ہائے خان صاحب —- سحرش عثمان

0

ہائے خان صاحب۔ ۔ ۔
زیر لب وہ مسکراتا شکریہ اچھا لگا
بس آج ٹانگ پر ٹانگ رکھے چائے میں چینی بھی ہلا دیں تو بے توجہ آنکھ پر امجد اسلام امجد کے بعد آنسہ ایک عدد شہرہ آفاق نظم کہہ دویں گی۔
(وزن کسی نونی شاعر سے برابر کرالیں گے)۔

خان صاحب آپ کو واشنگٹن ڈی سی میں بولتے اور دل میں دھڑکتے ایک ساتھ سنا۔ پچھلے سال پچیس جولائی یاد آگیا جب ہم کیچڑ اور پانی میں سے گزر کر برستی باراں میں پٹوار خانے میں پھڈا ڈال کر آپ کو ووٹ دے کر آئے تھے۔ تب جب آپ کی دلائی امید پر کئی “زمینی حقائق” غالب آ آ جاتے تھے۔ تب تب ہمارے اندر کے امید پرست نے آپ کی آواز کو صحرا میں پانی اور اندھیرے میں روشنی جانا۔
خان صاحب ہمارے اندر کے امید پرست کو زندہ رکھنے کا بے حد شکریہ۔

آپ نے ہمیں خودداری سے جینے کی آس دلائی تھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ خودداری ایک مشکل چوائس ہوتی ہے۔ خان صاحب ہم نے کھٹن رستے پر آپ کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ آپ ہماری مجبوری نہیں ہماری چوائس اور خواہش ہیں خان صاحب! خدارا خودداری کے اس سفر کو ادھورا مت چھوڑئیے گا۔ آپ اس قوم کی وہ امید ہیں جو زندگی ہارتی ماں کو ہوتی ہے جب وہ نجات پر تکلیف کو اذیت کو ترجیح دیتی ہے۔ ایک نئی زندگی کے لئے۔ آپ کے لیے اس رستے کو منزل کرنا بہت ضروری ہے خان صاحب کیونکہ آپ سے صرف ووٹس کا حساب نہیں لیا جائے گا۔ خان صاحب آپ پر امیدوں کا بوجھ بھی ہے محبتوں کا قرض بھی ہے۔ خان صاحب آپ کے ساتھ ہماری توقعات جڑی ہیں۔ خان صاحب ان توقعات کے ثمر آور ہونے تک آپ کو ایسے ہی رہنا ہے پر امید جرات مند باہمت و حوصلہ۔

آپ کو ایسے ہی رہنا ہے سیدھے رستے کی دعا مانگتے اس پر چلنے کی توفیق چاہتے ہوئے۔

آپ کو ایسے ہی رہنا ہے ریاست مدینہ کی مثال دیتے اس مثال کے لیے کوشش کرتے۔ یاد رکھئے آپ سے آپ کی کوشش کے متعلق پوچھا جائے گا اور ہمیں دکھائے ہوئے خوابوں کے متعلق۔

خان صاحب یہ مشکل رستہ تھا یہ ہمیں اور آپ کو پہلے سے معلوم تھا۔ یہ چومکھی لڑائی ہے یہ بھی معلوم تھا ہمیں۔ خان صاحب ہم اس پراپیگنڈا وار میں نہ تھکے ہیں نہ ہار مانی ہے ہم کئی دو رنگے منافقین کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔ آپ کے لیے نہیں اپنے لئے اپنے بچوں کے لیے اس قوم کے لیے اپنے ملک کے لیے۔ آپ نے ان کی وجہ سے پریشان نہیں ہونا یہ ہمارا مسئلہ ہیں آپ نے کام کرنا ہے خان صاحب۔ ٹیکس کے معاملات میں سختی کی ہے تو ایسی ہی کئی سختیاں ہمارے سماجی معاملات میں بھی درکار ہیں۔

خان صاحب سماج کو درست کرنے کے کیے بہت زیادہ پیسہ درکار نہیں ہے۔ بس تھوڑی توجہ سٹیٹ کی رٹ قانون کی عملداری اور مستقل مزاجی درکار ہے۔

خان صاحب آپ نے کل کہا ہم ایسا قانون لا رہے ہیں کہ بیٹیوں کا جائیداد میں حصہ یقینی ہوگا۔ خان صاحب یہ سطریں نم آنکھوں نے ساتھ کئی بار سنی ہے۔ اپنی جنس کے حق کے لیے کی گئی بات کئی بار دہرا کر سنی اور اس امید پر سنی کہ آپ نہ صرف قانون لائیں گے بلکہ اس پر عمل بھی کرائیں گے۔

خان صاحب یہ سماج میری جنس کے معاملات میں بہت تنگ ہے۔

خان صاحب آپ کو پتا ہے نا آپ کے ووٹرز کا کتنے فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے اور کیوں؟
خان صاحب یہ سراسر منافع والے ووٹرز ہیں جو نسلوں میں آپ کا عشق ڈال دیں گی۔ ان کے حق کی چاہت کریں خان صاحب۔
ان کے لیے زندگی کے روزون کھولئیے۔ پھر اس قوم کا امید پرست ہونا دیکھے۔ مضبوط مائیں امید پرست نسلیں پروان چڑھاتی ہیں۔ جبکہ خوف زدہ مائیں منتقم مزاج شکی نسلیں دیتی ہیں۔ جس سے ہمارا سماج پہلے ہی آٹا پڑا ہے۔

خان صاحب جینے کے ہمارے بہت سے حقوق پر سے “غیرت” کا بوجھ اتار دیجئے کہ کل کو کوئی خاتون مارچ کے نام پر خاتون کی توہین و تحقیر کرئے تو خواتین اس کو شٹ اپ کال دے سکیں۔
طلاق و نکاح کے معاملات پر غور کریں۔ نکاح نامے کو اپگریڈ کرنے کی بات کیجئے۔ جہیز و بری جیسی رسومات پر پابندی لگا کر شادی کے نام پر سودے بازی کو ختم کرنے کی کوشش کیجئے۔
خان صاحب اس قوم کے بچوں کو بچا لیجئے۔ خان صاحب جنسی و جذباتی درندوں کو عبرتناک ازائیں دینے کا قانون بنائیے اس پر عمل کرائیے یہ قوم آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھولے گی۔
خان صاحب پنجاب پر رحم کریں اس نے اگلی بار آپ کے اقتدار کی راہ ہموار کرنی ہے۔ ہمارے تعلیم و صحت کے معاملات آپ کی نظر کرم کے منتظر ہیں۔

خان صاحب ہم پر رحم کریں ہمیں وسیم اکرم پلس نہیں چاہیے کوئی ہلکا سا پلئیر لگا دیں اگر یہ نہیں ہوسکتا تو علی ترین کو جروا کر لے آئیں کم از کم ہینڈسم تو ہے وہ۔ کوئی عینی پرابلم بھی نہیں کہتا۔ خان صاحب آپ ہی کئیے عینی بھی کبھی پرابلم ہوئی ہے عینی تو ہمشہ شاہد ہوئی ہے ہمارے ہاں۔

خان صاحب تھر کے کوئلے کے ساتھ ان مظلوم بچوں کا ذکر ببی کیا کیجئے وہ جن کے ڈھانچے دیکھ کر اپنی جاگنگ کرتے وجود سے نفرت ہونے لگتی ہے۔

مدرسوں کے ان بچوں کو بھی یاد رکھیں جن کو آس دلائی تھی آپ نے برابری کی۔

خان صاحب یہ چومکھی لڑائی ہے اور اس کے لیے رب نے آپ کو موقع دیا ہے اس قوم کو مایوس مت کیجئے گا ہمارے پاس کھونے کے لیے اب کچھ نہیں ہے۔ ہم نے معاشی سماجی سیاسی میدان میں سب کچھ کھو کر آپ کو پایا ہے اب ہماری امیدوں کو بار آور کیجئے۔ یاد رکھئیے وقت کسی کا تعلقدار نہیں اور نہ ہی تاریخ کسی کی دوست ہوتی ہے۔

زندگی بار بار موقع نہیں دیتی یہ ٹو معلوم ہے نا آپ کو۔ رب کے دئیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیے ہمارے خوابوں کو تعبیر کیجئے۔
ہمیں سر اٹھا کر جینے کے قابل کردیجیے یہ قوم آپ کو امر کردے گی۔
دوسری صورت میں آپ کے سامنے ہے مکافات عمل اور دائرے کا سفر۔

یہ بھی پڑھیں: ایک جذباتی سیاسی کارکن کے خواب —- سحرش عثمان

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: