بغض عمران : بھگتنا آپ کو ہی پڑے گا ——– خرم شہزاد

1

نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا تو جہاں ہمدردی اور مذمت کی بہت سی پوسٹیں اور بیانات سوشل میڈیا پر نظر سے گزرے وہیں ایک سمجھدارانہ بیان بھی موجود تھا کہ دہشت گرد نے فائر کھولتے ہوئے کسی سے یہ نہیں پوچھا کہ تم حاضرنبی کے قائل ہو کہ نہیں؟ تم آہستہ آمین کہتے ہو کہ باآواز بلند؟ تم صرف سبز رنگ ہی پہنتے ہو یا اور رنگوں کے نام بھی جانتے ہو؟ تم ہاتھ سینے پر باندھتے ہو، ناف کے اوپر یا نیچے؟ تم بزرگوں کے مزارعات پر جاتے ہو یا صحابہ اکرام کو بھی ہمارے جیسے عام مسلمان سمجھتے ہو؟ دہشت گرد نے کچھ بھی نہیں پوچھا، اس نے تو مسجد کا بھی مسلک نہیں دیکھا کہ اس میں کون سے مسلک کا داخلہ ممنوں ہے اور کن لوگوں کو نماز کی اجازت ہے، اس نے بس مسجد دیکھتی اور اندر بیٹھے ہر شخص کو صرف مسلمان سمجھا اور فائر کھول دیا، اس لیے جب دنیا اور دہشت گرد ہمیں صرف مسلمان سمجھتے ہیں تو ہمیں آپسی اختلافات بھلا کر صرف مسلمان ہی بننا چاہیے۔

عربستان میں ہر سال کہیں نہ کہیں ایک ایسا ایماندار ٹیکسی ڈرائیور ضرور سامنے آتا ہے جو نوٹوں سے بھرا ہو ابیگ واپس مسافر تک پہنچاتے ہوئے مثال قائم کرتا ہے، تب کوئی یہ نہیں کہتا کہ فلاں شہریا فلاں زبان بولنے والا یا فلاں مسلک کا فلاں شخص بہت ایماندار ہے بلکہ عمومی بات یہی کہی جاتی ہے کہ پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور بہت ایماندارہوتے ہیں۔ اسی طرح جب ایک سربراہ مملکت اپنے ملک کی بیٹی کی گرفتاری کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ مدد بھی کرتا ہے تو امریکہ کی عدالت میں کھڑا وکیل یہ نہیں کہتا ہے کہ ہمارے دوست اور پارٹنر نے دہشت گردی کی عالمی جنگ میں ہماری مدد کی ہے، وہ کہتا ہے کہ پاکستانی تو چند ڈالرز کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ آج کے عالمی گاوں میں کوئی بھی ایک شخص اپنی ذات میں پورا ملک، پوری قوم ہے۔ جدید اور تیز ترین دنیا میں آج کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ باربار لوگوں کو پرکھے، آج ہر شخص نہ صرف سفیر ہے بلکہ اُس ایک شخص کی اچھائی یا برائی سے پورے ملک اور معاشرے کے بارے رائے قائم کر لی جاتی ہے اور دنیا اس سے آگے اپنے پلان اور پروگرام بنانے لگ جاتی ہے۔

اس تمہید کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ سوشل میڈیا اور ہمارے معاشرے میں عملی طور پر بھی ایک بڑی تعداد عمران خان کی ناکامی کی خواہش لیے گھوم رہاہے۔ ایک عام شہری بھی مہنگائی اور چند چھوٹے چھوٹے مسائل کو لے کر اپنے پاو بھر گوشت کے لیے ملک کا بیل کٹوانے کے درپے ہے۔ اپوزیشن جماعتیں تو اپنی سیاسی مخالفت میں ہیں لیکن عام آدمی کس وجہ سے عمران خان کی ناکامی کا خواہشمند ہے یہ اس عام آدمی کو بھی نہیں پتہ۔ سیاست دانوں کے سیاسی بیانات پر ایمان لاتے ہوئے وہ بھی ٹاک شوز میں سنے ہوئے جملے رٹو طوطے کی طرح دہرانے لگ جاتا ہے جس کی اسے ککھ سمجھ نہیں ہوتی۔ افراط زر اور جی ڈ ی پی پر بحث کرنے والے سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ ان چیزوں کو ماپا کیسے جاتا ہے اور کیسے کسی معیشت کا جی ڈی پی نکالا جاتا ہے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے کہ آپ اسے ان پڑھ اور غیر محب الوطن سمجھتے ہیں۔ فی الوقت کیونکہ عمران حکومت پہلی بار مرکز میں قائم ہوئی ہے اس لیے اس پر کرپشن یا ایسے ہی دوسرے الزامات نہیں لگائے جا سکتے تو مخالفین کے پاس صرف ایک جملہ ہوتا ہے کہ عمران نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے اور جو کہا وہ نہیں کر دیکھایا تو بس یہ حکومت گرا دینی چاہیے کہ عمران ایک ناکام شخص ہے۔ آئیے سوچتے ہیں کہ کیا عمران خان کی ناکامی صرف ایک شخص کی ہی ناکامی ہو گی یا ملک پاکستان اور اس کے عام شہری بھی اس ناکامی میں حصہ دار ہوں گے۔

عمران ناکامی کا دوسرا مطلب نئے الیکشن کروانا ہے۔ اپوزیشن کو جہاں ایک بار پھر حکومت بنانے کی ایک امید نظر آتی ہے وہیں عام آدمی سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ کیا وہ نئے الیکشن کا خرچہ اٹھانے کو تیار ہے۔ ایک الیکشن صرف منہ سے بولے چند الفاظ سے مکمل نہیں ہو جاتا بلکہ پندرہ ارب سے زائد کا ٹیکہ معیشت کو لگتا ہے اور یہ خرچہ مزید مہنگائی اور ٹیکس بڑھا کر ہی پورا کیا جاتا ہے۔ ایک سیاست دان کا صرف کروڑ سوا کروڑ کا خرچہ ہو گا لیکن کیا اک عام آدمی مزید مہنگائی اور نئے ٹیکس صرف اس لیے قبول کرنے کو تیار ہے کہ اسے عمران خان کا چہرہ پسند نہیں۔

عمران خان نے حکومت تبدیلی کے نام پر بنائی اور اس کے لیے کوشش شروع کر دی۔ وہ کتنا کامیاب یا ناکام ہوا اس کے لیے ہمیں حکومت کی مقررہ مدت پوری ہونے کا انتظار کرنا چاہیے ناں کہ اگلے دن ہی ڈھول گلے میں ڈال کر بازار میں پہنچ جائیں۔ عمران خان کی ناکامی صرف تبدیلی کی ناکامی نہیں ہوگی بلکہ اس خیال کو بھی تقویت ملے گی کہ پاکستان میں نہ تو نیا چہرہ حکومت میں آ سکتا ہے اور نہ یہاں کسی نئے شخص کو کام کرنے کے لیے وقت ملتا ہے۔ یہاں حکومت کا مطلب مخصوص خاندانوں میں رہنے والا اقتدار ہے جس کے لیے سب نے اپنی باری لگائی ہوئی ہے۔ عام آدمی جب ذاتی طور پر نئے چہرے اور سسٹم کے بدلنے کی بات کرتا ہے وہیں نئے چہروں کے آنے پر اسے پرانے آقاوں کی یاد ستانے لگ جاتی ہے۔ کسی زمانے میں پنڈت جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ اتنی تو میں نے دھوتیاں نہیں بدلیں جتنے پاکستانیوں نے حکمران بدل لیے ہیں، خطے کے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ کیا واقعی یہ لوگ الگ ملک اور حکومت کے قابل ہیں یا نہیں۔ یقینا آج مودی صاحب سے ایسے کسی بیان کی خواہش ہماری عقل مندی نہ ہو گی۔

آپ ایک عام آدمی ہو کر عمران خان پہ تنقید کرتے ہیں، بھلے کیجئے کوئی مسئلہ نہیں لیکن اپنے اور ملک حالات پر بھی ایک سنجیدہ نظر ڈالئے۔ اپنے پاو گوشت کے لیے ملک کی معیشت کا بیل کٹوانے کی کوشش تو نہ کریں۔ پسندیدہ چہرے دیکھنے کے شوق کو فلموں سے پورا کریں اور ایوان اقتدار کو فلم کا سیٹ نہ بنائیں جہاں آپ کی پسند کے مدنظر کاسٹ تبدیل کر لی جاتی ہے۔آپ اپنی زندگی میں کس قدر وعدوں کے پاسدار اور اپنے الفاظ پر کھڑے ہیں، آپ خوب جانتے ہیں توحکومتی مجبوریوں پر تحمل کا مظاہرہ کریں۔ عمران خان پاکستان نہیں ہے لیکن عمران خان کی ناکامی پر دنیا میں پاکستان ایک ناکام ملک کے طور پر ضرور سامنے آئے گا۔ بغض عمران میں اپنا اور اپنے مستقبل کا نقصان نہ کریں کہ سیاست دان تو پھر اقامے اور گرین کارڈ نکال کر باہر نکل جائیں گے، بھگتنا آپ کو ہی پڑے گا۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: