مسئلہ کشمیر اور ممکنہ حل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاوید حسین آفریدی

0

کشمیر ظلم وبربریت کا وہ مستقل خطہ ہے کہ جس کا نام سُن کر ہر انسان کے ذہن میں آہ و فغاں کا منظر نمودار ہو جاتا ہے، یہ قوم اس مستقل جدوجہد کا استعارہ بن چکی ہے کہ جسے بطور محاورہ استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

جب تک مسئلہ کشمیر پر ہم غیر جانبدار ہو کر نہیں سوچیں گے، یہ مسئلہ جوں کا توں برقرار رہے گا اور شاید ہم تاقیامت کشمیر کی آزادی کے منتظر رہیں۔ لہٰذا سب سے پہلے ہمیں کشمیریوں کی آزادی کا پیمانہ استوار کرنا ہوگا اور یقیناً کشمیریوں کی زندگی سے زیادہ موزوں پیمانہ ہمارے پاس نہیں ہو گا۔

اس دلیل کے تحت ہمیں تصویر کے دونوں اطراف کو کھلے دل سے دیکھنا ہوگا اور زمینی حقائق کے مطابق مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ مجھے اپنے بچپن کی افسردہ سازوں کیساتھ ٹی وی پر چلنے والی وہ تصاویر آج بھی یاد ہیں جس میں بچے اپنی ماؤں سے بچھڑے رو رہے ہیں، خواتین اپنے پھٹے ہوئے سر لے کر اپنے لخت جگر کی طرف دوڑ رہی ہو، نوجوان ہاتھوں میں پتھر لے کر فوج کے مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔

اور جب میں آج کے منظرنامے پر نظریں دوڑاتا ہوں تو وہی تصاویر، وہی پھٹے ہوئے سر اور وہی خون سے لبریز کشمیری دیکھتا ہوں یعنی ان ستر سالوں میں کچھ نہیں بدلا اور مجھے ہر چیز سے نفرت ہونے لگتی ہے اور تب میں صرف کشمیریوں کے تحفظ کے بارے میں سوچتا ہوں۔

مگر میں پھر سوچتا ہوں یہ مسئلہ کشمیر نہیں بلکہ مسئلہ جنت نظیر ہے، اس خطے پر نہ صرف بھارت اور پاکستان کے تحفظات ہیں بلکہ چین بھی اس میں سٹیک ہولڈر ہے جس میں متنازعہ علاقے تینوں ممالک کے پاس ہیں، ریاست کشمیر کے کل رقبے کا زیادہ حصہ بھارت کے قبضے میں ہے جو تقریباً ایک لاکھ مربع کلومیٹر تک ہے، پاکستان کیساتھ تقریباً 85 ہزار مربع کلومیٹر جبکہ چین کیساتھ 55 ہزار مربع کلومیٹر کے لگ بھگ کا علاقہ ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے جس میں تینوں ممالک اپنی قبضہ شدہ زمین کسی صورت چھوڑنے کو تیار نہیں۔

ایک طرف سے اگر یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان تو دوسری طرف یہ نعرہ بھی بہت زور سے لگتا ہے کہ کشمیر بنے گا خودمختار اور بلا شبہ یہ نعرہ بھی کسی بنیاد کے تحت لگایا جاتا ہے کچھ وجوہات ہوں گی جس کے تحت اس نعرے کے حامی لوگ کشمیر کی مکمل خودمختاری کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔

اب ہمیں اپنی پالیسی اور ماضی میں کی گئی غلطیوں پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، پاکستان کے اربابِ اختیار اگر ایک طرف سے مقبوضہ کشمیر میں محاذ کھول دیتے ہیں، بھارتی فوجیوں کو مار کر انہیں عوام کے خلاف غیر دانستہ طور پر اشتعال دلاتے ہیں اور اس اشتعال کی صورت میں نقصان ان معصوم کشمیریوں کا ہوتا ہے جو بلاشبہ اپنی آزادی کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ ہر روز کشمیر کی مٹی جب خون سے لال ہوتی ہے اور کشمیر کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری سے پورے عالم اسلام کا سر جھکتا ہے تو یہ نقصان کس کا ہوتا ہے؟ یقیناً ہر کوئی جانتا ہے کہ نقصان کشمیریوں کا ہی ہے اور شاید ہی کوئی ایسا گھر ابھی بچا ہو جس سے کسی شہید کا جنازہ نہ اُٹھا ہو۔

ان حالات میں ہم اگر اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق ریفرنڈم کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمارا مطالبہ کھوکھلا سا نظر آتا ہے کیونکہ اپنی عوام کو تو ہم دھوکے میں رکھ سکتے ہیں مگر اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ریاستوں کی ہمدردی حاصل نہیں کر پاتے وجہ یہ ہے کہ ہم دوغلی پالیسی پرعمل کرتے ہیں۔ ۔ ہمیں دوغلی پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی اورمسئلہ کشمیر کو اپنی سفارتی پالیسی کے تحت ہر ملک میں اجاگر کرنا ہوگا اور ہمیں کشمیر کے اندرونی محاذ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کرنا ہوگا اور اس سے بڑھ کر کشمیر کی زمین اور وسائل سے زیادہ ان کی زندگیوں اور تحفظ کو اپنی ترجیح بنانی ہوگی وگرنہ اور ستّر سال بھی گزر جائیں گے پھر بھی کچھ نہیں ہوگا اور کشمیریوں کا خون یونہی بہتا رہے گا۔

ہم اگر صرف انسانیت کیلئے سوچیں، کشمیریوں کی بقا اور زندگی کے بارے میں سوچیں تو ہمیں صرف اور صرف ایک ہی ضرورت محسوس ہوتی اور وہ ہے امن! مگر امن کا قیام کیسے ممکن ہے تو اس کا بہت ہی سادہ سا جواب ہے کہ تم جب مجھے دل سے سنو گے اور میں تم کو دل سے سنوں گا تو یقیناً بات سمجھ آئے گی اور جب سمجھ آجاتی ہے تو پھرممکنہ حل کی جانب بھی بڑھتی ہے۔

حال ہی میں پاکستان کے مایہ ناز کھلاڑی شاہد آفریدی کا بیان آیا تھا کہ ہمیں انسانیت کو آگے رکھ کر کشمیر کا مسئلہ دیکھنا ہوگا جس پر میڈیا میں بڑا شور مچا تھا مگر یہ صرف ایک شاہد آفریدی کی آواز نہیں بلکہ کئی شخصیات کی آوازیں ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ آواز مضبوط تر ہوتی جائے گی کیونکہ ہم مزید کشمیریوں کے خون کو بہتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے ہمیں اپنی انا پر کمپرومائز کرنا ہوگا اور کشمیر میں امن و استحکام لانے کیلئے ٹھوس بنیادوں پر سوچنا ہو گا۔

کالم نگار مظہر چودھری نے اپنے آرٹیکل میں کشمیر پر غیر جانبدارانہ طور پر کچھ حل تجویز کیے ہیں جس میں سب سے پہلا حل رائے شماری یا ریفرنڈم کا ہے مگر چونکہ یہ حل تو اقوام متحدہ کی طرف سے بھی کئی دہائیوں سے تجویز شدہ ہے اور آسان بھی ہے مگر دونوں اطراف سے غیر لچکدار رویے نے سوائے میڈیا کے بیان کے علاوہ کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔

دوسرا حل یہ ہے کہ چونکہ کشمیر میں صرف مسلمان آباد نہیں بلکہ کافی تعداد میں ہندو اور بدھسٹ بھی موجود ہیں اور اس تناسب کے لحاظ سے کشمیر کے مسلمان اکثریت والے علاقے جس میں کشمیر کا مکمل علاقہ آتا ہے پاکستان کا حصہ اور ہندو اور بدھسٹ کے اکثریت والے علاقے جموں اور لداخ کو انڈیا کا مستقل حصہ قرار دے دیا جائے۔

اور سب سے آسان حل یہ ہے کہ ہم کشمیریوں کو ہی اس خطے کا مختار کل سمجھیں، تمام سیاسی طاقت ان کے ہاتھوں میں ہو، اپنے فیصلے کا مکمل اختیار ان کے ہاتھوں میں دیا جائے، اس متنازعہ علاقے کو کسی خاص مدت تک اقوام متحدہ کے زیر کنٹرول رکھا جائے اور جب یہ ممکن نظر آئے کہ اب کشمیریوں سے ان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا جائے کہ وہ اب کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں، پاکستان انڈیا یا خود مختار، تب ان کا فیصلہ ہی مستقبل کا تعین کرے گا۔ میرے خیال کے مطابق جب ہم اپنے نظریے اور ترجیحات سے بڑھ کر کشمیریوں کی ترجیحات کے مطابق جب سوچیں گے تو حل ضرور نظر آئے گا۔

میں کس کے ہاتھوں اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر والوں نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

(Visited 1 times, 14 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: