ٹارگٹ ۔ یوم خواتین پہ مبشر اکرام کی تحریر

0

آپ سرِ بازار اپنے دھیان میں کہیں گزرے جارہے ہیں۔ اچانک پیچھے سے آواز آتی ہے سر !!!
حیرانی ہوتی ہے کہ مجھے سر کہنے والا کون اس دنیا میں اچانک آگیا ؟؟
پلٹ کر دیکھیں تو چست جینز،کسی شوخ سے کلر کی ٹی شرٹ, ایک ہاتھ میں ایک فائل اور دوسرا ہاتھ ٹی شرٹ کو کھینچ کر نیچے کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف۔ جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس لباس کی عادت نہیں۔ چہرے پر فکرِ معاش ،آنکھوں میں کم اعتمادی کے باعث ججھک۔ ہونٹوں پر رٹا رٹایا سا سبق۔چہرے پر پیشہ ورانہ زبردستی کی مسکراہٹ۔ محترمہ کچھ کہنا چاہتی ہیں ۔۔۔
ہر کوئی اپنے ظرف کے مطابق جواب دے گا۔ جی مس، جی باجی، جی محترمہ۔ جی بی بی۔
کوئی ایسا بھی ہوگا جو شرٹ کا لوگو دیکھ کر ہی غصے سے سوری کہ کر آگے بڑھ جائے گا۔ کوئی بات سننے کو رکا تو چہرے پر امید کر کرن لوٹ آتی ہے۔ کہ شاید یہ بندہ ’’ٹارگٹ‘‘ پورا کرانے میں مدد کر دے.” جی فرمائیے کیا ہے ؟؟؟”
جی ہمارے کمپنی کی نئی آفر آئی ہے۔ پچاس روپے کی سم ہے اور اس میں سو روپے کا بیلنس ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی نے سنا، کسی نے گھورا۔ کوئی مسکرایا۔ کسی نے بحث کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بہت ہی تیز نکلا تو ڈائریکٹ نمبر مانگ لیا۔ جانتا جو ہے کہ بیچاری کسی ماڑے گھر کی ہوگی جویوں سڑک پر روٹی کی خاطر خوار ہو رہی ہے.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلے دنوں ایک ایسی ہی خاتون اپنی ایک کولیگ کو کہ رہی تھی۔ تم جا کر اس بندےسے بات کرو میں اس طرف جاتی ہوں وگرنہ شام کو اس مینیجر کی باتیں سننا پڑیں گی۔
یونہی ایک دن ایک خاتون کھانے کے دوران آدھمکیں آپ سموکنگ کرتے ہیں ؟؟؟ نہیں !! اچھا پھر بھی اپنا نمبر دے دیں۔میں بالکل بھی تنگ نہیں کروں گی۔ ہمیں ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔
مجھے ان خواتین سے کوئی شکایت نہیں۔ گھر کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ لیکن ہم پورے کا پورا کاپوریٹ کلچر کیا پچاس پچاس کی سمیں ان لڑکیوں سے ہی بکوانی ہیں ؟؟؟ سگریٹ کی کمپنی کو اپنے اشتہارات کے لیے موبائل نمبروں کی ضرورت ہے تو نمبر بھی ان ہی سے جمع کرانے ہیں ؟؟؟ استقبالیہ پر کچھ بھی ہوجائے لڑکی کو ہی بٹھانا ہے۔ ذاتی سیکرٹری خاتون ہی ہو گی۔ کیوں ؟؟؟؟؟؟ اس کیوں کا جواب آپ کے ذمے !
کارپوریٹ کلچر کے ساتھ ساتھ ہم بھی اس رویے میں برابر کے شریک ہیں۔ اپنی سم کی فنگر پرنٹ تصدیق کرانے گیا تو دو کاؤنٹر لگے ہوئے تھے ایک پر خاتون، ایک پر مرد۔ مرد کے سامنے لائین میں دولوگ کھڑے تھے اور خاتون والی لائین میں پورے گیارہ لوگ جوکہ پھر بارہ ہوگئے کیوں کہ وہ بارہواں میں ہی تھا ۔۔۔۔۔۔

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: