حمایت علی شاعر: ایک دلچسپ ملاقات‎ —- عبدالمجید گوندل

0

لاہور مال روڈ پر ایک تاریخی اورمشہور ‘شاہ دین بلڈنگ’ واقع ہے۔ اس کا مین گیٹ مشرق میں ہے۔ جس زمانے کا یہ ذکر ہے ان دنوں مین گیٹ میں داخل ہوتے ہی داہنی طرف فرسٹ فلور پر جانے کے لئے کشادہ چوبی سیڑھیاں تھیں۔ فرسٹ فلور پر پہنچتے ہی بائیں ہاتھ ایک برآمدہ جنوب کی طرف جاتا تھا۔ اس کےآخرمیں روزنامہ نوائے وقت کا دفتر ہوا کرتا تھا۔ یہی برآمدہ سیڑھیوں کےاختتام سےمشرق سے مغرب کی سمت بلڈنگ کےطول تک دراز تھا۔ مغرب میں واقع آخری کمرہ جو خاصا بڑا تھا اورایک دوسرا کمرہ برابر میں تھا اور اس دوسرےکمرے میں جانےکے لیے ایک دروازہ تھا۔ اسی طرح پہلے کمرہ کی شرقی جانب بھی ایک ایسا تیسرا کمرہ تھا جس میں داخل ہونے کے لیے بھی دروازہ موجود تھا۔۔ یہ ہال نما تینوں کمرے گراموفون کمپنی نے کرائے پر لے رکھے تھے۔

میرا خیال ہے کہ گراموفون کمپنی نے اپنے کاروباری نکتہ نظر سے یہ ساری جگہ سب موسیقاروں کو شائد بلا معاوضہ دے رکھی تھی۔ وہ سب یہیں اپنے اپنے گانوں کی پہلے آرکیسٹرا کو ریہرسل کراتے اور اس کی تکمیل کے بعد سنگرکو آرکیسٹرا کے ساتھ گانا گوایا جاتا۔ جب موسیقار سنگرکی گائکی کو او کے (ok) کردیتا تو پھر اگلا مرحلہ گانے کی ریکارڈنگ کا آتا جو پتہ چلا کہ کسی سٹوڈیو میں طے ہوتا ہے۔

ایک عرصہ سے میرا وہاں آنا جانا تھا۔ ملکہ ترنم میڈم نورجہاں سے لے کرآئرن پروین اور موسیقاروں میں ماسٹر عبالله’ ماسٹر عنایت حسین’رشید عطرے’اے حمید’ تصدق حسین‘ صفدر’ اور خلیل احمد’ گلوکاروں میں منیر حسین’ سلیم رضا اور احمد رشدی صاحبان کووہاں دیکھنے کا موقع ملا۔

جناب حمایت علی شاعر سے وہاں جب ملاقات ہوئ تو اس وقت تک میں نے احمد رشدی کو نہیں دیکھا تھا۔ اس وقت میری عمر کوئ سترہ اٹھارہ برس تھی۔ ادب و شعر کی دنیا کےقدیم و جدید اساتذہ سے واقف ہو چکا تھا۔ ان شخصیتوں سے تعلق خاطرمیرے ذوق مطالعہ اور فطری میلان طبع کا نتیجہ تھا۔ میٹرک میں نقوش کا غزل نمبر میرے شوق کی جولاں گاہ رہا تھا۔ اس کے علاوہ نقوش کے دیگر شمارے بھی میرےمطاعلہ مین آئے۔ شاعری اورموسیقی جڑواں بہنیں ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ : ایں دو شمع اند کہ از یک دگر افروختہ اند۔ اوراپنی دونوں سے آشنائ تھی۔

جب شعر اور موسیقی یکجا ہو جاتے ییں تو ‘ نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں سے ملیں’ کے مصداق شعر اور سر کے اپنے اپنے سرور و کیف دو آتشہ ہو جاتے ہیں۔

شعر و شاعری سے تو بچپن ہی سے تعلق خاطر اور آشنائ چلی آ رہی تھی اور اوپر سے گھر سے مسجد تک جو ماحول تھا ان دونوں مقامات تعلیم و تربیت میں شعر و شاعری پر کسی قسم کی کوئ ناگواری یا نا پسندیدگی دیکھنے کو ملی نہ سننے میں آئ لہذا اس سے طبعی وابستگی جاری و ساری رہی۔ لیکن گانے بجانے کو میں گناہ سمجھتا تھا۔ کیونکہ میراماحول اسے حرام قرار دیتا تھا۔

مجھے احمد رشدی کو دیکھنے کا بیحد اشتیاق تھا۔ ایک دن سنا کہ وہ یہاں آ رہے ہیں۔ چنانچہ میں اس جگہ‘ جہاں موسیقار آرکیسٹرا اورگلوکار کو ریہرسل کراتے تھے ‘ شوق فراواں سے سرشار پہنچ گیا۔ برآمدے سے جب بڑے کمرے میں داخل ہوا تو آرکیسٹرا کی ریہرسل چل رہی تھی۔ میری نگاہیں ادھر ادھر چاروں طرف گھوم گئیں مگر احمد رشدی اپنے ٹھکانے پر نظر نہ آئے۔ میں قبل ازیں نوائے وقت میں ان کی بلیک اینڈ وائٹ سائیڈ پوز والی تصویر دیکھ چکا تھا۔ اس کی مدد سے میرے ذہن میں ان کے چہرے کا ایک خاکہ ضرور موجود تھا۔ اگر وہ وہاں ہوتے تو میں ان کو یقینا پہچان لیتا۔ لیکن وہ ابھی تک نہیں پہنچے تھے۔ انتظار کرنے کے لیے میں اس بڑے کمرے کی جنوبی دیوار کے پاس کھڑا ہو گیا۔ کیونکہ یہی ایک خالی اورایسی جگہ تھی جہاں سے داخلی دروازہ سامنے تھا۔ جہاں سےاند ر آنیوالے پر نگاہ رکھی جا سکتی تھی۔ میں ٹٹکی لگائے کھڑا تھا۔ اتنی دیر میں ایک شخص دروازے سے نمودار ہوا۔ وہ اپنی شخصیت اور اپنے لباس اور اطوار سے مختلف تھا۔ سرگنجان بالوں سے بھرا ہوا تھا۔ اوربال کانوں تک دراز تھے۔ قدرے سفید رنگ کی ویسکوٹ ان کے زیب تن تھی۔ وہ سیدھے میری سمت ہی آ رہے تھے۔ جب وہ اور قریب آئے تو ان کی آنکھوں میں رتجگے کی سرخیاں نمایاں نظر آئیں۔ ان کا چہرہ قدرے ویسی ہی گولائ لیے ہواتھا جو میں نے احمد رشدی کی تصویر میں ان کے چہرے کی دیکھی تھی۔ ان کا سراپا مکمل ایک آرٹسٹ والا تھا۔ اور خبر بھی یہی گرم تھی کہ آج احمد رشدی کا گانا ہے۔ مجھے پختہ یقین ہو گیا کہ وہ احمد رشدی ہیں۔ میری حیرت اور خوشی کی کوئ حد نہ رہی جب وہ میرے پاس والی ایک بڑی میز سے ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے۔

وہ صاحب اپنے خیالوں میں گم تھے۔ اورمیں ان کے تعارف کے لیے سوچ رہا تھا کہ اتنے بڑے فنکار سے سلسلہ جنبانی کیسے شروع کروں۔ ان کی گہری خاموشی اور ماحول سے لا تعلقی اور بے نیازی مجھے کسی قسم کے سوال و جواب کرنے سے روک رہی تھی۔ مجھے لگا کہ ادھران سے شوق ہمکلامی موجزن ہے اور ادھرسے ان کی خاموشی اور وضع داری گویا لن ترانی کہہ رہی۔ آخر اس کشمکش پر میرا شوق غالب آ گیا۔ بلا کسی تمہیدی الفاظ کے میں نے ان سے سیدھا سوال ہی کر دیا۔

آج رشدی صاحب کا گانا ہے۔
جی۔ انہوں نے جواب دیا۔
میں چونکہ کہ باور کر چکا تھا کہ وہ احمد رشدی ہیں۔ میں نے سوچا کہ انہوں نے مجھے ٹال دیا ہے۔ میری توقع یہ تھی کہ وہ کہتے ہاں آج میرا ہی گانا ہے۔ میں نے یہ بھی محسوس کہ دراصل میرا سوال بھی ناقص تھا۔
میں نے اپنی طرف سے اب کے ایک موزوں دوسرا سوال کیا:
وہ آ گئے ہیں۔
نہیں۔ یہ ان کا جواب تھا۔
مجھے یقین سا ہو چلا کہ وہ مجھ سے کھلنا نہیں چاہتے۔
میں نے سیدھے سبھاؤ عرض کیا۔
آپ کا اسم گرامی۔
جان کر کیا کرو گے۔
ان کے اس استفسار میں انہوں نےمجھے گویا اذن گفتگو عنایت کر دیا۔ میں نے شہ پا کر ترت کہہ دیا۔
مجھے خوشی ہو گی۔
مجھے شاعر کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا۔

حسن اتفاق تھا کہ شاعر تخلص والے شاعر کے نام سے میں واقف تھا۔ میں نے بڑے وثوق سے کہا:
حمایت علی شاعر۔ انہوں نے مصافحہ کے لیے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔ ان کےساتھ ہاتھ ملا کر مجھے بڑی دلی مسرت ہوئ۔۔بڑی خوشی ہو رہی تھی اور مجھے خود پر رشک آ رہا تھا۔

اب وہ میرے ساتھ بڑی اپنائیت اور پیار سے باتیں کر رہے تھے۔ وہ مجھے ساتھ لے کر چلتے ہوے کمرے کے درمیان تک آ گئے۔ یہاں رک گئے۔ یہیں کھڑے کھڑے وہ مجھے بتا رہے تھے احمد رشدی‘ خلیل احمد اور میں‘ ہم تینوں کلاس فیلو ہیں۔ احمد رشدی بہت بڑا گلوکار ہے۔ وہ المیہ اور طربیہ دونوں طرح کے گیت گانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ الله تعالی نے اسے آواز کی اعلی خوبیوں سے مالا مال کیا ہے۔ پاکستان میں ایسا پرفیکٹ گلوکار نہ پہلے کبھی تھا اور نہ اسوقت اس کے سوا کوئ اور ہے۔ اس وقت پاکستان کا مقبول ترین گلو کار وہی ہے۔

کہنے لگے خلیل احمد بحثیت موسیقار اپنے آپ کو منواچکا ہے۔ ویسے وہ خوش گلو بھی ہے۔ بطور خاص وہ غزل بہت اچھی گاتا ہے۔ اور رہا میں۔ اردو کا پروفیسر ہوں۔ کالج میں پڑھاتا ہوں۔ کہیں اعزازی طور پر بھی لیکچرز دیتا ہوں۔ اب وہ زمانے نہیں رہےجب نواب شعرا کی سرپرستی کرتے تھے۔ یہ زمانہ اور ہے۔ احمد رشدی میرا دوست ہے اس لیے فلموں کے لیے گیت لکھنے کا چانس ملتا رہتا ہے۔اور بھی باتی ہوئیں یہ سب باتیں انہوں نے اپنی خوشی سے بیان کیں۔ لیکن انہوں نے وہی باتیں کیں جن کا تعلق میری دلچسپی اور شوق سے تھا۔

اور پھر ایک بڑے معروف اردو شاعر‘ حمایت علی شاعر سے یہ اتفاقی ملاقات جو میرے لیے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے‘دعا وسلام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: