اعداد و شمار کے دھوکے: عاطف حسین

0

حکومتی عہدیداروں سے لے کر عام افراد تک اکثر لوگ  اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے اعداد و شمار کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ یہ خیال عام ہے کہ خالی خولی باتوں کی نسبت اعداد و شمار کسی صورت حالات کا زیادہ معروضی نقشہ پیش  کرتے ہیں۔ تاہم اعداد و شمار ایک پیچیدہ دھندہ ہے اور کئی مرتبہ ان کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو پہلی نظر میں معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح بہت سے اعداد و شمار ایسے طریقوں سے حاصل کیے جاتے ہیں جو قابلِ اعتماد نہیں ہوتے۔ سیک سیمینار کراچی میں اس موضوع پر کچھ مثالوں کے حوالے سے گفتگو کا موقع ملا۔ زیرِ نظر تحریر انہی مثالوں پر مشتمل ہے۔

مثال نمبر 1: پیسہ اور معیارِ تعلیم

کچھ عرصہ قبل ایک مشہور کالم نگار نے پاکستانی  یونیورسٹیوں کے بارے میں ایک کالم لکھا جس میں وہ یوں رقمطراز ہیں:

“مالدیپ اپنے جی ڈی پی کا 11.2%اور ویت نا م 5.7%تعلیم پر خرچ کرتا ہے جبکہ سویڈن اپنی قومی پیدا وار کا 6.6%تعلیم پر لگاتا ہے ، مگر یہ بات ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ سویڈن کا نظام تعلیم مالدیپ اور ویت نام سے کہیں بہتر ہے ، سو بات یہ نہیں کہ تعلیم پر کتنے پیسے خرچ ہو رہے ہیں ، سوال یہ ہے کہ جو پیسے دستیاب ہیں وہ خرچ کیسے کئے جا رہے ہیں ۔”

اس پیراگراف سے یہ تاثر ملتا ہے کہ معیار تعلیم کا تعلیم پر خرچ کی جانے والی رقم سے کچھ زیادہ تعلق نہیں ہے کیونکہ مالدیپ اگرچہ تعلیم پر سویڈن سے زیادہ رقم خرچ کرتا ہے لیکن اس کا معیار تعلیم سویڈن سے بہت کم ہے۔ لیکن تاثر غلط اور ان اعداد و شمار سے کالم نگار موصوف کا نکالا گیا نتیجہ نادرست اور گمراہ کن ہے۔ اسے سمجھنے کیلئے ذیل میں دیے گئے جدول پر نظر ڈالیں:

مالدیپ  جی ڈی پی  کا گیارہ اعشاریہ چھ فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ مالدیپ کی کل جی ڈی پی 3,430,000,000 ڈالر ہے جس کا  گیارہ اعشاریہ چھ فیصد 397,880,000 ڈالر بنتے ہیں ۔ اب اس رقم کو ہم مالدیپ کی کل آبادی یعنی  345,023 پر تقسیم کریں تو پتا چلتا ہے کہ مالدیپ دراصل اپنے ایک شہری کی تعلیم پر اوسطاً 1،153 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ اس کے برعکس جب ہم اسی طریقے  سے وہ رقم نکالتے ہیں جو سویڈن اپنے ایک شہری کی تعلیم پر اوسطاً خرچ کرتا ہے تو وہ  34,098 ڈالر بنتی ہے ۔ گویا سویڈن دراصل اپنے ایک شہری پر مالدیپ  کے مقابلے میں تقریباً اٹھائیس گنا زیادہ خرچ کرتا ہے اور اصل صورتِ حالات اس کے بالکل برعکس ہے  جیسی کہ کالم نگار موصوف سمجھ رہے ہیں۔

مثال 2: درجہ بندی (رینکنگ) میں بہتری

کچھ عرصہ قبل خبر آئی کہ  انٹرنیشنل کرپشن پرسیپشن انڈیکس  (Corruption Perception Index)  میں پاکستان کی  درجہ بندی میں بہتری آئی ہے اور پاکستان بدعنوان ممالک کی فہرست میں  کئی درجے ترقی کے بعد 116 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ ذیل میں ایک اخباری سرخی ملاحظہ ہو جو جنگ اخبار کے صفحہ اول پر لگی ۔ اس سرخی کے مطابق “پاکستان میں کرپشن کم ہوئی ”  جبکہ اس کے نیچے  وزیراعلیٰ پنجاب  کا یہ بیان  شائع ہوا کہ “عالمی ادارے نے حکومت کی شفافیت پر مہر تصدیق ثبت کردی”۔

اگر ہم اس بحث میں پڑے بغیر کہ یہ فہرست کیسے  مرتب کی جاتی ہے ایک لمحے کیلئے یہ فرض بھی کرلیں کہ کہ یہ  فہرست  معروضی معلومات کی بنیاد پر مرتب  کی جاتی   ہے جو   کسی ملک میں بدعنوانی  کی  حقیقی سطح کو ظاہر کرتی ہیں (حالانکہ ایسا نہیں ہے)   تو بھی صرف درجہ بندی  کو دیکھ کر ہم  ایسے دعوے نہیں کرسکتے  کہ “”پاکستان میں کرپشن کم ہوئی  ہے”  ۔ ایسا کیوں ہے آئیے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ نیچے دیا گیا جدول ملاحظہ ہو:

اس پر نظر ڈال کر بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ثاقب نامی طالب علم کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے کیونکہ دوسرے سہ ماہی ٹیسٹ میں اسکی درجہ بندی بہتر ہوئی ہے۔ تاہم اصل صورت حال اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے۔ ذیل میں تفصیلی جدول ملاحظہ ہو جس میں ان دونوں ٹیسٹوں میں طلبہ کے حاصل کردہ نمبر بھی دے گئے ہیں:

اس جدول میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ثاقب نے درحقیقت پہلے ٹیسٹ کی نسبت دوسرے میں کم نمبر حاصل کیے ہیں لیکن ایک دوسرے طالب علم اکبر کی پہلے کی نسبت دوسرے ٹیسٹ میں بری کارکردگی کی وجہ سے وہ درجہ بندی میں اوپر آگیا ہے۔

اسی طرح ذیل میں ایک اور جدول دیکھیے:

اس جدول کو بغور دیکھنے پر معلوم ہوگا کہ پہلے ٹیسٹ کی نسبت دوسرے میں ثاقب کی درجہ بندی میں باوجود کم نمبر لینے کے اس لیے بہتری آئی ہے کہ ایک دوسرا طالب علم اکرم کسی وجہ سے ڈراپ ہوگیا ہے۔

یہاں یہ کہنا مقصود نہیں ہے کہ پاکستان میں لازمی طور پر بدعنوانی کی صورتِ حالات بہتر نہیں ہوئی۔ ہوسکتا ہے ایسا ہی ہوا ہو۔ یہاں صرف یہ دکھانا مقصود ہے کہ صرف درجہ بندی پر نظر ڈال کر ایسا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔

برسبیلِ تذکرہ، اگر آپ ٹرانسپیرینسی کی شائع کردہ فہرستوں  پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا سال دوہزار سولہ میں پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری میں  پاکستان کی بہتر کارکردگی کی نسبت کچھ دوسرے ملکوں کی بری کارکردگی کا زیادہ حصہ ہے۔

مثال 3: زراعت کا جی ڈی پی میں حصہ

ایک دفعہ ٹی وی پر دیکھا کہ ایک مشہور اینکر زراعت کے کسی شعبے کی تدریس سے وابستہ ایک پروفیسر صاحبہ کو سامنے بٹھا کہ بری طرح ڈانٹ رہے تھے کہ کام وام تو آپ لوگ کچھ کرتے نہیں ہیں۔ یہ دیکھیں ملکی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ کبھی 50 فیصد ہوتا تھا جو اب گھٹ کر 23 فیصد رہ گیا ہے۔ پروفیسر صاحبہ نے کچھ وضاحت کی کوشش کی لیکن اینکر صاحب انکی کوئی بات سننے کے موڈ میں ہی نہیں تھے۔ ایک لمحے کیلئے ہماری آنکھیں بھی پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ زراعت کے شعبے میں اتنی تنزلی ہوئی ہے کہ جی ڈی پی میں اس کا حصہ پچاس فیصد سے کم ہوکر محض تئیس فیصد رہ گیا ہے تاہم جلد ہی ہمیں اندازہ ہوا کہ صورتِ حال ویسی نہیں ہے جیسی کہ اینکر موصوف سمجھ رہے ہیں یا تاثر دے رہے ہیں۔

یہ عین ممکن ہے کہ زراعت کے شعبے میں تنزلی نہ ہونے بلکہ خاصی ترقی ہونے کے باوجود جی ڈی پی میں اس کا فیصدی حصہ کم ہوگیا ہو۔ دراصل یہ بالکل بنیادی حسابی تصور ہے۔ آئیے اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ ذیل میں دیے گئے جدول کو دیکھیے:

اس جدول میں سال 2010 اور 2010 میں کل جی ڈی پی میں تین مختلف سیکٹرز کا فیصدی حصہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اسے دیکھنے پر یہی محسوس ہوتا ہے زراعت میں تنزلی ہوئی ہے کیونکہ 2010 میں اس کا حصہ 50 فیصد تھا جو 2020 میں گھٹ کر 42 فیصد رہ گیا ہے۔ اب آپ نیچے اسی جدول کی تفصیلی شکل دیکھیے جس میں فیصدی حصے کے ساتھ ہر سیکٹر کی قدر یا ویلیو بھی دی گئی ہے۔

اس جدول میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زراعت کی قدر  2020 میں بھی اتنی ہی ہے جتنی کہ 2010 میں تھی۔ یعنی اسکی قدر میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی لیکن کل جی ڈی میں اس کا فیصدی حصہ سروس سیکٹر میں اضافے اور اس کے نتیجے میں کل جی ڈی پی میں اضافے کی وجہ سے کم ہوگیا ہے۔ اب آپ ایک اور جدول دیکھیے:

اس جدول میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اگرچہ 2020 میں زراعت کی قدر 50 سے بڑھ کر 75 ہوگئی ہے لیکن اس کے باوجود کل جی ڈی پی میں اس کا فیصدی حصہ 50 سے گھٹ کر 39 ہوگیا ہے کیونکہ سروس سیکٹر کی قدر میں زیادہ اضافہ ہوا ہے اور کل جی ڈی پی کی قدر بھی بڑھ گئی ہے۔

ان مثالوں سے واضح ہوا کہ محض جی ڈی پی میں فیصدی حصہ کم ہوجانے کا مطلب یہ نہیں کہ زراعت کے شعبے میں تنزلی ہوئی ہے کیونکہ ہم نے دیکھا کہ اسکی قدر میں کمی واقع نہ ہونے حتیٰ کہ اضافہ ہونے کے باوجود کل جی ڈی پی میں اس کا فیصدی حصہ کم ہوسکتا ہے۔ درحقیقت، جی ڈی پی میں زراعت کے فیصدی حصے میں کمی معیشت میں مجموعی طور  بہتری کا نشان بھی ہوسکتا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ کمی معیشت کے زیادہ متنوع ہوجانے اور باقی سیکٹرز کی قدر میں اضافہ ہوجانے کی وجہ سے ہوئی ہو۔

مثال 4: ڈرون حملے اور دہشت گردی

پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے تناظر میں چند دن پہلے ہمارے ایک معزز دوست نے فیس بک پر مندرجہ ذیل تحریر پوسٹ کی:

“بہت سے لوگوں کو یاد ہو گا کہ عمران خان، حامد میر، جماعت اسلامی اور دیگر بہت سے لوگوں کی طرف سے کچھ عرصہ پہلے تک یہ تواتر اور اصرار سے کہا جاتا تھا کہ عوام پر ہونے والے خود کش دھماکوں کی ایک بڑی بلکہ بعض کے نزدیک واحد وجہ ‘امریکی ڈرون حملے’ تھے

۔۔ اگست دو ہزار سولہ سے لے کر فروری دو ہزار سترہ تک دہشت گردوں کی جانب سے قریبا دس خود کش اور دیگر حملے ہو چکے ہیں جن میں سینکڑوں لوگ موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں

۔۔۔ سن دو ہزار سولہ میں پاکستان میں کل مبلغ تین ڈرون حملے ہوئے جن میں کل سات اموات اور ایک شخص زخمی ہوا ۔۔ آخری ڈرون حملہ ہ مئی دو ہزار سولہ میں ہوا جس میں صرف ایک شخص ملا منصور مارا گیا

کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا؟”

اس پوسٹ کا لب لباب یہ ہے کہ اگر دہشت گردانہ کارروائیاں ڈرون حملوں کی وجہ سے ہورہی تھیں تو پچھلے سوا سال میں تو صرف تین ڈرون حملے ہوئے ہیں وہ بھی دس ماہ پہلے۔ پچھلے دس ماہ سے  کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا جبکہ اس عرصے میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں ہوچکی ہیں لہذا ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ دہشت گرادنہ کاروائیوں کا ڈرون حملوں سے زیادہ تعلق نہیں ہے۔

تاہم یہ ناقص شماریاتی منطق ہے۔ ایسا قطعا ضروری نہیں کہ جب ڈرون حملہ ہو اس کا متاثرہ شخص اسی وقت اس کے جواب میں ایک دہشت گردانہ کارروائی کرے۔ درحقیقت ڈرون حملے کے متاثرہ کسی شخص کا دہشت گردی کی کاروائی میں کچھ وقت گزرنے کے بعد ملوث ہونے کا امکان فوری طور پر ملوث ہونے کے امکان سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔ فرض کرلیں ایک شخص الف کا کوئی عزیز آج کسی ڈرون حملے میں مارا جاتا ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کے اس تک پہنچنے، اسے قائل کرنے، تربیت دینے اور کارروائی کیلئے مناسب موقع دیکھنے میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آج جو شخص دہشت گردانہ کارروائی کررہا ہے وہ آج سے پانچ سال پہلے کسی ڈرون حملے سے متاثر ہوا ہو۔

برآں مزید، یہ بھی ضروری نہیں کہ دہشت گردانہ کاروائیوں میں صرف وہی شخص ملوث ہو جو براہ راست ڈرون حملے سے متاثر ہوا ہو۔ ڈرون حملوں کو بنیاد بنا کر امریکی ظلم، اس میں پاکستانی ریاست کے تعاون یا بزدلی وغیرہ کو بنیاد بنا کر ایک پورا بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے جو لوگوں کو ایسی کارروائیوں میں ملوث کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ اور کچھ کارروائیوں کے بعد ایسے “شہید” بھی میسر آجاتے ہیں جنکی “شہادت” کو مزید لوگوں کے “جذبہ شہادت” کو مہمیز دینے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک لمبا پراسیس ہے جسکی تصویر کشی صرف سواسال کے اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں کی جاسکتی۔ اس کیلئے کم سے کم بھی پہلے ڈرون حملے سے لے کر اب تک کے تمام اعداد و شمار کا تجزیہ ضروری ہے۔

ضروری انتباہ: میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ ڈرون حملے دہشت گردی کی واحد یا سب سے بڑی یا بڑی وجوہات میں ایک وجہ ہیں۔ نظری طور پر موجودہ دہشت گردی میں دیگر تاریخی اور نظریاتی وجوہات کا دخل زیادہ معلوم ہوتا ہے۔  میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ معزز دوست کے دیے گئے اعداد و شمار ڈرون حملوں اور دہشت گردی کے درمیان علت و معلول کے تعلق کو رد یا ثابت کرنے کیلئے ناکافی ہیں۔ دہشت گردی اور اس جیسے دوسرے طویل مدتی پیچیدہ سماجی مظاہر میں علت و معلول کے سلسلوں کا شماریاتی تجزیہ اتنے کم عرصے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں کیا جاسکتا۔یہ ایک بنیادی غلطی ہے جس کے مظاہرے باربار دیکھنے کو ملتے ہیں۔

مثال 5: اسکول سے باہر بچے

“الف اعلان” نامی ایک این جی او  نے کوئی دو برس قبل ایک تحقیقی رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق پاکستان کے اڑھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ اس رپورٹ کے جاری کیے جانے کے بعد اس پر خاصی گفتگو ہوئی اور اس کی بنیاد پر باقاعدہ مہم چلائی گئی جو بعد میں  وزیراعظم کی تصویروں کے ساتھ اخبار میں اشتہار دینے کی وجہ سے تنازعے کا شکار بھی ہوئی۔

ذیل میں دیا گیا انفوگرافک اسی این جی او کی طرف سے جاری کیا گیا ہے جس میں پاکستان کے ہر علاقے میں اسکول سے باہر بچوں کی فیصدی تعداد ظاہر کی گئی ہے۔

 

یہ معلومات پہلی دفعہ دیکھ کر مجھے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیوں کہ خود آزاد کشمیر کا رہائشی ہونے کی وجہ سے وہاں کے حالات کے بارے میں کچھ نہ کچھ آگاہی رکھتا ہوں اور میرے لیے یہ تصور کرنا ذرا مشکل ہے کہ  آزاد کشمیر میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی نسبت زیادہ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ جب میں نے پوری رپورٹ دیکھی تو اندازہ ہوا کہ یہ اعداد و شمار متعدد قابل اعتراض مفروضوں اور اندازوں کی بنیاد پر اخذ کیے گئے ہیں۔ مثلاً کل آبادی کا اندازہ 1998 کی مردم شماری کو بنیاد بنا کر لگایا گیا ہے۔ اسی طرح پرائیویٹ اسکولوں اور ان میں طلبہ کی تعداد کا اندازہ اس سروے کی بنیاد پر لگایا گیا ہے جو آخری دفعہ 06-2005 میں کیا گیا تھا۔ مختلف جماعتوں میں بچوں کی تعداد کا اندازہ بھی انکی عمروں کی بنیاد لگایا گیا ہے جو خود اندازوں پر مبنی تھیں۔گویا کل تحقیق اندازوں پر مبنی ہے جسکی صحت خاص طور پر اس لیے بھی مشکوک ہوجاتی ہے کہ “اثر” نامی این جی او جو باقاعدگی سے خود سروے کرتی ہے اس کے تازہ ترین سروے کے مطابق پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد اٹھاسی لاکھ (یعنی الف اعلان کے اندازے سے ایک کروڑ 60 لاکھ کم) کے لگ بھگ ہے۔ “اثر” کے سروے کے مطابق اسلام آباد کے بعد سب سے بہتر صورت حال آزاد کشمیر کی ہی ہے جہاں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد چھ سات فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اصل رپورٹ جو الف اعلان کی ویب سائٹ پر دیکھی جاسکتی ہے اس میں حتمی نوعیت کے دعووں سے اجتناب کیا گیا ہے اور اس تحقیق کی تحدیدات کو بھی تفصیلی بیان کیا گیا ہے۔ تاہم انہی اعداد و شمار کی میڈیا رپورٹنگ اور مہم پر اس طرح کی عاجزی اور احتیاط کا کوئی سایہ نہیں پڑنے دیا گیا۔

حرف آخر:

یہ محض چند مثالیں ہیں جن کے بیان کرنے کا مقصد اعداد و شمار اور انکی تشریح میں بعض مشکلات اور پیچیدگیوں کی طرف اشارہ کرنا اور اس سلسلے میں احتیاط کی ضرورت کی طرف توجہ مبذول کروانا ہے۔ ایسی مزید مثالیں بھی بیان کی جاسکتی ہیں اور اعداد و شمار کی پیچیدگیوں کے پیش نظر اس چیز کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ اس سلسلے میں کوئی غلطی خود مجھ سے بھی اسی تحریر میں ہی سرزد ہوئی ہو۔ 

 

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: