ابنِ صفی دنیائے ادب میں زندہ رہے گا — گل ساج

0

وہ کہتے ہیں نا کہ “علم و ادب کے گہوارے میں آنکھ کُھلنا ”
یہ بات بعین فقیر پہ صادق آتی ہے۔
ہمارے دادا جی اہلِ علم، دانش ور آدمی تھے۔
انکے حلقہ احباب میں بحث و مباحث عروج پہ ہوتے تھے دادا جی جہاں جاتے گلی کوچے محلے پڑوس کی دکان ہو یا چوک چوراہا، محفل جما لیتے تھے۔
اُن دِنوں میں بھی دادا کی اُنگلی پکڑ کے ان محفلوں میں ٹک ٹک دیدم کی عملی تفسیر بنا موجود رہتا تھا۔
دادا کا اوڑھنا بچھونا کتابیں تھیں۔
یوں کُتب بینی کا شوق نسل در نسل منتقل ہوا۔

ابا جی دن بھر رِزق کی تلاش میں سَرگرداں رہتے مگر رات کو مطالعہ کا وراثتی شوق ضرور پورا کرتے۔
والدہ پڑھی لکھی نہ تھیں حروف شناسی کی حد تک جوڑ بنا کے کچھ نہ کچھ پڑھ لیتی تھیں مگر لکھ نہ سکتی تھیں۔۔
رات کو ” ابا جی” انکو ڈائجسٹ اور ناول پڑھ کے سناتے تھے یوں ہم بچے شاید پیدا ہونے سے پہلے ہی کتابوں قصہ کہانیوں سے شناسا ہوگئے تھے۔
گھر میں اچھا خاصا کُتب کا ذخیرہ موجود تھا مگر پھر بھی علم کی پیاس دردر لیے پِھرتی تھی۔
چُونکہ آباء اِنڈیا سے ہجرت کر کے آئے تھے اور پڑوسی محلہ بھی مہاجرین پہ مشتمل تھا، ہمارے چند محلے دار بزرگ بشمول ہمارے کچھ عزیز انڈیا سے کُتب ہی سرمایہ کے طور پہ بچا کے لائے تھے۔

میں ایک بار اپنے عزیز “بندہ کوتوال” کے گھر گیا تو بزرگ بَکسے کھولے بیٹھے تھے۔۔
رنگ برنگی چھوٹی بڑی ڈھیر ساری کتابوں کا ڈھیر لگا تھا بس پھر کیا تھا میں تو وہیں مقناطیس ہو گیا۔ بیٹھے بیٹھے کئی چھوٹے رسائل چاٹ گیا۔
وہاں پہلی بار “ابنِ صفی” کی کتابیں دیکھیں اور وہیں بادل ناخواستہ “کتاب چوری” کی روایت پوری ہوئی۔
چونکہ عمران سیریز ہمیشہ سے چھوٹے سائز میں آتی ہیں اسلئیے چُپکے سےابنِ صفی کی ایک کتاب قمیض کے نیچے ناف کے ذرا اوپر نیفے میں اُڑس لی۔۔
یہ “کتاب چوری” کی غالباً پہلی واردات تھی۔۔

یہ وارداتیں اسوقت عُروج پر پہنچیں جب ہمارے ایک پڑوسی نے انڈیا سے لائے ہوئے ذخیرہِ کُتب کو ذریعہ مُعاش بنایا، بازار کے آغاز پہ ایک دوکان میں کتابیں کرائے پہ دینے کے لئیے لائبریری کھولی۔ نئے شائع ہونے والے ڈائجسٹ، رسائل، رومانی و تاریخی ناول اور مظہر کلیم ایم اے و صفدر شاہین کے عمران سیریز کے ساتھ ساتھ پُرانی کُتب کا ذخیرہ بھی استعمال میں لائے۔۔ اسطرح یہ لائبریری اتنی وسیع تھی کہ شاپ میں لکڑی کے الماریوں کے تین رَو کتابوں سے بھرے ہوئے تھے۔

ہم پہ چونکہ اعتماد تھا تو ہمیں اجازت تھی کہ دکان میں ریکس سے اپنی پسند کی کتاب خود چُنتے اور رجسٹر میں نام وغیرہ لکھوا کے اجراء کرا لیتے۔۔
لائبریری کا مالک خوش تھا کہ یہ بچہ نئی کے بجائے پرانی کتب کرائے پہ لیتا ہے جن میں نئی نسل کے لئیے چنداں دلچسپی نہیں تھی۔
یوں ایکطرح سے بیکار بے مصرف کتب دکاندار کو کما کے دے رہی تھیں ۔۔اور ہم۔۔ ایک کتاب کرائے پہ لیتے اور دو نیفے میں اُڑس لیتے تھے۔۔ یوں فریقین اپنی اپنی جگہ پہ مطمئن شاداں وفرحاں تھے۔

ہاں یہ اچھائی ہم نے بارہا کی کہ جب چوری شدی کتاب تمام یار دوست پڑھ لیتے تو ہم اسی طرح اسے لائبریری میں واپس رکھ آتے۔۔
زمانے اچھے تھے شاید معلوم ہونے کے باوجود لائبریری مالک چشم پوشی کرتا رہا یہ بات اس نے بعد میں ہمیں بتائی۔۔
اس زمانے میں ہم نے خوب خوب ابن صفی پہ ہاتھ صاف کیا۔
لائبریریز بنتی رہیں اُجڑتی رہیں مگر پڑھنے لکھنے کا سودا سر میں سما گیا اب سسپنس، جاسوسی ڈائجسٹ رومانی ناول رضیہ بٹ، سلمٰی کنول، اسلم راہی ایم اے، عنایت اللہ اور مینا ناز کو پڑھنا شروع کیا۔

ایک شخص مرزا شکور نے لائبریری کھولی نوجوان آدمی تھا سو کچی عمر میں بھی ہمیں رومینٹک ناول کرایے پہ دے دیتا تھا۔۔
اب تک تو عمران سیریز ہی پڑھتا تھا اب رومانی ناولز تک ترقی ہوگئی مگر عمر ایسی کتابیں پڑھنے کی نہیں تھی۔۔
ایکبار ایسا ہوا کہ اماں کے ہاتھ ناول لگ گیا انہوں نے ہِجے کر کے ناول کا نام پڑھ لیا “پیاسی بینا” نام سے ہی ظاہر تھا کہ اسمیں کیا ہوسکتا ہے سو اماں ڈنڈا اٹھا کے پیچھے پیچھے۔
میں چھت پہ چڑھ گیا دوسری طرف پڑوس کے گھر کا صحن تھا اس میں ہماری دیوار سے کچھ فاصلے پہ چارپائی بچھی تھی۔۔بس پھر کیا تھا ماں کی مار سے بچنے کے لئیے اس دم مجھ میں “علی عمران ” کی روح گُھس آئی میں نے چھت سے جمپ لیا اور چارپائی پہ اور وہاں سے دروازہ کھول یہ جا وہ جا۔۔

غرض اس شوق کی وجہ سے شہر کی تمام لائبریریوں کے مقروض رہتے۔
یہ زمانہ عمران سیریز کا تھا۔۔
گرچہ ابنِ صفی وفات پاچکے تھے مگر انکی کُتب کُتب خانوں پہ دستیاب تھیں۔
اسراراحمد المعروف بہ ابن صفی۔۔
الہ آباد کے قُرب و جوار کے ایک گاوں “نارا” میں 26 جولائی کو پیدا ہوئے۔۔
انکے ماموں نوح ناروی اپنے زمانے میں اردو کے معروف شاعر تھے سو اِسرار میں بھی شاعرانہ جراثیم بدرجہ اُتم موجود تھے۔
آغاز میں “تیغ آلہ آبادی” تخلص اپنایا بعد ازاں “اِسرارناروی “کے نام سے صنفِ شاعری میں قلم آرائی کی۔
کچھ وقت گزرنے پہ والد کے نام کو بطور لاحقہ بنایا اور قلمی نام “ابن صفی” اختیار کیا۔

فکاہیہ کالم نگاری ہو نثر ہو یا شاعری تمام اصناف میں یکساں لوہا منوایا۔
ابن صفی کا جاسوسی ادب کی طرف رُحجان ایک واقعے کے سبب بنا جب دوستوں کی محفل میں بات چلی کہ سِری ادب بِنا فُحاشی کے تخلیق کرنا ناممکنات میں ہے۔
بس ابنِ صفی نے یہ چیلنج قبول کیا۔
اور نہایت اعلیٰ معیار کا سِری ادب تخلیق کیا جو فِکشن کے ساتھ ساتھ مُثبت اور تعمیری تھا۔
پہلے پہل ابنِ صفی نےماہنامہ جاسوسی دنیا شروع کیا جسمیں کرنل فریدی کیپٹن حمید کے کرداروں کو متعارف کرایا۔۔
ہارڈ سٹون احمد کمال المعروف کرنل فریدی ایک سنجیدہ متین کردار تھا جبکہ کیپٹن حمید کھلنڈرا اور غیر سنجیدہ سا شخص تھا اِنکے ساتھ وسیع الجثہ گرانڈیل قاسم دلچسپ کردار تھا فربہہ خواتین کا دلدادہ “فُل فلوٹی ” خواتین پہ مرتا تھا۔
ابن صفی نے کرنل فریدی کے ساتھ ساتھ

” سنگ ہی” کا کردار بھی تخلیق کیا یہ سمارٹ پُھرتیلا شخص تھا جو جسم کی معمولی اور بروقت موومنٹس سے بُلٹس کو ڈاج دے دیتا تھا۔۔برستی گولیاں اسکو چھو نہ سکتیں تھیں اسی کے نام پہ گولیوں سے بچنے کا ہُنر “سنگ آرٹ” کے نام سے موسوم ہوا۔
سنگ ہی نے یہ فن علی عمران کو منتقل کیا یعنی دنیا میں سنگ ہی کے علاوہ ایک اور شخص “سنگ آرٹ” کا ماہر تھا وہ علی عمران تھا۔۔اسکے علاوہ تھریسا بمبل بی آف بوہیما کا دلچسپ کردار جو علی عمران کو پسند کرتی تھی۔۔سنگ ہی اور تھریسا ایک سائنسی دنیا کے باسی تھے۔
اسی طرح کرنل فریدی اور کیپٹن حمید ہندوستان کی ایجنسی سے متعلق تھے اور علی عمران پاکیشیا سیکرٹ سروس کے رکن تھے اسی طرح غالباً بوغا نام کا بھی ایک کردار تھا۔۔

ابن صفی کی کردار نگاری اوجِ کمال پہ پہنچی ہوئی تھی۔۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ فرضی نہیں بلکہ جیتے جاگتے حقیقی کردار ہیں جو آج بھی اسی طرح زندہ ہیں۔۔

یوں تو ابنِ صفی نے کئی کردار تخلیق کئیے مگر جو کردار امر ہو گیا اور آجتک لکھاری ان کرداروں پہ لکھ رہے وہ “علی عمران” ہے.
علی عمران بظاہر کھلنڈرا احمق سا شخص ہے مگر درپردہ نہایت زِیرک،غضب کا فائیٹر انتہائی ذہین فطین نوجوان ہے۔۔
علی عمران چار مختلف روپ میں نظر آتا ہے ہر کردار اپنی بُنت میں ایکدوسرے سے یکساں الگ مگر مکمل شخصیات ہیں۔۔
ایک کِردار لا ابالی علی عمران پاکیشیا خفیہ ایجنسی کے سربراہ سر رحمان کا بیٹا ہے جو اسی ایجنسی کے کیپٹن فیاض کی ہیلپ کرتا ہے اور اسے کئی مشکل کیسز حل کرکے دیتا ہے۔۔
ایک کردار علی عمران مجہول ہونق شخص ہے جو اپنے ملازم سلیمان کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہتا ہے سلیمان اور علی عمران حماقتوں میں نہلے پہ دہلا ہیں۔

ایک علی عمران پاکیشیا سیکرٹ سروس کا سخت گیر باس “ایکسٹو” کے روپ میں ہے۔
چوتھا کردار ایک خیالی ریاست کے شہزادے “پرنس آف ڈھمپ ” کا ہے۔۔
یہ چاروں کردار انتہائی دلچسپ ہیں جو ایک ہی شخص علی عمران کے مختلف روپ ہیں علی عمران نہایت مہارت سے یہ کردار نبھاتا ہے۔۔
علی عمران کے ساتھ ساتھ سیکرٹ سروس کے ممبران بھی گونا گوں خصائل سے بھرپور ہیں۔۔جولیانا فٹرواٹر سوئس نژاد پاکستانی خاتون جو سیکرٹ سروس کی اہم رکن اور علی عمران پہ فریفتہ ہے تنویر جولیا کو چاہتا ہے مگر جولیا تنویر کو ناپسند کرتی ہے۔
تنویر،نعمانی، چوہان صدیقی اور خاور سیکرٹ سروس کے ممبرز ہیں۔۔۔
دانش منزل سیکرٹ سروس کا ہیڈ کوارٹر ہے۔
ایک اور دلچسپ کردار رانا تہور علی صندوقی ہے جسکی وسیع و عریض کوٹھی علی عمرن کی جائے پناہ ہے۔۔
ایک کردار سیکرٹری خارجہ سر سلطان ہے جو آڑے وقت میں علی عمران کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔۔

یہ تمام کردار ابنِ صفی کی زندہ تخلیق ہیں۔۔
ابنِ صفی نے نہ صرف جاسوسی ادب میں کردار متعارف کرائے بلکہ اپنی تحریروں میں نت نئیے سائنسی تجربات بھی بیان کئیے اسوقت وہ تجربات عقل و فہم سے ماورا محسوس ہوتے تھے مگر آنے والے وقت میں سائنسی ایجادات نے انکی حقیقت پہ مہر لگا دی۔۔زیرو لینڈ ابنِ صفی کے نکتہ رساں دماغ کی حیرت انگیز آئیڈیالوجی تھی۔
ابنِ صفی کے ناولوں میں پلاننگ اس درجہ کمال پہ تھی کہ
ابنِ صفی کی انہی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے اپنی نوازائیدہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لئیے ابنِ صفی سے ٹریننگ سیشنز کرائے۔

ابنِ صفی کے ادبی مقام کو تمام دنیا میں تسلیم کیا گیا۔۔
ابنِ صفی کا شمار سِری ادب کے بڑے عالمی ادیبوں میں ہوتا ہے۔۔
حقیقت ہے کہ ابنِ صفی کے جاسوسی ناول نہ صرف فِکشن کی انتہائی خوبصورت شکل تھے بلکہ ادبی چاشنی بھی لئیے ہوئے تھے جنہیں پڑھتے ہوئے قاری کلاسک زبان و انداز سے روشناس ہوتا ہے۔
ابنِ صفی کی تحاریر کی انہی خوبیوں کی وجہ سے جاسوسی تخلیقات کو ادب میں شمار کیا گیا وگرنہ جاسوسی و اِسپائی تحریروں کو دوسرے درجے میں شمار کیا جاتا تھا۔۔۔

یقینناً ابنِ صفی ادب کی دنیا میں امر رہے گا کہ اسکے تخلیق کردہ کردار زندہ و تابندہ ہیں۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20