چار درویش اور ایک کچھوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد تیمور

0

ناول پر تبصرے سے پہلے میں سید کاشف رضا صاحب کی دیگر تصانیف کا تعارف آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ اس ناول سے پہلے کاشف رضا کے دو شعری مجموعے ’’محبت کا محل وقوع‘ اور’ ممنوع موسموں کی کتاب‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔

نوم چومسکی کی تحریروں کے تراجم پر مشتمل ان کی دو کتابیں ’’دہشت گردی کی ثقافت‘ اور ’11 ستمبر‘‘ سامنے آچکی ہیں۔ حنیف محمد کے ناول ”A Case of Exploding Mangoes” کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔

ان کی طویل سفری کہانیاں جریدے ’’آج‘‘ میں شائع ہو چکی ہیں اور دو مزید سفری کہانیوں کے مجموعے ’’دیدم استنبول‘ اور ’دیگر سفری کہانیاں‘‘ کے نام سے زیر ترتیب ہیں۔

’’چار درویش اور ایک کچھوا‘‘ ان کا پہلا ناول ہے۔ اس ناول میں سید کاشف رضا نے مذہبی فرقہ واریت، سیاست، معاشرتی مسائل، طبقاتی کشمکش، عورتوں کا استحصال، آمریت اور دہشت گردی کو بیان کیا ہے ناول کے چاروں کرداروں جاوید اقبال، آفتاب اقبال، بالا اور تحصیل دار اقبال محمد خان خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے۔ ناول میں 70 کے بعد کی سیاسی صورتحال کو موضوع بنایا ہے۔ 70 کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمان کو اکثریت کے بعد حکومت نہ دینے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال جنرل یحییٰ کی نا اہلی اور بنگلہ دیش کا قیام اور اس کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والے مسائل یکے بعد دیگرے سول حکومتوں کا خاتمہ پرویز مشرف کے مارشلاء کے پیدا ہونے والی دہشت گردی جس سے پاکستان آج تک نہیں نکل سکا ان مسائل کو بیان کیاہے۔

ناول میں سیاست کے ساتھ ساتھ مذہبی فرقہ واریت اور مذہب کا غلط استعمال کرنے والے انتہاء پسندوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناول کا کردار بالا جس سے سب لڑتے رہتے ہیں اس وجہ سے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے ایک دن وہ اپنے ایک دوست جو اکثر اس کی بہن کے بارے میں باتیں کرتا رہتا ہے اس کو پتھر مار کر قتل کر دیتا ہے اور گھر سے بھاگ کر جلال پور شریف حافظ حکیم برکت اللہ شاہین کے گھر جاتا ہے۔ حافظ برکت اللہ اس کو چائے وغیرہ پلانے کے بعد ایک کوٹھڑی میں بند کر دیتا ہے۔ اس سے بالے کی پہلے بھی دو تین ملاقاتیں ہو چکی تھیں اور وہ دین کے لیے خود کو وقف کرنے کا ارادہ کر چکا تھا۔ اس طرح اس کی برین واشنگ کی جاتی ہے اور ایک دہشت گرد بنتا ہے اور افغانستان میں مارا جاتا ہے۔

ناول کا اسلوب نیا اور دلچسپ ہے۔ ہر کردار کی اپنی الگ سے کہانی ہے یہ ایک نیا تجریہ ہے اس سے پہلے میں نے ایسا ناول نہیں دیکھا۔ انگریزی الفاظ کا استعمال اکثر ملتا ہے۔ نئے اسلوب کی وجہ سے یہ ناول پڑھنے والوں کو متاثر ضرور کرے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: