ٹیکس اور ذمہ دار شہری بننے کا شوق —- انور عباسی

0

طویل عرصہ بعد سعودی عرب سے مستقل واپسی پر ہم نے سوچا سب سے پہلا کام وہ کرنا چاہیے جس سے ہم ایک ذمہ دار شہری ثابت ہو سکیں۔ ایک چھوٹا سا مکان تھا جسے کرائے پر اٹھا کر ہم نسبتاً کھلے مکان میں اٹھ آئے تھے۔ ملکی قانون ہے کہ شہری اپنی آمدن پر انکم ٹیکس ادا کریں۔ ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے اس ملک میں اگر سب شہری ایمانداری سے انکم ٹیکس ادا کرنا شروع کر دیں تو ملک کے بڑے بڑے مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔ ہم مارچ میں آئے اور جون میں انکم ٹیکس ادا کرنے کے لیے مالیاتی گوشوارہ جمع کرانے کے لیے پر تولنے لگے۔ اپنے ماموں زاد بھائی عاطف سے مشورہ کیا تو اس اللہ کے بندے نے کہا چھوڑو کس چکر میں پڑتے ہو، ہزاروں لوگ کرائے پر کوئی ٹیکس نہیں ادا کرتے۔ ہم نے کہا کہ بھئی ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے یہ غلط کام ہوگا۔ اگر دوسرے لوگ غلط کر رہے ہوں تو کیا ضروری ہے کہ ہم بھی غلط کام کرنا لگ جائیں۔ بہرحال ہم سے تو یہ نہ ہوگا۔ عاطف نے کہا تو ٹھیک ہے آپ گوشوارہ جمع کروا دیں۔

گوشوارہ جمع کروانے کے بعد ہم اطمینان سے بیٹھ گئے اور اپنے تئیں یہ سمجھ بیٹھے کہ ہم خود کو ذمہ دار شہری ثابت کر کے بڑا تیر مار لیا۔ دو ہفتے ہی گزرے ہوں گے کہ انکم ٹیکس آفیسر کی طرف سے نوٹس ملا کہ دفتر میں حاضری دوں۔ ستارہ مارکیٹ میں ریجنل انکم ٹیکس کا دفتر تھا، گھر سے بالکل ہی قریب۔ ہاتھ میں نوٹس لیے خوشی خوشی ایک دن دفتر چلے گئے۔ دیکھا ایک موٹی تازہ خاتون کرسی پر دھری ہوئی ہیں؛ تازہ کم موٹی زیادہ۔ بڑی خوش اخلاقی سے ملیں۔ چائے پانی کا پوچھا گیا۔ حکومت کے کارندے اتنے خوش اخلاق بھی ہوتے ہیںخوشی ہوئی اور خوشی سے زیادہ حیرت۔ ہماری فائل سامنے ہی دھری تھی، بالکل انھی کی طرح۔ اس کے بعد ہمارے درمیان رسمی گفتگو کچھ اس طرح چل نکلی:

وہ: ’کم ہی آپ جیسے لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ اگر سب اسی طرح اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں تو ہمارا ملک کسی کا دست نگر نہ ہو۔‘
ہم: ’ جی درست فرمایا۔ اسی لیے بیرونِ ملک سے واپس آتے ہی سب سے پہلا کام یہی کیا۔‘
وہ: ’بہت خوب، ماشاء اللہ۔ اس سے قبل انکم ٹیکس ریٹرن کیوں جمع نہیں کروایا گیا ؟‘
ہم:’ اس سے پہلے مکان میں میرے بھائی سکونت پذیر تھے۔ کرایہ گزشتہ سال سے وصول کیا گیا جس کا گوشوارہ اب داخل کررہا ہوں۔‘
وہ:’بہت خوب۔ ماشاء اللہ۔ اسلام آباد میں اپنا مکان ہونا اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ یہ کب اور کتنے کا خریدا تھا؟‘
ہم: ’آج سے چودہ سال پہلے ۱۹۷۴ ء میں بنوایا تھا۔ لاگت یہی کوئی چار پانچ لاکھ روپے تک آئی تھی۔‘
وہـ: ’ اللہ! اُس دور میں تو یہ بہت بڑی رقم تھی۔ بیرونِ ملک آپ کیا کام کرتے تھے؟ تنخواہ اچھی خاصی رہی ہوگی۔ بھئی بہت مبارک ہو۔‘
ہم: ’جی میں بینک میں ملازمت کرتا تھا۔ اللہ کا شکر ہے، تنخواہ معقول تھی تب ہی یہ ممکن ہوا جی۔‘
وہ: ’یقینا آپ کے پاس اس کا ثبوت ہوگا۔ آپ ایسا کریں کل بینک کی طرف سے اس کی ایک کاپی لے آئیں تا کہ اس کو فائل کا حصہ بنا لیا جائے۔ ‘

ہم بہت بہت شکریہ ادا کرکے نکل آئے، صرف گھٹنوں تک جھک کر کورنش بجا لانا باقی رہ گیا تھا۔ پتا ہوتا کہ بینک کا سرٹیفیکیٹ بھی نتھی کرنا ہو گا تواس انٹرویو کی نوبت ہی نہ آتی۔ چلیں یہ کون سا مشکل کام ہے۔ بینک کی طرف سے ملازمت کے اختتام پر اس طرح کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا ہے، ہمارے پاس بھی موجود تھا۔ کوئی مسئلہ ہی نہیں، آج نہ سہی کل۔ دوسرے دن اس دستاویز کی کاپی بنوائی اور محترمہ کے پاس حاضر ہو گیا۔ پہلے دن کی طرح آئو بھگت کی گئی۔ مطلوبہ دستاویز جمع کروا کر نکلنے ہی والا تھا کہ محترمہ نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ یااللہ خیر، اب کیا!

وہ بولیں: ’ماشاء اللہ! بڑی تنخواہ تھی آپ کی وہاں۔ ورنہ ہم جیسے لوگ یہاں مکان بنوانا کہاں افورڈ کر سکتے ہیں۔‘
ہم: ’جی بس اللہ کا شکر ہے۔ ‘
وہ: ’ظاہر ہے مکان بنوانے کے لیے پیسے وہاں سے بھیجتے رہے ہوں گے؟‘
ہم: ’جی ظاہر ہے۔ ‘
وہ: ’یقینا آپ قانونی ذرائع سے ہی رقم بھجواتے رہے ہوں گے۔ ہنڈی سے رقم تو نہیں بھجوائی ہو گی؟
ہم: ’بالکل نہیں۔ بینک کی ملازمت میں ہمیں خصوصی ایکسچینج ریٹ کی سہولت حاصل تھی۔ ہنڈی سے بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔‘
وہ: ’ ٹھیک۔ اگر ایسا ہوتا تو منی لانڈرنگ کا کیس ہوتا۔‘
ہم: ’ جی بالکل! اس کا ہمیں علم ہے۔‘
وہ: ’ تو ایسا کریں کہ جن رقوم سے مکان بنوایا گیا ہے ان کی ترسیل کا ثبوت لے آئیں تا کہ قانونی ضرورت پوری ہو سکے۔‘
ہم: ’مثلاً؟
وہ: ’ بینک ڈرافٹ یا ٹی ٹی کی کاپی، جس ذریعے سے بھی آپ نے رقم بھیجی ہے اس کی کاپی لیتے آئیں۔‘
ہم: ’وہ تو بہت پرانی بات ہے۔ چودہ سال پرانی رسیدیں تو ہم نے سنبھال کر تونہیں رکھیں۔‘
وہ: ’جی یہ تو بہت ضروری ہے۔ ان رسیدوں کی عدم موجودگی میں پاکستان میں رقم کا استعمال منی لانڈرنگ کے ذیل میں آتا ہے۔‘
ہم: ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہنڈی سے ایک دفعہ بھی رقم نہیں بھیجی۔‘
وہ: ’مجھے آپ کی بات پر سو فیصد یقین ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ قانون ثبوت مانگتا ہے۔ زبانی بات کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔‘
ہم: ’وہ تو ٹھیک ہے، لیکن میرے پاس تو کوئی رسید بھی نہیں۔ ٹیکس تو ہم نے جمع کروا دیا ہے، مسئلہ تو کوئی نہیں ہونا چاہیے۔‘
وہ: ’آپ شاید قانون سے واقف نہیں۔ ہم ایسے ہی کس طرح جانے دیں۔ اس کے لیے توبڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔‘
ہم: ’بڑی مہربانی ہوگی۔ میری تو سمجھ میں نہیں آتا۔‘
وہ: ’ٹھیک ہے۔ بس آپ دس ہزار روپے دے دیں، ہم باقی کام سنبھال لیں گے۔‘
ہم: ’یہ تو رشوت کے زمرے میں آئے گا جو سراسر ناجائز ہے۔‘
وہ: ’ رشوت ہے یا نہیں یہ بعد کی بات ہے۔ آپ مسئلہ حل کروانا چاہتے ہیں تو کل دس ہزار روپے لے کر دفتر آجائیں۔ ‘

ہم پریشانی کے عالم میں باہر نکلے کہ اب کیا کریں۔ عاطف سے رابطہ کیا، آخر وکیل ہے کوئی نکتہ پیدا کرے گا اور گرہ سلجھ جائے گی۔ اس کے پاس پہنچے تو اس نے کہا، ہور چوپو! کہا بھی تھا کہ ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب یہ لوگ رشوت لیے بغیر قطعاً نہیں مانیں گے۔ مقدمے بازی میں الجھ جائیں گے تو خواہ مخواہ کی پریشانی مول لیں گے۔ ایسا کریں کہ کل دس ہزار روپے سے کم پر سمجھوتہ کرنے کی کوشش کریں۔ مسئلہ یہ تھا کہ ان معاملات سے کبھی کوئی پالا ہی نہیں پڑا تھا۔ نہ رشوت کبھی لی، نہ دی۔ مرتا کیا نہ کرتا، دس ہزار روپے جیب میں ڈالے اور دوسرے دن پھرمحترمہ کے حضور پیش ہو گئے۔ رشوت کم کروانے کے لیے جملے ہی نہیں سوجھ رہے تھے۔ حلق سوکھ کر کانٹا بن گیا۔ آج تو کم بخت نے چائے کا بھی نہیں پوچھا۔ دس پندرہ منٹ کے بعد سات ہزار پر معاملہ طے ہوا۔ یہ کہتے ہوئے اٹھا کہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ایک جائز کام کروانے کے لیے آپ لوگ رشوت لے رہے ہیں۔ موصوفہ نے بڑے اطمینان سے کرسی پر ٹیک لگا کرمسکراتے ہوئے کہا کہ’’ آپ جیسے شریف آدمیوں سے ہی تو ہمارا کام چلتا ہے‘‘۔

یوں ہم نے ذمہ دار شہری بننے کے شوق میں پانچ چھے سو روپے انکم ٹیکس ادا کرنے کے لیے سات ہزار کی رشوت دے کر اپنی جان چھڑائی۔ اپنے ہی وطن میں اجنبی ہونے کا تصوّر کچھ گہر ا ہو گیا۔ بیس سال کے بعد اپنے وطن آکر پہلے یہ تو پوچھ لینا تھا کہ شریف شہری اور ذمہ دار شہری بننے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ ایسا کرنا بلکہ اس کے متعلق سوچنا بھی درست ہے یا نہیں۔ ہم نے ذمہ دار شہری بننا کچھ آسان سمجھا تھا۔ یہ نہ جانا کہ اس راستے پر چلنے سے پہلے یہاں کی اخلاقیات کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ بعد میں جانا کہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

مصحفی ہم تو سمجھتے تھے کہ ہو گا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا


یہ تحریر مصنف کی دلچسپ سوانح حیات ’متاع شام سفر’ سے لی گئی ہے۔ کتاب کے بارے میں معلومات کے لئے اس لنک پہ کلک کیجئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: