یا پیر روم! مرید ہندی حاضر است (۴) ——— محمد وسیم تارڑ

0

ترکوں کا مرغوب قہوہ پیش کرنے پر میں نے بس میزبان کا شکریہ ادا کیا۔ اگرچہ موسم سرما کا اختتام قریب تھا مگر آب و ہوا میں سردی کی شدت اب تک برقرار تھی۔ سورج کی حدت آمیز کرنیں فرحت بخش احساس دلاتی تھیں۔ گرما گرم قہوے کی چسکیاں لیتے ہوئے میں نے اپنی نظریں کھڑکی سے باہر خوبصورت مناظر پر پیوست کر دیں۔ یہ ایک روشن، پھولا پھولا ساخوشگوار دن تھا۔ ہر طرف رنگ بکھرے پڑے تھے۔ ارض روم کے قدرتی مناظر، پال گوگین، ہینری لاٹرک، وان گوگ، ڈائیک اور سیزان کی نیچرل پینٹنگز کی طرح سحر انگیز تھے اور میں تھا کہ اس سحر میں ڈوبتا جا رہا تھا۔

مجھ سے پہلے کتنے لوگ ارض روم کے ان سبزہ زاروں کے رومان میں غرق ہو گئے۔ شاید انہی ’لینڈ اسکیپس‘ کی تلاش میں قدیم یونان کے ایچی لس، ہانیبل، ہارکوئیلس اور کلاڈیس جیسے عظیم ترین جنگجوں نے ہزاروں سال قبل مسیح مشرق کی طرف پیش قدمی کی ہو گی۔ یہیں کہیں معلوم انسانی تاریخ کی سب سے پہلی جنگ عظیم ’ٹروجن وار‘ لڑی گئی جب یونانی بحری بیڑے ایجیئن سمندر کے راستے اس سرزمین کے ساحلوں پر لنگر انداز ہوئے۔ یہاں سے چند سو میل کے فاصلے پر وہ تاریخی شہر Troyواقع ہے جس پر مغرب سے انسانی خون کے پیاسے خانہ بدوش یونانی حملہ آور ہوئے تھے۔ دس ہزار سال قبل مسیح قدیم یونان کے سخت جان قبیلے اس سرزمین تک کیسے پہنچے ہوں گے اورکیسے انہوں نے Ephesusجیسے عظیم شہر کی بنیاد رکھی ہو گی جسے دیکھ کر آج بھی دنیا بھر کے سیاح دنگ رہ جاتے ہیں۔ یہ کیسا طلسم ہو ش ربا تھا کہ دو ہزار سال قبل مسیح ہٹیوں نے بابل کے ساتھ ساتھ اس سرزمین کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ سکندر اعظم بھی اپنی آبائی ریاست مقدونیہ سے اٹھ کر انہیں میدانوں سے ہوتا ہوا مشرق پہنچا تھا اور حضرت ابو ایوب انصاری ؓنے بھی انہیں میدانوں کو سر کرنے کا خواب دیکھا تھا۔ آشوب البحر، ایسٹرن ر ومنز، خلجی اور پھر آٹومنزترک سب کے سب آخر کس لیے اپنی آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک اس دھرتی کے گروید رہے؟ یقینا سرزمین روم میں کوئی بہت بڑا راز پوشیدہ ہے جسے تلاش کرنا باقی ہے۔ میں سوچتا رہا۔

بس اب انقرا شہر میں داخل ہو چکی تھی۔ شہر کے کارپوریٹ حصے میں یورپی طرز کی کانکریٹ اور گلاس سے بنی پنجرہ نما جدید عمارتیں ایک جنگل کی طرح پھیلی تھیں اور ان کے بالائی سرے آسمان کی حد کو چھو رہے تھے۔ بس اسٹیشن پر رکی تو صبح کے دس بج چکے تھے۔ میں نے فوری اپنا سفری بیگ کندھے پر ڈالا اور مسافر خانے سے ہوتا ہوا باہر نکل آیا۔ مصطفی کمال اتاترک کے جدید ترکی کا صدر مقام انقرا اپنے بے مثال حسن کے ساتھ میرے قدموں تلے بچھا پڑا تھا۔ انقراء کسی وشال مہا ساگر کی مانند خاموش تھا اور شہر کی فضا اس یوگی کی طرح پرسکون تھی جو بامیان کی وادیوں میں نروان پانے کیلئے تپسیا میں ڈوبا ہو۔ چاروں طرف دل کش قدرتی مناظر تھے۔ جامع مسجد کوزیکیکے کے سفیدپتھر کے چار مینار فضا میں بلند تھے۔ کہیں دور بلند ڈھلوانیں بادلوں میں ضم ہوتی ہوئی رومانی منظر پیش کر رہی تھیں۔ انہی پہاڑیوں کی ایک چوٹی پر انت کبیر تھا۔ جہاں بیسیوں صدی کا عظیم ترین رہنما مصطفی کمال اتاترک لیٹا آرام کر رہا تھا۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد جب سلطنت عثمانیہ کا عملی طور پر خاتمہ ہوا تو وہ جری جرنیل مصطفی کمال پاشا ہی تھا جس نے استانبول اور اناطولیہ پر نوآبادیاتی اور استعماری طاقتوں کے قبضے کو ماننے سے انکار کیا۔ وہ تن تنہایونان، برطانیہ، اطالیہ اور فرانس سمیت جنگ عظیم کی تمام فاتح افواج کے خلاف نہ صرف بر سر پیکار ہوابلکہ تین سال تک جاری خون ریز جنگ کے بعد انہیں شکست دینے میں بھی کامیاب ہوا۔ دور ملکویت کے اس جرنیل مصطفی کمال پاشا نے سنہ 1923ء میں عثمانی ترکوں کے تاریخی جھنڈے تلے ایک جدید ترک جمہوریت کی بنیاد رکھی۔ ’جمہوریہ ترکی‘ کے قیام کے بعد مصطفی کمال پاشا مسلسل سات روز تک تقریر کرتا رہا۔ یہ طویل تقریر ’نطق‘کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ آج یہ کتاب ترکی کی چند مقبول کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کے مرنے کے بعد ترک قوم نے اس عظیم رہنما کو ”اَتاتُرک“ یعنی ترکوں کے باپ کا لقب دیا۔ اسی مصطفی کمال اتاترک کی خودنوشت سے متاثر ہو کر برطانوی ہندوستان کے ایک وکیل سیاستدان محمد علی جناح نے اپنی قوم کیلئے ایک آزاد جمہوری ملک کی تحریک چلائی تھی۔ انت کبیر کی پہاڑی پر نصب قرمزی رنگ ترک پرچم ابھی تک لہرا رہا تھا۔ مصطفی کمال’اتاترک‘ یقینا’قائد اعظم‘ محمد علی جناح کے دور افتادہ ملک سے آئے ہوئے اس متجسس سیاح کو دیکھ کر ضرور مسکرا رہا ہو گا۔ میں نے سوچا۔

اب بھوک کی شدت نے مجھے نڈھال کر دیا تھا۔ چند منٹ کی چہل قدمی کے بعد مجھے ایک چھوٹا سا قہوہ خانہ دکھائی دیا۔ اندر داخل ہوتے ہی خوش شکل ویٹرس نے ایک بڑی سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے خوش آمدید کہا۔ میں نے منیو کارڈ پر ایک سرسری سی نگاہ دوڑائی اور سب سے کم قیمت چیز پر انگلی جما دی۔ ترک خاتون نے مجھے حیرت سے گھورا اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں ایپرن کی جیب میں ٹکائے چنچل چال چلتے ہوئے چلی گئی۔ ناشتہ آیا تو پلیٹ میں ایک خشک ڈبل روٹی کا ٹکڑا، ایک نمکین پینر کا ٹکڑا اور ایک بدزائقہ قہوہ تھاجسے میں نے گزشتہ رات سے خالی پیٹ کے حوالے کر دیا۔ ناشتے کے دس لیرا ادا کیے اور جلدی سے باہر نکل آیا۔

کچھ دیر بعد میں قونیا جانے کے لیے ٹرین اسٹیشن ’انقراگار‘ کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک رہا تھا۔ میں کسی گم شدہ گائے کی طرح گردن اٹھائے دائیں بائیں ترک زبان میں آویزاں سائن بورڈ پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک ایک کیسری رنگ ٹیکسی میرے قریب آ رکی۔ ڈرائیور زور زور سے ہارن بجا رہا تھا۔

”پاکستانی۔ ۔ ۔ ۔ پاکستانی۔ ۔ ؟؟؟“ خوش باش بڈھا ڈرائیور چلایا۔ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ اس نے سوجے ہوئے پپوٹوں میں دھنسی آنکھیں مٹکائیں۔ اپنا راشہ زدہ ہاتھ ملایا اور ایک زور دار قہقہہ لگایا۔ کچھ لمحے بعد ٹیکسی شہر کے پوش علاقوں سے ہوتی ہوئی ٹرین اسٹیشن ’انقر گار‘کی طرف بڑھ رہی تھی۔

(جاری ہے)

اس سلسلہ کی پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: