ہماری خواتین اور یوم خواتین- راحیلہ خان

0

جو خواتین پڑھ لکھ جاتیں ہیں اور باقاعدہ کوئی پروفیشن اپنا لیتی ہیں یہ خواتین  تو معاشرے میں مقام حاصل کر لیتی ہیں اور کسی حد تک خودمختار ہو جاتی ہیں لیکن ہمارے یہاں زیادہ تعداد ایسی خواتین کی ہے جو یا تو زیادہ پڑھ لکھ نہیں پاتیں اور نہ ہی کوئی فنی تربیت لے پاتی ہیں. کیونکہ معاشرے میں پیشہ وارانہ تعلیم و تربیت  کے مواقع لڑکوں کو ہی حاصل ہیں. سمجھا یہ جاتا ہے کہ لڑکا ہنر سیکھ کر کچھ زریعہء معاش بنا سکے گا بالآخر گھر کی ذمہ داری مرد کی ہی ہوگی. جبکہ زیادہ تعداد میں پھر بھی ایسے نوجوان ہیں جو تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں اور ہنر سیکھنے کی عمر سے نکل جاتے ہیں اور کوئی بھی چھوٹی موٹی نوکری کرکے اپنے مستقبل کی شروعات کر دیتے ہیں۔۔ خیریہاں میں بات کرنا چاہونگی آج کے معاشرے میں خواتین کس طرح سےاپنے اور اپنےمستقبل کومحفوظ

بناسکتی ہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ بچیوں کی شادی کرنی ہے اور اسکی تمام ذمہ داری اس کا شوہر ہی اٹھائے گا. جیسا کہ اسلامی روایات ہیں.  ہمارے معاشرے میں اسلامی روایات پر کاربند لوگ ہی قرآن و سنت میں بتائے گئے طریقوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں کہ نکاح اور طلاق سے متعلق اسلامی و آئینی حقوق کے ضمن میں مناسب تربیت نہیں دی جاتی ہے..

خواتین کو یہ سوچنا ہوگا کہ اپنی تمام اولاد  کو بنیادی تعلیم و تربیت کے ساتھ فنی ھنر پر بھی دسترس دلائی جائے تب تک معاشی استحکام پا لینا دشوار رہے گا.

ہمارے یہاں خواتین ڈآکٹر، انجینر ،وکیل ،پروفیسر. بن جاتی ہیں.  بعد ازاں  پرائیویٹ فرمز اور سرکآری اداروں میں نوکریاں حاصل کر لیتی ہیں ۔ اور یہ خواتیں بہت حد تک اپنا مستقبل محفوظ سمجھتی ہیں

لیکن افسوس کہ اس سوچ کا شدید فقدان ہے کہ کوئی خاتون الیکٹریشن ۔،پلمبر ، کار پینٹر، یا میکینک  قسم کا کاروبار کرتی نظر نہیں آتی ہیں.  خواتین اپنے گھر کے مردوں کی غیر موجودگی میں ہچکچاہٹ اور پریشانی  کے باعث اس طرح کے کاموں کے لئے پلمبر اور الیکٹریشن مردسے کام کرانے سے گھبراتی ہیں.

اگر خواتین اس طرح کی سروسز سینٹر شروع کریں لڑکیوں اور عورتوں کی ٹیم ہو جو یہ سروسز گھروں میں بیٹھیں خواتین کو باآسانی فراہم کر سکے تو کسی حد تک مسائل میں کمی آ سکتی ہے۔ 

یہاں دیہاتوں میں خواتین کھیتوں میں مزدوری کرتی ہیں یا شہروں میں آکر گزر بسر کرنے کے لئے گھروں میں ماسیوں آیاؤں کا کام کرتی ہیں اور انکو انتہائی حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔۔ اسی طرح بہت زیادہ ہو جاتا ہے تو کچھ خواتین کپڑے سلائی کا کام با آسانی  سیکھ لیتی ہیں اور اپنے گھروں میں کپڑے سلائی کرکے کماتی ہیں ۔

میرے ذاتی خیال میں خواتین کو اب معاشرے میں کسی قسم کے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ یہاں میں کچھ خواتین کی مثالیں دینا چاہونگی.جنہوں نے مہنگائی کے دور میں اپنے شوہروں کے ساتھ آمدنی بڑھانے کے لئے مختلف طریقے سوچے بھی اور کامیابی سے بروئے کار بھی لائی ہیں .ایسی بہت سی مثالیں میرے حلقہء احباب میں موجود ہیں. 
لاہور میں ایک چھوٹے سے علاقے میں خاتون نے اپنے گھر میں دھوبی کا کام شروع کیا شروع میں کسی نا کسی طرح سے کام چلاتی رہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے گھر کو ایک چھوٹی سی فیکٹری میں تبدیل کر دیا ۔۔ اور ایک منافع بخش کاروبار چلانے میں کامیاب ہو گئیں۔۔

اسی طرح کراچی کی ایک پٹھان کالونی میں ایک خاتون نے کروپنگ کا کام شروع کیا یہ مختلف فیکٹری سے کپڑوں پر کڑھائی کرنے کے بعد اسکے فالتوں دھاگوں کو کٹنگ کرنے کے عمل کو کہا جاتا ہے یہ کام اس نے خود شروع کیا اور چند سو روپے کمانے لگی جبکہ اسکا شوہر کسی فیکٹری میں ورکر تھا اور کرایہ کے مکان میں گزر بسر کر رہے تھے۔ اس نے ہمت نہیں ہاری اور اچھا کام کرنے اور ایک ٹیم بنانے میں کامیاب ہو گئیاور وقت کے ساتھ ساتھ اس نے باقاعدہ سے ایک لیبر رکھ لی اور ایک گاڑی اور ایک ڈرائیور بھی جو مختلف یونٹس سے مال لانے اور لے جانے کا کام کرتا رہا اسکے شوہر کو بھی اس کام میں دلچسپی ہوئی اور اب انکا کاروبار وسیع پیمانے پر ہے جس میں یہ اپنا ذاتی مکان اور دو گاڑیاں لینے میں کامیاب ہو گئے لاکھوں کی تنخواہ کا خساب کتاب یہ مڈل جماعت پڑھی عورت آسانی سے کرتی ہیں لیبر کو وقت پر کام دینا فیکٹری کو وقت پر کام پہنچانے کے علاوہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں.

 ایک اور خاتون کراچی میں جنہوں نے کھانے پکانے کا کام آرڈر پر شروع کیا اور وہ گھر پر ہی دیگ بریانی بنا بناکر چھوٹی چھوٹی تقریبات میں پہنچاتیں۔ پھر بیکنگ بھی شروع کر دی اور اب وہ ہر طرح کے آرڈر آن لائن لیتی ہیں اور یہ سروسز دینے میں کامیاب ہو چکی ہیں اور باقاعدہ بیکری شروع کرنے پر غور کر رہی ہیں۔۔

ایک خاتون جن کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور دو بچے ہیں انکے ۔۔ انکی نوجوانی میں شوق سے سیکھی گئی ڈرائیونگ کام آئی ، چنانچہ انہوں نے ڈرائیونگ انسٹیوٹ کا آئیڈیا پلان کیا. شروع میں وہ ایک کار جو کہ ان کی ذاتی استعمال کی تھی اس سے خواتین کو ڈرائیونگ کی کلاس دینے لگیں۔  جب سٹوڈنٹ زیادہ ہو گئے تو  ایک گاڑی اور لیکر ایک میل انسٹرکٹر کو بزنس میں شامل کر لیا اور باقاعدہ ایک آفس بنا لیا اس طرح مزید ایک دو گاڑیاں خریدی اور ٹیم میں اضافہ کرتیں گئیں۔۔۔انکے بچے پڑھ لکھ گئے بیٹی ایک بنک میں مینجر لگ گئی.لیکن وہ مصروف رہنے کے لئے اپنے کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔۔

یہ سب مثالیں شیئر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ آپ کسی بھی کمی یا کسی بھی مجبوری کو بہانہ بنا کر زندگی مشکل سے گزاریں۔ ۔

خواتین کی حواصلہ افزائی کرنے والے بھی اس معاشرے میں مرد ہی ہیں ۔۔ لیکن ہمارے معاشرتی روایات کو کمزور پر کرنے اور خانگی نظام کو تباہ کرنے کے لئے ہی  مختلف مفاد پرست تنظیمیں مرد اور عورت کے برابری اور حقوق نہ ملنے کا رونا روتی نظر آتی  ہیں۔۔ اور ایک بے بنیاد  سے مقابلے میں مرد اور عورت کو ایک دوسرے کے مخالف کھڑا کر دیا گیا ہے جس میں دونوں طرف لالچ۔،حرص اور ہوس کو بنیاد بنا کر لڑایاجا رہا ہے ۔۔ جبکہ ایک مرد کے تعاون کے بغیر عورت کچھ نہیں کر سکتی اسی طرح ایک مرد کو حوصلہ افزائی کے لئے بھی عورت کا تعاون درکار ہوتا ہے

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: