کتب خانہ سلیمانیہ، استنبول —- محمد احمد رضا

0

علمی نوادرات اور بیش قیمت مخطوطات کا گہوارہ

2005ء میں جب تخصص فی الحدیث میں آئے تو پہلی بار عالمِ اسلام کے عظیم ورثے، پوری دنیا کی لائبریریوں میں پھیلے ہوئے اسلامی مخطوطات یعنی قلمی نسخوں کی اہمیت معلوم ہوئی، اسی دوران بعض قلمی نسخوں پر کام کرنے کا موقع بھی ملا جس کی بدولت اس متروک ذخیرے سے مزید شغف پیدا ہو گیا، اور پھر اس شغف نے کراچی، جامشورو، حیدرآباد، مٹیاری، ہالہ، ٹنڈو سائیں داد، سانگھڑ، نوشہرو فیروز، کنڈیارو، پیر جو گوٹھ، خیرپور، سکھر، رحیم یار خان، میلسی، ملتان، میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان، لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، سرگودھا، پھلروان، بھیرہ، اسلام آباد، چھتر، حضرو، اٹک، نوشہرہ سے پشاور تک کتنے شہروں، قصبوں، دیہاتوں، گلیوں کی خاک چھاننے پر مجبور کر دیا۔ جہاں نادر کتابوں کے کسی ذخیرے کا علم ہوتا، وہاں پہنچنے کو دل ہمکتا تھا اور جب تک وہاں پہنچ کر کتابوں کو دیکھ کر معلومات حاصل نہ ہو جاتی دل کو سکون نہیں ملتا تھا۔ایسے میں اگر عالمِ اسلام کے دوسرے بڑے کتب خانوں کا ذکر آتا تو دل کے نہاں خانوں میں اک خواہش پیدا ہوتی تھی کہ ان بڑے ذخائر تک پہنچ کر ان سے مستفید ہو سکیں لیکن اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتے ہی دل مسوس کے رہ جاتے تھے۔ انہی بڑے اور دل کش ذخائر میں ترکی کے کتب خانے اور خاص طور پر “کتب خانہ سلیمانیہ” بھی تھا۔ پڑھا کرتے تھے کہ فلاں کتاب کا نادر ونایاب قلمی نسخہ سلیمانیہ میں محفوظ ہے، لیکن سلیمانیہ کا وصل کسی “رومانوی داستان” سے کم نہیں تھا۔ اسی دوران کتب خانہ سلیمانیہ کے قلمی نسخوں کی عربی فہرست بڑی آب و تاب کے ساتھ شائع ہو کر پاکستان پہنچی، اس کو دیکھ کر یہ جذبات مزید بڑھ گئے۔ بالآخرآج تقریبا پندرہ سال بعد وہ دن ہے جب راقم اس خواب کو اپنی جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، سلیمانیہ کی دہلیز پر پہنچا تو دل بے اختیار پکار اٹھا :

اپنے ارماں پورے کر لے خوب جی بھر کر یہاں
اے دلِ بے تاب، لے تیرا مقام آ ہی گیا

سنہ 965ھ/1557ء میں عظیم سلطان سلیمان القانونی(1495ء/1566ء) نے شاخِ زریں کے دھانے کے اوپر سب سے اونچی پہاڑی پر عظیم الشان جامع مسجد اور اس کے ساتھ سلیمانیہ کمپلیکس تعمیر کروایا جس میں دارالقراء، دارالحدیث، مدارس اور سلیمانیہ کتب خانہ شامل تھا۔ یہ مسجد اور ملحقہ تعمیرات اپنی جگہ خوبصورتی، نفاست اور فن تعمیر کے اعلیٰ نمونے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھی اس کا محلِ وقوع ایسا ہے کہ مسجد کے شمال مشرقی جانب بیک وقت جو منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے اس میں دائیں طرف ٹھاٹھیں مارتا نیلگوں بحیرہ مرمرہ، سامنے خلیج باسفورس اور بائیں طرف شاخِ زریں کا پرسکون پانی شہر کو تقسیم کرتا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر روز ہزاروں سیاح اس طرف کا رخ کرتے ہیں۔ اس جاذب و دلکش منظر میں مسجد کیےجنوب مغربی جانب احاطے سے باہر نکل کر راستہ پار کر کے سامنے راہداری نظر آتی ہے، جو کتب خانہ سلیمانیہ کی عمارت کو مغربی اور جنوبی دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے، دونوں حصوں کی تعمیر کا انداز ایک سا ہے چو طرفہ دیوارکے ساتھ چاروں طرف کمرے اور ہال، ان کے سامنے چوکور برآمدے جبکہ درمیان میں باغیچہ ہے۔

گذشتہ دہائی سے ترکی حکومت نے ایسے اداروں کی بحالی اور ترقی میں خاص دلچسپی لی ہے اسی ضمن میں اس کتب خانے کو حسنِ انتظام کا ایک نمونہ بنا دیا ہے، مغربی حصے کو انتظامی شعبہ جات میں اور جنوبی حصے کو مطالعہ و تحقیق کے لئے آنے والوں کے مختص کیا گیا ہے۔ ترکی کے 117 چھوٹے کتب خانوں کو اس کتب خانے میں ضم کر دیا ہے اس طرح 118 مجموعوں سے بیک وقت استفادہ آسان ہو گیا ہے۔ کتب خانے میں اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ عناوین پر مشتمل مخطوطات کی 65000 جلدیں محفوظ ہیں جن میں ایک بڑی تعداد ان کتابوں کی ہے جن کے نسخے اس کے علاوہ دنیا کے کسی کتب خانے میں نہیں پائے جاتے اور بعض اپنی آب و تاب، جداگانہ انداز، خوبصورتی اور اس جیسے دیگر خصوصیات کی وجہ سے یکتا ہیں۔ ریڈنگ ہال میں متعدد کرسیاں اور ان کے سامنے کمپیوٹر رکھے ہوئے ہیں، ہر کمپیوٹر آن لائن کیٹلاگ سے وابستہ ہے اپنے مطلب کے قلمی نسخے یا قدیم کتاب کو کتاب کے نام، اس کے مضمون، مصنف کے نام یا سیریل نمبرز کے ذریعے سرچ کر کے اس نسخے کو سکرین پر دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔ مطلوبہ مواد تلاش کرنے، دیکھنے، پڑھنے اور نوٹس لینے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی البتہ قلمی نسخے کا حصول قدرے مہنگا ہے۔ عملے کا رویہ بہت دوستانہ اور شائستہ ہے اور ہر دم تعاون کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ نیچے بچھے کارپٹ سے لے کر کتابوں کی شیلفوں تک ہر چیز سے نفاست جھلکتی ہے۔ایک کونے والے کمرے میں ٹھنڈے گرم پانی کا ڈسپنسر اور اس کے ساتھ چائے اور کافی کے ساشے رکھے ہیں کہ پڑھتے پڑھتے ان چیزوں کی ضرورت محسوس ہو تو کام موقوف کر کے باہر نہ جانا پڑے یہیں سے محظو ظ ہوں اور اپنا کام جاری رکھیں۔ اللہ تعالی اس کتب خانے کو بنانے والوں، تعمیر و ترقی دینے والوں، انتظام کرنے والوں اور اس کے لئے اپنے اموال و کتب کو وقف کرنے والوں اور اس سے استفادہ کرنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائیں اور اس کی رونق کو بڑھائیں۔
راقم رضا
فاتح، استنبول، ترکی

یہ بھی پڑھیں:  یا پیر روم! مرید ہندی حاضر است (۴) ——— محمد وسیم تارڑ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: