شعورِ ادب، مقامِ ادب (حصہ چہارم): تحریکِ الحاد کے شعر و ادب پر اثرات ۔۔۔۔۔۔۔۔ رائو جاوید اقبال

0

ادب کے ذریعے سے سماجی اقدار منتقل ہوتی ہیں۔ یہاں یہ ماننا پڑے گا کہ سماجی اقدار بنیادی طور پر مذہب سے وابستہ ہیں۔ لیکن موجودہ دور میں (اگرچہ یہ ڈھائی صدیاں پرانی ہے) الحاد ی تحریک کے زیرِ اثر کی جانے والی سماجی و مذہبی تنقید ادب وشعر کو اقدار سے دور لئے جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدیدیت اور اقدار کو باہم متناقض مانا اور سمجھا جاتا ہے۔ اقدار کو مذہب کے ہم معنی لفظ کے طور پر استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن امتدادِ زمانہ یا ادیبوں کے کسی شعوری اکتساب کی بناء پر اب ایک فرق یہ واضح ہو رہا ہے کہ ادبی تحاریر میں مذہب کو جدیدیت کا پہلے کا سامخالف نہیں مانا جاتا۔ الحاد، جسکا بطور لفظ، ابتدائی استعمال ہولی اوک نے کیا، وہ اب تہذیبی ماہرین (اینتھروپالوجی) اور سماجی معلمین کے ہاتھ میں جو کہ یورپ وامریکہ کی موجودہ تہذیب کے سوا بھی دیگر تہذیبی جہات کو دیکھتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک ادیب الحادی تحریک کے ادبی اثرات کا رخ موڑ رہے ہیں۔ یہ عجب قصہ ہے کہ الحاد کی ڈھائی سو سالہ تحریک کے بعد بھی لوگ مذہب پر عمل سے ضرور دور ہوئے لیکن مذہبی اعتقاد سے نہیں۔ یورپ میں مذہب سے مراد زیادہ تر عیسائیت ہے۔ گویا اب معاشرے الحاد سے واپسی ہے۔ امریکہ تک میں لوگ جدیدیت کے ساتھ ساتھ مذہبی اعتقاد و اقدار اپنارہے ہیں۔ اس سے الحادی تحریک کی بنیاد پر زد پڑتی ہے، بھلے الحاد پرست اسے تسلیم نہ کریں۔ یوں دنیا اپنے فطری روئیے اور حقیقی ادب یا احترام و انسانیت کی روایت کی جانب پلٹ رہی ہے۔

گاؤچے کہتا ہے کہ اقدار پر مبنی قدیم (ٹریڈیشنل) مذہب کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ادب کبھی صرف مذہبی تھا جسے الحادی تحریک نے متاثر کیا۔ لیکن حالیہ ترین عہدِ جدید نے ادیبوں تک کو خالص الحاداور مذہب بیزاری سے ذرا سا ہٹایا ہے۔ ادبی پیرائیوں میں الحاد کی مکمل وکالت سے ہٹ کراب مذہب و الحاد کی بحث عود کرآئی ہے۔ یورپ وامریکہ کی چند جامعات میں “ادب بعد ازالحاد” پر ڈگریاں بھی دی جارہی ہیں۔ اسے انقلابِ فرانس کا تتمہ کہا جائے یا کچھ اور لیکن ایسا ہورہا ہے۔ اس پر رومی فلسفیانِ الحاد، زینو اورمارکس اُریلئیس کے علاوہ عہدِ روشن کے عقال، جان لاک، وولٹائر اور تھامس جیفرسن یا عہدِ نو کےملحدِ اعظم برٹرینڈ رسل ضرورتشویش کا شکار ہونگے۔ ادب کی دنیا پر راج کرنے والوں کو یوں دیس نکالا دینے سے یقینا الحاد ی تحریک کی بنیادیں کھوکھلی ہوجائیں گی۔

ادب سے مستقبل بعید تک آنے والی نسلوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے لیکن اس حقیقت سے کم ہی لوگ واقف ہیں۔ جب دقیق و مشکل پسند فلسفہ عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر رہتا ہے، تو ادیب اسے آسان فہم اور زود ہضم انداز میں ذہن میں اتار دیتے ہیں۔ چھوٹے لطیفے، مناسب سی تنقید اور ہلکا پھلکا استہزاء انسانی اذہان کو اندر سے بدل دیتا ہے۔ انسان کو دھوکہ دینا خاصا بڑا آرٹ ہے۔ لیکن انسانوں کے بڑے مجموعوں کو غلط فہمی میں ڈالے رکھنے کیلئے بڑے حربے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ بیسویں صدی میں اس کیلئے ناول اور فکشن کے ذریعے “توہم پرستی “اور مذہب کے خاتمے میں خاصہ کام لیا گیا۔ آزاد خیال قومی ریاستوں کے منصوبہ سازوں نے ناول اور فکشن پرخاصی سرمایہ کاری کی۔ اس لحاظ سے غیر مذہبیت یا لحاد کو انسانی تاریخ کی سب سے پراثر گو بعض کے نزدیک منفی تحریک بھی قرار دیا جاسکتا ہے جس نے انسانیت کو اس کے فطری جذبات سے دور رکھنے میں خاصی سے زیادہ تگ و دو کی ہے۔ پاکستانی مفکرین کی بھلے یہ کوشش رہے کہ سیکولرازم کو وسیع المشربی قرار دیا جائے یا اسے رواداری سے تعبیر کیا جائے لیکن ادبی نقاد یہ مانتے ہیں کہ مغرب کی الحادی تحریک نے کم از کم شعر و ادب کو بطور ہتھیار استعمال کرکے نوجوان نسلوں کو مذہب مخالف کیا۔ یہ الزام کچھ کم نہیں۔ یہ غیر فطری تھا۔ اس سے سائنس کو ماناگیا یا نہیں لیکن لوگ فطری رویوں اور انسانیت سے دور ہوکر مشینی انداز اختیار کرگئے۔ معاشرتی تعلقات میں رخنے پیدا ہوئے اور انسان ایک دوسرے سے مادہ پرستانہ تعلقات بڑھانے لگے۔ یہ سب کچھ اگر ادب و شعر کے پیرائے میں بھی کیا گیا تو اس سے انسان کے نازک ترین احساسات و جذبات کو استعمال کرنے کا الزام ثابت ہوتا ہے۔ ایک دن آئے گا کہ الحادی تحریک کو سیاسی و غیر فطری مان لیاجائیگا۔ گو ابھی بھی بہت سے مفکرین جب تحریکِ الحاد کو سائنسی سوچ قرار دیتے ہیں تو وہ اسے انسانی سے کہیں زیادہ مشینی مانتے ہیں۔

اب ادیب کی ذات کی جانب نظر دوڑائیے۔ ایک ناول نگار کی نیت کو جانچنا مشکل ہے اور یہ ہونا بھی چاہیئے۔ اگر ناول نگار کی نیت صاف ظاہر ہوجائے تو کیسا ادب اور کیا اقدار کی منتقلی۔ جدید امریکی نقاد اسے تسلیم نہیں کرتے کیونکہ ان کے خیال میں ناول نگار ارادتا” افکار کی منتقلی کا کام کرتا ہے اور اسکی نیت کا کھوٹ پکڑا بھی جاسکتا ہے۔ اگر ایسا تسلیم کرلیاجائے کہ ناول نگار جان بوجھ کر افکار اور بین السطور کچھ خیالات منتقل کرتا ہےتو اس سے لکھاری کی ذات چھوٹی پڑجاتی ہے۔ کیا وہ اس قدر بے عقل و بیہودہ ہے کہ اس کی تحریر کو کسی ایک نظرئیے یا کسی عام فکر سے منسلک کردیا جائے یا مخصوص پسِ منظر کیساتھ جوڑ کر محدود کردیا جائے۔ تحریر کی خوبی تو یہ ہے کہ اسے کسی ایک زمان و مکان کا پابند نہ کیا جاسکے۔ یہ یقینی ہے کہ ناول نگار یا لکھاری خاصا باعقل شخص ہوتا ہے۔ اسے شاید بامقصد بھی ہونا چاہیئے۔ لیکن جب نظریات اور افکار کو کھلم کھلا پھیلانے کی کوشش کی جائے کہ وہ سیاسی قسم کا عامیانہ پیغامِ عام بن کر رہ جائےاور اس کیلیئے اس قدر مہمات چلائی جائیں یا انتظامات کئے جائیں کہ تحریر، شعر و ادب سب کچھ پیچھے رہ جائے اور ذاتی مقاصد سامنے آجائیں، تو تحریر کی خوبصورتی ختم ہوجاتی ہے۔ یہی تو کمیونسٹ بھی کہتے ہیں کہ وُوڈ ورڈز کا رومانوی ” انسانوں سے ہمکلام ” عام آدمی نہیں بلکہ یہ تاریخی قوتوں کا ایجنٹ ہے جو مادہ پرستانہ ادوار کی بقا کا خواہشمند ہے۔

تحریر کے حسن کا دفاع کرتے ہوئے آسٹِن وارن جیسے نقاد نے 1949 ہی میں کہ دیا تھا کہہ “کوئی بھی ادبی تحریر ایک علمی تراشہ ہے، جو نہ تو مکمل طور پر حقیقی ہے، نہ خیالی اور نہ ہی مثالی۔ یہ مثالی تصورات پر مبنی اقدار ہیں جوکسی اجتماعی نظرئیے سے جڑے ہوئے ہیں، نظریات کیساتھ بدلتے ہیں اور انہیں انسانی اذہان ہی سمجھ سکتے ہیں”۔ لیکن اگر ادبی شہ پاروں کو فقط اجتماعی نظرئیے اور اس پر طرہ یہ کہ نظریہء موجود کا اسیر مان لیاجائے تو انکی لازوال حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے شہ پاروں کو ادبی قرار دینا شعر و ادب کیساتھ مذاق کے سوا کچھ نہیں۔

اس آرٹیکل کا پہلا حصہ اس لنک پر ملا حظہ کیجیے۔

اس آرٹیکل کا دوسرا حصہ اس لنک پر ملا حظہ کیجیے۔

اس آرٹیکل کا تیسرا حصہ اس لنک پر ملا حظہ کیجیے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: