پسندیدہ شخصیت کا سحر —- فوزیہ قریشی

0

انسانی فطرت میں اشیاء اور جگہوں کے لئے لگاؤ کے جذبوں سے کہیں زیادہ قوی جذبہ اس محبت کا ہے کہ جس میں اُسے دوسرا انسان پسند آجاتا ہے۔ یہ دوسرا انسان ہم جنس ہو یا مخالف، اس کی کچھ خوبیاں ہم غیر معمولی سمجھ کر انہیں پسند کرنے لگتے ہیں۔ یہ خوبیاں ظاہری بھی ہوتی ہیں جیسے کوئی چہرہ دل پر نقش چھوڑ جائے، کوئی مسکراہٹ اپنا اثیر بنا لیتی ہے، کہیں کسی کی آواز ہمیں اپنے سحر میں لے لیتی ہے تو کبھی کسی کے انداز ہمارا دل موہ لیتے ہیں۔ عمومی طور پر ان خوبیوں کی وجہ سے ہمارے اندر ایسے انسان کو طلب کرنے کے داعیات پیدا ہوتے ہیں۔ جبکہ کچھ خوبیوں کا تعلق ظاہری جزئیات کے بجائے باطن سے ہوتا ہے۔ ان خوبیوں سے متاثر ہو کر ہمارا دل تڑپ کر بے قابو تو ہوتا ہے لیکن عجلت کا شکار نہیں ہوتا۔ ظاہری خوبیوں کے برعکس، باطنی حسن ایک ایسی مقناطیسیت پیدا کرتا ہے جس سے ہمارے باطن میں تبدیلی رونما ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس باطنی کشش کے پیدا ہونے کے نتیجے میں حرص کے بجائے ایثار کے جذبات جاگتے ہیں۔ اپنے پسندیدہ یا محبوب شخص کی پسند ناپسند جاننے بلکہ کھوج لگانے کی جستجو کی جو قوت باطنی خوبصورتی کی کشش سے پیدا ہوتی ہے، اس کے مقابلے میں ظاہری خوبصورتی کا اثر بہت ہی کمزور ہے۔ مخالف جنس کو ایسے پسند کرنا کہ جس کے نتیجے میں اُسے پا لینے کا داعیہ پیدا ہو، یہ وہ عنوان ہے کہ جسے عشق و محبت جیسے الفاظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس جذبے سے منسلک ہر جہت کو تمام زبانوں کے ادب و لٹریچر میں جو مقام حاصل ہے، شاید ہی کسی اور موضوع کو یہ درجہ میسر آیا ہو۔

محبت ایسا جذبہ ہے کہ جس میں انسان اپنے آپ کو قیدی بنا ڈالتا ہے۔ ایک ایسی قید کہ جس کی سلاخوں، زمین اور چھت سے، انسان ایک کرب میں رہنے کے باوجود، انتہائی محبت کرتا ہے۔ صاحبانِ سخن نے ان کیفیات کے اظہار کے لئے کیا کچھ نہیں کہہ ڈالا ہے۔ بنی نوع انسان کے ہاں لیکن اس اظہار کی ضرورت زندگی کی تمام بنیادی ضرورتوں کی طرح ہر دور میں زندہ رہتی ہے لیکن اسے پھر بھی تائیدِ تازہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ چاہے یہ کتنی پرانی ہو

امجد اسلام امجد نے محبت پر کیا خوب کہا ہے کہ

محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے !
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
ا سے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقین کی آخر ی حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو !
نگاہوں سے ٹپکتی ہو ‘ لہو میں جگمگاتی ہو !
ہزاروں طرح کے دلکش ‘ حسیں ہالے بناتی ہو !
ا سے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے
محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بار ہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پودا اب کہاں تک ہے !
محبت کی طبعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑ نے کی گھڑ ی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
کہو ’’مجھ سے محبت ہے ‘‘
کہو ’’مجھ سے محبت ہے ‘‘
تمہیں مجھ سے محبت ہے
سمندر سے کہیں گہری ‘ستاروں سے سوا روشن
پہاڑوں کی طرح قائم ‘ ہوا ئوں کی طرح دائم
زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں
محبت کے کنائے ہیں ‘ وفا کے استعار ے ہیں ہمارے ہیں
ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ہیں سنہر ا دن نکلتا ہے
محبت جس طرف جائے ‘ زمانہ ساتھ چلتا ہے ‘‘
کچھ ایسی بے سکو نی ہے وفا کی سر زمیوں میں
کہ جو اہل محبت کی سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو‘ کہ جیسے ہاتھ میں پاراکہ جیسے شام کاتارا
محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں ر ہتی ہے ‘
گماں کے شاخچوں میں آشیاں بنتا ہے الفت کا !
یہ عین وصل میں بھی ہجر کے خد شوں میں رہتی ہے ‘
محبت کے مسافر زند گی جب کا ٹ چکتے ہیں
تھکن کی کر چیاں چنتے ‘ وفا کی اجر کیں پہنے
سمے کی رہگزر کی آخری سر حد پہ رکتے ہیں

ادب میں تو محبت پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اس لئے بجائے اس کے کہ محبت کو ازسر نو بیان کرنے کی سعی کی جائے، آج ذرا اس کے اظہار کی ضرورت، مجبوری، تقاضے اور نفسیاتی میلانات پر کچھ بات کرنے کی خواہش ہے۔

ان سوالات پر کبھی غور نہیں کیا گیا کیونکہ اگر کیا جاتا تو صورتحال کچھ مختلف ہوتی یا یوں کہہ لیں کہ جہاں ان سوالات پر غور کیا جاتا ہے وہاں سچویشن مختلف ہوتی ہے جیسے چند سوالات کا ذکرکرنا چاہوں گی

اظہار سے پہلے لوگ کیا سوچتے ہیں؟
اظہار کیوں کرنا چاہتے ہیں؟
کر دینے میں کیا خطرات ہیں؟
کرنا چاہیے یا نہیں؟

ان خدشات کے پیشِ نظر اکثر لوگ اس جذبے کو اپنے دل کی کال کوٹھری میں بند کر دیتے ہیں اور کسی کو اس کی بِھنک تک نہیں پڑنے دیتے۔

میں نہیں جانتی آپ کیا سوچتے ہیں؟

لیکن!! میں اس بارے میں بہت مختلف خیال رکھتی ہوں۔ میرے خیال میں اکیلے اس اذیت کو برداشت کرنے کے بجائے کہہ دینا چاہئے کیونکہ جب تک اظہار نہیں کریں گے اِن سوالات کے جوابات بھی نہیں ملیں گے اور آپ اس اذیت سے بھی باہر نہیں نکل پائیں گے۔ ہم جن خدشات کے پیشِ نظر اظہار سے ڈرتے ہیں اگر ان کو تھوڑی دیر کے لئے سائڈ کرکے یہ سوچا جائے کہ

زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟

“انکار یا اقرار”

بالفرض انکار ہو جاتا ہے تو ہو جائے لیکن دل آپ کا دل تو پر سکون ھو جائے گا لیکن ان خدشات کے خوف میں مبتلا آپ کبھی سکون میں نہیں آئیں گے اور ساری زندگی کشمکش میں گزار دیں گے۔ لیکن اگر آپ بر وقت اظہار کر دیتے ہیں تو انکار کے باوجود بی وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس آپ کو ضرور ہوگا کہ نہ کہنے کی تشنگی اور اذیت سے بہرحال بہتر ھے یہ وقت اور یہ آگاہی۔

اس آگہی کی صُورت میں آپ پر واضح ہو جائے گا کہ

آپ کی حیثیت کیا تھی؟
اور یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ
اب آپ کہاں کھڑے ہیں؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: