محبت سے رسوائی تک —– اقرا بیگ

0

محسن اور فاطمہ کے انٹرویوز سنیں، ایک نہیں کتنی ہی بار۔ ۔ میں نہ جج ہوں نہ انوسٹیگیشن سے کوئی تعلق، لیکن یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ چار سال پہلے جو پسند کی شادی کی گئی وہ اچانک اتنے خوفناک موڑ پر کیوں آ گئی؟؟ کیا وقت کے بدلنے ساتھ محبت مانند پڑ جاتی ہے؟

کیا شادی تک ہی وعدوں کو نبھانے اور ساتھ دینے کی باتیں کی جاتی ہیں یا محبت کو تر وتازہ رکھنے کے لئے شادی کے بعد بھی نئے عہد لینا، ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور اپنے پارٹنر کی عزت کا احترام بے حد ضروری ہوتا ہے۔ ۔ ۔ میرے خیال سے تو کبھی آئی لو یو تو کبھی کوئی تحفہ،،، نہیں تو پسند کے کھانے پکانے سے بات بن سکتی ہے اور عورت تو ہمیشہ ہی مرد کی محبت کے دو بول سننے کی منتظر ہوتی ہے۔ ۔ ۔ پھر محسن اور فاطمہ کے درمیان اتنا خلا کیوں پیدا ہوا؟؟

چلیں بات بگڑ جاتی ہے ایک دوسرے کی عادات عیاں ہونے لگتیں ہیں مان لیا کہ گزارا مشکل سے مشکل ترین ہوجاتا ہے اور مرد کے لئے راہ فرار کا راستہ دوسری، تیسری یہاں تک کہ تیسری شادی بن جاتی ہے۔ یہ حق ہے جو مرد کو مذہب نے دیا لیکن ساتھ ہی یہ انصاف کرنے کا حکم بھی دیا؟؟ وعدے کو پورا کرنے کا حکم بھی تو دیا۔ ۔ ۔ وہ کونسی ایسی خامیاں تھیں جس سے زندگی بھر ساتھ نبھانے کا وعدہ وفا نہ ہو سکا؟؟

جہاں تک محسن کے ہائیپر ہونے کا سوال ہے تو ہر انسان کی فطرت مختلف ہوتی ہے جو بہت مشکل سے تبدیل ہوتی ہے، ظاہر ہے کہ پسند کی شادی سے پہلے لڑکا لڑکی کے درمیان اتنی انڈراسٹینڈنگ قائم ہو جاتی ہے کہ آپ دونوں ایک دوسرے کی خامیوں اور خوبیوں سے اچھی طرح سےب واقف ہو جاتے ہیں، لیکن پھر بھی شادی کے بعد چونکہ لڑکا اور لڑکی اب میاں اور بیوی بن جاتے ہیں ساتھ رہتے ہیں تو انکی خامیاں مزید واضع ہونے لگتیں ہیں۔ شادی سے پہلے مختصر وقت ایک دوسرے کے سامنے گزرتا ہے تو خامیوں پر دھند پڑی ہی رہتی ہے۔ ۔

فاطمہ کا منصور علی خان کو دیے گئے انٹرویو میں واضح ہے کہ فاطمہ اور محسن کے رشتے میں بڑھتے خلا کو انکا بیٹا بھی پر نہیں کر سکا۔ ۔ ۔ البتہ دوسری عورت نے وہ خلا پر کر دیا تھا۔ ۔ ۔ کسی بھی عورت کو یہ منظور نہیں کہ اس کی جگہ کوئی دوسری عورت لے۔ یہی وہ نکتہ تھا کہ جس کے بعد فاطمہ نے گھر کی بات اور گھر میں حل ہو جانے مسئلے کو سوشل میڈیا پر لے آئیں۔ ۔ ۔ جو کہ زیادہ اچھا نہیں۔ ۔ جہان مرد کو زیب نہیں دیتا کہ اپنے سے کم طاقت رکھنے والی عورت پر ہاتھ اٹھائے اور مذہب کا سہارا لیا جائے تو بھی اس فعل کو ناپسند نہیں کیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ لیکن فاطمہ اس سلسلے میں اس وقت اور بھی کمزور ہوگئی کہ وہ کیسے بتاتی اپنے گھر والوں کو کہ اسکا شوہر اس کو مارتا ہے، کیونکہ فاطمہ سماجی دباو کا شکار تھیں، وہ یہ کیسے اپنے والدین کو بتاتیں کہ اس شخص نے اسے مارا جس سے اس نے پسند کی شادی کی، ہم کیا کرسکتے ہیں بہن بھائیوں اور والدین کی ایسی بہت سی باتیں۔ ۔ ۔ لڑکی کے اپنے گھر والوں کی پسند کی شادی کرنے کے طعنے دینے اور دباو دینے سے ڈر کر فاطمہ نے بھی ان سے محسن کے مارنے پیٹنے کو برداشت کیا اور یہ اپنے گھر والوں سے ڈسکس نہیں کیا،

یہ اعتماد اگر گھر والے اپنی اولاد کو پہلے دے دیں کہ اچھا برا کچھ بھی ہو زندگی گزارنی ہے اس کے مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے چاہے اس میں جیت ہو یا ہار۔ ۔

جہاں تک معاملہ ہے گھریلو جھگڑوں کو سوشل میڈیا پر ایکسپوز کرنے کا ہے تو میرے خیال سے فاطمہ کو یہ قدم اٹھانے سے پہلے سوچ لینا چاہیے تھا کہ آپ جب اپنے رشتے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا تو پھر گھریلو ناچاکیوں کو فیس بک کا سہارا کیوں دیا؟؟ اور محسن کے ساتھی اداکار جنہوں نے لمحہ بھر بھی نہیں لگایا، بیوی پر تشدد کرنے کے معاملے پر آواز اٹھا دی۔ ۔ بحیثیت شوبز رپورٹر یہ بات میں میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ فنکاروں سے کسی بھی معاملے میں انکا موقف لینا دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے لیکن یہاں سب یک زبان ہو گئے، کیونکہ کسی کے گھر کا اندورونی معاملہ جو تھا۔ ۔ ۔ پھر سب نے اپنا موقف دیا کسی نے کہا کہ محسن نے فاطمہ کو کتنی بار مارا پیٹا میں گواہ تھی تو فاطمہ کے لئے پہلے آواز کیوں نہ اٹھائی ۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنا دیا کہ اس شخص کو کام نہ دیا جائے، ویسے محسن نے یہ فعل اپنے کسی ساتھی آرٹسٹ کے ساتھ تو نہیں کیا تو کام اور نجی زندگی تو الگ الگ معاملات ہیں۔

بیوی پر ہاتھ اٹھانا کسی طور جائز نہیں، لیکن وہ لوگ جو چیخ چیخ کر محسن کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں کیا انکی نجی زندگیاں پرسکون ہیں؟؟ یا پھر کسی کے بھی گھر کی باتیں جب باہر نکلتیں ہیں تو لوگ چسکے لیتے ہیں، کچھ قیاس کچھ سچی جھوٹی باتیں لگاتے ہیں۔ ۔

گھر کی باتیں گھر میں رہے تو اچھا ہے، لیکن کسی بھی رشتے میں عزت و احترام رہنا ایک دوسرے کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ۔ ۔ آپکے شخصی مسائل جو بھی ہو اس عورت کا تقدس اس لئے بھی ضروری ہے کہ وہ سب چھوڑ کر آپکے ساتھ آبسی تھی اور آپکے ساتھ ایک اچھی زندگی گزارنے کی خواہشمند تھی جس کو سمجھنے کے بجائے دوسری عورت کے انتخاب کرنے کو عافیت سمجھا گیا۔

جب محبت کی تو اسکے لئے قربانی دینے سے دریغ کیوں؟

(Visited 1 times, 2 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: