سماج میں طاقت کا تصور ابھی تک قائم ہے —- قاسم یعقوب

2

دنیا کی قدیم تہذیبوں کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ سماج ہمیشہ سے کم از کم دو بڑے حصوں میں تقسیم رہا ہے۔ ایک طبقہ طاقت ور اور اشرافیہ کا جب کہ دوسرا طبقہ محکوم اور مجبور یا ایسے افراد پر مشتمل ہے جو طاقت یا ذرائع پیداوار پر دسترس نہیں رکھتے تھے۔ سماج کی مجموعی’ تخلیقیت‘ بنیادی طور پر انھی دو طبقوں کی حرکات پر مشتمل ہوتی۔ ایک طبقہ اپنی طاقت اور’’ اشرافیائی‘‘ اقدار کو قائم رکھنے کی کوشش میں رہتا جب کہ دوسرا طبقہ اپنی موجودہ حیثیت کو تبدیل کر کے اشرافیائی اقدار میں تبدیل کرنا چاہ رہا ہوتا۔ یوں دونوں طبقے بلواسطہ یا بلا واسطہ اپنی اپنی حیثیتوں کو بدلنے یا قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہوتے۔ یہود خود کو خدا کی سب سے بہتر مخلوق سمجھتے تھے؛ ان کی کتاب ’’تلمود‘‘ کے مطابق اہلِ یہود زمین کی سب سے بہتر مخلوق ہیں اور ان جیسا کوئی اور انسان یہاں موجود نہیں لہٰذا ان کی برابری کا کسی کو حق نہیں۔ اسی تفریق کی بنیاد پر وہ دوسروں کو حقارت سے دیکھتے۔ رومن ایمپائر نے بھی سماج کو مختلف طبقوں میں تقسیم کر رکھا تھا؛ ایک طبقہ طاقت ور یا اشرافیہ کا تھا جسے جرائم کی سزا بھی ممنوع تھی، جب کہ دوسرے طبقے کو معمولی جرائم میں سزائیں دی جاتی تھیں۔ ہندو سماج میں بھی طبقات موجود رہے۔ ہندو سماج کی مذہبی کتاب’ منوا سمرتی‘ کے مطابق ،ہندو سماج میں ’’منو شاستر‘‘ جیسا قانون موجود تھا جس کی رو سے’’برہمن‘‘ برہما یعنی خدا کے سر سے پیدا ہوئے ہیں، اس لیے یہ طبقہ خدا کا خاص طبقہ ہیں، ان کو مذہبی رہبری کا فطری حق موجود ہے۔ اس کے بعد ’’چھتریوں‘‘ کا طبقہ آتا جو برہما(خدا) کے سینے سے پیدا ہونے کا دعویٰ کرتے۔ چھتری کو کام جنگی مہمات تھا ، یہ طبقہ لڑنے میں مہارت رکھتا اور اپنے دوسرے کمزور طبقات کو قتل کرنے کا فطری حق رکھتا۔ ہندو سماج میں’’پر ویش‘‘ کاطبقہ بھی موجود تھا جو برہما کی کمر سے پیدا ہوئے تھے۔ ان کا کام کھیتی باڑی کرنا اور تجارت تھا۔ یہ طبقہ بھی کسی نہ کسی طرح سماج کی ضرورت بنا رہتا۔ سب سے گھٹیا طبقہ ’’ شودر‘‘جو برہما کے پاؤں سے پیدا ہوئے تھے۔ اس طبقے کا کام مذکورہ بالا تمام طبقات کی خدمت گزاری کرنا یا محکومی تھا۔ (ایسا خوفناک طبقاتی نظام دنیا بھر کے سماجوں میں موجود نہیں تھا)

بنیادی طور پر سماج میں طبقوں کی تقسیم ہمیشہ رہی ہے۔ سماج میں بہت سی تبدیلیاں آتی رہیں مگر سب سے خوف ناک تبدیلی ذہنی اشرافیائی طاقت کے حصول کی تبدیلی تھی، انسان نے خود کو کسی طبقے کے حصار میں لپیٹنے کی بجائے، ذہنی طور پر دوسروں کو غلام یا محکوم بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ یہ ’تبدیلی‘ جدید انسان کا المیہ تھا۔ مذاہب اور جدید انسان کے قوانین نے طبقوں کو ختم کرنے میں اہم کردار کیا مگر انسان کی لاکھوں برسوں کی تربیت نے اسے جنگلی سماج سے مہذب سماج میں منتقل ہونے سے روکے رکھا ہے۔ ابھی تک ہم ذہنی طور پر طاقت اور اشرافیائی اقدار کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں۔

نئے انسان نے سب سے پہلے یہ نتائج اخذ کیے ہیں کہ انسان سماج میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے ، ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتا ہے؛ اس لیے کوئی بہتر ، طاقت ور یا ایک دوسرے کاحاکم یا آقا نہیں اور نہ ہی کوئی شخص ، قوم یا گروہ رزیل، گھٹیا یا کم تر ہے۔ انسانی صلاحیتوںیا ذرائع پیدوار کی دسترس رکھنے سے ایک طبقہ یا شخص دوسرے شخص یا طبقے سے بہتر یا اعلیٰ تصور نہیں ہوگا۔ بلکہ سماج میں گھٹیا یا کم تر اور اعلیٰ یا طاقت ور کا تصور ہی غلط تصور ہے۔ نئے انسان نے یہ تصور دیا ہے کہ ہم سب سماج میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کرتے ہیں، کسی کے ساتھ(With) کام کرنا اور کسی کے لیے(For) کام کرنے میں فرق ہے۔ عموماً سماج میں ایک طبقہ یاشخص (پیداواری نقطۂ نظر سے) جب کسی دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تو کسی ایک طبقے یا کسی ایک شخص کی حیثیت برتر اور دوسرے کی ماتحت ہوسکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک طبقہ یا شخص، دوسرے طبقے یا شخص کا آقا یا طاقت رکھنے کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ چوں کہ ہم صدیوں سے اس تربیت سے گزرتے آئے ہیں اس لیے ہماری تاریخ کا ناگزیر حصہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم ’’برہما اور شودر‘‘ کی تقسیم کو قائم رکھیں۔ چناں چہ اس طرح فورا ً سماج میں طبقاتی تقسیم در آتی ہے۔ ایک طبقہ دوسرے کو گھٹیا سمجھنا شروع کر دیتا ہے، یا ایک شخص دوسرے دوسرے کے لیے طاقت ور اور حاکم کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور وہ تمام وقوع پذیر ہونا شروع ہو جاتا ہے جو ایک طاقت ور کمزور کے ساتھ کر سکتا ہے۔

سماج میں رہتے ہوئے ہم اپنے اردگرد اس رویے کو بہت محسوس کر سکتے ہیں۔ ایک طاقت ور جب اپنی طاقت کے دائرے میں آنے والے کسی دوسرے شخص یا طبقے کو اپنی طاقت کا احساس دلاتا ہے تو لامحالہ ایک تقسیم خود بخود قائم ہو جاتی ہے جسے اشرافیائی اختیار کی تقسیم کہیں گے۔ عموماً ہمارے ذہنوں میں ہوتا ہے کہ شاید اختیار یا طاقت چند خاص افراد تک محدود ہے اور باقی پورا سماج اختیار یا طاقت سے محروم ہے۔ لہٰذا طاقت ور یا اختیار رکھنے والا ہی جواب دہ ہے۔ اصل میں سماج میں طبقات کی تعریف بدل گئی ہے۔ اب سماج ان طبقوں پر مشتمل نہیں جو برہمو یا چھتری یا شودرجیسے طبقوں پر مشتمل سماج تھا؛ اب ہر شخص ایک طبقہ بھی اورسماج کاجزو (Component)یا فرد بھی۔ ہر شخص کی ایک رعیت ہے جس کا وہ جواب دہ ہے۔ صرف طاقت ور پولیس آفیسر یا طاقت کی حکمرانی کرنے والا طبقہ یا فرد ہی سماج کا طاقت ور یا حاکم طبقہ نہیں مانا جاتا، اب ہر شخص کی ایک ’رعیت‘ کا تصور عام ہو گیا ہے۔ رسول کریم ؐنے فرمایا ہے:

’’ خبردار تم میں سے ہر شخص اپنی رعیت کا نگہبان ہے اور تم سے ہر شخص کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا، لہٰذا امام یعنی سربراہ مملکت وحکومت جو لوگوں کا نگہبان ہے اس کو اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی، مرد جو اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اس کو اپنے گھر والوں کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی عورت جو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے، اس کو ان کے حقوق کے بارے میں جواب دہی کرنی ہوگی اور غلام مرد جو اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اس کو اس کے مال کے بارے میں جواب دہی کرنا ہوگی لہٰذا آگاہ رہو! تم میں سے ہر ایک شخص نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک شخص اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہوگا۔ ‘‘ (بخاری ومسلم)

یہ کوئی معمولی فلسفۂ سماج نہیں، اسے لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔ طبقوں کی تقسیم کو مکمل ختم کیا جانا چاہیے۔ ہر فرد طاقت رکھتا ہے اور وہ اپنی طاقت کا جواب دہ ہے۔ جس شخص کے پاس ’رعیت‘ کا تصور ’’رعایا‘‘ والا ہے، اس سے طاقت کو چھینا جانا چاہیے، کسی کو بھی کسی دوسرے کی توہین یا اُس پر حاکمیت کا لائسنس حاصل نہیں۔ ہر فرد یا طبقہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ طاقت ور یہ خیال کرتا ہے کہ شاید اُس کا محکوم اس کے لیے کام کررہا ہے۔ حالاں کہ ہر شخص سماج کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے اور بلواسطہ وہ اپنے لیے کام کررہا ہوتا ہے۔ ہم کسی دوسرے کے لیے نہیں دوسروں کے ساتھ مل کر اپنے لیے کام کرتے ہیں۔ اس تصور کوعام کرنے کی ضرورت ہے۔

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. سید وجاہت گردیزی on

    بہت اچھا احاطہ کیا ہے ۔طبقاتی تقسیم نے ہی وہ تمام مسائل کھڑے کر رکھے ہیں جن کا آج پاکستان کو سامنا ہے۔ طبقاتی نظام نے مملکت کی جڑیں کھوکھلی کر رکھی ہیں۔عمدہ احاطہ کیا ہے سر

  2. عرفان جاوید on

    ہاں جی سر رعیت کی غلط تفہیم دیمک کی مثل ہے جس نے اس معاشرتی سٹریکچر کو کھوکھلا کر دیا ہے۔رعیت کےمعنی ومفہوم کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔جب ہم اس بات سے آشنا ہو گئے کہ ہر فرد اپنے تائیں ہر ایک عمل کا جواب دے ہے تو یہ قرہ ارض جنت کی مثل ہوگا۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: