اچی۔ گچی۔ گو (قسط ۱۴) ۔۔۔۔۔۔۔۔ زاہد عظیم

0

رقص کے دوران میں ہی موسم خراب ہونے لگا۔ تھوڑی دیر میں ہی بارش شروع ہو گئی۔ تب ہر طرف چھتریاں کھلنے لگیں اور اب رقص کا نیا انداز ہمارے سامنے تھا۔ رنگ برنگی چھتریوں نے گویا ایک دھنک تان دی تھی جس کے نیچے سیاہ لبادوں میں لپٹی رقاصاؤں کے پیروں کی حرکت سے لگتا تھا گنگناتی ہوئی سیاہ بدلیاں، دھنک کو آسمان کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے تک لے جا رہی ہیں۔

میں نے دیکھا اس رقص گاہ کی طرف ایک چھوٹا سا جلوس بڑھا آ رہا تھا۔ آگے آگے سیاہ کوٹ میں ملبوس ایک آدمی تھا جس کے ہمراہ کالاش مر د بھی تھے اور اس کے چند ساتھی بھی پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔

وحید صاحب نے بتایا کی یہ شخص پنجاب کا رہنے والا ہے اور ہر سال چلم جوشت اور دوسرے مذہبی تہواروں کے موقع پر ضرور آتا ہے۔ اس نے کالاش کی زبان بھی سیکھ رکھی ہے۔ یہ ہر تہوار پر خصوصی خطاب بھی کرتا ہے۔ اس کے بعد جو کچھ وحید صاحب نے بتایا وہ ہم سب کے لیے لمحہء فکریہ تھا۔

وحید صاحب کہنے لگے کہ چند سال پہلے تک ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کالاشی لوگ اپنا مذہب کس بنیاد پر ترک کرتے ہیں۔ پھر پتا چلا کی مہنگائی اور ضروریاتِ زندگی پوری نہ ہونے کی صورت میں کچھ لوگ مجبوراََ مذہب تبدیل کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سے عیسائی مشنری، سیاحت کے بہانے یہاں آتے ہیں اور ان بھولے بھالے لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں سبز باغ دکھا کر عیسائی بناتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی جو شخص آیا ہے وہ بھی ایک عیسائی مبلغ ہے اور تہواروں میں خصوصی خطاب کی آڑ میں اپنا مقصد پورا کرتا ہے۔

جب وہ شخص قریب آیا تو بہت سے کالاشی مرد بھی اس کے ساتھ نظر آئے۔ اس کا بہت گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔ بارش کی وجہ سے اسے ایک مکان کے برآمدے میں بڑی عزت کے ساتھ بٹھایا گیا۔ اس کی آمد پر رقص روک دیا گیا۔ وہیں سے اس نے کالاشی زبان میں خطاب کیا۔ وحید صاحب نے بتایا کی اس نے عیسائیت قبول کرنے والوں کے لیے بہت سی مراعات کا اعلان کیا جس پر ڈھول کی بھر پور تھاپ پر رقص پھر شروع ہو گیا۔ اس آدمی کو شاید خاطر تواضح کے لیے گاؤں میں کسی اور طرف لے جایا گیا تومیں سوچنے لگا کہ ہمارے افسرانِ بالا بھی کتنے بھولے بادشاہ ہیں۔ مسلمان مبلغوں کو یہاں آنے سے اس لیے روک دیا جاتا ہے کہ کالاش کلچر کہیں ختم نہ ہو جائے کیونکہ یہ کلچر بیرونی دنیا کے لیے پاکستان کا تعارفی کارڈ ہے۔ ادھر دوسرے مذاہب کے لوگ آرام سے اپنی تبلیغ میں مصروف ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم یہ کلچر تو کھو ہی بیٹھیں ساتھ ہی ہمارے ہاتھ سے اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا موقع بھی چھن جائے۔

بارش ایک دم بہت تیز ہو گئی۔ رقص گاہ ویران ہونا شروع ہو گئی۔ بھیگتی ہوئی خواتین اپنے گھروں کی طرف دوڑیں او ر ڈھول بجانے والوں نے برآمدوں میں پناہ لی۔ ہم نے بھی کچھ دیر انتظار کے بعد موسم کے بگڑتے تیور دیکھے تو واپس ہوٹل کی طرف چل دیے۔ وحید صاحب بھی ہم سے رخصت ہوئے۔

’’اگر آپ نہ ہوتے تو ہم بہت سی معلومات سے محروم رہتے۔ شکریہ وحید صاحب! ‘‘ اظہار انہیں الوداع کہتے ہوئے جذباتی ہو نے لگا۔

ہم ہوٹل پہنچ کر اپنے سامان کی پیکنگ کرنے لگے۔ ہمیں اسی دن دو بجے سہ پہر تک پی آئی اے کے بکنگ آفس پہنچ کر اپنے ٹکٹ کنفرم کروانے تھے کیونکہ اگلے دن ہماری اسلام آباد واپسی کی فلائیٹ تھی۔

اظہار نے ہوٹل پہنچتے ہی اپنا بیگ تیار کیا اور باہر نکل گیا۔ میں نے دیکھا وہ گوری کے کمرے کے باہر تعینات محافظ افغانی کمانڈوز سے باتیں کر رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ آیا اور ہنستے ہنستے بستر پر گر گیا۔

’’تجھے کیا دورہ پڑ گیا ہے‘‘ واجد پیکنگ کرتے ہوئے بولا۔

’’قسمت اچھی تھی بچ گیا ہوں‘‘ اظہار ہنستے ہوئے بولا۔

’’ چترال کے افغان ہوٹل میں احمد شاہ مسعود کے پوسٹر لگے ہوئے تھے اور وہ لوگ بھی احمد شاہ مسعود کے گُن گا رہے تھے، اس لیے میں نے ان کمانڈوز کے سامنے بھی’ افغانستان آزادم۔ مبارک۔ احمد شاہ مسعود۔ زندہ باد‘ کہا تو ان کے تیور بدلنے لگے۔ میں نے فوراََ گلبدین حکمت یار کا نعرہ ٹھوک دیا تو وہ خوش ہو گئے ورنہ آج مجھے واقعی دو چار پنچ پڑ جانے تھے۔‘‘ اظہار اپنی حماقت اور ذہانت کے مظاہرے پر محظوظ ہو رہا تھا۔

’’بس کرو یار، کبھی سنجیدہ بھی ہو جایا کرو‘‘ میں نے اظہار سے کہا۔ وہ پھر کمرے سے باہرنکل گیا۔ مجھے علم تھا یہ پھر گوری کے چکر میں گیا ہے۔

’’واجد اور زبیر تم دونوں جا کر باہر سے کوئی جیپ لے آؤ پھر نکلتے ہیں ‘‘ میں نے فکر مند ہو کر کہا کیونکہ موسم کی خرابی کی وجہ سے راستے بھی بند ہو سکتے تھے۔ وہ دونوں جیپ ڈھونڈنے باہر نکل گئے۔

میں باہر نکلا تو دیکھا اظہار لان میں دوسری طرف ہلکی بارش میں کھڑا بھیگ رہا تھا۔ مجھے اس کے وہاں جا کر کھڑے ہو نے کی وجہ تب سمجھ آئی جب وہ گوری اپنے لمبے تڑنگے خاوند اور محافظوں کے ساتھ بیرونی گیٹ سے اندر آتی نظر آئی۔ انہیں اپنے کمرے میں جانے کے لیے جس راستے سے گزرنا تھا، اظہار اسی پر کھڑ ا تھا۔

گورا پاس پہنچا تواظہار نے ’ہیلو ‘کہا۔ اس نے بھی ہیلو کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ وہ شاید جلدی میں تھا۔ اتنے میں گوری پاس آگئی جہاں اظہار گھات میں تھا۔

’’ہیلو ! گڈ مارننگ‘‘ اس نے گوری کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ گڈ مارننگ۔ تھیک یو۔ ‘‘ وہ اظہار کے پاس رک گئی کیونکہ اس کی بیٹی آہستہ آہستہ اس کے پیچھے آرہی تھی۔

’’یو فروم‘‘اظہارنے اپنی شارٹ کٹ انگریزی میں پھر پوچھا۔

’’جرمنی‘‘ گوری کی انگریزی بھی اظہار مارکا ہی تھی۔

’’نیم پلیز‘‘ اظہار کا سوال سمجھنے میں اسے کوئی دقت پیش نہیں آئی اور اس نے اپنا نام ’مشیل یی ایخ ‘ قسم کا بتایا۔ اتنی دیر میں اس کی بچی بھی پاس آ گئی جس سے اظہار نے ہاتھ ملایا اور جب بچی سے بھی ’ نیم پلیز‘ والا سوال دہرایا تو اس کی ما ںبولی،

’’ نو انگلش۔ جرمن اونلی‘‘۔

’ ’او کے۔ اوکے ‘‘ اظہار نے سرہلاتے ہوئے کہا اور پھر اپنی جرمن زبان خود ہی ایجاد کر لی،

’’ اچی۔ گچی۔ گو؟ ‘‘ وہ بولا۔ جیسے کہہ رہا ہو ’ تم کیسی ہو‘۔

ماں اور بچی دونوں حیرت سے اسے دیکھتے رہے۔ اس نے بچی کے گال تھپتھپائے اور پھر پیاربھرے لہجے میں بولا،

’’اچی ی۔ ۔ ۔ گچی ی۔ ۔ ۔ گووو‘‘ گویا کہہ رہا ہو ’تم بہت پیاری ہو‘۔

پھر کیمرہ سنبھال کر اس کی تصویر بنانے لگا۔ گوری وہاں سے چل دی اور اظہار نے صرف بچی ہی کی دو تین تصاویر بنانے پر اکتفا کیا۔

’’ بس سکون مل گیا تمہیں؟‘‘ شعیب کمرے سے باہر آتے ہوئے بولا۔

’’ مزا نہیں آیا یار! میں نے تو تصویر ماں کی بنانی تھی مگر وہ بہت چالاک نکلی، اُدھر سے کھسک گئی‘‘ اظہار نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔

وہ بچی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اب اپنے والدین تک پہنچ چکی تھی جو برآمدے میں کھڑے اس کا انتظار کر رہے تھے۔

ہوٹل کے گیٹ پر زبیر اور واجد ایک جیپ سے اتر رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر شعیب طارق خان کے پاس چلا گیا تاکہ بل ادا کر سکے اور ہم جیپ میں اپنا سامان رکھنے لگے۔

یہ جیپ چھوٹی باڈی کی تھی اس لیے کم سے کم جگہ گھیرنے کے لیے اس پر سامان احتیاط سے باندھاجا رہا تھا۔ جب ہم جیپ میں سوار ہونے لگے تو گوری کا خاوند ہمارے پاس آیا اور اپنی فیملی کے لیے لفٹ مانگنے لگا۔

اس کا کہنا تھا کہ موسم کی خرابی، میلے کے آخری دن اور اگلے دن کی اسلام آبادکی فلائیٹ کی وجہ سے بمبوریت میں جیپیں کم پڑ گئیں تھیں جبکہ ان کا اسی وقت جانا ضروری تھا۔

میں نے گورے کو بتایا کہ یہ جیپ چھوٹی ہے اور ہم پانچ لوگ ہیں۔ وہ درخواست کر رہا تھا کہ ان دو یعنی خاوند بیوی کی جگہ بن ہی سکتی تھی کیونکہ وہاں سے چترال کا سفر بہت لمبا نہیں۔ جب میں نہیں مانا تو وہ واپس چلا گیا لیکن اظہار میرے سر ہو گیا۔

’’او زاہد بھائی میں بونٹ پر بیٹھ جاتا، پیچھے لٹک کر سفر کر لیتا، ہمیں انکار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میں بلا لاتا ہوں انہیں‘‘۔

’’تیری اتنی جان کیوں نکل رہی ہے‘‘واجد بولا۔

’’یار یہ گورے اپنے ملکوں میں ہم لو گوں کو لفٹ دیتے ہیں اور ہم ہیں کہ ان کی مجبوری کو نہیں سمجھ رہے‘‘

’’ وہ مَج جو بُوری ہے وہی تیرے دل میں بیٹھی گوبر کر رہی ہے۔ اگر وہ موٹی تازی میم اس جیپ میں آ بیٹھی تو ہم سب کے دم گُھٹ جائیں گے اتنا پھنس کر بیٹھنے سے صرف انگریزی والا سفر ہی ہو گا ‘‘ زبیر بولا۔

’’یار اس طرح پھنس کر بیٹھنے سے ہی تو مزا آنا تھا‘‘ اظہار بولا۔

’’ ویسے وہ اتنی احمق نہیں کہ تمہارے ساتھ بیٹھے۔ وہ اگلی سیٹ پر بیٹھے گی جہاں صرف ڈرائیورہی موج کرے گا، تم خجل ہونا چاہتے ہو ہم نہیں‘‘ واجد نے اسے جیپ میں بٹھاتے ہوئے کہا کیونکہ اس نے دیکھ لیا تھا وہ گورا فیملی ہوٹل سے باہر نکل کر کسی دوسری جیپ کا انتظار کر رہی تھی۔

طارق خان ہمیں الوداع کہنے باہر آیا۔

ہم سب نے اس کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے ہمارا بہت خیال رکھا تھا۔

جب ہماری جیپ چلی تو اظہار نے جرمن بچی کو اونچی آواز میں پھر پکارا

’’ اچی گچی گو‘‘

گویا کہہ رہا ہو،

’’خدا حافظ‘‘۔

پچھلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

اگلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: