اسلام اور سائنس —- فرحان شبیر

0

سائنس اور مذہب کا تقابل کرتے وقت یہ بات زبان زد عام ہے کہ
” سائنس ثبوت فراہم کرتی ہے لیکن ایمان نہیں۔
مذہب ایمان فراہم کرتا ہے لیکن ثبوت نہیں۔۔”

اور پھر مذہب کی بات کرکے اسلام کو بھی مذاہب عالم کی قطار میں کھڑا کردیا جاتا ہے کہ اسلام بھی اپنی دعوت کی دلیل میں کوئی ثبوت نہیں رکھتا۔ پھر یہ اور اس جیسے کئی الفاظ اس طرح دہرادئیے جاتے ہئں کہ یہ ایک مسلمہ کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں جن پر نہ کوئی غور کرتا ہے اور نہ کبھی غور و فکر کی ضرورت سمجھتا ہے۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس مفروضے کے “دونوں اجزا غلط” ہیں۔ جی ہاں دونوں اجزا

اس سے پہلے کہ اوپر بیان کئیے گئے مفروضے کے دونوں اجزا کا کچھ پوسٹ مارٹم کیا جائے کچھ باتیں سمجھ لیتے ہیں۔ کہ ایسا کہنے والوں کے نزدیک:
1) سائنس سے مراد وہ علوم ہیں جن کا تعلق ہمارے اس عالم محسوسات، اس مادی کائنات یا اس Material ورلڈ سے ہے۔ جس میں فزکس کیمسٹری اور دیگر علوم کا تعلق Matter سے ہے۔ Biology جسکا تعلق زندگی (life) سے ہے۔ اور نفسیات( psychology ) جسکا تعلق نفس انسانی (Mind) کے احوال و ظروف سے ہے۔ جبکہ انکے نزدیک
2) ایمان سے مراد ہوتا ہے کسی بات کو بلا دلیل اور ثبوت تسلیم کرلینا۔ اور
3) مذہب میں اسلام بھی شامل ہوتا ہے لہذا اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح بلا دلیل ایمان لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ حالانکہ اسلام دیگر مذاہب عالم کی طرح کوئی صرف عبادات، پوجا پاٹ یا جنتر منتر کا مجموعہ نہیں ہے جسے دنیا سے کوئی واسطہ نہ ہو۔ اسلام خود کو ایک نظام زندگی ایک کوڈ آف کنڈکٹ کے طور پر متعارف کراتا ہے اور جسے وہ ” الدین ” کی جامع اصطلاح سے تعبیر کرتا ہے۔

اب پھر سے چلتے ہیں اس مفروضے کی جانب کہ “سائنس ثبوت فراہم کرتی ہے ایمان نہیں” سے مراد یہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی سائنس دان کسی ایسے نظریئے، اصول یا قانون کو نہیں مانتا جس پر وہ تجربے experiment کی بنا پر نہ پہنچا ہو۔ یہ غلط یے۔ اس میں شبہ نہیں کہ سائنٹسٹ تجربات و مشاہدات experiment and observations کے بعد ہی Results یا کسی حتمی نتیجے پر پہنچتا ہے لیکن، اور یہ ” لیکن” بہت اہم ہے کہ جن بنیادی اصولوں پر اسکے تجربات (experiments ) کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، ان تک وہ تجربات یا experiment or observations کی مدد سے نہیں پہنچا ہوتا۔ اصل میں سائینس کے قوانین کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔

1) اساسی یا بنیادی قوانین جنہیں (Axions) کہا جاتا ہے۔ یہ قوانین اپنی دلیل آپ ہوتے ہیں یعنی ( self-evident ) انہیں ( Assumed Truths) بھی کہا جاتا ہے یعنی ایسی صداقتیں جنہیں ہم Truths تسلیم کرکے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
2) ابتدائی قوانین ( Primary Truths) بنیادی قوانین کو Truths تسلیم کرکے سائنسدان جن نتائج تک پہنچتا ہے انہیں ” پرائمری لاز ” کہا جاتا ہے۔ ( ایک تیسری قسم ثانوی لاز Secondry truths کی بھی ہوتی ہے لیکن وہ ہماری بحث سے باہر ہے )
اور یہ Axioms یا اساسی قوانین دو طرح کے ہیں۔ (1) قانون علت و معلول law of cause and effect یعنی یہ قانون کہ ہر حادثہ ,واقعے یا event کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور ہوتا ہے یا ہر عمل ایک خاص نتیجہ مرتب کرتا ہے۔
(2) قانون وحدت کائنات law of Uniformity of nature اسکا مطلب یہ کہ کائنات میں آپ کسی بھی جگہ کیوں نہ ہوں۔ جس عمل نے ایک خاص نتیجہ مرتب کیا تھا وہ عمل یا ایکسپیریمنٹ، جب انہی حالات میں عمل میں آئیگا تو اس کا نتیجہ یا رزلٹ ہر مقام پر اور ہمیشہ وہی رہیگا جو پہلے آیا تھا۔

اب سوال یہ کہ پھر سائنس کیسے ان بنیادی صداقتیں ان Axioms تک پہنچی جن پر سارے تجربات کی عمارت کھڑی ہے۔ تو اسکے لئیے تین نظریات ہیں (الف) نظریہ وجدان intuitional or apriori theory کہ یہ قوانین خود انسان کی فطرت میں داخل ہیں۔ ان تک انسان کسی تجربے سے نہیں پہنچا۔ (ب ) تجرباتی نظریہ Emperical or Posteriori theory اسکا مطلب یہ کہ ہم ان قوانین تک تجربات سے پہنچے ہیں۔ (ج) ارتقائی نظریہ ( Evolutionary Theory) کی رو سے کہا جاتا کہ ہمارے اجداد تو تجربات کی رو سے ان تک پہنچے تھے اب یہ ہماری فطرت میں داخل ہوچکے ہیں۔

یہ تینوں نظریات اٹھارویں اور انیسویں صدی میں۔ جبکہ مغرب میں مادی نظریہ حیات عروج پر تھا، قابل تسلیم سمجھے جاتے تھے اب تو خود جدید سائنسی نظریات مثلا نظریہ اضافیت، ڈارک میٹرز، ڈارک انرجی اور خود Quantum Physics نے سائنس کے بنیادی Axioms یعنی لا آف کاز اینڈ ایفیکٹ اور لا آف یونیفورمیٹی آف یونیورس کو بنیاد سے ہی اکھیڑ ڈالا ہے۔اب کوئی کوانٹم سائنٹسٹ کسی قانون کے حتمی اور آفاقی ہونے پر اصرار نہیں کرتا۔ ایٹم کے اندر بھاگنے دوڑنے والے Sub-atomic particles کی دنیا ہی نرالی ہے۔ یہاں Cause سے پہلے effect پیدا ہوسکتا ہے۔ کوئی پارٹیکل بیک وقت دو یا دو سے زیادہ مقامات پر بھی ہوسکتا ہے۔ ایک ہی ذرہ یا پارٹیکل کبھی انرجی تو کبھی کسی Concious observer کی موجودگی میں Matter یعنی مادے کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ یہاں probability or potentiality کا راج ہے۔ یعنی سائنس کی دنیا بھی بہت سے ان دیکھے اور ان جانے حقائق پر یقین رکھتی ہے اور یہ یقین رکھنا لازمی ہے اسکے بغیر کام چل ہی نہیں سکتا۔ نتائج خود بتا دیتے ہیں کہ Axioms درست ہیں یا نہیں۔ اور بار بار کے نتائج سے بھی اسکی تائید ہوتی ہو تو ان مسلمات کو بلا دیکھے مان لینے میں کوئی حرج نہیں۔
اور
اب آتے ہیں دوسرے مفروضے کی جانب کہ “مذہب ایمان فراہم کرتا ہے ثبوت نہیں” تو یہ بات دیگر مذاہب کے حوالے سے تو درست ہو سکتی ہے مگر ” اسلام ” کے حوالے سے نہیں۔ پہلی بات تو یہ اسلام ایک” دین ” ہے ایک نظام مملکت ہے۔ اسکی اپنی ایک Ideology اپنا ایک نظریہ حیات ہے۔ یہ صرف عبادات یا رسومات پر مبنی دیگر مذاہب عالم کی طرح کوئی مذہب نہیں ہے۔ اسلام کو دیگر مذاہب کے ساتھ کھڑا کرنا درست ہی نہیں ہے اسلام کا تقابل سوشلزم سے کیا جائے لبرل ازم سے کیا جائے یا کیپٹلزم سے تو بات بنتی بھی ہے یہ تمام نظام بھی کچھ مخصوص فلسفہ حیات پر استوار ہوتے ہیں اور اسلام کا نظام بھی اسکے اپنے مخصوص نظریہ زندگی یا Ideology پر استوار ہوتا ہے۔

اب بات یہ ہے کہ اسلام جس آئیڈیالوجی جس Way of life کی طرف انسان کو بلاتا ہے کیا وہ اسکے لئیے دلائل و براہین یا Reason اور Intellect کا سہارہ لیتا ہے یا بغیر کوئی ثبوت اور دلیل مانگے بلا سوچے سمجھے بس جیسا کہا جائے ویسا مان لینے پر اصرار کرتا ہے۔
قرآن کریم کو اگر پڑھا جائے تو قرآن کریم کا بعینہ یہی انداز ہے وہ کچھ مسلمات Axioms دیتا ہے اور کہتا ہے انہیں بنیادی قوانین مان کر عمل کرتے چلے جاو۔ نتائج خود ان مسلمات یا بنیادی صداقتوں کا ثبوت بنتے چلے جائنگے۔ ان مسلمات کو بطور صداقت تسلیم کرنا ایمان “بالغیب” ہے۔ یعنی کسی دعوے کو اس کے نتائج کے دیکھنے سے پہلے (A priori) تسلیم کرلینا۔ اور “اعمال صالح “، اس پروگرام کا نام ہے جس کے نتائج اس دعوے کی صداقت کی دلیل اور ثبوت بنتے چلے جائنگے۔

یہ مسلمات چند ہی ہیں اور نہایت واضح بھی۔ یعنی :
1) ایک ایسی ہستی پر ایمان جس کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق یہ سلسلہ کائنات اس حسن و خوبی سے چل رہا ہے اسے “خدا” کہتے ہیں۔
2) قانون مکافات عمل۔۔ یعنی ہر عمل کا ایک متعین نتیجہ پیدا ہو کر رہتا ہے۔
3) قانون وحدت کائنات۔ ۔یعنی پوری کی پوری کائنات میں صرف ایک خدا ” الہ واحد” کی حکمرانی ہے اسی کو خدا کا اقتدار کہتے ہیں۔

پہلے مسلمہ کے متعلق وہ یہ کہتا ہے بَلۡ لَّہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ کُلٌّ لَّہٗ قٰنِتُوۡنَ ﴿2/114﴾ زمین اور آسمان کی تمام مخلوق اس کی ملکیت میں ہے اور ہر ایک اس کا فرما نبردار ہے۔ یا
” کائنات کی پستیوں اور بلندیوں میں جو کچھ ہے، سب اسکے قوانین کے سامنے جھکا ہے”۔ اور ان قوانین کی کیفیت یہ کہ لَا تَبۡدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ؕ قوانین خداوندی میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ {10/64}۔ دیکھا جائے تو سائنس کی بھی ساری عمارت اس حقیقت پر قائم ہے کہ ان قوانین میں تبدیلی نہیں ہوتی۔
دوسرے مسلمے کے متعلق قرآن کریم میں ہے کہ
وَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَ لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ {45/22}
اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جاۓ۔ لوگوں پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا” یعنی کائنات کی یہ عظیم الشان مشینری اس لئیے سرگرم عمل ہے کہ ہر کام کا نتیجہ، قانون خداوندی کے مطابق نکلتا چلا جائے۔
اور تیسرے مسلمے کے متعلق اس نے کہا کہ “ ہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الۡاَرۡضِ اِلٰہٌ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿43/84﴾ وہی ایک آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی خدا، اور وہی حکیم و علیم ہے”
لَوۡ کَانَ فِیۡہِمَاۤ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا ۚ ﴿21/22﴾ اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو ﴿ زمین اور آسمان﴾ دونوں کا نظام بگڑ جاتا”۔ وحدت کائنات اور وحدت قانون یہ وہ بنیادی صداقتیں ہیں جن کی بنا پر یہ سارا سلسلہ قائم و دائم ہے۔ اور یہ صرف ایک ایک آیات پیش کیں ہیں ورنہ تو قرآب کریم کا بیشتر حصہ ان ہی مسلمات کی تائید میں ہے۔

اسلام نے جو نظام زندگی دیا ہے اور جسے اس نے الدین کی جامع اصطلاح سے پکارا ہے اسکا ایک حصہ تو وہ ہے جس سے فرد کی داخلی زندگی میں انقلابات برپا ہوتے ہیں اور دوسرا حصہ وہ ہے جو انسانیت کی نشونما کا ذمہ دار بنتا ہے۔ یہ صرف سمجھنے کے لئیے ہے وگرنہ نظام کے حصے نہیں کئیے جا سکتے نظام یا الدین بھی ایک چلتے پھرتے جاندار جسم نامی کے مانند ہے جس کا ہر حصہ اپنی انفرادیت رکھتے ہوئے بھی اجتماعیت کا پابند ہے۔ یوں سمجھئیے کہ داخلی انقلابات کا لازمی نتیجہ فرد کی اصلاح اور افراد معاشرہ کی بہتری اور ربوبیت عامہ کے لئیے قدم بڑھانا ہے اور لازمی و فطری نتیجہ نفس انسانی کی نشود و ارتقا ہے۔ ان دو حصوں کو قرآن کریم نے اقیمواالصلوہ اور ‘اتوالزکوہ سے تعبیر کیا ہے۔

آلصلوت کی اصطلاح میں تغیر نفس کا پورا نظام اپنی سمٹی ہوئی شکل miniature form میں موجود ہے اور الزکوہ میم نشونما دینے کے تمام اسباب و ذرائع جمع ہوجاتے ہیں۔ الزکوہ کے معنی ہی نشونما دینے کے ہیں۔ الصلوہ ایک مسلم کی ہر سانس کو محیط ہوتی ہے اسکی ہر نقل و حرکت، اسکی فکر، اسکے ارادے، ان ارادوں کے مظاہر تمام کے تمام ہی الصلوہ کے مظہر ہوتے ہیں۔ الصلوہ صراط مستقیم پر چلنے کا نام ہے۔ وہ صراط جسکے متعلق فرمایا ان ربی علی صراط مستقیم۔ تیرے نشونما دینے والے کا قانون بھی صراط مستقیم پر گامزن ہے۔ اسی کے پیچھے پیچھے تم بھی چلتے جاو۔ مصلی اس گھوڑے کو کہتے ہیں جو ریس میں دوسرے نمبر پر لیکن پہلے گھوڑے کے بالکل پیچھے پیچھے ہو جو ادھر ادھر کی راہوں پر نکل جائے وہ مصلی نہیں ہے۔

قرآن کا مطلوب و مقصود افراد اور معاشرے کی تعمیر کرنا ہے جو کائنات کو تسخیر بھی کرے اور اسکے حاصل کردہ فوائد اور نتائج کو ساری انسانیت کی فلاح کے لئیے صرف کرے۔ اقبال کے الفاظ میں ایک ایسی ریاست جہاں نہ حاکم و محکوم ہو نہ کوئی سائل اور محروم۔ “کس دریں جا سائل و محروم نیست۔ عبد مولا حاکم و محکوم نیست “۔ ایسے افراد کے گروہ کو ہی مومن کہا جاتا ہے۔ یہ الگ دلخراش داستان ہے کہ جس فرقہ واریت کو خدا نے شرک کے برابر بلکہ اس سے بھی بدتر قرار دیا ہم نے اسی فرقہ واریت کا دامن تھام کر خدا کی رسی (قرآن کریم) کو ایسا چھوڑا کہ صراط مستقیم سے ہی بھٹک گئے۔ مسلم امہ پر پچھلے چھ سات سو سالوں سے چھائے فکری جمود اور جہالت کی تاریکیوں نے ہمیں علوم و فنون اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدانوں سے ایسا باہر پھینکا کہ ” رو رہی ہے آج اک ٹوٹی ہو مینا اسے،،، کل تلک گردش میں جس ساقی کے پیمانے رہے ” والا حال ہے کبھی ہم مسلمان تھے کہ 800-1100 عیسوی کے بعد تک قرطبہ اور بغداد علم و حکمت، Chemistry اور Medicin طب کے علوم کے مرکز تھے۔ اور یہی وہ دور بھی تھا جب مسلمان دینی لحاظ سے بھی ترقی کررہے تھے اور دنیاوی لحاظ سے بھی۔ اسلامی تہذیب تیزی سے پھلتی پھولتی جارہی تھی۔ ہم علم و حکمت سے کیا دور ہوئے اقوام عالم میں عزت و شرف سے بھی محروم ہوگئے۔ بہتر تو یہی ہے کہ جلد سے جلد امت مسلمہ بھی سائنس و ٹیکنالوجی کی اہمیت کو سمجھے اور تسخیر فطرت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔

ہماری جنریشن یعنی Millennial کئی معنوں میں خوش قسمت بھی رہی کہ ہماری جنریشن کو وہ تمام سہولیات اور ٹیکنالوجی مل گئی جن کا تصور بھی ہمارے دادا کی نسل میں نہیں کیا گیا ہوگا۔ آج سائینس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھنا، اسکو سمجھنا اور اسکی آن لائن تفاسیر کے دستیاب خزانے سے فائدہ اٹھانا آسان ہو گیا ہے۔ ایک دو نہیں سینکڑوں کتابیں قرآن کریم اور اسلام اور کائنات کے تعلق کے حوالوں سے پی ڈی ایف پر موجود ہیں۔ دادا، دادی، نانا نانی کا زمانہ چلا گیا. اب نئی نسل ہر بات کی دلیل مانگتی ہےاب کوئی بھی بچہ اساطیری داستانوں پر اس طرح یقین نہیں رکھتا جس طرح ہم یا ہمارے سے پہلے والی جنریشنز بلا چوں و چراں ماں لیا کرتی تھی۔ مذہبی پیشواؤں کی گرفت بڑی سخت ہوتی تھی۔ لیکن اب اگر طرف آدھی دنیا لا مذہب ہوتی جاری ہے تو دوسری آدھی بھی لاتعلق سے ہی ہو کر رہ گئی ہے. ایسے میں اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو عقل و بصیرت سے اپنی جانب بلاتا ہے اور ایسے میں ہم سب پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسلام پر سے عربی ملکیت اور عجمی تصوف کی تہوں کو کھرچ کر اسلام اور قرآن کی روشنی سے اپنی زندگیوں اور آنے والی نسلوں کو منور کریں۔
کیونکہ
جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

یہ بھی پڑھیں:  جدید فزکس الحاد کو کیوں رد کرتی ہے؟ سکاٹ ینگرن کی تحقیق: اسامہ مشتاق
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: