تعلیم یافتہ دکھنے کے جدید طریقے: ٹائی اور کوٹ کی اہمیت (۲) — نعیم مشتاق

0

ٹائی اور کوٹ کی علمی و فکری اہمیت

اکثر و بیشتر پینٹ، شرٹ، ٹائی اور کوٹ پہنا کریں تاکہ خاموش رہنے کے باوجود تعلیم یافتہ نظر آئیں۔ شلوار قمیض علمی نہیں بلکہ عوامی لباس ہے۔ چونکہ غریبوں کی اکثریت اسے ستر ڈھانپنے کے لیے استعمال کرتی ہے اس لیے اب اس لباس کی علمی و فکری حلقے میں کوئی خاص اہمیت نہیں رہی۔ اہل علم تو ہمیشہ سے ٹائی اور کوٹ استعمال کرتے آئے ہیں۔ دنیا کے معروف و مشہور سائنس دان، مفکر اور سیاست دان ہمیشہ سے اسی لباس کو شلوار قمیض پر ترجیح دیتے آئے ہیں بلکہ ان کے ہاں تو شلوار قمیض کا تصور ہی نہیں جس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ یہ خالصتاً ہماری تخلیق ہے۔
ہمارا معاشرہ سائنسی ترقی میں دوسری قوموں سے اس لیے پیچھے رہ گیا ہے کہ ہم لوگ ابھی تک شلوار قمیض سے چھٹکارا نہیں پا سکے جبکہ دنیا ٹائی اور کوٹ پہننے کی بدولت چاند پر جا چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹائی اور کوٹ کی اہمیت پر ایک خصوصی نصاب مرتب کر کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جائے ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جس سے انسان ٹائی اور کوٹ کی قدر و قیمت اور اہمیت ہی نہ پہچان سکے؟

مغربی تحقیقات کو اسلامی تحقیقات بنا کر پیش کریں

اس فن میں زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارا مقصد علم حاصل کرنا نہیں بلکہ شہرت حاصل کرنا ہے۔ علم حاصل کرنے کے لیے بہت وقت ضائع کرنا پڑتا ہے۔ اہلِ دانش وقت کی قدر وقیمت جانتے ہیں اسی لیے وہ ہمیشہ سے دوسروں کی محنت اور تحقیقات کے بل بوتے پر شہرت حاصل کرتے آئے ہیں۔

ویسے بھی ہمارے معاشرے میں شہرت اور مقام (status) کی زیادہ قدر و قیمت ہے علم کی نہیں، لہٰذا کسی ایسی چیز کے لیے وقت برباد کرنا دانشمندی نہیں جو قابلِ عزت نہ سمجھی جاتی ہو۔ پیسہ علم سے زیادہ اہم ہے کیونکہ اگر یہ جیب میں ہوتو احمق صورت انسان بھی دیکھنے والے کو عالم فاضل نظر آتا ہے۔ باطن کی بات تو ہم تب کریں جب یہ دور اہلِ باطن کا ہو وہ زمانہ گیا جب لوگ کردار نظریات سے انسان کی قدرومنزلت کا اندازہ لگاتے تھے (آج کل انسان کی شخصی عظمت کا اندازہ اس کی شہرت سے لگایا جاتا ہے اس کے کردار سے نہیں۔ جو جتنا مشہور ہے وہ اتنا ہی عظیم سمجھا جاتا ہے)۔ انسان اگر مشہور ہو تو لوگ بالخصوص پیروکار اس کے غلط جملوں کو بھی مثبت انداز سے پیش کرتے ہیں خواہ کہنے والا خود اپنی غلطی تسلیم کر چکاہو۔

اس جدید سائنسی ترقی کے دور میں ہمارے معاشرے نے بھی لاجواب ترقی کی ہے کہ دوسروں کی شخصیت پرکھنے کا آسان فارمولا ایجاد کر لیا ہے (پرانے وقتوں میں یہ ایک دقّت طلب کام تھا) اس ایجاد کا سہرا ہم پاکستانیوں کے سر ہے کہ ہم لوگوں کے ظاہری حلیے سے ان سے بات کیے بغیر ان کے اندر کی چھپی ہوئی صلاحیتوں اور کمالات کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ انشاء اللہ ہم جلد یہ ٹیکنالوجی امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے بدلے بیچ سکیں گے۔

بہرحال بات ہو رہی ہے کہ کس طرح مغربی تحقیقات کو اسلامی تحقیقات بنا کر پیش کریں! طریقہ بڑا سادہ ہے مگر اس کے لیے تھوڑی سی عقل چاہیے۔ آپ متعلقہ موضوع پر مغربی مصنفین کی کتب پڑھ کر (منفی سوچ کے حامل لوگ اس کو ادبی چوری کہتے ہیں) اس سے اپنا لیکچر تیار کر لیں۔ پھر دوران لیکچر ایک یا دو گھنٹے گفتگو کے بعد قرآن پاک کی کوئی ایک آیت یا حدیث نبوی ﷺ بیان کر دیں۔ اس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ لوگ یہ سمجھیں گے کہ آپ قرآن و حدیث کے علم کے بھی ماہر ہیں۔ پھر قرآن مجید اور حدیث نبوی ﷺکے بیان کی برکت سے سارا لیکچر اسلامی ہو جائے گا۔
لوگوں کو تو یہ پتہ ہی نہیں چلے گا کہ جس نے تحقیق کی ہے اس نے تو ساری عمر قرآن و حدیث نہیں پڑھی، بلکہ حالت کفر ہی میں مرا۔ اس نے زندگی کے حقائق محض سائنسی بنیادوں پر اخذ کیے ہیں۔ آپ کا کمال یہ ہو گا کہ کسی غیر مسلم کی تحقیق کو آپ نے اسلامی تحقیق بنا ڈالا اس سے بڑھ کر اسلام کی خدمت اور کیا ہو گی؟

بغیر محنت ماہر نظر آنے کا طریقہ

اس کا بہت آسان طریقہ ہے۔ جاہل لوگ خواہ مخواہ اپنی پوری زندگی علم حاصل کرنے پر لگا دیتے ہیں جبکہ علم کی گہرائی میں تو ایک دن میں بھی جایا جا سکتا ہے۔

آپ جس موضوع پر ماہر کہلوانا پسند کریں۔ کتابوں کی بڑی سی دوکان پر جان کر اس موضوع پر کتب دیکھ لیں۔ یہاں کتب دیکھنے سے ایک خاص عمل مراد ہے۔ سب سے پہلے آپ کتابوں کے عنوانات یاد کر لیں اگر یہ ممکن نہ ہو تو دکاندار سے آپ یہ بہانہ کر سکتے ہیں جناب ہم نے اپنی لائبریری کے لیے چند کتب خریدنی ہیں لہٰذا فہرست بنانے کی اجازت فرمائیں۔ دکاندار لائبریری کے لیے کتابیں بیچنے کی خواہش میں نہ صرف آپ کو فہرست بنانے کی اجازت دے گا بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو ایک کپ چائے بھی پلائے۔ یوں آپ کے پاس نہ صرف مفت میں کتابوں کی فہرست آ جائے گی بلکہ آپ چائے کے 5 روپے بھی بچا لیں گے جو بعد ازاں آپ ویگن کے کرایہ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

بہرحال! کتب کی فہرست بنانے کے ساتھ ساتھ کتاب کے چیدہ چیدہ مقامات بھی پڑھتے جائیں تاکہ بوقت ضرورت آپ کتاب پر 5 یا 10 منٹ کی گفتگو بھی کر سکیں۔ اس سارے عمل پر (چائے پینے کا وقت نکال کے) تقریباً ایک گھنٹہ لگے گا۔ اب اس سے اگلا مرحلہ یہ ہے کہ اس شدید محنت اور مشقت سے حاصل کیے ہوئے علم کو آپ کس طرح بیان کریں کہ لوگ آپ کو موضوع پر ماہر سمجھیں اور اپنی کم علمی کے باعث آپ کی تجزیاتی اور تحقیقی صلاحیتوں پر شک نہ کریں۔

گفتگو میں ماہر نظر آنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ دورانِ گفتگو مخاطب سے زیادہ سے زیادہ سوالات پوچھیں اس کے بنیادی طور پر دو فائدے ہیں ایک تو اس سے اس کی انا کو بھی تسکین ملے گی کیونکہ اس معاشرے میں سب لوگ توجہ کی کمی کا شکار ہیں دوسرا فائدہ یہ ہے کہ سارے وقت میں گفتگو کا دارومدار اس کے خیالات و نظریات کے اردگرد گھومے گا اور یوں لوگ آپ کے علم کی گہرائی تک پہنچنے سے قاصر رہیں گے۔

۔۔۔۔۔۔جاری ہے

اس سلسلہ کی پہلی تحریر اس لنک پہ پڑھیئے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: