ہیں آج کیوں ذلیل ؟ برنارڈ لیوس/ محمد سلیمان قاضی

0

پروفیسر برنارڈ لیوس لندن میں پیدا ہوئے۔ وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں مطالعہ مشرقِ قریب کے استاد ہیں۔ دو درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی کتب کے ترجمے بیس سے زائد زبانوں بشمول عربی، فارسی، ترکی اور انڈونیشیائی میں ہو چکے ہیں، زیر نظر مضمون ان کی کتاب What went wrong?: western impact and middle eastern response (2002) کا آخری باب ہے۔ (مترجم) بیسوی صدی کے دوران مشرق وسطیٰ بلکہ ممالک اسلام کے بارے میں یہ ا ظہر من الشمس ہو گیا کہ ان کے ممالک کے معاملات نہایت ابتر ہو گئے ہیں۔ صدیوں پرانے مد مقابل دنیائے عیسائیت کے مقابلے میں دنیا ئے اسلام غریب تر، کمزور تر اور علم سے بے بہرہ ہوتی چلی گئی۔ انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران مغرب کی برتری اور اس وجہ سے اس کا غلبہ ہر طرح سے عیاں ہو گیاکہ وہ نہ صرف مسلمان کی عوامی زندگی (پبلک لائف ) بلکہ اس سے زیادہ تکلیف دہ، اس کی نجی زندگی (پرائیویٹ لائف ) پر بھی حملہ آور ہو گیا۔  جدت پسندوں( Modernizers )نے۔ اصلاح یا انقلاب کے ذریعے۔ اپنی جدوجہد کوتین بڑے شعبوں پر مرکوز کیا، عسکری، اقتصادی اور سیاسی، لیکن نتائج مایوس کن رہے۔ فتح کی خواہش میں جدید خطوط پر استوار کی جانے والی افواج پے در پے شرمناک شکستوں سے دو چار ہوتی رہیں۔ خوشحالی کی خواہش میں اقتصادی ترقی کی کاوشیں چند ممالک میں ایسی غربت زدہ، بد عنوان معیشتوں کی صورت نمو دار ہوئیں جنہیں بار بار بیرونی امداد کی حاجت رہتی ہے۔ دوسری صورت میں بعض مسلم ممالک کی معیشتیں غیر صحتمندانہ طور پر صرف ایک وسیلے پرچل رہی ہیں :رکازی ایندھن، اور اس کی دریافت، حصول اور استعمال بھی مغرب کی ایجاد و اختراع اور صنعت کے رہین منت ہیں اور رکازی ایندھن کا مستقبل بھی تاریک ہے کیونکہ جلد یا بدیر اس کے ذخائر معدوم ہو جائیں گے یاپھر ان کااستعمال متروک ہو جائے گا۔ شاید ان کے متبادل متعارف کر دیئے جائیں کیونکہ بین الاقوامی کمیونٹی ایسے ایندھن سے بیزار ہوتی جا رہی ہے جو اپنے استعمال اور ترسیل کے دوران بحرو براور ہوا ہر ایک کو آلودہ کرتا ہے اور دنیا کی معیشت کو چند متلون مزاج اور مطلق العنان لوگوں کے ٹولے کے رحم و کرم پرچھوڑ دیتا ہے۔ اور بد ترین پیش رفت سیاسی میدان میں ہوئی ہے جہاں طویل عرصے سے چلی آتی حریت کی خواہش پھٹیچر قسم کی مستبد حکومتوں کی صورت منتج ہوئی جن میں روایتی مطلق العنانی سے لے کر نئی طرز کی ایسی آمریتیں دکھائی دیتی ہیں جن میںاگر کوئی نیاپن ہے تو محض جبر کے نئے ہتھ کنڈے اور لوگوں کے دلوں میں بعض عقیدے اور تصورات گزیں کرنے کی آموزش کے نئے طریقے ہی ہیں۔  ایسے میں بہت سے علاج آزمائے گئے۔ ہتھیاراور فیکٹریاں، سکول اور پارلیمنٹ۔ ۔ ۔ لیکن کسی سے بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوئے۔ ان کی وجہ سے یہاں وہاں کچھ بہتری آئی اور آبادی کے چند محدود عناصر کو کچھ فائدے بھی ملے لیکن یہ معالجات اسلام اور مغربی دنیا کے مابین بگڑتے ہوئے توازن کو بہتر کرنا تو کجا اسے ایک جگہ روک دینے میں بھی ناکام رہے ہیں۔  بد تر حالات ابھی وارد ہونا تھے۔ صدیوں تک امارت اور طاقت کا مزہ اٹھانے والے مسلمانوں کو، جو قیادت کو اپنا حق سمجھنے لگے تھے، اب کمزوری اور غربت کا یہ احساس بری طرح سے کھل رہا تھا کہ وہ اس منصب سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور محض مغرب کی پیروکاری پر کار بند ہیں۔ بیسویں صدی، بالخصوص اس کا نصفِ آخر دور مزید رسوائیوں کا نقیب بن کر آیا۔ اب مسلمانان عالم کو ادراک ہوا کہ مغرب کے پیرو کاروں میں انکا نمبر پہلا بھی نہیں رہا بلکہ مغربیت کی تقلید کا شوق رکھنے والے اور کامیاب تر لوگوں کی طویل ہوتی ہوئی قطار، جن میں بالخصوص مشرقی ایشیا نمایاں ہے، میں بھی وہ پیچھے سے پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ جاپان کا عروج حوصلہ افزائی کا باعث تو تھا لیکن ساتھ ہی خجالت کا سبب بھی۔ بعد میں نئی ایشیائی اقتصادی طاقتوں کا عروج بھی مسلمانوں کے لئے خجالت کا سبب ہی ٹھہرتا رہا۔ قدیم تہذیبوں کے مفتخر جانشینوں کو عادت پڑ گئی کہ وہ مغربی فرموں کو اجرت دے کر اپنے ہاں وہ کام کروائیں جو مقامی کنٹریکٹر اور ٹیکنیشن بظاہر سر انجام دینے کے اہل نہیں تھے۔ اب انہوں نے ان کاموں کے لئے ٹیکنیشنوں اور کنٹریکٹروں کو کوریا سے بلانا شروع کر دیا جو حال ہی میں جاپانی نو آبادیاتی تسلط سے آزاد ہوا تھا۔ تقلید کرنا تو بری بات ہے لیکن لنگڑا لنگڑا کر پیچھے آنا بد تر ہے۔ جدید دنیا میں ترقی کا جو پیمانہ اٹھا لیں : اقتصادی ترقی اور ملازمتوں اضافہ، خواندگی، تعلیمی اور سائنسی میدانوں میں کامیابیاں حاصل کرنا، سیاسی آزادی اور انسانی حقوق کا احترام کرنا۔ ۔ ۔ وہ جو کبھی ایک عظیم تہذیب تھی اب یقیناً زوال کا شکار ہو چکی ہے۔  ہمارے ساتھ ایسا کس نے کیا ؟ ایک ایسا سوال ہے جو یقیناً نا گفتہ بہ حالات کے دوران عام طور پر ذہن میں آتا ہے اور بلا شبہ ماضی و حال میں مشرق وسطیٰ میں بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے۔ اور انہیں اس کے متعدد مختلف جوابات بھی ملے۔ کسی دوسرے پر اپنی بد بختی کا وبال اور ذمہ داری ڈال دینا عموماً آسان تر اور ہمیشہ زیادہ باعث تسکین ہوا کرتا ہے۔ طویل عرصے تک منگولوں پر یہ الزام ڈالنے کا وطیرہ رہا اور تیرھویں صدی میں منگولوں کے حملوںپر مسلمانوں کی قوت اور اسلامی تہذیب کو پارہ پارہ کر دینے کی ذمہ داری ڈال دی گئی اور کہا جاتارہا کہ اس کے بعد سے انحطاط، کمزوری اور جمود طاری ہو گئے۔ لیکن کچھ عرصے بعد مسلم و دیگر مورخین نے اس دلیل میں دو نقائص دیکھے۔ ایک تو یہ کہ مسلمان لوگوں کے ہاں تمدنی اعتبار سے بعض اہم ترین کامیابیاں، خصوصاً ایران میں، منگول حملوں کے بعد دیکھنے میں آئیں نہ کہ حملوں سے پہلے۔ دوسری بات جسے تسلیم کرنا مشکل لیکن تردید کرنا نا ممکن ہے یہ ہے کہ منگولوں نے ایک ایسی حکومت الٹ دی تھی جو پہلے ہی اندر سے خطرناک حد تک کمزور ہو چکی تھی وگرنہ یہ بات سمجھنا دشوار ہو جائے گی کہ خلفاء کی ایک عہد کی عظیم الشان سلطنت مشرقی ایشیاء سے آنے والے صحرا نورد گھڑ سواروں کے غول کے آگے لقمہِ تر کیسے ثابت ہوئی۔  قومیت پرستی Nationalism جو یورپ سے درآمد شدہ تصور تھا‘ کا فروغ چند نئے تصورات کا پیش رو ثابت ہوا۔ عرب اب اپنی مشکلات کا الزام ترکوں کے سر دھر سکتے تھے جنہوں نے صدیوں تک ان پر حکمرانی کی تھی۔ ترک اپنی تہذیب پر جمود کا ذمہ دار عرب ماضی کو قرار دے سکتے تھے جس کے بوجھ تلے ترک لوگوں کی تخلیقی صلاحتیں گرفت میں لے کر غیرمتحرک بنا دی گئیں۔ اہل فارس اپنی عظمت رفتہ کے زیاں کامورد الزام بلا تفریق عربوں، ترکوں اور منگولوں کو ٹھہراسکتے تھے۔  انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران بیشتر عرب دنیا میں فرانسیسی اور برطانوی اقتدار نے الزام ڈالنے کے لئے قربانی کا بظاہر ایک اور معقول بکرا تلاش کر لیا : یہ تھا مغربی سامراج۔ مشرق وسطیٰ میں اس الزام کے اچھے جواز موجود تھے۔ مغرب کی سیاسی فوقیت، اقتصادی نفوذ Economic Penetration اور۔ ۔ ۔ ۔ سب سے طویل، عمیق ترین اور سب سے زیادہ غیر محسوس طور پر دھیرے دھیرے سرائیت کرنے والے تمدنی اثرات نے خطے کے نقوش کو تبدیل کر دیا اور یہاں کے باسیوں کی زندگیوں میں ایسا تغیر برپاکر دیا جس کی نظیر اس خطے کے اپنے تمدن کے ماضی میں نہیں ملتی۔ یہاں کے باشندوں کو نئی سمتوں میں رواں کیا گیا، ان میں نئی امیدیں اور خوف وا کئے گئے، نئے خطرات نئی توقعات پیدا کئے گئے۔  لیکن انگلو فرینچ راج کا دورانیہ نسبتاً مختصر مدت پر محیط تھا جو نصف صدی پہلے ختم ہو گیا جبکہ زوال پذیری کا عمل تو ان کی آمد سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا اور ان کی روانگی کے بعد شدت میں کسی قسم کی کمی آئے بغیر تسلسل سے جاری رہا۔ اور ان کے ہٹتے ہی ان کا ولن والا کردار ادا کرنے امریکا کا آدھمکنا نا گزیر ہوا اور مغرب کی قیادت کی دیگر جہتیں سامنے آ گئیں۔ اپنے کھسیانے پن کی شرمساری رفع کرنے کے لئے امریکہ کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کو خاصی حمایت حاصل ہوئی لیکن یہ کوشش بھی مذکورہ وجوہات کی بناء پر ماننے کے لائق نہیں۔ اینگلوفرنچ تسلط اور امریکی اثر و نفوذ، منگول حملوں کی مانند ہی مشرق وسطیٰ کی ریاستوں اور معاشروں کی اندرونی کمزوریوں کا نتیجہ تھے نہ کہ ان کمزوریوں کا سبب۔ بعض مشاہدین (خطے میں رہنے والے اور خطے سے باہر، دونوں ) نے سابقہ برطانوی مقبوضہ جات میںسامراج کے رخصت ہونے کے بعد کے دورکی ترقی کا موازنہ کیا ہے مثال کے طورپر عدن اور مشرق وسطیٰ اور سنگا پور اور ہانگ کانگ، یا ان مختلف علاقوں میں جہاں کبھی ہندوستان میں برطانوی سامراج کا تسلط تھا۔  اس مباحثے میں یورپ کی ایک اورعطا ردسامیت Anti-Semitism اور یہود کو سارے فسادکی جڑ قرار دینا ہے۔ یہود لوگ روایتی اسلامی معاشروں میں ایک اقلیت ہونے کے لحاظ سے عام رکاوٹوں اور کبھی کبھار خطرات کا تجربہ کرتے رہتے تھے تاہم چند اہم ترین حوالوں سے وہ لوگ عیسائی حکومتوں کے مقابلے میں مسلمانوں کے زیر سایہ، زیادہ آسودہ رہے، تآنکہ سترھویں اور اٹھارویں صدی میں مغربی تصور برداشت کے فروغ اور عروج کے سبب انہیں زیادہ بہتر حالات نصیب ہوئے۔  چند ایک استثنائی مثالیں چھوڑ کر جہاں مسلمانوں میں یہود کے خلاف پیش پا افتادہ نزاع اور بیر دکھائی دیتا ہے، بحیثیت عمومی مسلمانوں کا رویہ یہود کی جانب حقارت اور تنفر رکھنے اور ناقابل توجہ سمجھنے کا ہے بلکہ ان پر شک و شبہ کو سر پر سوار کرنے والا ہے۔ اس پس منظر میں1948 کے واقعات۔ ۔ جب پانچ عرب ریاستیں اور افواج آدھے ملین یہود کو فلسطین کے لئے برطانوی ضابطےBritish mandate for palestine کے ملبے پر ایک ریاست تشکیل دینے سے روکنے میں ناکام ہو گئے، ایک شدید صدمے کا باعث ہے۔ جیسا کہ اس دور کے چند مصنفین کا مشاہدہ ہے : مغرب کی عظیم سامراجی قوتوں سے شکست کھانے کی خرابی کیا کم تھی کہ ایسا ہی انجام یہودیوں کے ایک مردود گروہ کے ہاتھوں اٹھا کر ناقابل برداشت رسوائی کمائی جاتی۔ ایسے میں ردسامیت اور اس کے تحت یہود کی شیطانی تصویر میں انہیں عیار و مکار، ابلیسی بلا بنا کر پیش کرنے سے ہی تسلی ہوئی۔  مشرق وسطیٰ میں ردسامیت سے مخصوص اولین بیانات کا پتہ عیسائی اقلیتوں کے ہاں ملتا ہے۔ اور مزید ماضی میں اس کے ڈانڈے یورپ میں جا ملتے ہیں۔ لیکن ایسے تصورات کا اثر کوئی خاص نہیں ہوتا تھا اور مثلاً فرانس میں Dreyfus Trial کے زمانے میں جب ایک یہودی افسر کو ایک بے عدل عدالت نے بے انصافی سے کام لیتے ہوئے مورد الزام ٹھہرایا اور ملامت کی تو مسلمانوں کی رائے عموماً عیسائی مدعین کے مقابلے میں یہودی مدعا علیہ کے حق میں ہوتی۔ لیکن زہر پھیلتا گیا اور 1933 سے نازی جرمنی اور اس کے مختلف ادارے نہایت کامیابی سے مغربی طرز کی رد سامیت کوعرب دنیا میں پروان چڑھاتے رہے۔ فلسطین کی جدوجہد نے تاریخ کی رد سامیت پر مبنی تشریح کی قبولیت میں زبردست اضافہ کیا اور بعض کو یہ باور کرایا کہ مشرق وسطیٰ بلکہ ساری دنیا کی خرابیوں کی ذمہ داری یہودیوں کے خفیہ منصوبوں پر ہے۔ اس تشریح نے خطے میں عوامی علمی مباحث، بشمول تعلیم، میڈیا حتیٰ کہ تفریح کی دنیا پر بھی واضح اثر ڈالا ہے۔  یہودی کڑی کا ایک اوررخ ہے جو تصور سے زیادہ حقیقت پر مبنی اور سبق آموز ہے۔ جدید اسرائیلی ریاست اور معاشرے کی بنیاد ان یہودیوں نے رکھی جو عیسائی اور اسلامی دنیا سے آئے تھے یعنی ایک طرف امریکہ اور یورپ سے سے اور دوسری طرف شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے۔ یہودیت Judaism یاوسیع تر معنوں میں یہودی پن Jewishnessایک مذہب ہے، عقائد اور پرستش کا ایک نظام، اخلاق اور طرز زندگی اور سماجی اور تمدنی اقدار و اطوار کا ایک پیچیدہ نظام۔ لیکن نسبتاً ماضی قریب تک یہود کا کوئی سیاسی کردار نہیں تھا اور دور حاضر میں بھی یہ کردار چند ممالک تک محدود ہے۔ چنانچہ یہود سے مخصوص کوئی سیاسی اور سماجی تمدن یاروایت کا وجود نہیں ہے۔ اس ضمن میں ان کی قدیم روایتیں اگر بہت ہی پرانی ہیں تو جدید تجربات بھی بہت محدود ہیں۔ قدیم یہودی سلطنت کی بربادی اور جدید یہودی جمہوریہ کی بنیاد کے دوران یہود ان بڑے معاشروں کا، جن میں وہ رہتے بستے تھے، ایک حصہ بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک ذیلی تمدن ہوتے تھے۔ حتیٰ کہ یہودیوں کے ہاں ریت و رواج اور سماجی مراتب بھی انہی سماجوں کا ہی عکس ہوتے تھے۔ گزشتہ 14 صدیوں سے یہودیوں کی ایک کثیر تعداد عیسائی یا مسلم دنیا میںرہتی چلی آ رہی تھی اور مختلف اعتبار سے ان دونوں تہذیبوں کاحصہ تھی۔ لا محالہ، وہ یہودی جنہوں نے اسرائیل کی بنیاد رکھی اپنے ہمراہ ان ملکوں کے بہت سے سیاسی اور سماجی معیار اور عادات واطوار بھی لائے جہاں وہ رہتے چلے آئے تھے۔ ایک جانب ہم انہیں یہود-عیسائی روایات Judaeo-Christian tradition کہتے ہیں بعینہ دوسری جانب ہم انہیں ایسے ہی جواز کی بناء پر یہود اسلامی روایت Judaeo-Isilamic triadition بھی کہہ سکتے ہیں۔  دور حاضر کے اسرائیل میں یہ دونوں روایات آ کر ملی ہیں اور ان کے مابین ٹکرائو بڑھتا جا رہا ہے۔ اس ٹکرائو کا اظہار سماجی، مذہبی، ثقافتی و نسلی حتیٰ کہ سیاسی تنظیمی سطح پر بھی ظاہر ہو رہا ہے۔ لیکن اس نوعیت کے تصادم میںدر حقیقت زیادہ تر ہمیں عیسائیت اور اسلام کا ٹکرائو نظرآتا ہے جو ان مذاہب کے زیر سایہ رہنے والی ان یہودی اقلیتوں کے مابین تصادم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور یہ یہودی ان دونوں تہذیبوں کی توانائیوںاور کمزوروں کی ہی ترجمانی کرتے ہیں جن کا وہ کبھی حصہ ہوا کرتے تھے۔ مشترکہ مذہب، شہریت اور حاکمیت کے تحت ایک چھوٹی سی ریاست کے اندر رہنے والی ان دو روایتوں کے مابین تنازعہ، بقائے باہمی یا ان دونوں روایتوں کے مابین اجتماع، بصیرت انگیز ثابت ہونا چاہیے۔ اسرائیل کے لئے یہ معاملہ اس کے وجود کے حوالے سے اہم ہے چونکہ اس ریاست کی بقا، جو اطراف سے ایسے ہمسائیوں میں گھری ہے جو تعداد اور اسلحے میں اس سے آگے ہیں اوراس ریاست کے وجود میں رہنے کے حق کو تسلیم نہیں کرتے، زیادہ تر مغرب سے اخذ کردہ صفاتی برتری qualitative edgeپر منحصر ہے۔  ایک اور دلیل جو بعض اوقات بطور ثبوت دی جاتی ہے یہ ہے کہ مشرق اور مغرب کے مابین تعلق میں تبدیلی کا سبب مشرق وسطیٰ کا زوال نہیں بلکہ مغرب کی برتری ہے۔ یعنی ایجادات و انکشافات، سائنسی تحریک، ٹیکنالوجی، صنعت و حرفت اور سیاسی انقلابات جنہوں نے مغرب کو تبدیل کر دیا اور اس کی دولت اور قوت کو بہت بڑھا دیا۔ لیکن اس نوعیت کے موازنے اصل سوال کا جواب نہیں ہیں بلکہ یہ تو سوال کو ایک بار پھر دہرا دیتے ہیں۔ امریکہ کے دریافت کرنے والے جہاز رانوں نے اپنا سفر سپین سے کیوں شروع کیا، اوقیانوس کی کسی مسلم بندرگاہ سے کیوں نہیں ؟ عظیم سائنسی انقلاب یورپ میںکیوں برپا ہوا نہ کہ، جیسا کسی کو بھی توقع کرنا چاہے تھی امیر تر، زیادہ ترقی یافتہ اور دیگر بیشترجہتوں کے حوالے سے زیادہ روشن خیال -سر زمین اسلام سے ؟ الزام تراشی کے کھیل میں ایک اور تصنع آمیز الزام سوسائٹی سے باہر کے بجائے اس کے اندر اپنے اہداف تلاش کرتا ہے۔ ان میں سے ایک ہدف مذہب ہے، کچھ کے نزدیک خصوصاً مذہب اسلام۔ تاہم اسلام کو مورد الزام قراردینا خطرے سے خالی نہیں ہے اور شازو نادر ہی ایسا کیا جاتا ہے۔ مزید برآں یہ اتنا زیادہ مدلل بھی نہیں ہے کیونکہ زیادہ تر قرون وسطیٰ کے دوران نہ تو مشرق کے پرانے تمدن اور نہ ہی مغرب کے نئے تمدن تہذیب اور ترقی کا محور تھے بلکہ یہ اعزاز ان کے بیچ عالم اسلام کو حاصل تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں پرانے علوم کی ترویج اور ترقی ہوئی، نئے علوم کی داغ بیل پڑی، یہیں نئی صنعتوں نے جنم لیا اور مصنوعات سازی اور تجارت کو ویسا پھیلائو نصیب ہوا جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ یہی وہ علاقہ تھا کہ جہاں حکومتوں اور سماجوں نے فکر اور اظہار کی اس درجے کی آزادی حاصل کر لی تھی کہ دنیائے عیسائیت میں ستائے گئے یہود اوربرگشتہ عیسائی پناہ لینے کے لئے فرار ہو کر یہاں کارخ کرنے لگے۔ قرون وسطی کی اسلامی دنیا جدید تصورات کے اعتبار سے اور جدید جمہوریتوں کے مقابلے میں اگرچہ محدود آزادی دیتی تھی لیکن اپنے بیشتر سابقون، اپنے ہم عصروں اور اپنے بعد آنے والوں کے مقابلے میں وہ کہیں زیادہ آزادی کی نقیب تھی۔  اکثریہ نکتہ بیان ہوا ہے کہ اگر اسلام آزادی، سائنس اور اقتصادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے تو پھر یہ کیونکر ہوا کہ ماضی کی مسلم سوسائٹی ان تینوں شعبوں کی پیش رو ٹھہری؟اور یہ وہ لوگ تھے جو آج کے مقابلے میں ایمان کے منبع سے زمانی لحاظ سے اور بھی زیادہ قریب تھے ؟ کچھ لوگوں نے سوال ایک دوسری طرح سے کر دیا یعنی یہ نہیں کہ’’ اسلام نے مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا ؟‘‘ بلکہ ’’ مسلمانوں نے اسلام کے ساتھ کیا کیا؟‘‘ اور اس کے جواب میں مخصوص علما ء اورافکار اور گروہوںپر الزام عائد کیا۔  وہ لوگ جنہیں آج اسلامسٹ یا بنیاد پرست کہا جاتا ہے، ان کے نزدیک دور حاضر کے مسلم علاقوں کی ناکامیوںاور کمزوریوں کا باعث بد عات ہیں یعنی غیروں کے قول و عمل کا اختیار کرنا۔ چنانچہ اسی وجہ سے وہ ثقہ اسلام سے گم گشتہ ہو کر اپنی عظمت رفتہ سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وہ لوگ جنہیں ماڈرنسٹ یا ریفارمسٹ کہتے ہیں وہ اسکے برعکس یہ تصور رکھتے ہیں کہ زوال کا باعث نئے طریقے نہیں بلکہ طرز کہن پر کار بند رہنا ہے اور بالخصوص مسلمان مولوی لوگوں کابے لچک رویہ اس کا ذمہ دار ہے۔ ان کے نزدیک ایسے عقائد اور اعمال جو ہزار سال پہلے تعمیری اور تخلیقی ہوتے ہونگے لیکن آج نہیں ہیں، ان سے چمٹے رہنے کے باعث نقصان اٹھایا جارہا ہے۔ ان کاعمومی طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ مذہب کی مذمت نہیں کرتے، بلکہ اپنی تنقید کا نشانہ کٹر پن، متشدد تعصب Fanaticism کو بناتے ہیں۔ وہ ماضی میں اسلام کی پھیلتی پھولتی سائنسی تحریک اور بالعموم سوچ اوراظہار کی آزادی کا سانس گھونٹنے کی ذمہ داری تعصب، بالخصوص متعصب مذہبی مختاروں پر عائد کرتے ہیں۔  اس ضمن میں ایک اور طرز یہ ہے کہ مذہب پر عمومی بحث نہ کی جائے بلکہ ایک خاص مسئلے کو موضوع بنایا جائے : دستور سیاست میں مذہب اور اس کی پیشہ ورانہ مہارت کے حامل شارحین کے مقام کا تعین۔ کیونکہ مغرب کی ترقی کا ایک اہم سبب چرچ اور ریاست الگ الگ کر دیا جانا اور ایک ایسی سول سوسائٹی کا قیام ہے جہاں سیکولر قوانین چلتے ہوں۔ دیگر کے خیال میں، اصل ذمہ داری مسلم جنسی تفریق پر عائد ہوتی ہے، اور مسلمان معاشرے میں خواتین کو پست درجہ دینے سے دنیائے اسلام اپنی آدھی آبادی کی توانائیوں اور ٹیلنٹ سے محروم ہو گئی، دوسری جانب باقی نصف آبادی کی ابتدائی پرورش کا نازک کام نا خواندہ اور استبداد کا شکار مائوں کے سپرد ہو گیا۔ یہ کہا گیاکہ اس قسم کی تعلیم پا کر نکلنے والی پود کا یا تو ایسے خود پسند اور رعونت زدہ اور یا پھر ایسے فرمانبردار اور اطاعت گزار انداز میں جوان ہونے کا امکان ہے جو ایک کھلی اور آزادسوسائٹی کے لئے موزوں نہیں۔ تاہم ان تصورات کی قدر و قیمت جو بھی ہو، سیکولر اور نسائیت پرستوں کی کامیابی یا ناکامی مشرق وسطی کے مستقبل کے تعین میں ایک اہم عامل ہو گی۔  کچھ اس تکلیف دہ تفاوت کے اسباب متنوع عوامل میں ڈھونڈتے ہیں۔ ادھر مسلم دنیا میں قیمتی دھاتیں نایاب ہو گئیں اور ادھر یورپ نے نئی دنیا میں ان کی دریافت اور حصول میں کامیابی حاصل کر لی، یا دیہاتوںمیں خصوصاً چچا زاد / ماموں زاد سے شادیوں کا غالب رواج مضمرات کی صورت ظاہر ہوا یا بکریوں کی غارت گری کہ جنہوں نے درختوں کی چھال چھیل لی اور گھاس جڑ سے اکھاڑ دی اور وہ میدان جو کبھی زرخیز ہوتے تھے بنجر کر دیئے۔ دیگر کے خیال میں مشرق وسطیٰ میں دور جدید سے پہلے پہیے والی گاڑیوں کا استعمال متروک ہونا اس تنزلی کا سبب ہے جبکہ بعض اس بات کو زوال کے اسباب کے بجائے زوال کی علامت سمجھتے ہیں۔ پہیہ قدیم زمانے میں رائج تھا لیکن از منہ وسطیٰ کے دوران نایاب ہو گیا اورآخر کار یورپی اثر و نفوذ اور اقتدار کے تحت پھر سے مروج ہوا۔ مشرق وسطیٰ میں مغربی مسافر ان کی عدم موجودگی نوٹ کرتے ہیں اور مغرب کا سفر کرنے والے مشرق وسطیٰ کے مسافر وہاں پہیے کی موجودگی نوٹ کرتے نظر آتے ہیں۔  ایک لحاظ سے یہ ایک اور بھی بڑے مسئلے کی علامت تھی۔ چھکڑا جسامت میں بڑا ہوتا ہے اور کسی کاشتکار کے لئے نسبتاً مہنگا ہوتا ہے۔ اسے چھپا کر رکھنا مشکل اور سرکارکا اپنے تصرف کے لیے حکماً اسے طلب کر لینا آسان ہے۔ ایسے وقتوں اور مقامات پر جہاں نہ تو قانون اور نہ ہی رواج مقامی طور پر طاقتوروں کی راہ میں مزاحم ہو تو ایسے میں نظر آجانے والے متحرک اثاثوں پر سرمایہ کاری زیادہ فائدہ مند نہیں ہو سکتی تھی۔ ایسی قابوچی قسم کی حکومت -یاہمسائیوں سے اسی طرح کے خوف کا اثر- روایتی گھروں اور کوارٹروں میں دیکھا جا سکتا ہے: بلند، بغیر کھڑکی کی دیواریں، تقریباً مستور داخلی دروازے جو تنگ پتلی گلیوں میں کھلتے… دولتمندی کی کسی بھی ظاہری علامت کو چھپا دینے کی احتیاطی تدابیرتھیں۔ یہاں تک بات واضح ہے -دور جدید میں پکی سڑکوں اور پہیے والی گاڑیوں کا فروغ بڑے مسئلوں کے لئے کوئی حل نہیں نکال سکا۔  مسائل کے بعض ایسے حل جن کے لئے گہری جذباتی وابستگی اور سہارا مطلوب ہوا کرتا تھا، رد کر دیئے گئے ہیں۔ بیسویں صدی کی دو تحریکیں جن کا غلبہ رہا، سوشلزم اور نیشنل ازم تھیں۔ یہ دونوں بے اعتبار ٹھہریں۔ پہلی اس لئے بے اعتبار ہوئی کہ ناکام ثابت ہوئی اوردوسری اپنی کامیابی اور بعد ازاں غیر موثر ہونے کی وجہ سے بے اعتبار ہو گئی۔ غلامی سے نجات کا مطلب حریت اور آزادی Independence لیا گیا اور اسے ایک ایسا طلسم سمجھا گیا جو دیگر تمام ثمرات کا نقیب ہے۔ لیکن مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اب آزاد ریاستوں میں رہتی ہے جنہوں نے ان کے مسائل کا کوئی حل نہیں نکالا۔ ان دونوں مذکورہ تصورات کا ولد الحرام’’ نیشنل سوشلزم‘‘ اب بھی چند ریاستوںمیں باقی ہے۔ یہ وہ ریاستیں ہیں جہاں نازی -فاشسٹ طرز کی آمرانہ حکومتیں اور عقائد رائج ہیں جن کے لئے ایک وسیع ہمہ جا موجود سیکورٹی کا نظام کام کرتا ہے اور دوسرے صرف ایک عدد پارٹی جس کے پاس طاقت کے سارے سرچشمے ہوتے ہیں، حکمرانی کرتی ہے۔ یہ حکومتیں بھی ماسوائے اپنی بقا کے باقی سارے امتحانات میں ناکام ہوئی ہیں اور کوئی بھی وعدہ وفا نہیں کر سکیں۔  ان کا انفراسٹرکچر دوسروں کی نسبت دقیانوسی ہے اور ان کی مسلح افواج کا ڈیزائن بنیادی طور پر دہشت پھیلانے اور دبا کر رکھنے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔  آج اس سوال کہ غلطی کہاں ہوئی کے دو جوابات ہیں جنہیں خطے میں ہر سمت سے تعاون درکار ہے۔ یہ دونوں جوابات اپنے اپنے انداز میں غلطی کی تشخیص کرتے ہیں اور اسی کے مطابق علاج تجویز کرتے ہیں۔ ایک جواب جو تمام برائیوں کی جڑ اسلام کی الوہی تہذیبی میراث سے انحراف قرار دیتا ہے، حقیقی یا تصوراتی ماضی کی جانب مراجعت کی تائید کرتا ہے۔ یہ ایرانی انقلاب اور دیگر مسلم ممالک میں چلنے والی نام نہاد بنیاد پرست تحریکوں اور حکومتوں کی فکری اساس ہے۔ دوسرا راستہ ایک سیکولر جمہوریت کاتصورہے جس کی سب سے عمدہ شکل جمہوریہ ترکی میں نظر آتی ہے جس کی بنیاد کمال اتا ترک نے رکھی۔  اس دوران الزام تراشی کا کھیل – ترک، منگول، سامراج، یہودی، امریکی … یہ سب چل رہاہے اور اس کی شدت میں کمی نہیں آئی۔ مشرق وسطیٰ کے زیادہ تر علاقوں کی استبدادی اور غیر موثر حکومتوںکا الواس الزام تراشی سے خوب سیدھا ہوتا ہے ؛وہ یہ کہ غربت جس میں وہ کمی لانے میں ناکام ہیں، کی ذمہ داری کو وہ دوسروں پر تھوپ دیتے ہیں۔ اور اپنی جبری حکمرانی کے تسلسل کا جواز نکالتے ہیں۔ اس طرح سے وہ اپنے ناخوش عوام کے بڑھتے ہوئے غضب کا رخ دوسرے بیرونی اہداف کی جانب موڑ دیتے ہیں۔  تاہم مشرق وسطیٰ والوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اسی وجہ سے اب ذاتی تنقید کی راہ اختیار کر رہی ہے۔ اس سوال کہ ہمارے ساتھ کس نے ایسا کیا ؟ کے نتیجے میں محض مریضانہ خوش خیالیوں اور سازشوں کے مفروضوں نے جنم لیا۔ دوسرا سوال۔ ۔ ۔ ہم سے کیا غلطی ہوئی ؟ فطری طور پر اس اگلے سوال پر منتج ہوا کہ ہم اسے درست کیسے کریں ؟۔ یہی وہ سوال ہے اور اس کے وہ مختلف جوابات ہیں جن میں مسقبل کی امیدیں مضمر ہیں۔  اسامہ بن لادن اوران کے میزبان طالبان کے تصورات اور افعال کو دنیا بھر میں جس انداز سے دیکھا گیا اس سے دنیا کو اس تہذیب کے گہنا جانے کو دیکھنے کا ایک نیا اور بین موقع ملا جو کبھی تاریخ انسانی کی سب سے عظیم، سب سے ترقی یافتہ اور سب سے زیادہ کھلی تہذیب ہوا کرتی تھی۔   ایک مغربی مبصر، جس کی تعلیم مغربی آزادی کے تصور اور عمل کے تحت ہوئی ہو، کی نگاہ میں ان تمام مشکلات کی سب سے عین وجہ آزادی کی عدم موجودگی ہے : مسلط کردہ عقائد و افکار سے ذہن کی آزادی، کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے، دریافت کرنے اور بولنے کی آزادی، معیشت کی بد عنوان اور پھیلتی ہوئی بد انتظامی سے آزادی، خواتین کی مردوں کے جبر سے آزادی، ان سب آزادیوں کی عدم موجودگی مسلم دنیا کی بیشتر مشکلات کے پس منظر میں نظر آتی ہے۔ لیکن جمہوریت کا راستہ، جیسا کہ مغرب کا تجربہ شاہد ہے، طویل اور دشوار ہے اور رکاوٹوں اور پوشیدہ خطروں سے بھرا پڑا ہے۔  اگر شرق اوسط کے لوگ اپنی حالیہ روش پرقائم رہے تو خود کش بمبار پورے خطے کے لئے ایک استعارہ بن جائے گا اور پھر نفرت اور بغض، غصہ اور اپنے اوپر ترس کھانے، غربت اور استبداد کے قعر مذلت میں گرنے سے فرار کا کوئی راستہ نہیں بچے گا -اس کا انجام غیروں کے ایک نئے تسلط کی صورت ہو گا…شاید یورپ کے ہاتھوں جو پرانے طریقوں پر پلٹ جائے، شاید دوبارہ ابھرتے ہوئے روس کے ہاتھوں یا شاید مشرق میں ابھرتی کسی نئی سپر پاور کے ہاتھوں۔ اگر وہ دکھ اور مظلومیت سے کنارہ کشی کر لیں، اپنے اختلافات کو حل کرلیں اور اپنے وسائل، توانائیوں اور خوبیوں کو ایک مشرکہ تخلیقی کاوش کے لئے ملالیںتو وہ مشرق وسطیٰ کو ماضی قدیم اور قرون وسطیٰ کے انداز میں ایک بار پھر دور حاضر میں تہذیب کا عظیم مرکز بنا سکتے ہیں۔ فی الوقت فیصلہ اورمرضی ان کی ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20