’’حرف شوق‘‘ مختار مسعود کا اردو ادب کو آخری تحفہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0

مختار مسعود پاکستان کے ایک بیوروکریٹ کی حیثیت سے اپنی الگ شناخت رکھتے تھے۔ وہ دیگر افسروں کی مانند بکاؤ مال نہ تھے۔ جو فیصلہ کیا، جو کام کیا اپنی مرضی اور اپنی شرائط پر کیا۔ وہ ملک کے بڑے عہدوں پر فائز رہے اور جہاں بھی گئے اپنے نقش چھوڑ آئے۔ سی ایس پی کے رکن کی حیثیت سے انگلینڈ سے پبلک فنانس اور آسٹریلیا سے ترقیاتی انتظامیہ کی تربیت حاصل کی۔ انڈر سیکریٹری اور فنانس ایڈوائزر رہے۔ ریونیو بورڈ میں پہنچے تو ایڈمنسٹریٹو اسٹاف کالج کے نصاب کے کوائف مرتب کئے۔ ملتان، کراچی اور بہاول پور میں ڈپٹی کمشنر اور لاہور کے کمشنر رہے۔ لاہور میں بیت القرآن قائم کر کے سرمایہ آخرت بنایا۔ بطور کمشنر لاہور میں مینار پاکستان کی تعمیر ان کا اہم کارنامہ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر جب مینار پاکستان کی تعمیر کا احوال انہوں نے ’’آواز دوست ‘‘ کے نام سے تحریر کیا تو اس کتاب نے شائع ہوتے ہی کلاسک کا مقام حاصل کر لیا۔ کتاب کے دونوں مضامین ’’مینار پاکستان‘‘ اور ’’قحط الرجال‘‘ نے باذوق قارئین کے دل میں گھر کر لیا۔ مختار مسعود اپنی پہلی کی تحریر سے صاحبِ اسلوب نثر نگار قرار پائے۔ انہوں نے اپنے منفرد اور دلفریب اسلوب سے بے شمار دنوں کو تسخیر کیا۔

آوازِ دوست انیس سو تہتر میں شائع ہوئی۔ اور اب تک اس کے سینتیس ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ آٹھ سال انتظار کے بعد مختار مسعود کی دوسری کتاب ’’سفر نصیب‘‘ قاری کے ذوق مطالعہ کیلئے منظر عام پر آئی اور آتے ہی چھا گئی۔ کتاب کے دو حصے ہیں، پہلے حصے میں دو مضامین ’’برف کدہ ‘‘ اور ’’پس انداز‘‘ جبکہ دوسرے حصے میں بھی ’’طرفہ تماشا‘‘ اور’ ’زادِ راہ ‘‘ کے نام سے دو مضامین ہیں۔ اس کتاب کے بھی اب تک سولہ ایڈیشن آ چکے ہیں۔ آر سی ڈی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے ایران میں مختار مسعود کے قیام کے دوران ہی شہنشاہ ایران کے خلاف امام خمینی کے انقلاب نے جنم لیا۔

مختار مسعود نے اپنی آنکھوں سے انقلاب برپا ہوتے ہوئے دیکھا۔ اور ’’لوح ایام‘‘ میں اس کا اس انقلاب کا احوال قارئین کی خدمت میں پیش کی۔ لوح ِ ایام کے تین مضامین ’’شاہ نامہ ‘‘ ’’آمد نامہ ‘‘ اور’’منظر نامہ‘‘ میں شہنشاہیت کی تاریخ اور ایران کے حالات اور انقلاب کی تفصیلات کچھ اس طرح پیش کی ہے کہ قاری کی نظر میں پورا منظر نامہ آ جاتا ہے۔ مختار مسعود نے نصف صدی سے زائد مدت میں تین کتابیں تحریر کیں۔ لیکن یہ چند کتابیں بھی بعض مصنفین کی درجنوں کتب پر بھاری ہیں۔ ہر کتاب کے بیسویں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی ہر کتاب کلاسک ہے۔

مختار مسعود کے والد شیخ عطا اللہ علی گڑھ کالج کے استاد تھے۔ انہوں نے بھی علامہ اقبال کے انتقال کے بعد ان کے خطوط ’’اقبال نامہ‘‘ کے نام سے مرتب کئے تھے۔ اس طرح مختار مسعود پیدائشی علیگ تھے۔ انہوں نے اپنی تمام تر تعلیم علی گڑھ یونیورسٹی میں ہی حاصل کی۔ اس لئے علی گڑھ یونیورسٹی اور اس کے بانی سر سید احمدخان کے بارے تحریر کا حق ان سے بہتر کوئی ادا نہیں کر سکتا تھا۔ اور مختار مسعود نے اپنے انتقال سے قبل یہ قرض بخوبی ادا کر دیا۔ اور اردو ادب کو ’’حرفِ شوق‘‘ کا منفرد اور بے مثال آخری تحفہ دے گئے۔

حرف شوق کے مختصر دیباچہ میں مختار مسعود نے لکھا ہے کہ ’’ایک دن والدِ محترم نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر سے فرمائش کی کہ اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیں اور دعا کریں کہ اسے بھی تصنیف و تحقیق کا شوق اور ہنر عطا ہو۔ اس واقعے کے کوئی دس بارہ برس کے بعد ’’آواز دوست‘‘ شائع ہوئی۔ اتنا عرصہ کون کسی کی تحریر کا انتظارکرتا ہے۔ وہ دونوں بزرگ اس وقت تک دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ وقار عظیم اور ملا واحدی نے ’’سفر نصیب ‘‘ کا انتظار نہیں کیا۔ محمد طفیل، ابو الفضل صدیقی، جمیلہ ہاشمی اور ابنِ حسن برنی نے ’’ لوح ایام‘‘ کا انتظار نہیں کیا۔ محترم رشید احمد صدیقی نے آواز دوست پڑھ کر مجھے دعا دی۔ اس کے بعد میری تحریر ان کی مزید دعاؤں سے محروم ہو گئی۔ ‘‘ لیکن مختار مسعود خود اپنا آخری تحریری شاہکار ’’حرف شوق‘‘ چھپا ہوا نہ دیکھ سکے۔ لیکن اردو ادب کے قارئین کو ایسا الوداعی تحفہ دے گئے۔ جس کی روشنی طویل مدت تک قارئین کے ذہنوں کو منور کرتی رہے گی۔

حرف شوق کے چار ابواب ہیں، پہلا باب ’’ماضی کے ساتھ ایک نشست‘‘ دوسر اباب’’ سر سید احمد خان کون تھے؟‘‘ تیسرا باب ’’ باعث تحریر‘‘ اور چوتھا اور آخری باب ’’ مرحوم کے نام ایک خط‘‘ کے عنوان سے ہے۔ پہلے دو ابواب تو علی گڑھ کالج اور یونیورسٹی کے قیام اور تدریسی عمل اور اس کی تاریخ اور علی گڑھ تحریک کے بانی سر سید احمد خان اور ان کی تحریک کے دور رس اثرات کے بارے میں ہے۔ تیسرا باب مصنف کی آپ بیتی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جبکہ آخری باب میں انہوں نے اپنی تصنیف آواز دوست کے جواب میں مرحوم علیگ مصنف نسیم انصاری کی تحریر’’ جواب دوست‘‘ کا جواب دیا ہے۔ یہ تمام تحریریں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

معالعے کا بڑے سے بڑا شوقین کبھی کسی کتاب کو پورا نہیں پڑھ سکتا۔ بلکہ صفحات کے صفحات چھوڑ کر ہی پڑھے جاتے ہیں۔ بہت کم کتابیں ایسی ہوتی ہیں۔ جو صفحہ اول سے آخر تک خود کو پڑھوا لیتی ہیں۔ مختار مسعود کی تحریر کا کمال یہ ہے کہ قاری ان کی کتاب کی کوئی ایک سطر بھی چھوڑ نہیں سکتا۔ بلکہ کئی پیراگراف لطف لینے اور سوچ کے در وا کرنے کی خاطر بار بار پڑھنے پڑتے ہیں۔ ان کی کسی کتاب کے اقتباس دینا بھی ایک کڑا امتحان ہوتا ہے۔ کس سطر کو منتخب کیا جائے اور کس کو چھوڑ دیا جائے۔ یہ فیصلہ ہرگز آسان نہیں۔ آواز دوست میں جہاں انہوں نے تحریک پاکستان کا منظر اور پس منظر پیش کیا۔ وہیں دنیا بھر کے میناروں کی تاریخ بیان کر دی۔

حرفِ شوق بھی ان کے اسی منفرد اسلوب کی حامل ہے۔ جس میں جہاں جس بات کا ذکر آیا، اسے اس طرح بیان کیا کہ بات دل میں اتر گئی۔ قاری ان کی نثری شاعری کے سحر میں کھو جاتا ہے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے اسٹریچی ہال کا بادشاہوں کی تعمیرات سے کیا خوب موازنہ کیا ہے کہ ایک ایک لفظ امر ہو گیا۔

’’مینار، فصیل، خندقیں، نہریں، ساختگی آبشاریں، دیوان ہائے خاص و عام، بادشاہوں کے محلات اور کسی حد تک ان کے مقبروں کو ہی زیب دیتے ہیں۔ علم و حکمت کے مسکن کو باوقار سادگی اور مسکنت کی خودداری درکار ہوتی ہے۔ اسٹریچی ہال کی مثال لے لیں۔ اس کی کرسی دانستہ بہت نیچی رکھی گئی ہے۔ اتنی پست گویا سات ہزار مربع فٹ کی وسیع و عریض ہی نہیں بلکہ بلند و بالا عمارت زمین میں استواری، سلامتی اور انکساری کے استعارے کی طرح پیوست ہو۔ ایسے فیصلے بہت سوچ سمجھ کر کئے جاتے ہیں۔ فیصلہ کرنے والے کا کار شناس، صاحبِ ذوق اور صاحبِ دل ہونا ضروری ہے۔ علی گڑھ کے بانی میں یہ تینوں خوبیاں موجود تھیں۔

بادشاہوں کی بنائی ہوئی عمارتوں میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ شان و شوکت، جمال و جلال، قوت و ہیبت، رعب و داب۔ قوم کی بنائی ہوئی عمارتوں میں ان کے مقابلہ میں صرف آدھی خوبیاں ہوتی ہیں۔ شان ہوتی ہے شکوہ نہیں ہوتا۔ جمال ہوتا ہے، جلال نہیں ہوتا۔ قوت ہوتی ہے، ہیبت نہیں ہوتی۔ رعب ہوتا ہے، دبدبہ نہیں ہوتا۔ ‘‘

شہنشاہوں کے اختیار اور سر سید احمد خان جیسے جینئس کے کئے ہوئے کاموں کا ذکر کچھ ایسے منفرد انداز میں کیا ہے کہ بات ذہن و دل میں گھر کر لیتی ہے۔ آج بھی آثار قدیمہ میں ایسی مثالوں کی کمی نہیں کہ شہنشاہ کے بنائے شہروں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ لیکن بغیر وسائل کے دل سے کیا ہوا کام تا ابد روشنی کے مینار کی مانند قائم و دائم رہتا ہے۔ یہ پیرا دیکھئے اور سر دھنئے۔

’’یہاں عطا اور انعام کی مثالوں کی کمی ہے نہ عبرت اور انتباہ کی نشانیوں کی۔ یہ قدم قدم پر موجود، وہ جا بجا منتشر۔ یہاں آباد علی گڑھ بھی اور ویران فتح پور سیکری بھی۔ رونق اور ویرانی کی علامتوں کا حاصل یہ ہے کہ عظیم سلطنت، وسیع مملکت، طویل اقتدار اور بھرے ہوئے خزانے والے مغل اعظم کی حیثیت سے آپ بے شک فتح پور سیکری کی خوب صورت شاہی بستی بنا سکتے ہیں مگر اسے بسانا آپ کی شہنشاہیت کے بس میں نہیں ہوتا۔ شہر کو آباد کرنے کے لئے علم ِ آب شناسی اور علم ِ ابر و باد کی ضرورت تھی جو جلال الدین اکبر کے یہاں مفقود تھا۔ پس ثابت ہوا کہ اگر کوئی بڑا کام کرنے کی خواہش رکھتے ہو تو پہلے علومِ نافع اور فنونِ جدیدہ پر دسترس حاصل کرو۔ اگر تمہارے پاس کوئی علی گڑھ نہیں تو پہلے علی گڑھ بناؤ۔ دوسرے یا تیسرے درجے کا نہیں، اول درجہ کا علی گڑھ بناؤ تا کہ تمہیں چین جانے کی ضرورت نہ رہے۔ جب تمہیں علم، عزم، قوت اور اختیار حاصل ہو تو پھر شوق سے نئے ملک بناؤ، نئے شہر بساؤ اور ان میں نئے افکار سجاؤ۔ ‘‘

قرارداد پاکستان تئیس مارچ انیس سو چالیس کو منظور ہوئی۔ ابتدا میں اسے کسی نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ قائد اعظم کے عزم نے صرف سات سال میں پاکستان کو قرارداد سے حقیقت کے روپ میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ بھارت کے معروف شودر لیڈر امبیدکر کی چشم بینا اور اپنوں کی بے رخی کا ذکر مختار مسعود کچھ اس انداز سے کرتے ہیں۔ کہ امبیدکر کی بصیرت اور پاکستان کے نام نہاد بزر جمہروں کا رویہ ہر قاری پر روشن ہو جاتا ہے۔

’’مارچ انیس سو چالیس میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی۔ مخالفین اس کا مذاق اڑانے میں مصروف ہو گئے۔ امبیدکر نے اس کا سنجیدگی سے تجزیہ کیا اور سال ختم ہونے سے پہلے پاکستان کے بارے میں ان کی کتاب شائع ہو گئی۔ اس کا دوسرا ایڈیشن نظر ثانی کے بعد انیس سو پینتالیس میں شائع ہوا۔ وہ آج بھی پڑھنے کے لائق ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں انہوں نے لکھا ہے’’ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کا مطالبہ محض سیاسی نا راحتی کا نتیجہ ہے جو وقت کے بہاؤ کے ساتھ جاتا رہے گا‘‘۔ امبیدکر کی تیز نگاہی کا یہ عالم تھا کہ اسے انیس سو چالیس میں انیس سو سینتالیس کی جھلک صاف نظر آ رہی تھی۔ ادھر بے خبری کا یہ عالم ہے کہ قیامِ پاکستان کو ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے مگر اس کے باوجود اب بھی کوئی نہ کوئی بزر جمہر، خواہ وہ اپنا ہو یا غیر، قراردادِ پاکستان کو محض بساطِ سودا بازی قرار دیتا ہے۔ ‘ ‘

کالج اور یونیورسٹیوں کی تقریبات میں نعرے بازی ، ہلڑ اور شور و غل ایک عام سی بات ہے۔ لیکن مختلف نعروں کا فرق مختار مسعود نے کس دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔

’’مجھے پہلی بار پتا چلا کہ نعرے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک محض ہانک پکار اور شور و غل کا نام ہے، ریوڑ کو راہ پر لگانے کے کام آتا ہے۔ دوسرا ایک عہد اور عزم ہوتا ہے۔ جو نوجوانوں سے تاریخ سازی کا کام لیتا ہے۔ آواز کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو اس کی زندگی لمحہ بھر ہوتی ہے۔ عہد زندگی بھر کے لئے ہوتا ہے۔ ‘‘

مختار مسعود سابقہ مشرقی پاکستان میں بھی تعینات رہے۔ اس دوران انہوں نے وہاں کی صورتحال سے جو کچھ اخذ کیا۔ وہ ان کے صاحبَ بصیرت ہونے کا ثبوت ہے۔ جن باتوں کا اندازہ ایک سی ایس پی افسر نے برسوں پہلے کر لیا تھا۔ ہمارے مقتدر ادارے ان کا ادراک آخر تک نہ کر سکے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے مرکزی ہال کی تعمیر کے لئے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا جائزہ لیا گیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں مشاعرے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’’مشاعرہ ختم ہونے سے پہلے ہی میری بہت سی غلط فہمیاں دور ہو گئیں۔ ان کی جگہ اندیشوں نے لے لی۔ آج ڈھاکا میں جس ہال میں مشاعرہ ہو رہا ہے۔ کل یہاں اردو بولنا ممکن نہ ہو گا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے مرکزی ہال کی تعمیر کے سلسلے میں مسلم یونیورسٹی کی عمارتوں کا مطالعاتی دورہ کرنے والے کو چاہئے تھا کہ وہ علی گڑھ سے نقشے کی جگہ نقشہ ء کار، طرزِ تعمیر کی جگہ طرزِ فکر و خیال اور عمارت کی جگہ نصب العین اور منزل مستعار لیتا۔ ‘‘

کیا خوب بیان ہے اور کیا عمدہ طرز ادا سبحان اللہ۔ علی گڑھ یونیورسٹی کی پہلی تقریب تقسیم اسناد انیس سو بائیس میں منعقد ہوئی۔ جلسے کے چار سال بعد یونیورسٹی کے خاتون چانسلر ہرہائی نس سلطان جہان بیگم والیہ بھوپال نے اپنے مرحوم بیٹے کی یاد میں تعمیر ہونے والے ہوسٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے کیا کمال کے نکات بیان کئے۔ مصرعہ میں ذرا سی تحریف کے بعد عرض ہے کہ ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں مختار مسعود کا۔ سونے پہ سہاگہ سے کم نہیں۔

’’مسلم یونیورسٹی کا پہلے جلسہء تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کی خاتون چانسلر ہرہائی نس سلطان جہان بیگم والیہ بھوپال نے صدارتی خطبہ دیا۔ خطبہ تقسیم اسناد کے چار برس بعد یہی خاتون مسلم یونیورسٹی میں اپنے مرحوم بیٹے کی یاد میں تعمیر کئے گئے ہوسٹل کے افتتاح کے موقع پرخطاب کرتے ہوئے دو لطیف نکات کا اضافہ کیا۔

اول، حضرات! اینٹ اور گارے، چونے اور پتھر کی رفیع الشان عمارتیں بلاشبہ جاذبِ نظر ہوتی ہیں۔ لیکن ان کی حقیقی شان اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب ان کے اندر کیے ہوئے کاموں کے شاندار نتائج ظاہر ہوں۔ دنیا کی کوئی عمارت اس معاملے میں خام دیوار اور نیچی چھت والے حجرہ نبوی سے زیادہ شاندار نہیں۔

دوم، حضرات! یونیورسٹی شاندار ایوانوں، سر بہ فلک عمارتوں اور رفیع الشان بورڈنگ ہاؤسوں کا نام نہیں، نہ یونیورسٹی ہر سال ہزاروں طلبہ کو ڈگری ہولڈر بنانے کے کارخانے کو کہہ سکتے ہیں بلکہ اس کو مطلع العلوم ہونا چاہئے جس سے علم کا نور دنیا میں پھیلے اور جہالت کی ظلمت و تاریکی دُور ہو۔ ‘‘

قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد ہندوؤں کی جانب سے ہندوستان کی تقسیم کی مسلسل مخالفت کی جاتی رہی۔ انیس سو چھیالیس میں جب مخلوط حکومت کا قیام نا گزیر ہوا۔ تو سر فیروز خان نون کے مشورے پر مسلمانوں نے وزارت خزانہ لی۔ یہ وزارت مطالبہ پاکستان کو کانگریسی قیادت سے منوانے کیلئے کس حد تک سود مند ثابت ہوئی۔ لیکن بد دلی سے مطالبہ منظور کرنے والوں نے پاکستان کو ناکام اسٹیٹ بنانے کے لئے کیا کچھ کیا۔ اس بارے میں مختار مسعود نے اشارتاً کس طرح ذکر کیا ہے۔

’’انیس سو چھیالیس کی عارضی مخلوط حکومت میں لیاقت علی خان وزیرِ مالیات مقرر ہوئے۔ انہوں نے کانگریسی وزارتوں کو روز مرہ کے فرائض کی ادائیگی میں اتنازچ کیا اور غریبوں کے بجٹ کے نام پر ایسی ٹیکس تجاویز پیش کیں کہ کانگرس اور ہندو سرمایہ دار دونوں نے پاکستان کا مطالبہ مان لیا۔ چونکہ اس آمادگی میں خوش دلی اور فراخ دلی کا شائبہ تک نہ تھا لہٰذا طے کیا گیا کہ پاکستان کے نام پر ایسا کٹا پٹھا، بے وسائل اور پر مسائل خطہء ارض ان کو دے دیا جائے جو آزاد ملک کے طور پر چند ہفتے تک چلنے کے لائق نہ ہو۔ سرحد میں ریفرنڈم، سلہٹ میں ریفرنڈم، پنجاب کی تقسیم، بنگال کی تقسیم، سندھ میں دوسرا صوبائی الیکشن۔ سرحدیں ایسی کہ کشمیر میں دراندازی کی جا سکے۔ فیروزپور کی چھاؤنی اور ذخائر حربی سے انہیں محروم کر دو۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے حدبندی کمیشن کے صدر سر ریڈ کلف کو ناشتہ پر بلایا۔ ناشتہ کے بعد ریڈ کلف نے اپنے سیکریٹری سے کہا کہ فیروز پور کو پاکستان سے نکال کر ہندوستان میں شامل کر دو۔ اس طرح اسلحہ سازی کا واحد کارخانہ جو پاکستان کو مل رہا تھا، ہاتھ سے جاتا رہا۔ ‘‘

قیام ِ پاکستان کے بعد قائد اعظم اور لیاقت علی خان چند سال میں انتقال کر گئے۔ ان کے بعد ملک کے معماروں اور محسنوں سے جو سلوک روا رکھا گیا۔ اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ تو مختار مسعود جیسا حساس انسان ایسے واقعات سے کیونکر لا تعلق رہ سکتا تھا۔ ڈاکٹر زوار حسین زیدی قائد اعظم پیپرز کی تیاری میں جس طرح اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ اور پاکستان کے بارے میں نایاب دستاویزات کو ضائع ہونے سے بچا لیا۔ اس محسن ِ وطن سے پاکستان میں کیا سلوک کیا گیا۔ ذرا مختار مسعود ہی سے سنئے۔

’’انتقال سے چند دن پہلے ڈاکٹر زوار زیدی سرکاری گھر سے بالجبر بے دخل کئے گئے تھے۔ سامان گھر سے نکال کر باہر سڑک پر رکھ دیا گیا۔ یہ کیسے بے خبر اور بے درد لوگ تھے جنہوں نے ڈاکٹر صاحب سے وہ سلوک کیا جو نا دہندہ مقروض کے خلاف ڈگری جاری ہونے کے بعد کیا جاتا ہے۔ انہیں یہ بھی علم نہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب کسی کے قرض دار نہیں تھے بلکہ ملک ان کا مقروض تھا۔

ڈاکٹر زوار کی نصف صدی کی لگن، محنت اور تگ و دو کی بدولت آل انڈیا مسلم لیگ کا ریکارڈ اور قائد اعظم محمدعلی جناح کے کاغذات نا اہل جانشینوں اور نا شناس نسلوں کے ہاتھوں ضائع ہونے سے بچ گئے۔ قائد اعظم کے کاغذات کو مرتب کرنے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہوا اور وہ بیس برس تک بغیر تنخواہ کے کام کرتے رہے۔ حکومت کی طرف سے انہیں صرف رہائش کی سہولت میسر تھی مگر جس طرح انہیں اس سرکاری گھر سے بے دخل کیا گیا۔ وہ ایک عمر رسیدہ، حساس اور شریف النفس اسکالر کی جان لینے سے کم نہ تھا۔ وہ اس صدمہ کی تاب نہ لا سکے۔ ملک کی داغدار تاریخ میں داغ کا اور اضافہ ہو گیا۔ وہ جنہیں اقتدار اس لیے دیا جاتا ہے کہ حق دار کو حق اور واجب التعظیم کو عزت ملے ان کی بلا جانے کہ ڈاکٹر زوار نے کن حالات میں انتقال کیا۔ جب 2009ء میں ان کا انتقال ہوا، اس وقت تک جناح پیپرز کی 14 جلدیں شائع ہو چکی تھیں۔ کاش ان کی وصیت پر عمل کیا جاتا اور یہ پندرہ بیس ہزار صفحات قبر میں ان کے سینے پر رکھ دیئے جاتے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کے جسم کو کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ مرنے کے بعد نیکیاں بوجھ نہیں ہوتیں۔ وہ تو مرنے والے کا بوجھ اُٹھانے کے کام آتی ہیں۔ ‘‘

حرف ِ شوق کے پہلے مضمون کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہیَ ’’میں نے اپنے عہد کے تین اولڈ بوائز کا انتخاب کر لیا جو مجوزہ معیار پر پورا اترتے تھے۔ محترم اسلوب احمد انصاری، ڈاکٹر زوار حسین زیدی اور ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو۔ ہم عصر اور ہم طالع۔ اچھے طالبعلم اور کامیاب معلم۔ علم سے محبت کرنے والے عالم۔ ان کے علمی کاموں کو پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کی شخصیت کو کسی نے مثالی کہا اور کسی نے قابل تقلید نمونہ قرار دیا۔ اگر آنے والی نسلوں کو ایسے لوگ انسپائر نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا؟‘‘

کتاب کا دوسرا مضمون ’’سر سید احمد خان کون؟ میں ایک عظیم مصلحِ قوم کو خراج ِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ جس میں سر سید کی تحریروں کو پڑھنے اور سمجھنے کی ترغیب موجود ہے۔ ایک ایسا نابغہ جسے نہ اس کی زندگی میں سمجھا گیا اور نہ مرنے کے بعد وہ مقام ملا، جس کا وہ حقدار تھا۔ مختار مسعود نے کسی حد تک سر سید کا قرض اتارنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس ایک پیرے میں انہوں نے کس خوبی سے سب کچھ روشن کر دیا ہے۔ بس سمجھنے والی عقل اور دیکھنے والی نظر ہونی چاہئے۔

’’میرا سر سید ایک غیر معمولی آدمی ہے۔ وسیع النظر اور ہمہ صفت موصوف۔ مصلح، دردمند، بیتاب اور ان تھک۔ انجمنوں اور اداروں کا بانی اور منتظم۔ مصنف اور مترجم۔ مفکر اور مورخ پرانی عمارتوں کا قدر شناس، نئی عمارتوں کا معمار۔ تعلیم پھیلانے والا، سائنس کو خوش آمدید کہنے والا، صنعت و حرفت کی اہمیت کا قائل۔ توہمات کا دشمن، معقولات کا دوست۔ اپنی جھولی چندے سے بھرنے کا شوق اور اپنے ارد گرد اچھے آدمی جمع کرنے کی صلاحیت والا۔ راتوں کو اُٹھ کر مسلمانوں کے زوال پر آنسو بہانے والا۔ دنیاوی ترقی کا خواہاں اور دینی حمیت کی خاطر سیرت پر تحقیق کرنے کے لیے اثاثہ بیچ کر اور گھر رہن رکھ کر سات سمندر پار کا سفر کرنے والا۔ بر عظیم کے مسلمانوں کی خاطر جدید انگریزی تعلیم اور انگریز راج بلکہ سامراج کو مفید سمجھتے ہوئے انگریزوں کی حفاظت کی خاطر جان پر کھیل جانے والا۔ انگریز کی سیاست اور طرزِ حکومت کو بر عظیم کے لیے ناموزوں اور مسلمانوں کے لیے مہلک قرار دینے والا۔ مسلم ایجوکیشنل کانفرنس سے سیاسی پارٹی کا کام لینے والا۔ میں تعلیم والے سر سید کے کمالات اور اوصاف میں ایسا کھویا کہ دوسرے سر سید سے تعارف کی دل میں خواہش پیدا ہوئی نہ زندگی میں کبھی اس کا موقع ملا۔ ‘‘

مسلمانوں کو جدید انگریزی تعلیم کیلئے سر سید کی کاوشوں سے قبل ہندوستان میں مسلمانوں کی حالتِ زار کی نقشہ کشی کے لئے مختار مسعود نے نامور مورخ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر کی کتاب سے دو جملے پیش کئے ہیں۔

’’مورخ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر کے دو جملے مسلمانوں کے زوال اور کسمپرسی کی منہ بولتی تصویر پیش کرتے ہیں۔

ایک سو ستر سال پہلے ایک خاندانی مسلمان کا نادار ہونا ناممکن تھا۔ آج 1871ء میں اس کا خوش حال ہونا ناممکن ہے۔

سال 1871ء میں (صدر مقام کلکتہ میں) کوئی سرکاری دفتر ایسا نہ تھا جہاں کسی مسلمان کو یہ امید ہو کہ وہ قلی، قاصد، سیاہی کی دوات بھرنے والے یا قلم تراش سے بہتر درجہ کی ملازمت حاصل کر سکتا ہو۔ ‘‘

ہندوستان پر لگ بھگ ایک ہزار سال حکومت کرنے والے مسلمانوں کو علم سے دوری نے جو نقصان پہنچایا اور ہندوؤں نے انگریزی تعلیم حاصل کر کے جو فوائد حاصل کئے۔ اس کے بارے میں مختار مسعود لکھتے ہیں۔

’’مسلمانوں کے سوادِ اعظم نے جدید مغربی تعلیم کو قابل توجہ نہ سمجھا بلکہ مخالفت کے لیے اسے ایک اہم موضوع اور محاذ کا درجہ دیا گیا۔ علما میں سے لے دے کر صرف شاہ عبد العزیز ہی تھے جنہوں نے جدید تعلیم کے حق میں آواز بلند کی۔ یہ ایک تنہا آواز تھی اور وہ بھی ایسے شخص کی جس کے نامور اور غیر معمولی صلاحیتوں والے والدِ محترم کو  قرآن مجید کے فارسی ترجمہ اور دیباچہ کی وجہ سے جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ ہندوؤں نے اپنے تحفظات کے باوجود انگریزی تعلیم پر پوری توجہ دی اور اس کا بہت فائدہ اٹھایا۔ ہنٹر کہتا ہے کہ انگریزی تعلیم نے صدیوں سے سوئے ہوئے ہندوؤں کو خوابِ غفلت سے جگا دیا۔ ان لوگوں کو جو ایک عرصہ سے جمود اور بے حسی کا شکار تھے، قومی زندگی کے اعلیٰ مقاصد اور اقدار کی پاسداری کے لئے متحرک کر دیا۔ یہ تبدیلی مسلمانوں کی روایت، ضرورت اور مذہب کے تقاضوں کے سراسر خلاف قرار دی گئی۔ جدید تعلیم کا ہندوؤں کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ وہ لوگ جن کی شناخت ان کا صوبہ ہوا کرتا تھا وہ ایک قوم بن گئے اور اپنی شناخت ملک اور وطن کے حوالے سے کرنے لگے۔ انڈین نیشنلزم ایک طرح سے براہِ راست انگریزی تعلیم کا ثمر ہے۔ مسلمانوں نے انیسویں صدی کے پہلے پچاس سال پدرم سلطان بود کے نشے میں گنوائے۔ اس کے بعد غدر کا سارا الزام اپنے سر لے لیا۔ ایک زوال پذیر اور کم حوصلہ قوم نے جس نظامِ تعلیم کی مخالفت کی اُس کے اختیار کرنے کی بدولت اکثریت کی قوت اور اقلیت کی ناتوانی کے درمیان جو فاصلہ تھا، وہ اتنا بڑھ گیا کہ درمند مسلمانوں کو اسپین یاد آنے لگا۔

سر سید کے مدرسے سے قبل ہندوستان کے تعلیمی اعداد و شمار میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا فرق واضح ہے۔ ان حالات میں تمام تر مخالفت اور کفر کے فتووں کے باوجود سر سید اپنے عزم پر جس طرح قائم رہے۔ وہ حیران کن ہے۔ اگر وہ ہمت ہار جاتے تو شائد کبھی پاکستان کا قیام عمل میں نہ آ سکتا۔ ذرا دیکھئے مسلمانوں کی عملی صورتحال کیا تھی۔

’’آرسی موجمدار نے تاریخِ آزادی میں لکھا ہے کہ جب سر سید نے مغربی تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت بر عظیم میں مسلمان گریجویٹ صرف چھبیس تھے اور ہندو گریجویٹ 1652 تھے۔ تارا چند کی داستانِ آزادی کے مطابق 1845ء میں برطانوی ہند کے سرکاری تعلیمی اداروں میں 17350 طالب علم پڑھتے تھے۔ ان میں سے 13699 ہندو، 1636 مسلمان 236 عیسائی اور 1789 دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ 1861ء میں کلکتہ یونیورسٹی کے انٹرنس کے امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ میں 722 ہندو اور صرف 26 مسلمان تھے۔ اسی سال بی اے کے امتحان میں صرف انتالیس امیدوار شریک ہوئے۔ کامیاب ہونے والے تیرہ طلبہ میں گیارہ ہندو، ایک عیسائی اور ایک مسلمان تھا۔ ‘‘

سر سید کے خدمات کو یاد کرتے اور انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مختار مسعود کہتے ہیں۔

’’آج سر سید کی خدمات کا جائزہ اس زمانے کے سیاق و سباق میں لیں تو دو باتیں بڑی نمایاں نظر آتی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ سر سید نے برِ عظیم کے مسلمانوں کے زوال اور انحطاط کے اسباب کے بارے میں ایک طویل مدت تک بڑی سنجیدگی سے غور کیا۔ زوال کا غم کھانا اپنی جگہ مگر اس کے سدِباب کی فکر کرنا ایک روگ لگا لینے کی طرح تھا۔ اس سلسلہ میں سر سید نے بڑی زحمت اٹھائی۔ اس زمانہ کی واحد سپر پاور کا مطالعاتی دورہ کیا تا کہ اس کی کامیابی کا راز جان سکے اور اس طرح بالواسطہ اپنے زوال کے اسباب تک پہنچ سکے۔ اس تحقیق کا حاصل یہ تھا کہ برِعظیم کے مسلمان علم کے حصول میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ جب تک وہ جہالت اور توہمات سے پیچھا نہیں چھڑاتے اس وقت تک ان کا مستقبل تاریک رہے گا۔ دوسری بات جب ایک عمر تیاری میں صرف کرنے کے بعد سر سید نے جدید تعلیم کو برِ عظیم کے مسلمانوں میں عام کرنے کے منصوبہ پر عمل شروع کیا اس وقت اس کے لیے حالات انتہائی ناسازگار تھے۔ سر سید کے حوصلے اور ہمت کی داد دینا پڑتی ہے کہ اس نے ان دشواریوں کی کوئی پروا نہ کی، جو ہر سطح (مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی) پر موجود تھیں۔

سر سید احمد خان کی کس کس طرح مخالفت اور حوصلہ شکنی کی گئی۔ خصوصاً علمائے کرام نے جو کردار ادا کیا اور ان پر کفر کے فتوے لگائے۔لیکن ان عزم کومتزلزل نہ کرسکے۔ یہ پیرادیکھئے۔

’’زاہد چوہدری نے اپنے کتاب سر سید احمد خان میں لکھا ہے’’ جمال الدین افغانی نے بھی سر سید احمد خان اور دلی کے رفقا کے خلاف اپنے کفر کے فتوؤں میں اور مضامین میں بڑی نا شائستہ بلکہ غلیظ زبان استعمال کی۔ اگرچہ اس ملا کو بوجوہ عالمِ اسلام میں بالعموم اور برصغیر میں بالخصوص خاصی شہرت حاصل ہے لیکن اگر اس کی تحریروں کو عقیدت سے ذرا بالا تر ہو کر دیکھا جائے تو اس نتیجے پر پہنچنے میں دیر نہیں لگتی کہ اس ملا کے علم و دانش اور عقل و فکرکا معیار دوسرے قدامت پسند ملاؤں سے کوئی زیادہ بلند نہیں تھا۔ ‘‘

مختار مسعود نے مضمون کے اختتام پر مطالعہ سر سید کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر برِ عظیم کے عظیم دانشور کی تحریروں کا ایک مرتبہ پھر مطالعہ کا جس طرح بیان کیا ہے۔ اس کی جتنی داد دی جائے کم ہو گی۔ کاش ہم بھی سر سید کی کتابوں کا اس طرح معالعہ کر سکیں۔ جس طرح ان کا حق ہے۔

’’دوسری بار سر سید کی تحریریں جمع ہو گئیں تو میں نے ان کو سر تا سر پڑھنا شروع کیا۔ سر سید کے ذہن کی رسائی، دلچسپیوں کے دائرے کی وسعت اور فکر کی بے کرانی نے ایک بار پھر مجھے بہت حیران کیا۔ یہ کیسا عجیب و غریب شخص ہے ذرا فرصت ملی تو 43 بادشاہوں کاحال ایک نقشہ کی صورت مرتب کیا اور اس کا نام جام ِ جم رکھا۔ بادشاہوں کے ذکر سے فارغ ہونے کے بعد روزگار کی تلاش کرنے والوں کا خیال آیا اور اس نے ایک خلاصہ قوانین دیوانی متعلقہ منصفی چھاپ دیا۔ بہت سے لوگ اقرار کرتے ہیں کہ اس کی مدد سے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور منصف کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ اس کے بعد وہ چند مذہبی رسائل لکھنے میں مصروف ہو گیا۔ جونہی اس طرف سے فارغ ہوا تو آثارِ قدیمہ نے دامنِ دل کو کھینچا اور اس نے آثار الصنادید لکھی اور چھاپ دی۔ ایک دن یونہی خیال آیا کہ اس کتاب کی زبان ادق ہے اور وہ اسے از سر نو آسان زبان میں لکھنے بیٹھ گیا۔ تفسیر لکھنے کی خواہش ہوئی تو پہلے بائبل کی طرف متوجہ ہوا۔ قرآن مجید کی باری اس کے بعد آئی۔ تا ہم یہ کام مکمل نہ ہو سکا۔ تصحیح کا خیال آنے پر یہ شخص ابوالفضل کی آئین ِ اکبری اور ضیا الدین برنی کی تاریخِ فیروز شاہی کا انتخاب کرتا ہے۔ تدوین کا خیال آیا تو امام غزالی کے خطوط اس کی نظروں میں ٹھہر گئے۔ میں تو اپنی حیرت کے اظہار کے لیے چند مثالیں دیناچاہتا ہوں۔ آخر سر سید کو اتنے متنوع موضوعات پر لکھنے پڑھنے کا وقت نہ جانے کیسے مل گیا۔ اس راز کے تین حصے ہیں۔ تیز ہوش ہونا، تیز رفتار قلم رکھنا اور زندگی کا کوئی لمحہ ضائع نہ کرنا۔ یہ معمولی تین خوبیاں رکھنے والا ہر شخص کام کی کمیت اور مجموعی مقدار کے اعتبار سے سر سید بن سکتا ہے۔ ‘‘

سر سید کی تحریک کا تحریک ِ پاکستان پر اثر واضح ہے اور مختار مسعود نے اسے بخوبی واضح کیا ہے کہ سر سید کے انتقال کے صرف بیالیس برس بعد قراردادِ پاکستان کی صورت ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کر دیا اور اس قرارداد کے پیش ہونے کے صرف سات برس بعد پاکستان وجود میں آ گیا۔

’’وقت کی تیز رفتاری حیران کن تھی۔ مسلم ہند کو اس تیز رفتاری کا درس سر سید کے نظامِ تعلیم نے دیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیاسی طور پر وقت سر سید کو پیچھے چھوڑ گیا۔ ان کے انتقال کو بیالیس برس ہو چلے تھے۔ اس عرصہ میں برِ عظیم کے مسلمان آئینی سیاسی تحفظات کی ساری امکانی صورتوں پر غور کرنے کے بعد انہیں مسترد کر چکے تھے۔ بالآخر ان کی وہ سیاسی جماعت جو سر سید کی قائم کی ہوئی مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے  بطن سے پیدا ہوئی تھی، اس نتیجہ پر پہنچی کہ برِ عظیم بہت وسیع ہے، آبادی بہت زیادہ ہے۔ نسل، زبان اور مذہب کا فرق بہت نمایاں ہے۔ مختلف قومیں آباد ہیں جن میں سے دو ایسی ہیں جو رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے اپنی اپنی حکومت بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان حالات میں یہ بہتر ہو گا کہ جہاں ہندو اکثریت ہے وہاں کا اقتدار اعلیٰ ان کے پاس ہو اور جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اس کی حاکمیت انہیں منتقل کی جائے۔ ‘‘

حرفِ شوق تیسرا مضمون’’باعث ِ تحریر‘‘ ہے۔ جسے کسی حد تک مختار مسعود کی آپ بیتی بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ مضمون میں انہوں نے اپنی تعلیم ، سول سروس میں شامل ہونے اور ادب کی دنیا میں قدم رکھنے کا احوال بیان کیا ہے۔ اس مضمون کے کئی چشم کشا حصے ہیں۔ صدر ایوب خان نے پاکستان کی بیورو کریسی کو کس طرح تباہ کیا۔ اس پیراگراف سے واضح ہے۔

’’صدر ایوب خاں نے ایک تقریباتی ڈنر میں جہاں میں بھی موجود تھا، تقریر کرتے ہوئے کہا، یہ کیسی سول سروس ہے جس میں داخل ہونے کا دروازہ ہے مگر اخراج کا کوئی راستہ نہیں۔ بس ایک بار آ گئے اور ہمیشہ کے لیے آ گئے۔ میں نے دیکھا کہ ایوب خاں کی اس رائے کو سن کر دائیں بائیں بیٹھے ہوئے آئی سی ایس افسر بجھ سے گئے۔ جونیئر افسر بھی بے مزہ ہوئے۔ یہ کیسا صدر ہے کہ سول اور فوجی ملازمت کے فرق کو نظر انداز کر رہا ہے۔ سول سروس سے آئینی اور قانونی تحفظ واپس لینے کا مطلب یہ کہ آئندہ ملک کو محنت اور مہارت سے کام کرنے والے غیر جانبدار، بے غرض اور بے خوف کارکنوں کی جگہ سیاست، خوشامد اور رشوت سے کام لینے والے عیار اور مکار عملہ میسر آئے گا۔ چند دنوں بعد مارشل لا کے تحت حکم نامہ جاری ہوا۔ ایوب خاں نے اخراج کا دروازہ کھولنے کی خاطر وہ فصیل ہی گرا دی جو حکومت کی کارکردگی اور سرکاری فیصلوں کو سیاسی اغراض اور شخصی مصلحتوں سے جدا کرتی اور محفوظ رکھتی تھی۔ پیشہ ور قصیدہ گو نے کہا، سول سروس کا قلعہ فتح کرنا تاریخی کارنامہ ہے۔ تاریخ یہ واقعہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ یہ کسی نے نہیں سوچا کہ اس فصیل کے ڈھے جانے کے بعد لوگ کتنے غیر محفوظ ہو جائیں گے اور ملک گڈ گورننس سے کتنی دور چلا جائے گا۔ ہرکس و ناکس اُن بے اصول، بددیانت اور ایذا پسند صاحبانِ اقتدار کے رحم  و کرم  پر ہو گا جو رحم  و کرم کے معنی اور جہاں بانی کے اصولوں سے بالکل نا واقف ہوں گے۔

غرض ’’آوازِ دوست‘‘ ’’سفر نصیب‘‘ اور’’ لوحِ ایام‘‘ کے بعد مختار مسعود نے اردو ادب کو اپنے آخری تحفے سے مالا مال کیا۔ جس میں ایک پورا دور آنکھوں میں پھر جاتا ہے۔ سطر سطر علم کا دریا موجزن ہے۔ ان کی اس آخری کتاب کے بھی کئی ایڈیشن شائع ہوں گے۔ اردو ادب کے قارئین کبھی ان کی امر تحریروں سے دور نہیں ہو سکتے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: