سوشل میڈیا کے شیف —- شازیہ ظفر

0

سمسٹر بریک ھوا تو ھانیہ بی بی نے اماں کے طعنوں کے جواب میں ایک غیرت مند اولاد ثبوت دیتے ھوئے گھر بھر میں یہ اعلان کر دیا کہ تمام اھل خانہ مابدولت کے ھاتھ کی بنی ھوئی مزیدار ڈشز سے لطف اندوز ھونے کے لیے تیار ھوجائیں۔ ان چھٹیوں میں ڈنر ھم اپنے مبارک ھاتھوں سے بنائیں گے۔ ۔ ۔ اعلان کا نشر ھونا تھا کہ ساری گھر میں خوشی اور تشویش کی ملی جلی لہر دوڑ گئی۔ ۔ ۔ بھائیوں بہنوں نے ریکارڈ لگایا۔ ۔ ۔ یہ تمھیں کھانے بنانے کب آگئے؟ آج تک ایک انڈا تو ڈھنگ سے فرائی ھوا نہیں چلی ھیں ڈنر بنانے۔ ۔ ۔ بابا نے تو ھانیہ کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور فخریہ اماں کی طرف دیکھتے ھوئے کہا۔ ۔ ۔ ۔ دیکھا۔ ۔ ۔ میں آپ سے نہ کہتا تھا میری بیٹی ھر میدان میں جھنڈے گاڑ سکتی ھے۔ ۔ ۔ ۔ اور اماں۔ ۔ انھوں نے تو اعلان سنتے ھی دانتوں تلے انگلی داب لی۔ ۔ ۔ ۔ ارے ھانیہ۔ ۔ مشکوک انداز میں استفسار کیا۔ ۔ ۔ کب سیکھا یہ کھانے بنانا؟؟ ایک روز تو توفیق ھوئی نہیں کہ کچن میں ماں کے ساتھ کھڑے ھو کر دیکھ ھی لیتں کہ کھانا کیسے بنتا ھے۔ ۔ ۔ اور آج یہ گھر بھر میں منادی؟؟۔ ۔ ۔ بیٹا طبیعت تو ٹھیک ھے ناں؟؟ جوابا ھانیہ بی بی نے شان بے نیازی سے جواب دیا۔ ۔ ۔ ارے اماں۔ ۔ ۔ ۔ آپ تو ناحق پریشان ھوتی ھیں اب کھانے بنانا سیکھنے کے لیے کونسے پاپڑ بیلنا پڑتے ھیں۔ ۔ ارے یہ انٹرنیٹ کا زمانہ ھے اماں۔ ۔ سوشل میڈیا کا دور ھے اب انگلیوں کی جنبش پہ ھے ھر ڈش کی ترکیب۔ ۔ اسے بنانا کوئی دشوار گذار مرحلہ ھے کیا

اماں بس فکر ھی نہ کریں۔ ۔ ھم لسٹ بنا لیں گے آپ سامان منگوا دیجیئے گا۔ ۔ ۔

بھئی اتنے سوال جواب تو نہ کریں جو بھی اشیاء ھماری بیٹی کو درکار ھیں۔ ۔ ۔ سب فورا منگوا دیا کریں آپ۔ ۔ ۔ بابا کا تنبیہی انداز بتا رھا تھا کہ ھانیہ کا جوش دیکھتے ھوئے انکی بٹیا رانی سے محبت عروج پہ ھے۔ ۔ ۔ اماں نے خشمگیں نگاھوں سے انھیں دیکھا ضرور مگر خاموش رھیں۔ ۔ ۔

اگلے روز ایک لسٹ اماں کے سامنے یہ کہتے ھوئے پیش کی گئی۔ ۔ ۔ کہ آج ڈنر میں ھم پیزا بنائیں گے۔ ۔
لسٹ کے اجزاء کچھ یوں تھے۔ ۔ ۔

1 : large frozen pizza crust ,
2 : bottle pizza sauce
3 : packet ready to cook chicken chunks
4 : Pizza chesse
5 :. canned mushroom etc

لسٹ کے تمام لوازمات منگوا دیئے گئے۔ ھانیہ بی بی نے بڑے اھتمام سے پیکٹوں پر دی گئی ھدایات کے مطابق پین میں کرسٹ بچھایا۔ ۔ پیزا ساس لگایا۔ ۔ ۔ اسکے اوپر چکن کی بوٹیاں۔ ۔ پینر، سبزیاں وغیرہ سجائیں اور حسب ھدایت بیک کرلیا۔ ۔ ۔ خیر سے پیزا بیک ھوگیا۔ ۔ ھر ھر زاویہ سے تصاویر لی گئیں سوشل میڈیا پہ ھر طرف پہ بڑے طمطراق سے اپ لوڈ ھوگئیں۔ ۔ ڈھیروں ھیش ٹیگ (#) کے ساتھ اپنا کارنامہ اجاگر کیا گیا۔ ۔ جواباً حلقۂ احباب میں دھوم ھی تو مچ گئی۔ ۔ ۔ WOW OMG کے نعرۂ مستانہ کے ساتھ سارے ساتھی سنگی غش کھا کر گرنے لگے ھانیہ بی بی انتہائی فخریہ تھیں۔ ۔ بھائی بہن بھی حیران اور بابا نہال۔ ۔ ۔ بس اماں تھیں جو کچھ خاموش سی تھیں۔ ۔ ۔ نہ اچھا کہا۔ ۔ نہ برا۔ ۔ ۔ ۔

اگلے روز پھر ایک لسٹ موجود تھی۔ ۔ ۔ ۔ اماں آج ھمیں پراٹھا رول بنانے ھیں۔ ۔ ۔ ذرا فروزن پراٹھے اور سیخ کباب کے پیکٹس املی کی تیار چٹنی کا جار منگوا دیجیئے۔ ۔ ۔ مطلوبہ سامان بلا کسی تردد کے منگوا دیا گیا۔ ۔ ۔ اور پھر وھی مشق دھرائی گئی۔ ۔ ۔ پراٹھے تلے گئے، ان پہ سیخ کباب سجائے گئی، چٹنی اور پیاز سجائی گئ۔ ۔ ۔ بٹر پیپر میں wrap کیا گیا۔ ۔ ۔ سوشل میڈیا پہ آج پھر تہلکہ مچایا گیا۔ ۔ ۔ تعریف کے ڈونگرے برسے۔ ۔ ۔ ماسٹر شیف ھانیہ ھواؤں میں اڑ رھی تھیں۔ ۔ ۔ ۔ دیکھا ناں اماں۔ ۔ ۔ ھم نے کیسے کھانے بنا کے کھلائے ھیں کہ گھر میں سب انگلیاں چاٹ رھے ھیں۔ ۔ ۔ اور پھر ھماری پرزینٹیشن تو دیکھیئے آپ۔ ۔ ۔ سب حیران رہ گئے ھیں آپکی ٹیلنٹڈ بیٹی کے کارنامے دیکھ کر۔ ۔ ۔ ھانیہ نے چہک چہک کر اماں کو اپنا کارنامہ بتایا بلکہ شان سے باور کروایا۔ ۔ ۔ اور ساتھ ھی اگلی فرمائش بھی داغ دی۔ ۔ ۔ اماں اب کل کے لیے K&N’S تیار کوفتوں کا پیکٹ اور ریڈی میڈ کری مصالحہ منگوا دیجیئے گا۔ ۔ ۔ ۔ ھاں اور ایک براؤن تلی ھوئی پیاز کا پیکٹ بھی۔ ۔ ۔ ۔ ذرا کل ھم اپنے ھاتھ کے کوفتے بھی کھلا ھی دیں سب کو۔ ۔ ۔ ھانیہ بی بی کی اس طرم خانی پر اماں نے کچھ پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھا مگر لمبی سی ھمممم کے سوا کچھ بھی نہ کہا

اب تو روز ھی ھر میں یہ رونق لگتی بہن بھائیوں کے مزے۔ ۔ ۔ وہ سب بہت خوش تھے روز نت نئے پکوان مل رھے تھے۔ ۔ ۔ بقول شخصے ” فل پارٹی سین آن ھے”۔ ۔ ۔ ھانیہ صاحبہ خوشی سے پھولے نہیں سما رھی تھیں۔ ۔ ۔ جیسے کوئی پالا مار لیا ھو۔ ۔ ۔ سہیلیاں ھمجولیاں بھی شدید متاثر اور انکے ھاتھ کے کھانے چکھنے کو بیقرار تھیں۔ ۔ ۔ دعوت کے پلانز بنائے جا رھے تھے۔ ۔ ۔ اور اماں۔ ۔ ۔ اماں کی وھی ایک چپ۔ ۔ ۔ اور رھے بابا تو وہ تعریف تو ضرور کرتے مگر ساتھ ساتھ معنی خیز مسکراھٹ کے ساتھ ساتھ کن انکھیوں سے اماں کے تاثرات بھی دیکھے جاتے۔ ۔ ۔ ۔ جیسے اماں کے چہرے کے رنگوں سے سب سمجھ رھے ھوں کہ اماں کی یہ چپ کسی طوفان کا پیش خیمہ ھے۔ ۔ ۔

اور بالآخر ایک روز بابا کے خدشات نے حقیقت کا روپ دھار ھی لیا۔ ۔ ۔ ۔ اماں نے اعلان کیا۔ ۔ ۔ ھانیہ کل رات کے کھانے پر میری کچھ فرینڈز آ رھی ھیں۔ ۔ میں انکے ساتھ مصروف ھونگی۔ ۔ ۔ لیکن بیٹا اب مجھے فکر نہیں ھے کیونکہ اب تو آپ بہت اچھا کھانا بنانے لگی ھیں لہذا کل کھانا آپ بنا لیجیئے گا۔ ۔ ۔ ھانیہ صاحبہ اماں کے منہ سے یہ باتیں سن کر جتنے فخریہ سب کو دیکھ رھی تھیں کہ اگلے جملے نے تو جیسے ان پر بجلی ھی گرا دی۔ ۔ ۔ ۔ اماں قدرے توقف سے گویا ھوئیں۔ ۔ ۔ ۔ مگر بیٹا دھیان رھے۔ ۔ ۔ سارے کھانے گھر کی تراکیب سے اور گھر کے مصالحوں سے تیار کرنا ھیں۔ ۔ ھانیہ بی بی کے ھاتھ پیر پھول گئے۔ ۔ ۔ مگر اماں یہ شرط کیوں۔ ۔ اور اماں تو شاید اس سوال کے لیے تیار بیٹھی تھیں۔ ۔ ۔ پھٹ ھی تو پڑیں۔ ۔ ۔ اتنے دنوں کی چپ کی ساری کسر ھی پوری کر دی۔ ۔ ۔ ۔ یہ شرط اس لیے ھے ھانیہ بی بی کہ ھاتھ کنگن کو آرسی کیا اور پڑھے لکھے کو فارسی کیا۔ ۔ ۔ ھمیں بھی تو پتا چلے آپ اصل میں کتنی سگھڑ ھیں۔ ۔ ۔ ابھی تک تو آپ مصنوعی سہاروں سے شیف بنی ھوئی ھیں۔ ۔ غضب خدا کا۔ ۔ نہ کوئی طریقہ نہ سلیقہ۔ ۔ بالکل ھی بے کہے قابو ھوئی جا رھی ھیں۔ ۔ سارے مہینے کا بجٹ دس دنوں میں ختم کروا دیا اس لڑکی نے۔ ۔ یہ کونسے رنگ ڈھنگ ھیں۔ ۔ بھر پائے بی بی ھم آپ کے ان چونچلوں سے۔ ۔ ۔ اگر ایسے ھی کھانے بنانے ھیں تو معاف ھی رکھیئے ھمیں۔ ۔ ۔ اس طرح بالکل نام روشن نہیں کروانا ھمیں۔ ۔ ۔ ۔ شرافت سے کل سے میرے ساتھ کچن سنبھالیں اور جیسے میں کہوں ویسے کھانا بنانا سیکھیں۔ ۔ ۔ ۔ اچھے طور طریقے اپنائے جا رھے ھیں۔ ۔ جیسے نہ کوئی سکھانے والا ھے اور نہ کوئی کہنے سننے والا۔ ۔ ۔ پھوھڑپن کے اعلی مظاہروں پہ جعلی داد سمیٹی جا رھی ھے۔ ۔ ۔ ھوائی قلعے تعمیر کیئے جا رھے ھیں۔ ۔ ۔ کیا یہی ھوتے ھیں سلیقہ مند لڑکیوں کے اطوار۔ ۔ ۔ ۔ ھیں ؟؟ اماں تو آج بے نقط سنائے جا رھی تھیں۔ ۔ ۔ ذرا جو بریک لگایا ھو۔ ۔ ۔ بہن بھائی آنکھوں ھی آنکھوں میں ایک دوسرے سے شرارت بھرے تبصرے کر رھے تھے۔ ۔ اور بابا دبی دبی مسکراھٹ لیے لاتعلقی سے کھانا کھانے میں مشغول تھے۔ ۔ یعنی بالکل صاف ھری جھنڈی۔ ۔ ۔ ۔ جیسے اماں سے پورے متفق ھوں اور انکی کی ساری باتوں کی خاموش حمایت کر رھے ھوں۔ ۔ ۔ اور ھانیہ بی بی شرمندہ شرمندہ سی بیٹھی یہی سوچ رھی تھیں کہ ۔۔۔۔ سوشل میڈیا کا شیف بننا تو سچ میں مہنگا پڑگیا.

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: