کیپٹن شیر خان : جس کی بہادری کا اعتراف دشمن نے بھی کیا —- گل ساج

0

“وہ جسکی بہادری کا اعتراف دشمن نے بھی کیا۔۔
میں اسے ٹیپو سلطان سے تشبیہہ دوں گا کہ جسکی دلیری و استقامت کا معترف ایک زمانہ ہے”
وہ اتنا جری تھا کہ
“دشمن آرمی کا کمانڈر اس درجہ متاثر ہوا کہ اس نے شہید کی وردی کی جیب میں اسکی جرات و بہادری کا اعتراف نامہ لکھ کے رکھ دیا کہ اس سپاہی کی جرات بے مثال ہے”

کارگل کی لڑائی کی کمانڈ سنبھالنے والے بریگیڈیئر ایم ایس باجوہ نے بتایا کہ
“جب یہ جنگ ختم ہوئی تو میں اس افسر کا قائل ہو چکا تھا،میں سنہ 71 کی جنگ بھی لڑ چکا ہوں۔
میں نے کبھی پاکستانی افسر کو ایسے قیادت کرتے نہیں دیکھا وہ بے جگری سے لڑا ”

حال ہی میں کارگل پر شائع ہونے والی کتاب “کارگل ان ٹولڈ سٹوریز فرام دی وار” کی مصنفہ رچنا بشٹ راوت کا کہنا ہے کہ “پاکستانیوں نے ٹائیگر ہل پر پانچ مقامات پر اپنی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں،پہلے 8سکھ رجمنٹ کو ان پر قبضہ کرنے کا کام دیا گیا لیکن وہ یہ نہیں کر پائے۔بعد میں جب 18 گرینیڈیئرز کی سپورٹ فراہم کی گئی تو وہ کسی طرح اس پوزیشن پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔

لیکن کیپٹن شیر خان نے ایک جوابی حملہ کیا، پہلی بار ناکام ہونے کے بعد انھوں نے اپنے فوجیوں کو دوبارہ منظم کرکے شدید حملہ کیا۔
جو لوگ یہ جنگ دیکھ رہے تھے وہ سب کہہ رہے تھے کہ یہ اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنا ہے یقینی موت یہ ایک طرح سے “خودکش” حملہ تھا۔
کیپٹن شیرخان اور اسکے سپاہی جانتے تھے کہ یہ مشن کامیاب نہیں ہوگا، کیونکہ انڈین فوجیوں کی تعداد ان سے کہیں زیادہ تھی مگر پھر بھی انہوں نے مرنا گوارا کیا مگر ہارنا نہیں ”

انڈین کمانڈر بریگیڈیر باجوہ کہتے ہیں۔
“کرنل شیر خان بڑی بہادری سے لڑے، آخر میں ہمارا ایک نوجوان کرپال سنگھ جو زخمی پڑا ہوا تھا، اس نے اچانک اٹھ کر 10 گز کے فاصلے سے ایک ‘برسٹ’ مارا اور یوں شیر خان کو گرانے میں کامیاب رہا”
انڈین کمانڈر باجوہ کے مطابق “پاکستانی حملے کے بعد ہم نے وہاں 30 پاکستانیوں کی لاشوں کو دفنایا۔
لیکن میں نے پورٹرز بھیج کر کیپٹن کرنل شیر خان کی لاش کو نیچے منگوایا میں اس بہادر نوجوان کو دیکھنا چاہتا تھا ہم نے اسے بریگیڈ ہیڈکوارٹر میں احترام سے رکھا”

جب کیپٹن شیر خان کی لاش واپس کی گئی تو ان کی جیب میں بریگیڈیئر باجوہ نے کاغذ کا ایک پرزہ رکھ دیا جس پر لکھا تھا
“12 این ایل آئی کے کپتان شیر خان انتہائی بہادری اور بےجگری سے لڑے اور انھیں ان کا حق دیا جانا چاہیے”

اس بے مثال جرات پہ پاکستان نے کیپٹن شیر خان شہید کو سب سے بڑا “نشان حیدر” اعزاز کر کے انکی بہادری کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔۔
کیپٹن شیر خان کی شہادت کے بعد انکا جسد خاکی نہایت عزت و احترام سے انڈین ہیڈکوارٹر بعدازاں سری نگر لایا گیا اور پھر کراچی ائیرپورٹ پہ آرمی کے جوانوں نے اپنے دلیر ساتھی کی میت وصول کر کے انکے آبائی گاوں روانہ کی۔

صوابی( کے پی کے) سے تعلق رکھنے والا کیپٹن شیر خان پاک آرمی کی سندھ رجمنٹ سے متعلق تھا۔
شیر خان ہمیشہ سے ایڈونچرسٹ تھا خطروں کا کھلاڑی بے مثال جانباز تھا اس نے کئی بار انڈین بارڈر کے اندر جا کے انکے کیمپوں پہ قبضہ کیا تھا۔۔
تاریخ میں بہادری کی جو بھی داستانیں لکھی گئیں ان میں شک و شبے کی گنجائش موجود ہے مگر اعلی ظرف دشمن نے کیپٹن شیر خان کی جرات کا اعتراف کے ہمیشہ کے لئیے حقیقی سچ رقم کر دیا۔۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: