شعورِ ادب، مقامِ ادب (حصہ سوم): عالمی ادارے اور انکی ذمہ داریاں ۔۔۔۔۔۔۔۔ رائو جاوید اقبال

0

مسلمان بطور گروہِ انساناں اس قدر با ادب و باشعور ہیں کہ انہوں نے صرف اپنے نبئی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ہی کیلئے نہیں بلکہ تمام انبیاء و صالحین کیلئے اس کشمکش کو ہمیشہ جاری و ساری رکھا۔ اس مقصد پر اصرار کرنا محسنینِ نوعِ انسانی کا احترام ہے۔ یہ احترام اس لئے ضروری ہے کہ جب کسی کا احترام نہیں ہوتا تو اسکی دی ہوئی ہدایت کو سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ انسانی ذہن تبھی کسی کی ہدایات و نصائح کو قبول کرتا ہے جب اسے دل سے قرار واقعی احترام کے قابل سمجھتا ہے۔ انسانی ذہن دنیا کی پیچیدہ ترین تخلیق ہے۔ بے تحاشا سوالات کے جوابات حاصل کرنے اور انکی تصدیق کیلئے ذہن نئے سے نئے انداز اپناتا ہے۔ نئی سے نئی تحقیقی شکلیں اختیار کرتا ہے۔ آئے روز نئے انداز و اطوار سے پرکھتا ہے۔ اور چونکہ ہر ہر فرد کا ذہن مختلف ہے، اور موجودہ دور میں ہر ہر فرد اس پر مُصر ہے کہ وہ اپنی ہی ذاتی تحقیق پر یقین کریگا، اس لئے انسانی اذہان کو اپنے محسنوں سے روشناس کرانا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن ایسا دور دنیا میں کبھی آیا ہی نہیں کہ اختیار کی وسعت آج کی مانند عام ہوجائے۔ ایسی آزادی پہلے کبھی نہ تھی۔ چند بادشاہوں اور انکے چند ایک وزراء کو سنبھالنا آسان تھا۔ پہلے سلطنتیں بھی چند ایک اور بڑی ہؤا کرتی تھیں۔ اب یہ 200سے زائد ہیں اور ہر آن بڑھتی جارہی ہیں۔ اس کے ممکنہ نقصانات کا اندازہ لگایئےکہ اگر تمام تہاذیب کو زبان کی بنیاد پر علیحدہ اور مکمل مان لیا جائے تو بھی ایتھنو لاگ کے مطابق دنیا کی کل زبانیں 7097 ہیں۔

یہ ایک خام خیالی ہے کہ زبان کی حامل تمام تہاذیب کو مکمل کہاجاسکتا ہے۔ لیکن اگر چھوٹے سے چھوٹا گروہ بھی خود کو زبان کی بنیاد پر ایک مکمل تہذیب کہے اور اسے مکمل سلطنت قرار دینے پر اصرار کرے تو اسے تسلیم کرنا پڑیگا اور اسکی جغرافیائی حیثیت کی بناء پر اقوامِ عالم میں مقام دینا پڑیگا۔ سات ہزار سے زائد سلطنتوں کی اپنی اپنی تہاذیب کو عالمی قانون میں سمونا کس قدر مشکل ہوگا۔ ہمیشہ سے بڑھتی ہوئی زبانوں کی تعداد اور انکے متوقع اختیارات کوسمجھ لینے کے بعد انسانوں کی بے لگام آزادی کے نتائج بھیانک ترین بھی ہوسکتے ہیں۔ انہیں اگر قانونی شکل دیدی جائے جو کہ دی جارہی ہے، تو انسانیت ہی زوال پذیر ہوجائیگی۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی چھوٹا سا مفاد پرست گروہ عالمی قانون سازی پر قابض ہوجائے اور غلط قانون سازی سے دنیا کو تہ و بالا کرڈالے۔ ایسا ہو چکا ہے۔ حال ہی میں عراق پر حملے کے احکامات صادر کرنے والے برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے معافی مانگی اور برطانوی پارلیمان کی چِلکوٹ کمیٹی کے تحریری جائزے نےعراق حملے کو ناجائز تسلیم کرکے اسےجلدبازی پر مبنی قرار دیا۔ ایسا دوبارہ ہونا بھی ممکن ہے۔ برطانیہ ان ممالک میں سرِ فہرست ہے جنہوں نے معصوم ترین نبی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، کی تابعداری کا اجتماعی انکار کرنے والوں کو تمام اختیارات سے نوازا اور جمہوریت کےچھاتے تلے توہین کرنے والوں کو جگہ دی۔ دراصل دنیا وقت کیساتھ ساتھ غیر ذمہ دار ہوتی چلی جارہی ہے۔

شرپسند موقع پاتے ہی سب کچھ ادھیڑ کر رکھدیتے ہیں۔ جنگ و جدل کے ہتھیار، انداز و اطوار، مواقع اور امکانات بڑھتے جارہے ہیں اور غیر ذمہ داروں کے اختیارات و مواقع میں کمی نہیں آرہی۔ غیر ضروری جنگیں زیادہ ہوگئی ہیں جبکہ ضروری اور جائزجدوجہد سے اجتناب کیاجارہا ہے۔ انسانیت غیر ذمہ داری کا گڑھ بن سکتی ہے۔ بھلا کوئی پاکستانیوں کو یہ کیسے سمجھا سکتا ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھارت کے اجتماعی ظلم و تشدد سے چھڑوانے کیلئے جنگ کیوں نہ کی جائےجبکہ امریکہ میں ہونے والے ایک چھوٹے سے واقعے پر افغانستان کی حکومت تہہ و بالا کردی جائے۔ ایسے ہی فلسطینیوں کو یہ سمجھانا ناممکن ہے کہ اسرائیل کے ہاتھ روکنے کیلئے طاقت استعمال کرنے پر پابندی ہے لیکن قریب میں عراق و شام کی لڑائی کیلئے ہر قسم کے ہتھیار اور اختیارات پر سلامتی کونسل میں قراردادیں منظور کی جائیں۔ ایسے عالمی ماحول میں انسانیت کے محسنوں کو جاننا، سمجھنا، اور انکی تابعداری سے ذمہ داری میں اضافہ کرنا عین مناسب ہی نہیں ضروری بھی ہے۔ درحقیقت جنہوں نے اپنے دور میں تمام انسانوں کو اعلیٰ ترین اخلاق سکھائے اور تہذیب و تمدن کی بنیادوں کو اجتماعی طور پر طے کرکے اور ان پر خود بھی عمل کیا اور باقی انسانوں کو دلی طور پر تہذیب و قانون کی عملداری پر رضامند کیا، انکی عزت و توقیر فرض ہے۔ ورنہ انسانی اذہان بھٹک جائیں گے اور انکے گروہ گمراہ ہوجائیں گے۔ نتیجتا غیر ذمہ دارانہ قانون سازی اور ان پر عمل دنیا کو دہلا کر رکھد یگا۔

عالمی اداروں کو اختیار کیساتھ ذمہ داری کو بھی فروغ دینا ہوگا اور یہی انبیاء و صلحاء کی روایت تھی۔ چند ناشناس و بدتمیز ترین افراد کیساتھ درست طور پر نمٹنا ہوگا۔ انبیاء و صحابہ و صالحین کی حقیقی تہذیبی خدمات کو درست تناظر میں پیش کرنے پر علمی و عملی کاشوں کو فروغ دینا ہوگا۔ بڑی طاقت کے حامل بااختیار افراد اور گروہوں کو اختیار اور طاقت کا ذمہ دارانہ استعمال کرنے والوں سے روشناس کروانا اور اس پر عمل کے انداز سکھانے کا کوئی دوسرا انداز ناممکن ہے۔ عملی مثالوں اور کامیاب ترین افراد کے طریقے اور راستے سمجھانے کے علاوہ کوئی انداز ممکن ہی نہیں۔ نئی دنیا ایسے نئے انداز لانے میں ایک صدی سے منظم کوششیں کررہی ہے۔ لیکن تمام کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔ تمام کوششوں کے معکوس نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ مسلمان اس بے توقیری پر حیران و پریشان ہیں اور اس کے مضر اثرات سے خود کو، اپنے اوطان اور تمام دنیا کو بچانے کیلئے بھاگے دوڑے پھرتے ہیں اور اس کوشش کی کمی پر اللہ کے سامنے آہ و زاری کرتے ہیں کہ مبادا خدا اس پر دنیا ہی کو ختم نہ کرڈالے کیونکہ وہ قادرِ مطلق دنیا ہی کو مٹا بھی سکتا ہے۔

اس آرٹیکل کا پہلا حصہ اس لنک پر ملا حظہ کیجے۔

اس آرٹیکل کا دوسرا حصہ اس لنک پر ملا حظہ کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: