یوجین روگان کی کتاب ’The Arabs :A History‘ پہلا باب ’قاہرہ سے استنبول‘ —- ترجمہ و تلخیص: علی عبداللہ

0

یوجین روگان کی کتاب “The Arabs :A History” کے پہلے باب کا ترجمہ و تلخیص پیش کرنے سے پہلے کتاب اور مصنف کا مختصر تعارف کروا دینا مناسب ہو گا-
امریکہ میں پہلی دفعہ شائع ہونے والی اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن زیر مطالعہ ہے جو غالباً 2018 میں شائع ہوا- مصنف یوجین روگان آکسفورڈ یونیورسٹی میں ماڈرن مڈل ایسٹ ہسٹری کے پروفیسر ہیں اور اس سے پہلے انٹرنیشنل بیسٹ سیلنگ کتاب ” The Fall of the Ottomans: The great war in middle east, 1914-1920″ کے مصنف بھی ہیں- عرب تاریخ پر یہ دلچسپ اور بہترین انداز میں لکھی گئی ایک اہم کتاب ہے، جو عرب خطے کی تاریخ پر ٹھوس گفتگو کرتی ہے- مملوک سلطنت کی شکست اور سلطان سلیم سے آغاز کرتے ہوئے اکیسویں صدی تک کی عرب صورتحال پر مصنف “یوجین روگان” نے عربوں کی امیدوں اور مایوسیوں کی داستان پیش کرنے کی مضبوط کوشش کی ہے- اس کتاب پر فائنینشل ٹائمز میں برطانوی مصنف اور صحافی جارج پینڈلی نے تبصرہ لکھا؛
“shows how western interference and corrupt domestic leadership have not only disenfranchised the Arab world but turned it against itself”
یعنی یہ کتاب ظاہر کرتی ہے کہ “کس طرح مغربی مداخلت اور بدعنوان اندرونی قیادت نے نہ صرف عرب دنیا کو حق رائے دہی سے محروم کردیا بلکہ اسے خود اپنے خلاف بھی کردیا” –


مصنف نے کتاب کا پہلا باب “قاہرہ سے استنبول” کے عنوان سے قائم کیا ہے جس کا آغاز 1516 میں مملوک سلطان الاشرف قانصوہ اور ترک سلطنت کے نویں سلطان سلیم اول کے مابین جنگ سے ہوتا ہے- 1250 میں قائم ہوئی مملوک سلطنت جو کہ اس دور کی مضبوط ترین اسلامی ریاست تھی, جس میں مصر، شام اور عرب کے علاقے شامل تھے، کے 49ویں سلطان اشرف قانصوہ کو ایک سخت جنگی مقابلہ درپیش تھا جس کے لیے وہ مرج دابق کے میدان جنگ میں اتر چکا تھا- اگر وہ ناکام ہوتا تو پھر مملوک سلطنت کا نام مٹ جاتا اور عرب خطے پر ترک عثمانیوں کی راہ ہموار ہو جاتی- مملوک سلطنت کے کمانڈر اور چار چیف جسٹس سلطان کے جھنڈے تلے جمع تھے اور ان کے پاس خلیفہ متوکل سوم بھی موجود تھا- 20،000 مملوک فوجی ریشمی چوغے پہنے، بہترین ہتھیاروں سے لیس تھے- عربی میں مملوک “غلام” کو کہا جاتا ہے- مملوک دراصل وہ غلام بنائے گئے فوجی تھے جنہیں عیسائی مملکتوں سے نوجوانی میں ہی لایا جاتا تھا- انہیں اسلام قبول کروا کر بہترین انداز میں عسکری تربیت دی جاتی اور پھر وہ مکمل سلطان کے فرمانبردار ہوا کرتے تھے- اپنے مذہب، ریاست اور سلطان سے وفاداری کی بنا پر ہی مملوکوں نے 1249 میں فرانسیسی صلیبی جرنیل لوئس نہم، 1260 میں چنگیزیوں اور 1291 میں عیسائیوں کو شکست سے دوچار کیا تھا-

مگر اس بار ان کا مقابلہ عثمانیوں سے تھا جو 1453 میں اپنے ساتویں سلطان مہمد دوم کے ذریعے اس قسطنطنیہ کو فتح کر چکے تھے جو اس سے پہلے تک نا قابل شکست رہا تھا- اسی بنا پر مہمد دوم کو “فاتح” کا خطاب دیا گیا تھا- اور اسی فتح کو جاری رکھتے ہوئے اب ترک سلطنت کا نواں سلطان سلیم اول مملوکوں سے نبردآزما ہونے جا رہا تھا- عثمانی اس سے پہلے صفویوں کو شکست دے چکے تھے جس کا سبب صفوی سربراہ شاہ اسماعیل کا ترکوں سے نظریاتی اختلاف تھا- عثمانیوں اور صفویوں کی مشرقی اناطولیہ کے محاز پر ہونے والی جنگ کے بعد، جس میں صفویوں کو شکست ہوئی تھی، صفویوں نے مملوکوں سے اتحاد قائم کر لیا تاکہ دونوں مل کر ترکوں سے نبردآزما ہو سکیں- مملوک پوری تیاری سے جنگ کے لیے نکلے، مگر ترک جدید جنگی صلاحیتوں اور اسلحے سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ تعداد میں بھی مملوکوں سے زیادہ تھے- ترک فوجیوں کی تعداد 60،000 تھی، ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مملوک ذاتی نام و نمود اور بہادری کے شائق تھے، جبکہ ترک ذاتی بہادری کے جوہر دکھانے کی بجائے جنگ جیتنے کے لیے میدان میں اترتے تھے- ترکوں کے پاس جدیدی بارودی بندوقیں تھیں جس کا توڑ مملوکوں کے پاس نہ تھا- جنگ شروع ہوئی تو بائیں بازو کے لشکر سے مزاحمت نہ کی گئی کیونکہ مملوک کمانڈر”خیر بک” جو کہ حلب کا گورنر تھا، جنگ سے پہلے ہی سلطان سلیم کے ساتھ مل چکا تھا-

جنگ شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ہی مملوک سلطان اشرف قانصوہ کو شکست نظر آنے لگی- وہ واپس مڑا اور اپنے مذہبی مشیروں کو بلا کر دعا کے لیے کہنے لگا- اسی دوران اس کے ایک کمانڈر نے کہا،” اے بادشاہ! عثمانی ہمیں شکست دے چکے ہیں- اپنی جان بچائیے اور حلب میں پناہ لیجیے” یہ سننا تھا کہ سلطان اس خبر کو برداشت نہ کر سکا اور گھوڑے سے گر کر موقعے پر ہی جاں بحق ہو گیا- کوئی نہیں جانتا کہ اس کی لاش کدھر گئی- ایسا لگتا تھا جیسے زمین پھٹی ہو اور لاش اس میں دفن ہو گئی ہو- اس دور کا مشہور مصری تاریخ دان” ابن ایاز” جنگ کا منظر پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے,

“As the dust of battle settled, the full horror of the carnage became apparent. It was the time to turn an infant’s hair white, and to melt iron in its fury. The battlefield was littered with dead and dying men and horses whose groans were cut short by the victorious ottomans inntheir eagerness to rob their fallen advwrsaries. They left behind headleas bodies, and faces covered with dust and grown hideous to be devoured by crows and wild dogs. It was un precedented defeat for the Mamluks, and a blow from which their empire would never recover”

اور پھر سلطان سلیم اول بنا کسی مزاحمت حلب، دمشق پر قابض ہو گیا- مملوکوں کی شکست کی خبر مصر میں قہر بن کر ٹوٹی اور بچے کھچے سرداروں نے سر جوڑ کر ایک بار پھر نئے سلطان “الاشرف تمن بک”کا چناؤ کیا- لیکن اس کی بھی حکومت ساڑھے تین ماہ سے زیادہ نہ ٹک سکی- سلطان سلیم نے نئے مملوک بادشاہ کو خط لکھا اور اسے پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ سرنڈر کر دو اور عثمانیوں کے ماتحت رہ کر مصر پر حکومت کرو یا پھر جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ- لیکن مملوک سلطان کے پاس جنگ کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ تھا- لہذا 1517 میں سلیم اول قاہرہ کے جنوب میں پہنچا، ترکوں نے دیکھتے ہی دیکھتے مملوکوں کو شدید نقصان کے بعد پسپا ہونے پر مجبور کر دیا اور یوں جنگ کے ایک گھنٹے بعد ہی عثمانی قاہرہ میں داخل ہو گئے- جبکہ تمن بک ایک بدو قبائلی کے ہاتھوں گرفتار ہوا جسے سلطان سلیم کے سامنے پیش کر دیا گیا- اور یوں مملوک سلطنت کا آخری سلطان قاہر شہر کے مرکزی دروازے پر پھانسی چڑھا دیا گیا-

یوں عثمانی سلطنت میں شام، مصر اور حجاز بھی شامل ہوگئے- اب سلطان سلیم اول مقامات مقدسہ یعنی مکہ اور مدینہ کا نگران بن گیا- مملوکوں کی شکست عرب تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا- اس سے عرب دنیا میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوا اور یہ پہلی مرتبہ تھا کہ اسلام کے بعد خطہ عرب کی حکمرانی غیر عرب دارالحکومت سے ہونے لگی- اس سے پہلے تک عباسی، اموی اور مملوک حاکم تھے- یوں 1517 سے عربوں نے ان قوعد و ضوابط پر عمل کرنا شروع کیا جو بیرونی دارالحکومت سے لاگو ہوتے تھے، اور یہی سیاسی حقیقت بھی تھی جو جدید عرب تاریخ کا پیش خیمہ بنی-

مشہور مصری تاریخ دان، عبدالرحمان الجبراتی” انیسویں صدی کے اوائل کی عثمانی حکومت کے بارے میں لکھتا ہے کہ،” عثمانی خلفاء راشدین کے بعد سب سے بہترین حاکم تھے- وہ مذہب کا مضبوط دفاع کرنے والے تھے- اسی بنیاد پر ان کی سلطنت وسیع تر ہوتی چلی گئی اور انہوں نے زمین کے بہترین خطوں کو اپنی حکومت میں شامل کیا- انہوں نے ریاست کو نظر انداز نہ کیا لیکن اپنی سرحدوں کی بھی حفاظت کی- حرمین کی ترقی کے لیے کوشاں رہے اور اسلامی احکامات کو مکمل طریقے سے نافذ کیا- ان کی سلطنت محفوظ تھے، بادشاہ عوام کا غم خود محسوس کرتے اور تمام آزاد و غلام ان کا احترام کیا کرتے تھے”
(جاری ہے)

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

دو دریاؤں اور سلطان باہو کے شہر جھنگ سے تعلق رکھنے والے علی عبداللہ پیشے کے لحاظ سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی پروفیشنل ہیں- کتب بینی اور لکھنے لکھانے کا شوق رکھتے ہیں اور مختلف مجلوں، ویب سائٹس اور اخبارات میں ان کی تحاریر شائع ہوچکی ہیں۔ ادب، تاریخ، مذہب اور ٹیکنالوجی ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں جن پر گفتگو اور تحقیق کرنا پسند ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: