حسن کا سفر —— نگہت خان

0

حسن پرست ہم سب ہیں حسن کسے نہیں پسند۔۔۔۔
میں بھی ہوں۔۔۔
جب بچی تھی تو میں اور میری چھوٹی بہن اکثر خوب صورت چہرے دیکھتے تو حسن کی تشریح کرنے کی کوشش کرتے۔۔

کبھی ہمیں لگتا کہ جس کی ناک خوبصورت ہو وہ سب سے حسین ہوتا ہے۔۔
کبھی خوبصورت ہونٹ اور خوب صورت مسکراہٹ رکھنے والی کوئی شخصیت کو ہم سب سے حسین قرار دیتے۔
کبھی حسین آنکھوں والوں کو کبھی رنگین آنکھوں والوں کو۔۔
کبھی ہاتھوں اور پاوں کی خوبصورتی
اور کبھی گورا رنگ اور کبھی متناسب جسم کے خدوخال
حسن کا معیار قرار پاتے۔۔
اور ایسی شخصیات کو ہم پلک جھپکائے بنا دیکھا کرتے۔۔

پھر کسی نے توجہ کرائی کہ صرف خدوخال ہی میں حسن نہیں ہوتا
ادائیں بھی حسین لگ جایا کرتی ہیں جیسے
کسی کسی کے بات کرنے کا انداز
ذہانت، حس مزاح، خوب صورت آواز
وغیرہ۔۔۔
تو معلوم ہوا بے پناہ حسن ہے ہر طرف۔۔۔
وقت گزرتا رہا۔۔۔۔ زندگی کے تجربات اور مشاہدات کے ساتھ ساتھ

رنگ روپ ادا کی خوبصورتی کا تاثر ماند پڑتا گیا انسان کی عادات و اطوار اور بد زبانی بد کلامی بد اخلاقی نے اس ظاہری حسن کو بد نما بنا دیا۔
بد اوصاف نے خوب صورت چہرے کی دلکشی چھین لی۔
اور پھر

۔۔۔نگاہ اخلاقیات کی خوبصورتی پر جا ٹھہری۔۔۔۔ من کی خوبصورتی پر جا ٹھہری۔۔۔ایسی ٹھہری کہ وہیں رک گئی۔۔۔

اور اس طویل سفر نے جو کئی decades پر محیط تھا۔۔۔۔اس کے عملی تجربات نے یہ سیکھایا۔۔
محبت کرنے والے، درگزر کرنے والے
نرم خو، خوش مزاج،دوسروں کا احساس کرنے والے لوگ ہی سب سے حسین ہوتے ہیں اور یہ وہ حسن ہے جسے کبھی زوال نہیں۔جو کبھی ماند نہیں پڑتا۔بےشک اس سفر کی ابتداء ظاہری خدو خال رنگ روپ سے ہوتی ہے مگر اس کی انتہا رحم و کرم کرنے والا دل رکھنے اور محبت بھرا لب و لہجہ رکھنے والوں پر ہی ہوتی ہے۔۔۔
پھر نگاہ ظاہری حسن سے متاثر نہیں ہوتی چاہیے کوئی کتنا ہی رنگ روپ رکھتا ہو۔نہ نظر کو بھاتا ہے نہ دل کو جب
دل کی کھڑکی کھل جاتی ہے۔۔قلب سلیم قلب سلیم ہی کو ڈھونڈتا ہے
کائنات کا بے پناہ حسن تخلیق کرنے والی ذات اللہ رحمن ہے اس لیے

حسن کی انتہا رب کی ذات ہے جس کا تعارف خدوخال نہیں شکل و صورت اور رنگ و روپ نہیں بلکہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے کہ اللہ
رحمن ہے الرحیم ہے
اور جس کو اس نے بے پناہ حسن عطا کیا ان کا خلق خلق عظیم ہے
اور وہ پوری کائنات تمام عالمین کے لیے رحمت ہیں۔۔

قلب سلیم والا انسان ہی اللہ تعالی کے نزدیک حسین ترین ہے پسندیدہ ترین ہے کامیاب ترین ہے

اس دائمی قائم رہنے والے حسن تک رسائی کی ہر حسن پرست کو کوشش کرنی چاہیے۔

اللہ تعالی کے کلام کے سچ تک پہنچنے میں عمر لگتی ہے۔۔

یہ جسم کے حسن سے من کے حسن تک پہنچنے کا سفر ہے۔۔

یہ ظاہری زائل ہو جانے والے حسن سے باطنی ہمشہ باقی رہنے والے حسن کا سفر ہے۔۔

اللہ تعالی کے کلام کی معرفت حق ہے
حسن کی معرفت کا سفر ہم سب کر رہے ہیں اپنے اندر اس کی تصدیق ڈھونڈیں۔۔آپ کہاں تک پہنچے ہیں ؟

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: