شاخ سے اترا پھول —- نصرت یوسف

0

اماں کیا میں واقعی تمہارا اور ابا کا بیٹا ہوں؟
وہ چار سے چودہ اور چودہ سے چوبیس کا ہوگیا لیکن یہ سوال ماں کو ہمیشہ ہی نیزے کی انی سا چبھتا.
رنگت، رشتہ بھی مشتبہ رکھنے کی طاقت رکھتی ہے، وہ سوچتی اور تڑپ جاتی۔ انتظار کے بعد کی اکلوتی اولاد تھا جسکا نام باپ نے شاہجہاں رکھا۔
اس قسم کے نام اسکے گرد ناپید تھے، خود وہ بھی مختلف سا بچہ تھا، پیدا ہوا تو مسوڑھے میں دو سفید نقطے تھے، ڈاکٹر نے کہا “دانت ہیں”
اور پھر کچھ ہی مدت میں وہ نقطے سفید دانت بنے ابھر آۓ، بلاشبہ رب نے اسے در نایاب بنایا تھا۔
خاندان کے درمیان اسکی موتی رنگت اور سنہرے سے بال سب دیکھنے والوں سے ہمیشہ ہی سوال کرا دیتے.۔
وہ آخر کس پر ہے؟
“کونسا وظیفہ پڑھا تھا خوبصورت اولاد کے لیے”
“نہ باپ ایسا سوہنا اور نہ ماں کا یہ روپ”
“کیا قد بت ہے بلکل گوروں جیسا”
بس ایک پدم تھا جو اسکے سیدھے ہاتھ کی کلائ پر باپ جیسا تھا ہو بہو۔
وہ یہ سب سنتا اور احساس جمال اسکو بلندیاں چھونے کی خواہش کی طرف بڑھاتا جاتا..۔
بیس برس کی عمر میں تعلیم اور ملازمت ایک ساتھ نبھاتے وہ بہت سنجیدہ ہو چکا تھا، زیادہ گفتگو اول تو کرتا ہی نہ تھا، اور اگر کرتا بھی تو ابا، اماں اسکے دھیمے لہجے ہی میں منہمک رہتے۔
“یہ اپنا بیٹا نہ جانے کس پر ہے، بولتا بھی تو کپاس کے پھول جیسا ہے” ابا، اماں سے مسکراتے ہوئے کہتے تو وہ “کس پر ہے” پر جز بز ہو جاتیں، انہیں لگتا اگر دودھ میں شہد سی ملی رنگت ہوتی انکی تو سب یقینی طور پر اسے ماں پر کہتے مگر اب..۔وہ افسردہ سی ہو جاتیں…شاہجہاں کی کشش ہر ایک کو متوجہ کر لیتی…انسانوں کی تعریفیں خواہشیں اسکو میسر وسائل سے آگے بڑھتی رہیں.

باپ نے لاکھ چاہا انکے شاہراہ عام پر خوب چلتے حلیم کے کھوکھے کو بیٹا اپنی توجہ اور ساتھ سے کسی ہوٹل میں تبدیل کردے لیکن اسکو وہاں کھڑا ہونا ہی کبھی اپنے شایان شان نہیں لگا، اسے تو ابا کی کرسی کی پیچھے والی دیوار پر لگا آئینہ بھی پسند نہ تھا۔.۔اس آئینہ میں وہ “بہت خاص” نہ لگتا..۔ارد گرد کا عکس اسکی خدوخال کو مدھم کر دیتا۔اونچی آوازیں، شور، محنت کی گرد میں لپٹے سخت نقش و نگار والے وجود، ان میں کھڑا وہ مختلف ضرور لگتا لیکن شاندار نہیں۔ ابا کے کھوکھے پر وہ جاتا ہی نہ تھا؛ اور قسمت سے چلا بھی جاتا تو آئینہ نہ دیکھتا۔
__________
” آنے والا مارچ دو ہزار اٹھارہ تمہارے لیے بڑا خوش قسمت ہے”
یونیورسٹی کی کیفے ٹیریا میں بیٹھا معظم اسکی ہتھیلی تھام کر لکیریں پڑھتا بولا تو اسکے سراپہ سے اٹھتی نفیس سی خوشبو کو شاہجہاں نے سانس کے ساتھ کھینچا اور مسکرا دیا…
“دو مہینے باقی ہیں تیری بات کی جانچ میں!!بائیں ہاتھ سے اسنے سینڈوچ اٹھایا، مگر زرا سا کتر کر ہی چھوڑ دیا..”
ایک تو اماں کے بھاشن!! “اس نے دائیں بازو کو خفیف سی حرکت دیتے اسکے جھکے سر پر نگاھ ڈالی جو اب انگوٹھے پر نہ جانے کیا تلاش کر رہا تھا۔
“کیا میں سلیبرٹی بن جاؤنگا؟ “سوال میں شوق لپٹا تھا۔
“شاہجہاں تو تاریخی سلیبرٹی ہے”
” سلیبڑٹی فار ایور! “لکیروں سے نگاھ اٹھا کر اسنے شاہجہاں کا کندھا تھپتھپایا اور مسکرا دیا۔
“چل بہت ہو گیا فن اب کر لرن.۔کلاس شروع ہونے والی ہے!!”
“یار تو یہ بزنس اسٹڈیز میں کہاں اٹک گیا، تیری تو پامسٹری ہی زبردست بزنس” شاہجہاں نے دوست کے کندھے پر ہاتھ مارتے چاۓ اور سینڈوچز کا بل ادا کیا تو وہ قہقہہ لگا گیا..۔
“ڈگری کے ساتھ ہو تو رعب پڑتا ہے پیارے….” شاہجہاں اسکی بات سے سر ہلا گیا۔
_____________
فروری میں ابا نے گھر کے آنگن میں کدو کی بیل لگائ، اسے ابا کی اس پسندیدہ سبزی سے کوئی خاص رغبت نہ تھی..۔اسے تو سورج مکھی پسند تھا جو طاقتور سورج کے ساتھ اپنا ناطہ رکھتا تھا۔جدھر سورج ادھر سورج مکھی۔سر اٹھا کر شان سے جینے والا..۔کدو کی طرح زمین کے ساتھ جڑا نہیں.۔
اماں اور ابا دونوں اسکی یہ منطق سن کر مسکرا دیتے۔
“مجھے شان اور کان سے غرض نہیں شاہجہاں، کدو میرے نبی کی پسندیدہ غذا تھی، محبت کے لیے بس یہ رشتہ ہی کافی” ابا کے لہجے میں عقیدت رچی ہوتی جو اسے بھی چپ کر دیتی۔
اسے مارچ کا شدت سے انتظار تھا، معظم کی پامسٹری نے اسے اضطراب میں ڈال دیا تھا۔
اسے اپنا آپ ہمیشہ” ادھوری تصویر “لگی تھی جسے مارچ میں خوش قسمت بننا تھا شاید۔
_____________
مارچ کی پچیس ہو چکی تھی، وہ ابھی تک وہی شاہجہاں تھا.۔جو ابا کے کھوکھے کی کمائی سے ہمیشہ ہی چمکتی دمکتی بائیک اور اچھے حلیہ میں دنیا کو ملتا۔
“لیکن یہ سب بہت کم ہے جو میں حق رکھتا ہوں”
بڑی ہی عجیب بات تھی جو وہ سوچتا تھا،
بندہ کون ہوتا ہے خالق سے حق کا مطالبہ رکھنے والا
“جو رب نہ دے تو بندہ تو پلک بھی نہ جھپک سکے”
شاہجہاں کو ابا کی بات پچیس مارچ کو بڑی یاد آئ جب مقامی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں اسکا سی وی مسترد کر دیا گیا۔
” اتنی اچھی شکل مسترد کردی!! لگتا ہے ابا والا آئینہ ان کے پاس ہے” یہ دسویں جگہ ہے جہاں یہ شاندار لکس بیکار ہی رہیں، نہ جانے کوئی پری میرے لیے کیوں نہیں اترتی.۔
“چاۓ والا ‘بڑے مقدر والا تھا سالا”
“یہاں تو ڈگری ساتھ بھی ردی میں”
بائیک کو کک لگاتا وہ خاصا مایوس تھا۔
مارچ کی تیس، شاہجہاں کی بائیسویں سالگرہ ابا نے ہمیشہ کی طرح حلیم کا پتیلہ صدقہ دے کر یاد رکھی۔
بھانت بھانت کے آلی موالی، غریب، مسکین اس دن شاہجہاں کے باپ کے کھوکھے پر جمع خصوصی حلیم کلچہ کےساتھ کھا رہے تھے۔
گاڑیوں کے پیچھے دوڑ تے، بھاگتے غبارے بیچتے بچے نے دنوں بعد مزے دار کھانا کھایا، ، جسکے ساتھ کھٹا لیموں بھی تھا.۔
جب وہ کھوکھے سے پلٹا تو اسکی چال میں ہرن سی قلانچییں تھیں..۔اور آنکھوں میں سیری کی چمک.۔
—————————
مارچ بھی گزر گئ..۔ یونیورسٹی سے ملازمت اور ملازمت سے گھر لوٹنے تک شاہجہاں شدید یاسیت زدہ ہو چکا تھا۔
ابا کو اسکی درزی کی ملازمت بھاتی نہ تھی اور اسے ابا کا مردانہ لباس کے اچھے خاصے نامور ڈیزائنرکی آووٹ لیٹ کو’ درزی خانہ ‘ کہنا اس سے زیادہ نا پسند تھا۔حالانکہ ابا تنگ سوچ میں نہ جیتے تھے لیکن بیٹے کا ہر ایرے غیرے کے اعضاء کی پیمائش کے لئے مقرر ہونا انکے نذدیک حلیم گھوٹنے سے زیادہ معمولی کام تھا.

___________________
یکم اپریل تھی، وہ بہت خاموش تھا..۔ اماں نے اسکی پسند کا آملیٹ، ابا کے لیے مولی کا پراٹھا ناشتہ میں بنا کر دونوں کو آواز دی…
ابا وقت پر کام کے عادی تھے، ایسا ہی شاہجہاں تھا لیکن وہ دیکھ رہے تھے کہ کچھ دنوں سے وہ بیزار جہاں لگ رہا ہے۔
آج بھی وہ دیر سے میز پر آیا، ماں نے ہاٹ پاٹ سے آملیٹ نکال کر محبت پاش نظروں سے دیکھتے پلیٹ اسکے آگے سرکائ
“ابا جگہیں بھی منحوس ہوتی ہیں!!”
پراٹھے کا نوالہ سکون سے نگلتے ابا نے شاہجہاں کا اچانک کہا گیاغیر متوقع جملہ سن کر بیوی کو سوالیہ نگاہ سے دیکھا جو خود لاعلم تھی.۔
“بیٹا جہاں گناہ کے ڈھیر جمع ہوں وہ جگہیں کیا دل بھی نحوست ذدہ”
ابا نے کچھ خاموشی کے بعد جواب دیتے بیٹے کو دیکھا جس نے ناشتہ کو ہاتھ بھی نہ لگایا تھا، باوجود کہ ماں نے کئ بار اسکو متوجہ کیا لیکن وہ ہاتھ باندھے بیٹھا رہا۔
“سستی اور کاہلی بھی منحوسیت ہے!! ”
ابا کا لہجہ اب کہ ناگوار تھا،
” ابا یہ گھر منحوس ہے، یہاں رہ کر میں ترقی نہیں کر سکتا”
ابا کا چہرہ طیش سے سرخ ہوا اور بمشکل انہوں نے اپنے آپ کو قابو کرتے چاۓ کا مگ پٹخا اور ڈگ بھرتے گھر سے باہر نکل گئے..اسکوٹر اسٹارٹ ہونے کی آواز تک اماں کھڑی لرزتی رہیں، اماں پر نظر ڈالتے بیٹے نے پلیٹ کھسکائ اور انکے شانے پر ہتھیلی کا دباؤ ڈال کر اپنے کمرے کی طرف مڑ گیا۔
فورا ہی باہر آکر اس نے متلاشی انداز میں اپنے ٹھنڈے پڑے ناشتہ کے برتنوں کے درمیان ہاتھ چلاۓ،
“چابی کہاں گئ؟؟ ” وہ جھنجھلایا
اماں نے کچن سے جھانک کر دیکھا لیکن خلاف توقع لپک کر نہیں آئیں۔ شاید وہ بیٹے اور شوہر کے درمیان ہونے والے چبھتے جذبات کے زیر اثر تھیں..۔
چپ اور مضمحل!!
شاہجہاں یہاں سے وہاں چابی ڈھوندتا اماں کا تلاش میں ساتھ نہ دینے پر مزاج بھی گرم کرتا رہا۔
ماں کیا ساتھ دیتی جب کہ وہ میاں کو چابی اٹھاتا دیکھ چکی تھی..۔جو یقیناً غلطی نہیں بلکہ سمجھ کر لے جائ گئ تھی۔
“وہ اس مزاج کا باپ تو نہ تھا، پھر آج کیوں ایسا ہو گیا؟؟” ماں سوچ میں گم تھی..۔
ماں تھی، محبت کا اتھاہ سمندر، اندازہ ہی نہ کر پائ، آنے والے لمحوں کی چاپ باپ نے اولاد کے انداز سے بھانپ لی تھی۔
جسکے لئے خوشی اور غم کی پری دولت بن چکی تھی، جس نے اسکا لہجہ ہی بدل ڈالا تھا۔
————-
مدت بعد وہ عوامی سواری کی تلاش میں سڑک پر کھڑا ہوا.۔ہر ایک اسے اپنے سے بڑا نخریلہ لگا، ابا پہ ہر آن غصہ بڑھتا ہی رہا، اور پھر ایک رکشہ والے کے تمام تر انداز برداشت کرتے وہ یونیورسٹی پہنچ ہی گیا.
مزاج درست نہ تھا، اس لیے ہر شۓ بیکار لگ رہی تھی.۔یار دوست بھی اور پڑھائی بھی..۔
ہر اس انسان سے رشک اور جلن دونوں محسوس ہورہا تھا جس پر دنیا فراوانی سے کھلی تھی..۔
فقر تو شاہجہاں نے بھی نہ دیکھا تھا.۔اب کرشمہ سازی اپنے ساتھ ہوتی دیکھنا چاہتا تھا۔
وہ کرشمہ جو راتوں رات صفر سے ظفر تک پہنچادے،
اگر نہ بھی پہنچاۓ تو اس راہ پر رواں ہی کر دے.
ایک بور دن یونیورسٹی میں گزار کر حسب معمول سہ پہر وہ نوکری کے لئے پہنچ گیا.۔
یہ مردانہ ڈریس ڈیزائنر کی آووٹ لیٹ تھی۔
جہاں فیتہ تھامے کالے، گورے، لمبے، چھوٹے رجال کی پیمائش کرتا ابا کے بقول”خوار” ہوتا ہے

گاہگوں کا خلاف معمول رش تھا، جو تیار کپڑوں سے زیادہ ملبوسات سلوانے میں راغب تھے۔
ایک فربہی مائل گوری رنگت والے کےکوٹ کا ناپ لیتے شاہجہاں خاصی سستی کا شکار تھا.۔
گاہگ سے اٹھنے والی خوشبو بہت نفیس تھی، اسنے کالر کی ناپ لیتے زبردستی کاروباری مسکراہٹ ہونٹوں پر چسپاں کی اور خواہ مخواہ اپنا موازنہ اس گاہگ سے کرنے لگا، جسکا لہجہ دھیما اور شائستہ تھا۔
اسکی شخصیت پر شاہجہاں کو تیئیس انچ آستین کے ساتھ سینتیس انچ کے پیٹ کی پیمائش خاصی غیر معقول لگی.۔
“آپ کچھ عرصہ ورک آووٹ کریں تو مووی ڈائریکٹر ٹام ہوپر لگیں” نہ جانے کیوں وہ بول پڑا تو گاہگ نے ایک لحظہ کو ناگوار نگاہ سے شاہجہاں کو دیکھا اور پھر بے تاثر ہوگیا.۔شائستگی میں دڑار بن مانگے مشورے نے ڈال دی تھی..۔شاہجہاں کا مضمحل موڈ مذید غبار آلود ہو گیا۔
وہ اس گاہگ سے فارغ ہو کر گھر جانے کی سوچنے لگا مگر رش کی بنا پر جلد نکلنا ممکن نہ لگ رہا تھا۔
کچھ دیر بعد جب وہ گاہگوں کی پیمائش کو تحریر سے کمپیوٹر سسٹم میں منتقل کر رہا تھا تو کوئی اسکے قریب آیا.۔شاہجہاں نے دیکھا یہ وہی تھا جو اسے ٹام ہوپر سے ملتا لگا تھا.۔
“تم نے ٹام ہوپر کی کون سی فلم ماضی قریب میں دیکھی ہے؟”
“The Danish girl ”
وہ فوراً بولا تو گاہگ مسکرا گیا..۔دھیما پن اور شائستگی لوٹ آئ تھی۔
“یہ میرا کارڈ ہے، جلد مجھ سے ملو”
وہ مزید کچھ کہےوزٹنگ کارڈ اپنے دستخط کے ساتھ شاہجہاں کو تھماتا پلٹ گیا۔
“ویب مووی پروڈیوسر مصباح حسیب”شاہجہاں نے کارڈ پر نظریں دوڑاتے سنسنی سی محسوس کی اور بے اختیار سیٹ سے کھڑا ہو گیا۔
“کیا وہ لمحہ آگیا؟؟؟؟” اس نے اپنے آپ سے پوچھا۔
پیمانہ تھامے کالے، گورے، لمبے، چھوٹے رجال کی پیمائش کرتا ابا کے بقول”خوار” ہوتا ہے، مصباح کی نظر میں آگیا نے اسے پچاس انچ اسکرین کی جانب موڑ دیا، اسے لگا وہ فاتح ہے، بلکل سمبا کی طرح جو اسکی پسندیدہ مووی کا جی دار شیر ہے۔اور اب زمانہ اسکی مٹھی میں آیا ہی چاہتا ہے..۔گردنیں اسکے آگے خم گیر ہونگیں اور زبانیں اسکے سامنے کم گو.۔بے اختیار کامیابی کا نعرہ لگانے کی خواہش نے اسکی مٹھیاں بھینچ دیں۔
متوقع طاقت کے احساس نے اسکے اندر پارہ سا بھر دیا،

“ثابت ہوا معظم تو بیکار کا پامسٹ ہے….مارچ دو ہزار اٹھارہ ختم ہوۓ وقت بیت گیا اور قسمت نہ بدلی!! ”
“آج قسمت کا رنگ بدلا تو مہینہ بھی بدل چکا ہے!! ”
خود کلامی کرتے اس نے قد آور آئینے میں اپنا سراپہ ستائشی نظروں سے دیکھتے کتنے ہی خواب دیکھ ڈالے.۔ہنسی اس کے لبوں پر رواں تھی، پیمائشی فیتہ اسنے لپیٹ کر رکھا اور رخصت لیتا دکان سے باہر آگیا.
لمحوں میں خود نمائ اسکے وجود پر آباد ہو چکی تھی.۔

– – – – – – – –
آج اسنے ہر سگنل توڑا اور ہر احتیاط کو اڑایا..۔ سانسیں سلامتی کے ساتھ باقی تھیں، ورنہ ایدھی اور چھیپا کی دو ایمبولینس ٹریفک میں پھنسی اس نے خود دیکھیں.۔ایک میں خوفزدہ چہرہ تھا، بے حد حسین نسوانی چہرہ لیکن آنے والے وقت کی دہشت سے نچڑا ہوا.۔وہ اسٹریچر کے ساتھ بیٹھی مورتی لگ رہی تھی.۔
دوسرے میں بے روح جسم ایمبولینس کی چادر میں لپٹا.۔سر سے پیر تک ڈھکا.۔چادر پر جا بجا ادارے کے نام کے چھاپے تھے..۔شاہجہاں کو بس دو لمحے کے لیے اس ایمبولینس کے قریب رکنا پڑا تھا، نہ جانے کافور کی بو کیوں ابھری اور وہ رکی ہوئی گاڑیوں کے بیچ جگہ بناتا تیزی سے آگے چلا گیا۔
“آج کا دن یادگار بنانے کا دن ہے، کھنڈرات دیکھنے کا نہیں”، وہ کیمفر کی بو سے کوفت زدہ ہوا تھا، عجب فشار سا اس میں پھیلا اور تنگ راستوں میں سرنگ بناتی اسکی بائیک ایک عظیم جثہ سے ٹکرا گئی۔
ٹریفک میں پھنسی ایمبولینس جس میں بے روح وجود تھا، اور وہ ایمبولینس جس میں سہمی سی دوشیزہ تھی مزید شور مچانے لگیں، شاہجہاں کے مٹھی میں بند ستارے زمین پر بکھرے تھے اور زمینی راستہ بند تھا.وہ آسمان جو بس کچھ دیر قبل دلبر سا تھا، ڈوبتی نبض کے ساتھ شاہجہاں کو وہ اپنے اوپر گرتا لگ رہاتھا۔دور او پر در کھل رہا تھا.۔لمحوں پہلے یہ راستہ کہیں کا تھا اور اب بدل چکا تھا
——————
مصباح حسیب نے پورے ہفتہ اپنے نۓ پروجیکٹ “گیز لوو اسٹوری” کے لیے شاہجہاں کا انتظار کیا.۔ بہترین نین نقش جسے قسمت نے اسکے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔وہ خود ایسا چراغ نہ ڈھونڈ پاتا، لیکن نہ جانے وہ کہاں گم ہو چکا تھا، مصباح کو یقین تھا کہ شاہجہاں کی شہد سی آنکھیں جسطرح جگمگائیں تھیں، وہ بہت جلد اسکے سامنے با ادب تصویر بنا ہوگا لیکن وہ تو کھلی فضا میں بانسری سے آتی دھیمے سر مانند کہیں کھو چکا تھا۔
مصباح حسیب کے گراں ترین منصوبہ پر لمبی مدت کے قفل لگ گۓ۔
شاہجہاں کےگھر اترا غم کا ساون ماں باپ کا زخم دل نہ بھرتا تھا .۔لیکن وہ یہ نہ جانتے تھے کہ اگر یہ ساون نہ ہوتا تو بھی اشکوں کے دریا وہ بہاتے اور صدیوں کی خاموشی ان پر چھا جاتی۔

آج کا دن یادگار بنانے کا دن ہے، کھنڈرات دیکھنے کا نہیں”، وہ کیمفر کی بو سے کوفت زدہ ہوا تھا، عجب فشار سا اس میں پھیلا اور تنگ راستوں میں سرنگ بناتی اسکی بائیک ایک عظیم جثہ سے ٹکرا گئی۔
ٹریفک میں پھنسی ایمبولینس جس میں بے روح وجود تھا، اور وہ ایمبولینس جس میں سہمی سی دوشیزہ تھی مزید شور مچانے لگیں، شاہجہاں کے مٹھی میں بند ستارے زمین پر بکھرے تھے اور زمینی راستہ بند تھا.وہ آسمان جو بس کچھ دیر قبل دلبر سا تھا، ڈوبتی نبض کے ساتھ شاہجہاں کو وہ اپنے اوپر گرتا لگ رہاتھا۔ دور او پر در کھل رہا تھا.۔ لمحوں پہلے یہ راستہ کہیں کا تھا اور اب بدل چکا تھا
——————
مصباح حسیب نے پورے ہفتہ اپنے نۓ پروجیکٹ “گیز لوو اسٹوری” کے لیے شاہجہاں کا انتظار کیا.۔  بہترین نین نقش جسے قسمت نے اسکے سامنے لا کھڑا کیا تھا۔ وہ خود ایسا چراغ نہ ڈھونڈ پاتا، لیکن نہ جانے وہ کہاں گم ہو چکا تھا، مصباح کو یقین تھا کہ شاہجہاں کی شہد سی آنکھیں جسطرح جگمگائیں تھیں، وہ بہت جلد اسکے سامنے با ادب تصویر بنا ہوگا لیکن وہ تو کھلی فضا میں بانسری سے آتی دھیمے سر مانند کہیں کھو چکا تھا۔
مصباح حسیب کے گراں ترین منصوبہ پر لمبی مدت کے قفل لگ گۓ۔
شاہجہاں کےگھر اترا غم کا ساون ماں باپ کا زخم دل نہ بھرتا تھا.۔ لیکن وہ یہ نہ جانتے تھے کہ اگر یہ ساون نہ ہوتا تو بھی اشکوں کے دریا وہ بہاتے اور صدیوں کی خاموشی ان پر چھا جاتی۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: