‎حمایت علی شاعر کی وفات کا سانحہ —- عارف الحق عارف

0

‎گزشتہ ہفتے بر صغیر پاک و ہند اور دنیا بھر میں ادب اور شاعری سے محبت کرنے والے حلقوں میں اس خبرنے صف ماتم بچھا دی تھی کہ اردو ادب، شاعری اور نغمہ نگاری کی ایک بہت بڑی شخصیت حمائت علی شاعر کا ‎منگل 16 جولائی کی صبح کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں انتقال ہو گیاہے ان کی عمر 93 سال تھی۔ دو دن قبل ان کی سالگرہ منائی گئی تھی۔ اور اس موقع پر ان کے بیٹے اور ہمارے دوست پاک بحریہ کے افسر تعلقات عامہ کمانڈر (ریٹائرڈ) روشن خیال نے جو تصویریں فیس بک پر پوسٹ کی تھیں،کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ حمائت بھائی اتنی جلدی ہم سے جدا ہو جائیں گے لیکن اللہ رب العزت کی رضا یہی تھی۔ جس کے آگے ہر ایک کو سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالی ان کو غریق رحمت کرے اور ان کی کوتاہیوں اور لغزشوں سے درگزر کرے۔ وہ کافی عرصہ سےعلیل تھے اور اوکویل‎ کینیڈا میں اپنے صاحبزادے روشن خیال کے یہاں مقیم اور زیر علاج تھے۔ ان کے دوسرے بیٹے پروفیسر اوج کمال نے ایک دن قبل اطلاع دی تھی کہ ابا جی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ان کے تیسرے بیٹے بلند اقبال ڈاکٹر ہیں اور وہ بھی ٹورنٹو ہی میں مقیم اور میڈیکل پریکٹس کرتے ہیں وہی اپنے ابا کے علاج معالجے کے نگران تھے۔ انہیں صبح دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

حمائت علی شاعر سے ہمیں براہ راست تعلق اور دوستی کا دعوی نہیں لیکن روشن خیا ل کے توسط سے ان سے کئی بار ملنے اور بات چیت کا موقع ملا وہ نہائت ملنسار اور حلیم الطبع علمی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی زندگی علم وادب کا فیض عام کرنے میں گزری۔ جس کے لئےانہوں نے تعلیم و تدریس،شاعری،فلم میں نغمہ نگاری اور اس دور کی جدید ابلاغی ایجاد ٹیلیویژن کا میڈیائی استعمال کیا۔ ان کے فیض کے اس عمل کو عوام میں بڑی پزیرائی ملی اور اقتدار اور ادب کے ایوانوں میں بھی ان کی علمی اور ادبی خدمات کو نہائت قدر کی نگاہ سے نا صرف دیکھا گیا، بلکہ ایوارڈز اور اسناد امتیاز کی شکل میں اس کا عملی اظہار بھی کیا گیا۔ چنانچہ ان کو سب سے پہلے 1962 اور 1963 میں فلم میں نغمہ نگاری میں امتیازی خدمات پر نگار ایوارڈز،1989 میں بھارت کا بڑا ادبی ایوارڈ مخدوم محی الدین عالمی ایوارڈ،1993میں امریکہ کے شہر شکاگو میں شاعری کی نئی صنف ( تین مصرعی شاعری “ ثلاثی” کے بانی کی حثیت سے ثلاثی ایوارڈ، 1994 میں نیو جرسی امریکہ میں نقوش ایوارڈ،علامہ اقبال ایوارڈ اور Long life literary award اور 2001 میں واشنگٹن امریکہ میں Life Time Achievement Award اور اسی سال حکومت پاکستان نے حسن کارکردگی (Pride of performance Award) سے نوازا گیا۔

علم و ادب کے ہر شعبے میں دئے گئے ایوارڈز سے حمائت علی شاعر کی بلند قامت علمی شخصیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ فلم میں ان کی نغمہ نگاری کے اعتراف سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے نوجوانی میں یہ ان کا بہترین مشغلہ تھا۔ لیکن اس دور میں کسی کا فلم میں کسی بھی قسم کے کردار کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا یہی حال ان کے اپنے گھر میں تھا۔ جب ان کے بچے ذرا بڑے ہوئے تو ان کی نیک دل اہلیہ میرا نسیم کی اس بات نے انہیں فلمی نغمہ نگاری کو ترک کرنے پر مجبور کر دیا کہ “ دیکھیئے بچے اب بڑے ہو رہے ہیں۔ آپ کے فلمی شعبے میں تعلق سے ان پر کوئی اچھا اثر نہیں پڑے گا اس لئے آپ اسے چھوڑ کر روٹی روزگار کے لئے کوئی دوسرا شعبہ یا پیشہ اختیار کر لیں چاہے اس میں آمدنی کم ہی کیوں نا ہو، ہم گزارا کرلیں گے۔ “۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے اس مشورے کو سر آنکھوں پر رکھا اور 1976 میں سندھ یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر کی حثیت سے شمولیت اختیار کر کے علم کی روشنی کو عام کرنا شروع کر دیا۔ ان کی اہلیہ اپنے بچوں کے بہتر اور باوقار مستقبل کے لئے آج کل کی بیگمات کے مقابلے میں کس قدر قناعت پسند اور کفائت شعار تھیں جو اپنے شوہروں کو بناوٹی بلند معیار زندگی کی دوڑ کےلئے رشوت اور غلط کام کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

حمائت علی شاعر 14 جولائی 1926 کو اورنگ آباد حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کے قیام کی تحریک میں ایک نوجوان رضاکار کی حیثیت سے سرگرم حصہ لیا۔ بن کے رہے گا اور لے کے رہیں پاکستان کے نعرے لگاتے اور قائد اعظم کی قیادت پر فخر کرتے۔ پاکستان بن گیا تو انہوں نے بھی اپنے خاندان کے ساتھ اپنے محبوب و مطلوب نئے وطن پاکستان ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جب پاکستان ہجرت کی تو وہ میٹرک کر چکے تھے انہوں نے اور ان کی اہلیہ نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ اور اہلیہ کی ترغیب پر فلم نگاری کو ترک کرنے کے بعد حیدرآباد یونیورسٹی میں اسٹنٹ پروفیسر کی حثیت سے شمولیت اختیار کرلی اور تدریس کے پیشے کو اپنے لئے منتخب کر لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے شعر و شاعری کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ وحمایت علی شاعر کے چار شعری مجموعے آگ میں پھول، مٹی کا قرض، تشنگی کا سفر اورہارون کی آواز شائع ہوچکے ہیں جبکہ ان کتابوں کا انتخاب حرف حرف روشنی کے عنوان سے شائع ہواتھا۔ انھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری مثنوی کی ہئیت میں تحریر کی جو آئینہ در آئینہ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ حمایت علی شاعر کی دو نثری کتابیں شیخ ایاز اور شخص و عکس بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اردو شاعری میں ان کا ایک کارنامہ تین مصرعوں ہر مشتمل ایک نئی صنف سخن ثلاثی کی ایجاد ہے۔ حمایت علی شاعر نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے جن میں تدریس، صحافت، ادارت، ریڈیو، ٹیلیوژن اور فلم کے علاوہ تحقیق کا شعبہ نمایاں ہے۔ ٹیلی ویژن پر ان کے کئی تحقیقی پروگرام پیش کئے جا چکے ہیں،جن میں پانچ سو سالہ علاقائی زبانوں کے شعراء کا اردو کلام خوشبو کا سفر ،اردو نعتیہ شاعری کے سات سو سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام عقیدت کا سفر،احتجاجی شاعری کے چالیس سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام لب آزاد،پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام محبتوں کے سفیراور تحریک آزادی میں اردو شاعری کا حصہ نشید آزادی کے نام سر فہرست ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: