متاعِ شام سفر — منفردشگفتہ خودنوشت ——- تبصرہ:نعیم الرحمٰن

0

مطالعے کے عادی افراد کے لیے کتاب سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہوتی۔ لیکن بعض کتابیں ہزاروں کتب کا مطالعہ کرنے والے قاری کا دامن دل بھی کھینچ لیتی ہیں۔ محمد انورعباسی کی ایسی ہی ایک منفرد اورشگفتہ خود نوشت ’’متاعِ شام سفر‘‘ ایمل مطبوعات اسلام آباد نے اپنی روایتی صوری و معنوی خوبیوں سے آراستہ شائع کی ہے۔ چارسو چوہتر صفحات کی کتاب کی قیمت ساڑھے چھ سو بھی بہت مناسب ہے۔ محمد انور عباسی تحریر کی دنیا میں کچھ ایسے آشنا نہیں۔ لیکن ان کا اسلوب بہت سے مستند لکھاریوں سے بہتر اور دل نشین ہے۔ خودنوشت کے پہلے جملے سے جو دلچسپی قائم ہوتی ہے۔ وہ آخری لائن تک برقرار رہتی ہے۔ شگفتی کی زیریں لہر پوری کتاب میں موجزن ہے۔ جو ایک مرتبہ اسے شروع کرنے کے بعد ختم کئے بغیر نہ چھوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ اور کتاب کے ختم ہونے کے بعد بھی قاری اس کے سحرسے آزاد نہیں ہوپاتا۔ اردو ادب میں ایسی خوبصورت اور دلچسپ نثر کی مثال بہت کم ملے گی۔ خودنوشت میں صاحبِ طرزمزاح نگارمشتاق احمد یوسفی کی ’’زرگزشت‘‘ اظہر حسن صدیقی کی ’’دخل درمحصولات‘‘ معروف براڈکاسٹر زیڈاے بخاری کی’’سرگزشت‘‘ اورکرنل محمدخان کی ’’بجنگ آمد‘‘ کا انداز اس میں جھلکتا ہے۔ مشتاق احمدیوسفی اورکرنل محمد خان تو اردو کے مستند مزاح نگارہیں۔ یوسفی صاحب کی کتاب کے نام سے ایک باب تو انورعباسی نے عملی زندگی کے آغاز پر ’’ہماری زرگزشت‘‘ کے عنوان سے قائم کیاہے۔ اظہرحسن صدیقی کی خودنوشت بھی کہیں خندہ زیرلب اور کہیں مسکراہٹ اورکہیں قہقہہ لگانے پر مجبور کردیتی ہے۔ زیڈاے بخاری کی خودنوشت کا بھی یہی عالم ہے۔ ’’متاعِ شام سفر‘‘ میں بھی یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں اور یوسفی کے ہی انداز میں محمد انورعباسی شگفتہ اندازبیان میں زندگی اورمعاشرت کے اہم پہلووں کی نشاندہی کر تے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس خوبی نے کتاب کی اہمیت دوچند کردی ہے۔

صاحب کتاب محمدانورعباسی کہتے ہیں کہ

’’ خودنوشت کے بارے میں کسی نے کہاہے کہ اس میں سچ دوسروں کے بارے میں بولاجاتاہے۔ شایداسی لیے مارک ٹوئن نے انیسویں صدی کی ابتدا میں اپنی خودنوشت لکھی لیکن کہاکہ اسے ایک صدی کے بعد شائع کیا جائے تاکہ وہ سارے لوگ مرچکے ہوں جن کے بارے میں سچ بولا گیا ہے! یقین جانیے ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ ہم نے دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنے بارے میں بھی سچ ہی لکھا ہے۔ احتیاط البتہ یہ ضرور برتی ہے کہ اپنے اوردوسروں کے وہی سچ بیان ہوں جوفسادِ خلق کا باعث نہ ہوں۔ سارے سچ اپنے ہی پاس رہنے دیں تواچھا۔ لہٰذا بلاخوف ِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ ہم سے وہی سچ ناگفتہ رہ گئے ہیں جو ہر لحاظ سے ناگفتنی تھے! آخر اپنا بھرم بھی توقائم رکھنا ہوتاہے نا۔ ‘‘

ناشر شاہداعوان نے فلیپ پر کتاب اورمصنف کا عمدہ تعارف ’’کتاب اورصاحب کتاب: ایک تاثر‘‘ کے عنوان سے کرایا ہے۔

’’ آپ بیتی لکھنا ایک مشکل کام ہے، سچ پوچھیں توکسی شریف آدمی کے لیے یہ کارِدارد ہے۔ پھراس میں ایسا دلچسپ لوازمہ فراہم کرنا کہ مصنف سے ذاتی تعلق نہ رکھنے والا قاری بھی اسے اتنی دلچسپی سے پڑھ سکے کہ کتاب ختم کرنے پر مجبور ہوجائے۔ گل و بلبل کے قصے نہ ہوں نہ ساغرومینا کی قلقل، تصویرِبتاں کی جگہ متشرع چہرے والی اپنی ہی تصویر اورحسینوں کے بجائے مولانا مودودی کے خطوط ہوں تو قاری کیوں کر ملتفت ہو۔ ہمارے ممدوح، انورعباسی صاحب نے اس خامی کا دف مارنے کو اپنی ’’جڑیں کھودتے‘‘ ہوئے مقامی ثقافت کے متروک نقوش اور زندگی کے مٹنے رنگوں سے ایسی خوبصورت تصاویر پینٹ کیں کہ ایک غیر محسوس کشش نے کتاب کے حسن کو نامیاتی چاشنی بخش دی۔ ماضی کسی بھی انسان کی زندگی کاسب سے خوبصورت حصہ ہوتا ہے، اور ہم مشرق والے تو جیتے ہی ماضی میں ہیں۔ جدید ترین کار کے سفر پر بھی گاؤں کی خچر سواری یاد کرکے محظوظ ہوتے ہیں۔ سو، انورصاحب نے بھی اپنے ماضی کو آواز دی اور ہمارے سامنے تصویر کرکے رکھ دیا۔ قاری کے لیے ٹائم مشین کا یہ سفر دنیا کے کسی بھی سفرسے زیادہ پرمسرت اور کیف آور ہے۔
قریہ قریہ پھرتے تاجر کے پاس شام ڈھلے، فروخت کرنے کو ہلکا مال ہوتا ہے مگر شاہراہ ِ حیات کے مسافر کے پاس شام کے وقت موجود متاعِ عزیز وہ سرمایہ ہے جسے زندگی کا حاصل کہتے ہیں۔ اس کتاب میں یہی خزانہ ہے۔ ‘‘

شاہداعوان نے کس خوبصورت انداز سے محمدانورعباسی کاتعارف کرایاہے کہ قاری ان کی تحریرکے فسوں کابھی شکارہوجاتاہے۔ آخرمیں انہوں نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ ’’میں نے یہ تحریر ناشر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عزیز اور بزرگ دوست کو خراج پیش کرنے کے لیے لکھی ہے۔ ایسا خراج جو ہمیں اپنے عزیزوں کو ان کی زندگی میں ہی پیش کرنا چاہیے۔ ‘‘

محمد انورعباسی نے پیش لفظ کو ’’ایف آئی آر‘‘ کاعنوان دیا ہے۔ لکھتے ہیں۔

’’کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی۔۔۔ وقت جب کم رہ گیا تو کام یاد آئے بہت
ضمیر جعفری کو توغالباً ایسے کام یاد آگئے ہوں گے، جو کرنے کے تھے مگر ابھی کرنہ سکے ہوں۔ میرے پاس کچھ بھی تو کرنے کے لیے نہیں تھا میں پریشان کیوں ہوتا؟ ایسے میں شامِ زندگی صرف ماضی میں ہی جھانکنے کا حوصلہ دلاسکتی ہے۔ ماضی کے لمحات، زندگی کے قیمتی لمحات کی ایسی تصویریں جوسرعت کے ساتھ وقت کے دھندلکوں میں غائب ہوگئی تھیں، یقین نہیں آتا اس طرح آموجودہوں گی۔ یہ ماہ وسال پھسل کر کدھر نکل گئے تھے؟ مُٹھی میں بند ریت کی ذرات کی طرح۔ آہستہ آہستہ اورغیرمحسوس، خاموش اور دبے پاؤں ماضی کی اتھاہ گہرائیوں میں ایسی جگہ جہاں شعورکی روشنی کا کوئی گزرنہیں۔ ماضی پیارا ہوتا ہے، اپنا ماضی۔ یہ یادوں کی وہ صلیب ہے جو انسان کوکسی حالت میں نہیں چھوڑتی۔ اس کے دُکھ، اس کے سُکھ، تکلیف اور آرام، اس کی ہر شے اپنی اور اپنی چیز کسے پیاری نہیں ہوتی۔ شاہ ہویا گدا، غریب ہو یا امیر، سب ماضی کے اسیر۔ ماضی ہی وقت کی سب سے بڑی حقیقت۔ مستقبل توکسی نے دیکھا نہیں۔ اس کی حقیقت بس اتنی ہے کہ اس کا ہر لمحہ تیزی سے ماضی میں تبدیل ہو رہا ہے۔ حال ہے کہاں؟ کیا ہم ایک سیکنڈ کوحال کہیں گے؟ سیکنڈ کے دسویں حصے کو یا اس کے کروڑویں حصے کو؟ ہم تو مستقبل کوماضی بنتے اور حال کوبے حال ہوتے ایک تماشائی کی طرح اس منظر نامے کوتکتے رہتے ہیں۔ کچھ بھی باقی نہیں سوائے ماضی کے اور اچانک کسی وقت ہم سب اسی ماضی کا حصہ بن جائیں گے۔ رہی نام اللہ کا۔ ‘‘

انورعباسی صاحب کہتے ہیں کہ

’’ ہم نے یہ مقدمہ خود اپنی ہی عدالت میں دائر کیا ہے۔ ہمیں کوزہ گر و کوزہ خروکوزہ فروش۔ مدعی، مدعاعلیہ اورمنصف ہم ہی بقلم خود، بلکہ بہ کمپیوٹر خود، لہٰذا فیصلے کے خلاف اپیل کی گنجائش نہیں۔ نہیں شاید یہ بیان اتنا درست نہ ہو۔ مقدمے کے ایک حصے کے خلاف اپیل تو کیا اسے مکمل طور پر مسترد کیا جاسکتا ہے۔ یہ حصہ واقعات کی تفہیم و تعبیر اور ذاتی علم و فہم سے تعلق رکھتا ہے۔ رہا دوسرا حصہ، تو جاننا چاہیے کہ حقائق وواقعات کسی کے فہم و فراست کے تابع نہیں ہوتے۔ ہم کیا اور ہمارا ماضی کیا۔ اختصار کی طرف آئیں تو یہی کہ دنیا میں آئے، کھایا، پیا اورمرگئے۔ فراق نے مجنوں کی داستان یوں سنائی تھی کہ
ایک تھا مجنوں، عاشقِ لیلیٰ، ویرانے میں موت ہوئی۔۔۔ اوراگرتفصیل سے پوچھو، یہ قصہ طولانی ہے
اچھی نثر لکھنے کی خواہش میں شروع شروع میں ہم نے کوشش کی کہ اہلِ علم و دانش، سے اصلاح لی جائے اور مشورہ کیاجائے کہ ہماری یہ ادنیٰ سی کاوش قابلِ اشاعت ہے بھی یا نہیں۔ ہمیں خدشہ یہ رہا کہ اگر کوئی واقعی یہ مشورہ دے بیٹھے کہ یہ اچھی نثر نہیں، لہٰذا ناقابلِ اشاعت ہے تو کیا ہوگا؟‘‘

یہ بلاشبہ کسرنفسی ہے۔ ورنہ محمدانورعباسی کا اسلوب انتہائی دلچسپ اور پراثر اور نثربہت خوبصورت اور رواں دواں ہے۔ ہر سطر اور پیرے میں شگفتی کی ایک زیریں لہرقاری کوجکڑے رکھتی ہے۔ اسکے ساتھ انہوں نے ماضی کی بے شماراشیاء، الفاظ اورمحاوروں کو بڑی خوبصورتی سے بازیافت کیا ہے۔ بہت سے ایسی چیزیں جو ہمارے بچپن میں استعمال ہوتی تھیں۔ بہت جن کاہم نے صرف ذکرسناہے۔ خصوصاً شہری افراد نے توشاید نام بھی نہ سنا ہو۔ ایسی اشیاء کا ذکرانورعباسی ایسے دلکش اسلوب میں کرتے ہیں کہ دلچسپی توقائم رہتی ہی ہے۔ معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ مشتاق احمد یوسفی اور مختار مسعود تک اردوکے بعد کم مصنفین ہیں جن کی لکھی کوئی ایک سطربھی قاری چھوڑنہیں سکتا۔ بلکہ بعض سطور اپنی دلچسپی کی بنا پر کئی کئی بار پڑھی جاتی ہیں۔ یہ خوبی محمدانورعباسی کی نثرمیں بھی موجود ہے۔ اسی طرح تحریر کی بے پناہ قوت اس کے اقتباسات کے چناؤ میں بھی مشکل ثابت ہوتی ہے کہ کونسا پیرا دیا جائے اور کونسا نہیں۔

متاعِ شام سفرکا پہلا باب ’’خواب وخیال‘‘ کے عنوان سے ہے۔ جس میں انیس سوچالیس میں مصنف کی پیدائش سے انیس سوستاون تک کے واقعات کااحاطہ کیا گیا ہے۔ ایک اوردلچسپ انداز ہر باب کے آغاز میں مختصراً اس کاخلاصہ کرنے کا اختیار کیا گیا ہے۔ کسی خود نوشت کے لیے یہ بالکل نیا اور پرلطف انداز ہے۔ اب ذرا انورعباسی کی پیدائش کا پر لطف بیان ملاحظہ کریں۔ جو پہلی ہی سطرسے قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لیتا ہے۔

’’ رات گہری ہوچکی۔ دوسرے لوگ نیند کی نرم و گداز آغوش میں جانے کی سوچ رہے ہیں اورمیں ماضی کی تاریک بھول بھلیوں میں جانے کے لیے یادوں کے دیپ جلاکردل کی آنکھیں وا کرتاہوں۔ روایت ہے کہ سنہ انیس سوچالیس اور جولائی کی دو تاریخ تھی جب علامہ اقبال کی نصیحت پرعمل کرنے کے لیے مابدولت زمین دیکھنے کے لیے دنیا میں تشریف لائے۔ روایت میں یہی بتایا گیا ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ اہلِ مذہب کے ہاں جو روایت میں شک کرے اس کا ایمان ہی مشکوک ہوجاتا ہے۔ ویسے ’تاریخی حقائق‘ بھی اسی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کا ثبوت ہماری میٹرک کی سند ہے جس میں یہی تاریخ لکھی ہے۔ درست بھی یہی دکھائی دیتی ہے کیوں کہ بھلے دنوں میں سترہ برسوں سے پہلے میٹرک کرنے کا تصور کم ہی تھا۔ تواس کو طے ہی سمجھئے کہ سترہ برسوں میں میٹرک کرنے کے حساب سے بھی ہماری تاریخ نہ سہی سن تو یقینا انیس سو چالیس ہی بنتا ہے۔ یہ دوسری جنگ عظیم کازمانہ ہے لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ ہماری وجہ سے شروع ہوئی کیونکہ تاریخی کتابوں میں لکھا ہوا ملتا ہے کہ یہ ایک سال پہلے شروع ہو چکی تھی۔ ‘‘

کسی قاری نے مصنف کی پیدائش کا ایسا دلچسپ بیان پہلے پڑھا ہے۔ یہ اسلوب ِ تحریر کتاب کے اختتام تک قائم رہتا ہے۔ اور اس سے عیاں ہے کہ محمد انورعباسی میں ایک عمدہ مزاح نگار کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔ خودنوشت کے بعد بھی انہیں قلم سے ناطہ جوڑے رکھنا چاہیے۔ لکھتے ہیں کہ

’’گاؤں کے ہر فرد کے پاس اپنا مکان اور قطعہ زمین تھا۔ زمین سے مکئی اور گندم کی فصلیں، ہر قسم کی سبزیاں اور دالیں وافر مقدار میں حاصل ہوتی تھیں۔ مکئی اور گندم کے علاوہ کنگنی اور چین نامی دو فصلیں ہوا کرتی تھیں جن کا آج کل نام بھی سننے میں نہیں آتا۔ آج کی نوجوان نسل شاید کنگنی (کنگن کی زوجہ محترمہ سمجھ کر) کوایک طرح کا زیور اور چین کو ایک ملک سمجھے لیکن واللہ یہ فصلوں کے نام ہیں۔ چین کی لیس دارروٹی بنائی جاتی جس کوہم نے کبھی پسند نہیں کیا لیکن پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اس کو من و سلویٰ کا درجہ دینا پڑتا۔ شک گزرتا ہے بنی اسرائیل کو بھی یہی ٹیسٹ وغیرہ کی شکایت رہی ہوگی۔ کنگنی کے دانے نکالنے کے لیے اسے ’اوکھلی‘ (اب اوکھلی کے نام سے نئی نسل ناآشنا ہے، صرف محاورے میں اس کا وجود پایا جاتا ہے) کے حوالے کرنا پڑتا۔ اس کا کاڑھا بنا کر نزلہ بخار کاعلاج کیاجاتا۔ اسے تیار کرنے کے لیے کچی مکئی کے دانے نکال کر ٹھیکری میں بھونتے جس کا کاڑھا بنایا جاتا۔ رات کواسے پی کر(یاکھا کر) لحاف کے اندر گھس جاتے اور پسینے میں نہاتے۔ صبح اُٹھتے تو نزلہ زکام ختم ہو چکا ہوتا۔ ‘‘

کس خوبی سے انورعباسی نے گاؤں کی بود و باش بیان کی ہے۔ ایک تصویرسی قاری کی نظرمیں پھر جاتی ہے۔ معاشرت کا انداز، فصلوں کا بیان اوردیسی طریقہ علاج غرض ایک پیرے میں کیا کچھ سامنے نہیں آگیا۔ دیہی ثقافت کا بیان اس خوبی سے کیا ہے۔ وہ سب کچھ کسی وڈیو کی مانند نظروں کے سامنے آجاتا ہے، اور ایسا معلوم ہوتاہے کہ ہم یہ سب پڑھ نہیں دیکھ رہے ہیں۔ بہت کم کسی تحریر میں یہ خوبی ہوتی ہے۔

’’دودھ، دہی، گھی کے لیے کوئی کسی کا دست نگر نہیں تھا۔ دودھ، دہی کی خریدوفروخت کاکوئی تصورہی نہیں تھا۔ عقیدہء توحید کے بعد یہ عقیدہ سب سے زیادہ مضبوط تھاکہ دودھ تو نور ہوتا ہے اورنورکی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ ہرگھرمیں مرغبانی کاشعبہ قائم تھا۔ گوشت اورانڈے وافر مقدار میں ہوتے تھے۔ تعلیم توعام نہیں تھی لیکن اخلاقی حس عام تھی۔ اس صورت میں لوگ اپنے پڑوسیوں کا خاص خیال رکھتے۔ دہی، لسی اور ساگ سبزی میں سب کو شریک کرنا ایک طرح کا دستورتھا۔ اس ترقی یافتہ دور میں معلومات توعام ہوئیں لیکن ہم سب اخلاقی حس سے بے حس اور محروم ہوگئے۔ ‘‘

دیہی ثقافت میں موجود رواداری تو شاید آج بھی موجود ہے۔ لیکن شہری افراد اس طرززندگی اور باہمی اخلاص وتعاون کا تصور بھی کرسکتے ہیں۔ یہ وہ تصاویر ہیں جو ’متاعِ شام سفر‘ کے ہر صفحے پر بکھری ہیں۔ سونے پرسہاگے کی صورت کتاب میں بھی کچھ تصاویرشامل کی گئی ہیں۔ گاؤں کے ان مکینوں کی روزمرہ زندگی کیسے بسر ہوتی تھی۔ ان کارہن سہن، ذرائع آمدن، مختلف پیشے اوران سے وابستہ افراد کا بیان، شادی بیاہ، خوشی غمی کی مشترکہ تقاریب غرض کس کس کا ذکر کیا جائے۔ پھر ساتھ بعض متروک اشیا کا ذکر۔

’’ بارش کے موسم میں ایک مصیبت نازل ہوتی تھی جس کو ’اتھرو‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ اتھرو سے جان چھڑانے کے لیے پُولیں ہی کام آتی تھیں۔ کچھ مکان ہوتے تھے جن کی چھتوں پرگھاس پھوس ڈال کر مٹی سے ڈھانپ دیا جاتا تھا۔ ایسے میں جب بارش ہوتی تو بسا اوقات باہر کم اور اندر زیادہ پانی جمع ہوجاتا، وہ یوں کہ بارش تو ختم ہوجاتی لیکن اتھرو (چھتوں سے پانی ٹپکنا) جاری رہتا۔ انہی پُولوں کوسے مکانوں کی چھتوں پرچڑھ کرمٹی کو دائیں بائیں ترتیب وار ایک ردھم کے ساتھ دباتے جاتے۔ یہ فطری ناچ لیس دارمٹی کی لیک کوختم کردیتا اورچھت ٹپکنا بند ہوجاتی۔ اتھرو کو ختم کرنے کا ایک اور سائنسی طریقہ بھی موجود تھا۔ ایک پتھر منتخب کیا جاتا، گول مٹول یا چکور سا۔ اس کے درمیان سوراخ کرکے ڈنڈا لگایا جاتا تھا۔ اس کو ہم ’دُرمُٹ‘ کے فصیح لفظ سے پکارتے تھے۔ دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اتھرو زدہ چھت پرمسلسل ضربیں لگائی جاتیں۔ ضربِ شدید یا خفیف کی کوئی قید نہیں تھی۔ بس طاقت درکار تھی اور طاقت ہی سے لیک ختم ہوجاتی اور اتھرو بند۔ ‘‘

کیا نظروں میں یہ منظر پھرنہیں جاتا۔ یہی ایک اچھے منصف کی خوبی ہے کہ وہ اپنی تحریرقاری کے دل میں اتاردے۔ اس منظرکاتصور شہروں میں کچے گھروں کے باسی بھی بخوبی کرسکتے ہیں۔

’’گھر عام طور پرایک ہی کمرے پرمشتمل ہوتے۔ یہ کمرہ’بسنی‘ کہلاتا، اس لیے کہ انسان اسی میں بستے۔ یہی بیڈروم، یہی ڈرائینگ روم اوریہی کچن۔ دادا، دادی، ماں باپ اوران کے بچے تین چار چارپائیوں میں دھرے ہوئے ملتے۔ بہت کم گھرانے ایسے ہوتے جو دوسرا کمرا، جسے کوٹھی کہاجاتا، افورڈ کرتے۔ والدین جب بچوں کی شادی کرتے تو دولہا اور دلہن کو اسی کمرے کوکوئی کو نا الاٹ کر دیتے اورخوددم سادھ کرسوجاتے یاسونے کی کوشش کرتے۔ مال مویشیوں کی رہائش کے لیے گھرکے اسی ایک کمرے میں ایک طرف ’اعلیٰ انتظام‘  ہوا کرتا۔ ہمارے ’بیڈروم‘ میں کسی پارٹیشن کا تکلف نہیں کیا جاتاتھا۔ بس ایک تین چارفٹ کی آدھی دیوارسی کھڑی کی جاتی، وہ بھی شاید اس لیے کہ بھینس وغیرہ کہیں ہمارے چولہے کوہی نہ روندڈالیں۔ اسی چولہے پرکھانا بھی پکتا اوراسی پر مال مویشیوں کو گرمی پہنچانے کا سامان کرتے۔ آج کل کی نسل یقینااس کاتصوربھی نہیں کرسکتی۔ دن کوتومویشیوں کوچرنے چُگنے کے لیے آس پاس جنگلوں، یا کھیتوں میں چھوڑدیا جاتا۔ لیکن ’ڈنر‘ بہرحال ان کواپنے بیڈروم میں ہی مہیاکیاجاتا۔ انسان تورفع حاجت کے لیے کھیتوں اورجنگلوں کا رخ کرتے لیکن مال مویشیوں کویہ سہولت حاصل ہوتی کہ وہ اپنے بیڈروم سے ہی مستفید ہوسکیں۔ ظاہر ہے اس ’حسن انتظام‘ کے نتیجے میں انسان مویشیوں سے حاصل ہونے والی بائی پراڈکٹس یعنی ’خوشبو‘ اوردوسرے ذرات سے ’مستفید ‘ ہوتے رہتے تھے۔

کیا لفظوں کی پھلجھڑیاں ہیں کہ قاری زیرلب مسکراہٹ کے ساتھ لطف اندوز ہوتاہے اور یہ صورتحال اپنی تصورمیں دیکھتا بھی ہے۔ اس دور کی صنعت و حرفت میں پیری فقیری شامل تھی۔ درزی، لوہار، جولاہے، کمہار، موچی، مراثی وغیرہ۔ سب کاحصہ مقرر تھا۔ معاوضے میں نقدی کا تو رواج نہیں تھا۔ ہرسال فصل پرسب کوان کاحصہ مل جاتاتھا۔ سرجیکل انڈسٹری کا پرلطف بیان دیکھیں۔ گاؤں کے مراثی شادی بیاہ پرڈھول بجانے، کھانا پکانے اور نامہ و پیام کے علاوہ بھی کئی خدمات انجام دیتے۔ ہر دو تین ماہ بعد وہ نائی بن کر ہرگھرکارخ کرتے اوربچوں اور بڑوںکے بال کاٹنے میں مہارت کا مظاہرہ کرتے۔ ایک اور ذمہ داری بھی انہیں کی ہوتی۔ ’’پیدائش کے موقع پرایک دفعہ تو نومولود کے کان میں اذان دے کرمسلمان بنانے کی ابتدا تو کرلی جاتی تھی لیکن اس کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وقفہ درکارہوتا۔ ہمارے ہاں نائی کے بنائے ہومسلمان کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ خاندان میں یہ ایک سپیشل موقع ہوتا تھا جس کی تیاری دیدنی ہوتی۔ ایک بڑی صاف ستھری کھاری لے کراس کو اوندھا کرکے اس کے اوپرایک صاف چادر ڈالتے اور اندر حسب استطاعت ایک یا دو مرغیاں رکھ دیتے۔ خاندان کے بڑے ٹوکری کے اوپر بچے کو بٹھا کر جور و ستم اور ابتلا کے مراحل سے گزارتے۔ سرجن صاحب اپنا واحد انسٹرومنٹ اُسترا ہاتھ میں لے کراپنے ہدف کی طرف پیش قدمی کرتے اُسترے کو تیز کرنے کے لیے ہتھیلی پر پھیرا جاتا یا چمڑے کی پٹی پر رگڑا جاتا۔ یہی اُسترا بعد میں شرفا کی داڑھی اورسرکے بال اتارنے کے کام آتا۔ اس زمانے میں سُن اوربے ہوش کرنے کی سہولت تو میسر ہو انہیں کرتی تھی لہٰذا بچے کو قابو میں رکھنے کے لیے مرد توانا کی ضرورت ہوتی بصورت دیگر نتائج مسلمانی سے بڑھ کر کچھ اور بھی ہوسکتے تھے۔ سرجن صاحب اور خاندان کے بڑے ایک ان دیکھی چڑیا کی طرف اشارہ کرتے کہ دیکھو دیکھوکتنی خوبصورت چڑیا آگئی ہے۔ بچے کی توجہ ذرا ہٹی کہ معاملہ ختم۔ اس عمل سے بچے کی چیخیں بلند سے بلند تر ہوجاتا تیں۔ لیکن ’اُسترا تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘۔ گمان کیا جاتا ہے کہ مرغی کو ٹوکری کے اندر اس لیے رکھا جاتا ہوگا کہ مرغی کی چیخیں بچے کی چیخوں پرغالب آجائیں اور امی زیادہ پریشان نہ ہو جائیں۔ یہ مرغی بعد میں سرجن صاحب کی ملکیت بن جاتی۔ ‘‘

محمد انورعباسی نے متاعِ شام سفرمیں کئی مختصر اور انتہائی دلچسپ شخصی خاکے بھی لکھے ہیں۔ جن میں حمید چچا، منشی بوستان چچا، پرائمری استاد میاں فیروزدین اورمولوی نورشاہ کے علاوہ مڈل اسکول کے اساتذہ ماسٹرحیات، ماسٹرظہوراحمد، مولوی فضل احمدشامل ہیں۔ عباسی صاحب کے اندر ایک بہت عمدہ خاکہ نگاربھی چھپا ہے۔ انہیں اس جانب توجہ کرنا چاہیے۔ کئی اسفار کا بھی ذکر موجود ہے۔ یہ میدان بھی ان کے لیے موجود ہے۔ کتاب کا ایک انتہائی قابل ِ قدر باب ’نہیں نگاہ میں منزل توجستجو ہی سہی‘ کے نام سے ہے۔ جس میں مطالعے اور جماعت اسلامی سے وابستگی کے حوالے سے کئی اہم امور بیان کیے ہیں۔ مولانامودودی سے خط وکتابت بھی دلچسپ اورمعلومات افزاہے۔

چارسو چوہتر صفحات کی خودنوشت کی دلچسپی کسی مرحلے پربھی کم نہیں ہوتی۔ کتاب کے خاتمے پر قاری کی لبوں سے بے اختیار یہ دعا نکلتی ہے۔ ’اللہ کرے زورقلم اورزیادہ۔


کتاب کے حصول کے لئے پبلشر کے ف ب پیج  https://www.facebook.com/www.emel.com.pk/ میسج یا رابطہ کریں
فون: 0512803096 اور 0321-5168572  ویب emel.com.pk

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: