بنک انٹرسٹ، ربٰو نہیں منافع ہے —- انور عباسی

0

یَمْحَقُ اللّہُ الرِّبوٰا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ
ربا کو ختم کرکے صدقات کو مسلم معاشرے میں اخوت و ہمدردی اور ایثار و قربانی کی فضا قائم کرنے اور پروان چڑھانے کے لیے رواج دینے کی خدائی سکیم!
صدقات مسلم معاشرے کے قیام و بقا کا ایجابی عنوان ہے اور رباسلبی۔
ربا کو مٹانے، نیست و نابود کرنے اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم و حوصلہ ایک مسلمان کے ایمان کا تقاضا۔
اور
ربا کو مٹا کر اس کے متبادل کی تنفیذ اس کے ایمان کا عملی ثبوت
یہ نفی و اثبات کا حسین امتزاج
دو حقیقتیں! ایک حاضرہوگی تو دوسری لازماً غائب۔

بیک وقت دونوں کا اجتماع، اجتماع ضدین، لیکن یہ المیہ سا کوئی المیہ ہے کہ کرنے کا اصل کام چھوڑ کر ’ سود‘کو ’ربا‘ کا مترادف سمجھ کر اس کے مختلف اور ایسے طریقوں کو اس جدید دور میں متعارف کروایا گیا ہے اورمسلسل کروایا جا رہا ہے جو زمانہ ہوا اپنی طبعی عمر پوری کر کے افادیت بھی کھو چکے اور صلاحیت بھی۔

وہ صلاحیتیں جو کسی اور سمت مرکوز ہونی چاہیے تھیں سمٹ سمٹاکر نکتہ آفرینیوں اور حیلہ سازی کے میدان میں صرف ہوتی گئیں۔ اس ساری جدوجہد میں اگر مطلوب یہ تھا کہ وہ اہداف حاصل ہو سکیں جو اہلِ دانش کے نزدیک اسلام مقرر کرتا ہے تو یہ بری طرح ناکام ہو گیا۔

معاشی میدان ہو یا سماجی علوم کے دیگر شعبے، الفاظ و اصطلاحات اور فنی باریکیاں اپنی جگہ بڑی اہمیت کی حامل ہیں لیکن حقائق ان سے زیادہ اہم اور تلخ ہوتے ہیں۔ گلاب کے پھول کو کوئی نام بھی دیا جائے وہ گلاب کا پھول ہی رہے گا۔ بینک انٹرسٹ کا نام بدل کر ہم یہی فریضہ’’بیع مرابحہ‘‘ یا ’’اجارہ ‘‘ کے سپرد کر دیں، اور توقع یہ کریں کہ اس سے معاشی و معاشرتی انقلاب آ جائے گا، محض خام خیالی ہے۔ فلاحی ریاست کا تصور ایک اسلامی تصورہے، لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ بینک انٹرسٹ کی موجودگی میں ہی یورپی ممالک میں فلا حی ریاستیں ہمارا منہ چڑا رہی ہیں اور ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ’’سود‘‘ کی موجودگی میں ایسا کیونکر ممکن ہوا! ہم اصطلاحات و الفاظ کے چکر میں ایسا الجھے کہ حقیقت ہم سے اوجھل ہو گئی۔ ایسی اصطلاحات جو الفاظ کا سہارا لے کر اوپر ہی اوپر فضائوں میں تیرتی چلی جارہی ہیں اور اس دھرتی میں بیج بن کر جڑ نہ پکڑ سکیں۔ کام کرنے والوں نے اسی’’سود‘‘کے ہوتے ہوئے اسلامی قوانین کی ایک جھلک دکھا کر معاشی و معاشرتی ناہمواریاں دور کر دیں اور ہم تورّق و بیع عینہ اور مرابحہ و اجارہ کے عربی ناموں کو متعارف کروا کر دنیا میں اسلامی معاشیات کا نعرہ لگانے ہی کو اپنی کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں۔

ہم جب بینکوں کو مطعون کرنے پر آتے ہیں تو اسے دھوکہ اور فراڈ قراردے کر یہودیوں کو اس کا بانی مبانی قرار دینے میںکوئی حرج محسوس نہیں کرتے اور جب اس کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تو اس کا سارا کریڈٹ مسلمانوں کے سر باندھ دیتے ہیں اور برملا اس کا اعلان کرتے ہیں کہ بینکاری کی بنیاد ہی مسلمانوں نے رکھی تھی !اور اس کی دلیل استقرائی نہیں استخراجی منطق سے ڈھونڈ لاتے ہیں۔ اس دلچسپ دلیل میں قضیہ اُولیٰ یہ قرار پایا کہ

’’اگر ریاضی وجود میں نہ آتا تو بینکاری ممکن ہی نہ تھی، اگر صفر نہ ہو تو حساب کتاب ممکن نہیں اور کمپیوٹر کی اکائونٹس کی کمیونی کیشن ممکن نہیں ہے اور چونکہ صفر اور ریاضی کے ایجاد کرنے والے مسلمان ہیں، اس لیے بینکاری کے موجد مسلمان ہیں! (ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن، شمارہ جون 2012، ص 54)

’’ربا‘‘کا حریف صدقات ہیں نہ کہ ’’بیع‘‘فلہذا بینک۔
اس لیے ’’ربا‘‘کا متبادل صدقات ہی ہو سکتے ہیں اور صرف صدقات
نہ کہ’’بیع‘‘کی مختلف شکلیں اور صورتیں …اس لیے
یہ مضاربہ و مشارکہ، یہ بیع سلم و بیع مؤجل
یہ مرابحہ و اجارہ، عینہ و تورّق
یہ سب کچھ ’’ربا‘‘کی موجودگی میں بھی قائم رہ سکتاہے اور عدمِ موجودگی میں بھی، لیکن صدقات نہیں۔
صدقات بڑھ رہے ہوں، ان کا چلن عام ہو رہاہو تو ’’ربا‘‘مٹ رہا ہوگا۔
لیکن ربا کا رواج عام ہو رہا ہوگا تو صدقات ختم ہو رہے ہوں گے۔
یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبوٰا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ۔ ایک ختم ہو گا تو دوسرا بڑھے گا۔ دوسرا بڑھے گا تو پہلا ختم ہو گا۔
یہ دو حقیقتیں…ایک حاضر ہو گی تو دوسری لازماً غائب۔

ہماری کوششوں کا محور و مرکز یہ ہونا چاہیے تھا کہ ’’ربا‘‘ کو مٹا کر اس کے متبادل ’’صدقات‘‘ کو شعوری طور پر اجاگراور لاگو کرنے کی سعی و جدوجہدکی جاتی، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ ہمارے مفکرین نے غلطی سے ’’بیع‘‘کو ’’رِبا‘‘ کا حریف و متضاد سمجھ کر سو دکی مختلف شکلوں کو بینکوں کے
تجویز کرنے شروع کئے، کیونکہ بینک انٹریسٹ کو ’’ربا‘‘ کا مترادف سمجھ لیا گیا تھا۔ (Financing Modes) کے لیے تمویلی طرق
بینک انٹرسٹ کی جگہ ان ’’اسلامی ‘‘متبادلات کو بینکوں کی بنیاد سمجھ کر’’اسلامی بینکوں ‘‘کے بارے میں عمومی دعویٰ کیاگیا کہ یہ کارکردگی اور بارآوری کے لحاظ سے روایتی بینکوں سے کچھ بہترہوتے ہیں۔ یعنی اگرروایتی بینک 10 فیصد سود کماتے ہیں (اور کھاتے داروں کو دیتے ہیں ) تو’’ اسلامی بینک‘‘ 15% نفع کماتے اور دیتے ہیں۔

یہ دعویٰ اگر درست ہوتا تو روایتی بینکوںکا وجود ہی ختم ہو چکا ہوتا۔ مسابقتی دنیا میں کارکردگی اور بار آوری کے لحاظ سے جو چیز بہتر ہو گی لوگ لپک کر اسے اپنا لیتے ہیں۔ اس میں دلیل دینے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ اس میں زیادہ تعلیم کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک دوکان میں ٹماٹر اگر بیس روپے کلو بکتے ہوںاور دوسری میں 30 روپے کلو تو کوئی احمق ہی ہو گا جو پہلی دوکان کو چھوڑ کر دوسری دکان سے مہنگے داموں ٹماٹر خریدے گا۔ اس کے لیے معاشیات میں پی ایچ ڈی ہونا ضروری نہیں، ایک ان پڑھ آدمی بھی پہلی دوکان ہی کو ترجیح دے گا۔

بیسویں صدی کے آخری دو تین عشروں میں’’ اسلامی بینکوں ‘‘کے قیام و بقا اور سود کے متبادلات پر وسیع لٹریچر شائع ہوا۔ ایک کے بعد ایک، بہ تکرار، موضوعات اور استدلات کی یکسانی لیے ہوئے!
اکیسویں صدی بھی پچھلی صدی کی نقال ثابت ہوئی۔

اس سے صرف یہ ضرور ہوا کہ معاشرے کا وہ طبقہ جو زیادہ مذہبی حس رکھنے کے باعث انٹرسٹ کو حرام سمجھتا تھا اس نے غنیمت جانا کہ ’’اسلامی بینکوں‘‘ کو روایتی بینکوں پر ترجیح دے کر انہیں سپورٹ کرے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب روایتی بینکوں نے دیکھا کہ ’’اسلامی بینک‘‘، ’’اسلامی متبادلات‘‘ کواستعمال کر کے اپنا ڈپازٹ بڑھا رہے ہیں تو انہوں نے بھی ’’ اسلامی کائونٹرز‘‘ کھولنے شروع کر دیے۔ مغربی ممالک نے بھی دیکھا دیکھی اس کار خیر میں حصہ ڈالاکہ وہ مارکیٹ کے اس حصے کو کیسے فراموش کر سکتے تھے۔ چنانچہ مغربی ممالک میں بڑے بڑے بینکوںمیں ’اسلامی‘ بینک کی شاخیں قائم ہو گئیں۔ یوں مسلمانوں کی مذہبی حس کی تسکین ہو تی گئی اور روایتی بینکوں کے ڈپازٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا چلا گیا۔ فلِلَّہِ الحمد!

ہم نے اپنی دانست میں اسے اسلامی طریق تمویل کی کامیابی قرار دے کر اسلام کی برتری ثابت کر دی۔ اغیار نے بغیر کسی بحث میں الجھے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔ اب بھی ہمارے اہل علم ’’اسلامی بینکوں‘‘ کے بڑھتے ہوئے حجم کو ’’سود‘‘ کی ناکامی اور ’’اسلامی متبادلات‘‘ کی کامیابی تصورکر تے ہیں۔ بغیر یہ ثابت کیے کہ سودی بینکوں کے ڈیپازٹس میں فی الواقع اتنی ہی کمی واقع ہو گئی ہے جتنی کہ ’’اسلامی بینکوں‘‘ کے ڈیپازٹس میں اضافہ۔

اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ ہمارے اہلِ فکر کی یہ مجبوری ہے کہ ’’سود‘‘ کو ’’ربا‘‘ سمجھ کر حرام قرار دے دیں اور اس کا متبادل کوئی ایسا ڈھونڈلائیں جو اسی طرح کا کام کرسکے۔ ’’حقیقی اوراصلی‘‘ متبادل صرف کاغذوں میں ہی ملتے ہیں اس لیے مضاربہ و مشارکہ کو کسی نیک گھڑی پر اٹھا رکھ کر عارضی اور عملی حل تجویز کیے گئے جو خوبصورت عربی ناموں کے ساتھ ہماری ہرتحقیقی کتاب کی زینت بنتے ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ یہ متبادلات اسلامی تو ہیں لیکن ان کو احتیاط کے ساتھ عارضی طور پر استعمال کرنا ہوگا۔ !!

یہ مرابحہ و اجارہ، یہ مؤجل و بیع بالوفا، اگر قباحت سے خالی ہیں تو ان کا استعمال عارضی کیوں اور اگر ان میں کوئی برائی ہے تویہ اسلامی حل کیسے؟
؎ اے اہلِ نظر، ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا

اسلامی بینکوں کی کامیابی کے دعوے جیسے بھی ہوں بہرحال ان ہی متبادلات کی مرہونِ منت ہیں جن کو ہمارے مفکرین ایک ہی سانس میں ’’اسلامی‘‘ اور ’’پرخطراور سود جیسے‘‘ قرار دیتے ہیں اور اس افسوس کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ اصل متبادلات تو کچھ اور تھے مگر ’’اسلامی بینکوں‘‘کے شریعہ بورڈ کے مشوروں اور رہنمائی سے ان کو غلط راہ پر ڈال دیا گیا ہے۔ اس پہلوپر نہ تو کوئی غورکرتا ہے اور نہ کسی کو غور کرنے کی حوصلہ افزائی ہی کرتاہے، (بلکہ ایسی ہمت کرنے والے کو مغربی تہذیب پرست، احساسِ کمتری کا شکار اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا جاتا ہے) کہ آخر کیا وجہ ہے کہ سود کا اصل و حقیقی متبادل ناکام ہے اور جو کامیاب متبادل گردانے جاتے ہیں وہ سود جیسے ہی کیوںہیں؟ خودتو وہ یہ تسلیم کرتے ہیں مگر دوسرا کوئی یہی بات کہہ دے توسود اور مرابحہ و اجارہ میں ایسے زبردست فرق دریافت کرلیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

ہمارے علماء کرام اور معاشی مفکرین کی بھاری اکثریت اب سود کو ’ربا‘ ہی سمجھتی ہے۔ چونکہ بینک ان کے نزدیک بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں اس لیے ان کو برقرار رکھنا تو ضروری ٹھہرا لیکن ’’سود‘‘ کو ختم کرکے اسلامی متبادلات کی تلاش شروع ہوئی جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔

ہم نے اصلاً ان ہی مباحث پر گفتگو کی ہے۔

’رِبا‘ کی ایک دوسری قسم کا ذکر بھی احادیث میں ملتا ہے، جس کو ’رباالفضل‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے: ’’حضرت عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ سونے کا مبادلہ سونے سے اور چاندی کا چاندی سے اور گیہوں کاگیہوںسے اور جو کا جو سے اور کھجور کا کھجور سے اور نمک کا نمک سے اس طرح ہونا چاہیے کہ جیسے کا تیسا اور برابر برابر اور دست بدست ہو البتہ اگر مختلف اصناف کی چیزوں کا ایک دوسرے سے مبادلہ ہو تو پھرجس طرح چاہو بیچو بشرطیکہ لین دین دست بدست ہو‘‘۔ اس مضمون کی چند اور روایات بھی صحاح ستہ میں موجود ہیں۔ علماء کرام کی تاویل کے مطابق اگران چھے چیزوں کا باہمی تبادلہ اور بیع کی جائے تو اس پر کوئی کمی بیشی کرنا بھی ’ربا ‘ ہے اور ادھار کرنا بھی ’ربا‘ ہے خواہ اس ادھار میں مقدار کی کوئی زیادتی نہ ہو بلکہ برابر برابر لیاجائے۔ مفتی محمد شفیعؒ اور مولانا گوہر رحمٰن ؒ نے یہی تاویل اختیار کی ہے۔

بظاہر تو یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے کہ ایک سیر گیہوں کے بدلے اسی قسم کا گیہوں اسی مقدار میںکوئی کیوں لے گا۔ نہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دست بدست ایک ہی قسم کا غلہ زیادہ مقدار کے ساتھ کوئی کیوں تبادلہ کرے گا۔ نیز اگر گندم کی قسم میں فرق ہے، یعنی ایک اعلیٰ کوالٹی کی ہے اور دوسری ادنیٰ کوالٹی کی تو ایک سیر کے بدلے کوئی ایک سیر کیوں لے گا جبکہ معاملہ ادھار کا بھی نہ ہو بلکہ دست بدست ہو؟

نیز علماء کرام کی تاویل کو قبول کرنے کی صورت میں بڑی ہی عجیب و غریب صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ میرے کسی بھائی کو اگر ایک دو سیر گیہوں کی ضرورت پڑ گئی کہ اس کے بچے بھوک سے بلک رہے ہیں، وہ مجھ سے درخواست کرتا ہے کہ ایک دو دن کے ادھار پر اسے گیہوں دے دوں، وہ واپس کر دے گا، تو میں اس تاویل کی روشنی میں اس کی مدد نہیں کر سکتا، کہ یہ ربا ہو جائے گا! دل نہیں مانتا کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا یہ بھی ہو سکتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اصل ربا یہ نہیں بلکہ محض سدِ ذریعہ کی وجہ سے اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ بعض دیگر مفکرین کا ارشاد یہ ہے کہ ان احادیث کا تعلق بارٹر سسٹم کے عہد سے ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو ان کا ہمارے زیرِ بحث موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ ان ہی وجوہ کی بنا پر ہم نے ان سے تعرض نہیں کیا اور اپنی بحث کو جدید دور کے بینکنگ نظام تک ہی محدود رکھا ہے۔ ویسے بھی جدید لکھنے والوں نے ربا الفضل اور ان احادیث سے زیادہ بحث نہیں کی غالباً اس لیے کہ ان کا تعلق بینکنگ نظام سے نہیں ہے۔
۔
(اہم نوٹ)
میری کتاب : بینک انٹریسٹ: منافع یا ربا، انگریزی اور اردو میں حاصل کرنے کے لئے ایمل مطبوعات سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ فون نمبر: 0342-5548490

اس موضوع پہ مصنف کی ایک اور تحریر اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے
(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: