تعلیم یافتہ دکھنے کے جدید طریقے: خواہ مخواہ انگریزی بولیں (۳) —- نعیم مشتاق

0

صرف لیکچر دیں اور سوالات و جوابات سے سخت پرہیز کریں

علمی و فکری تصورا ت کی حیثیت ان ہیروں کی سی ہوتی ہے جو تازہ تازہ کان سے نکالے جائیں پھر ان ہیروں کو اگلے مرحلہ میں تراش خراش کے عمل سے گزارا جاتا ہے جس سے پوری طرح نکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ اس عمل سے گزرنے کے بعد اس کی کرنوں میں اتنی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ بڑے سے بڑے کنجوس کی جیب خالی کروا سکتے ہیں۔

سوالات و جوابات کا سیشن اس مرحلہ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں تصورات کے ہیروں کو سوالات کے آلات سے مزید نکھارا جاتا ہے تاکہ سب واضح طور پر اس کی شعاعوں کو دیکھ سکیں اور کسی کو ان علمی و فکری تصورات کے ہیرا ہونے پر شک و شبہ نہ رہے۔

ہم سوالات کے مرحلہ کی تب اجازت دیں جب ہمارے پاس ہیرے ہوں۔ اس جدید سائنسی دور میں کس جاہل کے پاس اتنا وقت ہے کہ پہلے تو وہ کان تلاش کرے پھر وہاں سے ہیرے نکالے اور پھر انہیں تنقید کے پیچیدہ عمل سے گزارے۔ اہل دانش ہمیشہ سے دوسروں کی تحقیق چرا کر شہرت حاصل کرتے آئے ہیں مگر اس جاہل معاشرے میں کس کو سمجھ ہے؟

لیکچر دینے کا فائدہ یہ ہے کہ لوگ اس امید پر آپ کی بات سنتے چلے آتے ہیں کہ سوالات و جوابات کے مرحلہ میں سمجھ میں نہ آنے والے جملوں کی وضاحت سن لیں گے۔ اہل عقل سوالات و جوابات کے مرحلہ کے محتاج نہیں ہوتے۔ تو پھر ہم بے وقوف لوگوں کو سوالات کرنے کا موقعہ کیوں دیں؟
سوالات و جوابات کے سیشن بعض اوقات خطرناک بھی ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ہم نے خود کونسی تحقیق کی ہوتی ہے۔ (انسان کے عالم فاضل ہونے کا پول سوالات و جوابات کے مرحلہ میں کھل جاتا ہے لہٰذا اس مرحلہ سے سختی کے ساتھ پرہیز لازمی ہے)۔ اس میں کسی ایسے سو ال سے بھی سامنا ہو سکتا ہے جس کا جواب نہ آتا ہو۔

اگر خدانخوستہ کبھی کسی ایسے سوال سے سامنا ہو بھی جائے تو اس صورت حال پر قابو پانے کا ایک آسان طریقہ ہے کہ آپ سوالی سے یہ کہہ دیں اس موضوع پر یا اس سوال کے جواب پر میرا اگلا لیکچر آ رہا ہے آپ تفصیل سے وہ سن لیجیے گا یا پھر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا جواب ذرا تفصیل طلب ہے لہٰذا آپ میٹنگ برخاست ہونے کے بعد مجھ سے مل لیجیے گا۔ پورے مجمع کی نسبت اکیلے آدمی کو بیوقوف بنانا قدرے آسان ہے آپ خود اعتمادی سے جھوٹ بھی بولیں گے تو اکیلے آدمی کے لیے انکار کرنا مشکل ہو گا۔ اکیلے میں اور علیحدگی میں بات کرنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے۔

خواہ مخواہ انگریزی بولا کریں

یہ بات درست ہے کہ اردو ہماری قومی زبان ہے مگر اس کا استعمال صرف اسی وقت فائدہ مند ہے جب آپ قوم سے مخاطب ہو رہے ہوں، خواہ آپ کو ٹھیک سے اردو بولنا بھی نہ آئے (محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا پہلا قوم سے اردو میں خطاب، اور اس خطاب میں آپ نے اردو زبان کی جو ’’خدمت‘‘ فرمائی تھی وہ کیا آپ کو اب تک یاد ہے؟)

خواہ مخواہ انگریزی بولنے کے کئی فوائد ہیں۔ مثلاً لوگ سمجھتے ہیں کہ آپ پنجاب یونیورسٹی کی بجائے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں۔ اس لیے آپ کی بات دوسروں کی نسبت زیادہ دھیان سے سنتے ہیں۔ آج کل تو ویسے بھی ہمارے ہاں تعلیم کا معیار اس طرح سے پرکھا جاتا ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں انگریزی ہوتی ہیں یا اردو زبان میں۔ بہرحال یہ بات طے شدہ ہے کہ انگریزی بولنے کے سبب لوگ آپ کو ’’سمجھدار اور سیانا‘‘ سمجھتے ہیں۔
ایک اور اہم فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر آپ گفتگو میں اخلاقی حدوں کو پار کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے انگریزی میں بولنا مفید رہتا ہے۔ اردو میں گفتگو کریں گے تو لوگ آپ کو ’’لچا اور لفنگا‘‘ سمجھیں گے اور آپ کی گفتگو فحش سمجھی جائے گی مگر یہی گفتگو اگر آپ انگریزی میں کریں گے تو لوگ آپ کو عصر حاضر کے نازک مسائل پر اتھارٹی سمجھیں گے۔

انگریزی لڑائی جھگڑے میں بھی بہت کام آتی ہے۔ اردو اور پنجابی زبان کی گالیاں اب کثیر استعمال کے سبب عام ہو گئی ہیں۔ اب ان میں جدّت نہیں رہی جبکہ ہالی وڈ کے زیر سایہ انگریزی زبان میں گالیوں کے ذخیرہ نے کافی ترقی کر لی ہے۔ انگریزی میں گالیاں دینے سے سننے والا ایک تو جواب دینے سے قاصر رہے گا اور اگر اردو یا پنجابی میں جواباً گالی بھی دے تا تو نفسیاتی اعتبار سے آپ سے کمتر ہی ٹھہرے گا اور یوں آپ خواہ مخواہ انگریزی بولنے کے سبب درست نقطہ نظر کے حامل قرار پائیں گے۔

انگریزی زبان میں گندی گندی گالیاں دینے کے قابل ہو جانا، اس سے بڑھ کر آپ کے تعلیم یافتہ ہونے کا اور کیا ثبو ت ہو سکتا ہے؟

کلین شیو رہا کریں۔

کلین شیو رہنے سے شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمارے قبیلے سے بڑے بڑے نامور لوگ تعلق رکھتے ہیں مثلاً حضرت قائداعظم رحمۃ اﷲ علیہ۔ لیاقت علی خان صاحب، ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب وغیرہ۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کلین شیو ہونا اہل علم کی خصوصی علامت ہے۔
کلین شیو رہنے کے اور بھی کئی فوائد ہیں۔ مثلاً اس سے وقت اور پیسے کی کافی بچت ہوتی ہے کیونکہ منہ دھونے پر وقت اور صابن کم خرچ ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ کلین شیو لوگ وقت کی کتنی قدر کرتے ہیں۔

پھر کلین شیو رہنے کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے دوسروں کی سانسوں کا جائزہ لینا قدرے آسان رہتا ہے تاکہ انسان دوسروں کی صفائی پسندی کے زبانی دعووں سے دھوکا نہ کھائے اور پھر کلین شیو رہنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسان کی ازدواجی زندگی پر بھی کافی خوشگوار اثر پڑتا ہے۔

کلین شیو لوگ منافقت پسند نہیں کرتے اس لیے جیسے اندر سے ہوتے ہیں ویسے ہی چہرے سے نظر آنا چاہتے ہیں جبکہ داڑھی میں بالوں کی کثرت سے سبب چہرے کے ’’ٹوئے‘‘ واضح نہیں آتے جس سے دوسروں کو چہرہ پڑھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ختم شد

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: