تاریخ کا بدترین دور- عائشہ نور

0

ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے۔۔ ضرب عضب کے بعد اب ہم رد الفساد کے نام سے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع کر چکے ہیں۔۔۔ فوجی جوان دوہرے دشمن سے نبرد آزما ہیں۔۔۔ اور انشاٗاللہ کامیابی ہمارے ہی قدم چومے گی۔.سیکیوریٹی ہائی الرٹ ہے ۔ جبکہ سیاستدان ہمیشہ کی طرح “جمہوریت دشمن عناصر” سے لڑ رہے ہیں۔۔ بہرحال انہوں نے کچھ تو کرنا ہے تو چلو جمہوریت کولاحق خطرات سے ہی نمٹ لیتے ہیں جب تک الیکشن مہم نہیں شروع ہو جاتی .مگر کوئی ان سب میں متاثر ہو رہا ہے تو وہ ہیں ہم عوام اگر کہیں کوئی بم دھماکہ یا تخریب کاری ہوتی ہے. تو ہمارے بڑےایک ہی بات کہتے نظر آتے ہیں۔۔ ملک اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔۔۔ لیکن ہم عوام کے ساتھ مل کر دشمن کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔۔۔۔ جمہوریت ہو یا آمریت ، سب نے اس نعرے کو ہی اپنا سلوگن بنایا۔۔۔ ستر سال گزرنے والے ہیں اور ہم بس انہی دو جملوں سے آگے نہ بڑھ سکے۔۔ ان دنوں ملک میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے. پے در پے ہونے والے دھماکوں سے دشمن کی پالیسیز اور اہداف آئینے کی طرح واضح ہیں۔۔۔ کوئی عقل و خرد سے بے بہرہ انسان بھی بتا سکتا ہے کہ دشمن عوام کو نشانہ بنا رہا ہے۔۔۔۔ لیکن ہم کیا کر رہے ہیں کہ ہم نے پوری فورس لگا دی ہوئی ہے آمراء کی حفاظت کے لئے ۔۔۔۔ اورعوامی مقامات؟ جو دشمن کا آسان ترین ہدف ہے۔۔ ان کی سیکیورٹی کا حال بھی جان لیجئے ۔

ابھی چند ہی دن پہلے کی بات ہے کہ مجھے سیالکوٹ جانا تھا۔۔۔ میں اپنی فیملی کے ساتھ بس اڈے پر گئی۔۔ ٹکٹ کاؤنٹر پر جا کر پتہ چلا کہ گاڑی فل ہو چکی ہے۔۔۔ مجبورا ہمیں اگلی گاڑی آنے تک کا انتظار کرنا تھا۔۔۔ انتظار کی بات ہو تو ایک پل بھی گزارنا مشکل ہوتا ہے۔۔ میں نے موبائل میں گیم کھیلنا شروع کر دیا۔۔۔ اتنے میں مجھے ایک سیکیورٹی گارڈ نظرآیا۔۔۔ میں نے سرسری سا دیکھا اور پھر سے گیم کھیلنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔ صرف چند سیکنڈ میں مجھے پتہ چل گیا تھا کہ اس کے پاس گن نہیں ہے۔۔۔ اور میں اپنی متجسس طبعیت سے مجبور ہو کر اس کے پاس گئی اور پوچھا: بھائی آپ سیکیورٹی گارڈ ہیں؟ اس بندے نے بہت فخر سے جواب دیا : جی جی۔۔ کوئی مدد چاہئیے؟۔۔۔ پھر میں نے پوچھا: آپ کی گن کہاں ہے؟۔۔۔ تو اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا باجی: گن تو لاکر میں ہے۔۔۔ اورلاکر کی چابی جس بندے کے پاس ہے اس کی ڈیوٹی دس بجے شروع ہوتی ہے۔۔۔ ابھی تو ساڑھے آٹھ بجے ہیں۔۔۔ اس جواب کے بعد میرے الفاظ ختم ہو گئے تھے۔۔۔ اور میرے ذہن میں لاہور کے ہولناک۔۔ دہشت ناک سانحے کی تصاویر گھومنے لگیں۔۔۔ خیر!! میں واپس آگئی۔۔ اور آکر ٹکٹ کائونٹر والے بندے سے پوچھا کہ یہاں کا مینیجرکون ہے؟۔۔۔ اس نے بڑے فخر سے گردن اکڑا کر کہاکہ جی میں ہی ہوں۔۔۔ میں نے اسے بہت حیران اور دکھی ہو کر پوری بات بتائی۔۔۔ تو جناب کے الفاظ تھے کہ کوئی بات نہیں باجی!! اگر کچھ ہوگا توہم لوگوں نے چوڑیاں تو نہیں پہنی ہوئیں۔۔۔ ہم ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔۔۔۔ اس نے بتایا کہ اگر اس سیکیورٹی گارڈ کے پاس گن ہو بھی تو بھی یہ کسی کام کا نہیں ہے۔۔ ناتجربہ کار ہے۔۔ اسے تو شائد گن بھی چلانا نہیں آتی۔۔ پر فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ ہم اپنی حفاظت خود کر سکتے ہیں۔۔۔اس کے الفاظ کے بعد میں ایک بارپھر خاموش ہو گئی۔۔۔۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ جب عوام نے اپنی حفاظت خود کرنے کی ذمہ داری اٹھا ہی لی ہے تو یہ کریں گے بھی۔۔۔

کیا یہ المیہ نہیں ہے کہ ہم نے اپنی تمام مشینری سیاستدانوں، بیوروکریٹس اورسرکاری افسروں کو تحفظ فراہم کرنے پر لگا رکھی ہے۔۔۔ جنہیں فی الوقت تو کوئی خطرہ نظر نہیں آ رہا۔۔۔ اگر کسی کو کوئی خطرہ ہے تو وہ ہم عوام ہیں۔۔۔ اور ہمارے لئے ایسے حالات بنا دئیے گئے ہیں کہ ہم مایوس ہو کر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ہم اپنی حفاظت خود کریں گے۔۔ ہم نے چوڑیاں نہیں پہنی ہوئیں۔۔۔ تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ عوام کا اللہ مالک ہے۔۔۔ اور جب دشمن غریب بے بس عوام کا خون بہائے گا۔۔ پھر سیاستدان سخت سیکیورٹی کے حصار اور مکمل پروٹوکول کے ساتھ آکرکہیں گے کہ ہم آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔۔ ہم آپ کے ساتھ مل کر دشمن کے عزائم کو ناکام بنائیں گے۔۔۔ کیا یہ مضحکہ خیز بات نہیں ہے کہ عوام ہی مریں چاہے بم دھماکے میں۔۔ چاہے ٹیکسز میں، چاہے مہنگائی کے تندور میً چاہے بے بسی کی موت سے میں اور سیاستدان بلٹ پروف گاڑیوں میں دس دس ٹرینڈ سیکیورٹی گارڈز کے ساتھ عوام کوکہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔۔۔ اور دشمن کو کامیاب نہیں دیں گے۔۔۔ تو بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ دشمن کی کامیابی کی کون سی سند چاہئیے آپ کو؟۔۔۔ خدارا کوئی ہوش کے ناخن لیں۔۔ خیر!! بات ہو رہی تھی عوامی مقامات بس اور ریلوے سٹیشنز کی سیکیورٹی کی ، تو بھائی یہاں کی سیکیورٹی حکومت کی ذمہ داری میں نہیں آتی کیونکہ عوام کو حکومت تو نہیں کہتی کہ سفر کریں۔۔۔ یا عوامی مقامات پر جائیں۔۔۔ تو یہ ان کی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حفاظت کا بندوبست خود کریں۔۔۔ کیونکہ ملک تو بدستور تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔۔۔ اور ہمارے سیاستدان۔۔ بیورو کریٹس۔۔ سرکاری افسران اور تمام مشینری۔۔ فول سیکیورٹی کے ساتھ ان حالات سے نبرد آزما ہونے کے لئے آرام گاہوں میں مقید ہو گئے ہیں۔۔۔ اور راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔۔۔ تقریبا ستر سال گزرنے کے باوجود یہ تاریخی بدترین دورختم نہ ہوسکا۔۔۔ لیکن میری حسرت ہے کہ کبھی یہ جملہ تبدیل ہو کر”:ملک اس وقت تاریخ کے خوبصورت اور ترقی یافتہ دور سے گزر رہا ہے:” بن جائے۔۔۔ لیکن میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔۔۔ جب تک ارباب اختیارنہیں چاہئیں گے۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر ہم عوام خود نہیں چاہیں گے۔۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: