جاتی ہے۔ــ ‘‘

’’کیا مطلب آپ بجا لیتے ہیں بانسری؟ــ‘‘ پروفیسر صاحب بانسری شعیب کو لوٹاتے ہوئے بولے۔

’’یہ زاہد صاحب کی ہے۔اور وہی بجاتے ہیں۔‘‘ شعیب نے بانسری میری طرف بڑھا دی۔

’’ اچھا تو پھر کوئی خو بصورت سا گانا سنائیں جی۔۔۔چترال کی فضاؤں میں۔‘‘پروفیسر صاحب کمبل میں گھستے ہوئے بولے۔

’’آپ فرمائش کریں، یہ وہی گیت آپ کو سنائیں گے‘‘ اظہار میری مہارت ثابت کرنا چاہتا تھا۔

’’اچھا تو پھر لتا کا گانا سنائیں تمہیں میرے مندر ، تمہیں میری پوجا ، تمہیں دیوتا ہو‘‘

وہ فرمائش کر کے میری طرف یوں دیکھنے لگے جیسے ریاضی کا مشکل سوال پوچھ کر استاد بچوں کا ردِعمل دیکھتا ہے۔

میں نے کچھ کہے بغیروہ گیت بجانا شروع کیا ۔ پہلے تو پروفیسر صاحب نے آنکھیں اور منہ کھولا۔ پھر کبھی وہ میری انگلیوں کو دیکھنے لگتے اور کبھی بانسری کو۔ آخر کار وہ وجد میں آگئے اور انکی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔میں نے گھبرا کر بانسری بجانی بند کر دی ۔

’’ پروفیسر صاحب ! طبیعت تو ٹھیک ہے ؟‘‘ میں نے گھبرا کر پوچھا۔

انہوں نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا،

’’آپ نے ظلم کیا جو یہ گا نا اتنی خوبصورتی سے بجایا۔‘‘ وہ بولتے رہے۔

’’یہ گیت میری بیگم گایا کرتی تھی۔ اور اس کو بانسری پر سننا چاہتی تھی‘‘انہوںنے کہا۔

’’تھی؟۔۔کیا مطلب‘‘میں نے پھر پوچھا۔

’’ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ ابھی ہماری شادی کوچند سال ہی ہوئے تھے کہ ایک شام لانگ ڈرائیو کے لیے نکلے ۔۔۔ بیگم گاڑی چلانے لگی۔ یہی گانا ہم دونوں مل کر گا رہے تھے ۔۔۔ کہ حادثہ ہو گیا۔‘‘

پروفیسر صاحب اپنے ماضی میں گم ہو تے گئے اور ماحول سوگوار ہوتا گیا۔اسی اثنا میں پروفیسر صاحب کو ملنے کے لیے، مقامی کالج کے کچھ طلبا اور اساتذہ آگئے تو ہم لوگ پھر ملنے کے ایک اور وعدے پر اٹھ کر چلے آئے۔

’’پروفیسر صاحب تو بہت دُکھی لگتے ہیں!‘‘ زبیر بھی اداس سا تھا۔

’’ ساری سیر کا مزا کِر کِرا کر دیا ۔۔۔ حادثے کا بتا کر۔‘‘ واجد حادثے کو اہمیت دے رہا تھا۔

’’ اوئے کچھ نہیں بگڑتا تیرا ۔۔۔ حادثے سے نہ ڈر ۔۔۔بوب والی کے ابّے سے ڈر، جو تجھے ائر پورٹ پر گھور رہا تھا۔‘‘ اظہار پھر واجد کے سر ہو گیا۔

’’میں نے منع کیا ہے نا ۔۔۔ یہ قصہ ہوٹل میں زیرِبحث آئے گا۔‘‘ میں نے پھر مداخلت کی۔

’’ کیا خوشبو ہے کبابوںکی۔‘‘ شعیب ایک ہوٹل کے سامنے رک گیا۔

بھوک نے سب کو اس ہوٹل پر رکنے پر مجبور کر دیا۔

یہ ایک کھلے اور بڑے صحن والاافغانی ہوٹل تھا جس کے برآمدے میں افغانی تکّے اور کباب بن رہے تھے۔ہوٹل کے اندر ایک بڑے سے چبوترے پرقالین بچھے ہوئے تھے جس پر پچاس ساٹھ افغانی لوگ پلاؤ کباب اور قہوے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔اس بڑے سے ہال کمرے کا ماحول بڑا عجیب سا لگا۔ دیواروں پر بڑے بڑے پوسٹر لگے ہوئے تھے جن پر احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمت یارکی تصاویر تھیںاور فارسی اور پشتو عبارت درج تھی۔پوسٹروں کی سب سے تازہ تہ پر ’’افغانستان آزادم‘‘ کی سرخی نظر آئی ۔

ہم لوگوں نے آرڈر توکبابوں کا دیا تھا جبکہ افغانی روٹیوں کے ساتھ ہمیں کوفتے پیش کیے گئے ۔ ہم نے اپنے آرڈر کے بارے میں دوبارہ بتایاتو دونوں طرف مناسب ابلاغ نہ ہونے کا شدت سے احساس ہوا کیو نکہ نہ ہمیں فارسی آتی تھی نہ پشتو۔لیکن مسئلہ یہ پیدا ہو گیا کہ ہماری ہر صدائے احتجاج کے جواب میں ایک نئی ڈش ہمارے سامنے پیش کردی جاتی۔

’’ زاہد بھائی !چکر میں ہی پڑ گئے ہیں۔‘‘اظہار متفکّر ہو کر بولا۔

’’میرے خیال میں تو چپ چاپ انھی کی مانتے جاؤ!۔ بڑے ظالم لوگ نظر آتے ہیں یہ۔‘‘زبیر پریشانی سے کہنے لگا۔

’’بڑی جنگجو قوم ہے ۔ ہم تو اس کی ایک ہوائی فائرنگ کی مار ہیں۔‘‘شعیب نے بھی لقمہ دیا۔

’’ باتیں کم کرو اور ڈٹ کر کھاؤ ۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ صبح کا ناشتا نہیں کریں گے۔‘‘ میں نے تجویز پیش کی۔

’’نہ جی نہ!ناشتے کے بغیر تو میں چل ہی نہیں سکتا۔‘‘ واجد بولا۔

’’بیٹھ او بیٹھ آرام سے ۔۔۔ ناشتے کاشوقین بڑا۔بوب والی سامنے آگئی نا ، تو چلنے کے بجائے تُو دوڑنے لگے گا۔‘‘ اظہار واجد پر پھرچڑھ دوڑا۔

’’تم اس ماحول سے ایک بار زندہ نکل چلوتو پھرہنسی مذاق کر لینا۔۔۔میری تو جان پہ بنی ہے ۔‘‘شعیب محصور قیدی کی طرح بول رہا تھا۔

جب ہوٹل میں موجود ہر ڈش ہمارے سامنے پیش کی جا چکی تو آخر میںہمارا اصل آرڈر یعنی کباب پیش کیے گئے۔ سیخ میں ہر بوٹی کے بعد چربی کی ایک بوٹی پروئی گئی تھی ۔

’’کباب ۔۔۔خوب است؟۔۔۔اچھاہے؟۔‘‘ہوٹل کا مالک میرے پاس کھڑا کھانے کی بارے میں پوچھ رہا تھا۔اس کے چہرے پر ایک خوشگوار سی دوستانہ مسکراہٹ تھی۔

’’واہ ۔۔۔کباب خوب است ۔۔۔زندہ باد۔‘‘اظہار انگوٹھا ہوا میں لہرا کر ہنستے ہوئے بولا۔ہوٹل والے نے ہنس کر کہا،

’’ مہمان۔۔۔خدمت فرض۔‘‘

اس جملے سے ہماری جان میں جان آئی۔ اظہار اور بے تکلف ہو گیا۔ وہ دیوار پر لگے پوسٹر کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا:

’’مبارک۔۔۔ افغانستان آزادم۔۔۔مبارک‘‘

اس جملے پر ہوٹل میں بیٹھے سارے لوگ اظہار کی طرف خوشی اور مسکراہٹ سے لبریز چہروں کے ساتھ دیکھنے لگے۔ہوٹل کا مالک اظہار کی طرف مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھا کر بولا،

’’پاکستان ،افغانستان برادر۔۔۔مبارک ۔‘‘

اظہارجذباتی ہو رہا تھا۔وہ ہوٹل والے سے کہنے لگا،

’’تو پھر کھا نا مفت کھلاؤ۔۔۔بانٹ دو۔‘‘

ہوٹل والا ہاتھ کے اشارے سے بتا رہا تھا کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔ اظہار اب اپنی فارسی کی طرف رجوع کر کے بولا ،

’’خان صاحب ! ہم پاکستانی ۔۔۔آپ افغانی۔۔۔برادر؟‘‘

اشاروں اور الفاظ سے ہوٹل والا سمجھ گیا اور ہاں میں سر ہلایا ۔

اظہار پھر بولا:’’پاکستان زندہ باد ۔۔۔افغانستا ن زندہ باد‘‘

ہو ٹل والے نے پھر ہاں میں سر ہلایا۔ اظہار کہنے لگا

’’افغانستان آزادم۔۔۔ مبارک۔ ۔۔ کھانا فری یَم‘‘

اب ہوٹل والا حیران نظرو ں سے اظہار کو دیکھنے لگا۔ جو بولے جا رہا تھا

’’ افغانستان آزادم ۔۔۔کھانا فری یَم‘‘

ہم سب لوگ ’’مفت ‘‘ کا فارسی ترجمہ ’’فری یم‘‘ سن کر ہنسنے لگے۔ ہمیں ہنستا دیکھ کر ہوٹل میں بیٹھے تمام لوگ ہنسنے لگے۔ہمیں لگا ہم لوگ اپنے گھر میں آ بیٹھے ہیں۔

پہلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

دوسری قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

تیسری قسط کے لیے اس لنک پہ کلک کریں

(Visited 1 times, 3 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: