ارضی عرضی قبول ہو جائے (قسط ۱۸) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زاہد عظیم

0

یہ پہلا موقع تھا کہ ہم سب لوگ آپس میں الجھنے لگے تھے، لیکن میں نے زیادہ بات کرنے سے گریز کیا اور تسبیح کرتا رہا۔

نجانے کب سب سوئے اور کب میری آنکھ لگی۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاف شفاف دن میں ایک فوکر چترال ائر پورٹ پر لینڈ کر رہا ہے۔ میری آنکھ کھل گئی۔ مجھے باہر سے چاند کی روشنی کمرے میں آتی نظر آئی تو میں اٹھ بیٹھا اور باہر جا کر تسلی کی۔ واقعی چاند پوری آب و تاب سے آسمان میں جلوہ افروز تھا۔ میری درخواست سنی گئی تھی۔ آسمان پر بادل ابھی تک موجود تھے اور کہیں کہیں، بادلوں کی اوٹ سے ستارے بھی جھانکتے تھے۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا اور ورد کرتا پھر سو گیا۔

ہماری گزشتہ کئی دنوں سے یہ روٹین تھی کہ ہم سو کر اٹھتے تو ہر کوئی پہلے باہر جا کر آسمان کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو جاتا تھا۔ آج بھی یہی ہو رہا تھا اور سب شور مچاتے تیار ہو رہے تھے کہ موسم صاف ہو رہا ہے۔ جہاز آئے گا۔

ہم جب بھاگم بھاگ ہوائی اڈے پہنچے تو وہاں ہمیشہ کی طرح بہت ہی رش تھا۔ ہم نے سب سے پہلے اس چوٹی کی طرف دیکھا، آدھی چوٹی نظر آ رہی تھی۔

ہمارے آنے کے تھوڑی ہی دیر بعد پشاور کی پہلی فلائیٹ کی منسوخی کا اعلان ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب پہلی پرواز کے مسافر دوسری میں جائیں گے۔ دوسری کے تیسری میں اور تیسری پرواز والے اگلے دن کی پہلی فلائیٹ سے جاسکیں گے۔ ہم دوسری فلائیٹ کے مسافر تھے لہٰذا ہمارا چانس تھا اور ہم تیسری پرواز کے امیدوار بنے۔ تیسری پرواز پر جانے والے واپس جانے لگے کہ یہاں کا یہی معمول تھا۔

جیسے جیسے دن چڑھ رہا تھا بادل بلندی کی طرف اٹھ رہے تھے۔ اب وہ چوٹی صاف نظر آنے لگی تھی۔ لیکن نئے بننے والے سفید بادلوں کے مرغولے بھی خطرناک حد تک بڑھ رہے تھے اور بادلوں کی ایک نئی تہ پیدا ہو کر اوپر اٹھ رہی تھی۔

اسی اثنا میں پشاور سے دوسری فلائیٹ کے آنے کا اعلان ہوا۔ مسافروں کو بورڈنگ کارڈز ملنے لگے اور چہروں پر رونق آنے لگی۔ نئے بننے والے بادلوں نے اس چوٹی کو گھیرنا شروع کر دیا تھااور وہ دامن سے چوٹی کے قریب پہنچ رہے تھے۔ اسی وقت ائر پورٹ پر ایک سائرن بجنا شروع ہوا۔ میں نے وہاں سے گزرنے والے ایک سیکورٹی والے سے پوچھا تو اس نے بتایا یہ اس بات کی اطلاع ہے کی جہاز لواری ٹاپ پہنچ چکا ہے۔ جیسے ہی وہ خیریت سے ٹاپ کراس کرے گا یہی سائرن دوبارہ بجے گا اور ساتھ ہی آپ کو اُس درے میں جہاز نظر آ جائے گا۔ اُس نے چوٹی کے ساتھ ایک درے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ کچھ دیر بعد پھر سائرن بجا اور اگلے ہی لمحے ایک فوکر درے میں سے ہماری طرف اڑتا ہوا نظر آ رہا تھا۔

جہاز اترا تو اس کے عملے کے ارکان کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے نیچے اترے۔ وہ ائرپورٹ پر کھڑے سیکیورٹی والوں کو بتا رہے تھے کہ راستہ بادلوں کی بناوٹ کی وجہ سے بہت خطرناک ہو چکا تھا اور بادل اوپر نیچے کئی تہوں میں تھے۔ وہ طیارہ واپس لے جانے پر تیار نہ تھے۔

مجھے پھر فکر لا حق ہوئی کہ اگر پشاور کی یہ اور اگلی پرواز منسوخ ہو گئی تو ہمارے لیے ایک اور مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔ ہم نے ابھی تک اسلام آباد کی پرواز کے لیے اپنے نام درج ہی نہیں کروائے تھے اور نو بجنے کو تھے۔ میرے دل میں ایک ہی دعا تھی کی ارض والوں کی عرضی آسمانوں میں قبول ہو جائے۔

میں نے باہر نکل کر ایک جیپ والے سے بات کی کہ وہ ہمارا ایک ساتھی بکنگ آفس لے جائے اور اندراج کے بعد واپس چھوڑ دے۔ جب وہ ڈرائیور نہیں مانا تو میں کسی دوسرے کو ڈھونڈنے چلا۔ ا ئر پورٹ کی عمارت سے دور جیپیں کھڑی تھیں۔

میں تیز قدم اٹھاتا ادھر جا رہا تھا کہ ایک اور عمارت نظر آئی جس کے اندر بہت سی مشینری، وائر لیس سیٹ، مائیک، ٹی وی سکرینز اور اینٹینا نظر آ رہے تھے۔ اسی جگہ سے آنے والے جہاز کے عملے کا ایک فرد نکل کر جہا زکی طرف جا رہا تھا۔ میں اس طرف گیا تو وہاں وہی سیکیو رٹی والا نظر آیا جس نے مجھے سائرن کے بارے میں بتایا تھا۔ میں نے اس سے اس عمارت کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ کنٹرول روم ہے۔ اس سے درخواست کر کے میں اند چلا گیا۔ وہاں ایک بڑے سے پینل کے سامنے ایک با وردی آفیسر مختلف احکامات صادر کر رہا تھا اور ُاسی کے پاس لگے ایک سپیکر پر جہاز کے جانے کی اطلاع نشر ہو رہی تھی۔

وہ صاحب جب کچھ احکامات دے کر فارغ ہوئے تو میں نے اپنی رام کہانی سنائی اور جلدی سے ان کو اپنے اسلام آباد اور پشاور والے پانچ پانچ ٹکٹ بھی دکھائے۔ پھر ان کو اپنی مجبوریاں بتائیں اور یہ بھی بتایا کہ ہم کالاش دیکھ کر قلاش ہو چکے ہیں۔

ان صاحب نے کچھ دیر تو سر کھُجایا۔ پھر دونوں ہاتھوں کا پھول بنا کر اپنی ٹھوڑی اس میں ٹکا کر کچھ دیر سوچتے رہے۔ پھر انگڑائی لے کر وائر لیس پر کہیں پشتو میں بات کرنے لگے۔ اس کے بعد کہیں انگریزی میں موسم اور مسافروں کی حالت اور’ سب اچھا ہے‘ کی رپورٹ دینے لگے۔ پھر کھوار زبان میں کسی اور سے بات کرتے رہے۔ میں اندازہ کر سکتا تھا کہ یہ پشاور یا سوات میں پشتو میں بات کر رہے تھے، انگریزی میں شاید اسلام آباد اور کھوار میں یا تو چترال ہی میں بات کر رہے تھے یا کہیں ٹاپ وغیرہ پر۔ پھر وہ مسکرا کر میری طرف دیکھنے لگے اور پھر کہیں کال کرنے لگے۔

’’یہ جہاز نہیں جا رہا تھا کہ موسم بہت خراب ہے۔ رسک لے کر پائیلٹ چلا تو گیا ہے لیکن اس نے پشاور کی اگلی فلائیٹ کے عملے کو ڈرا دیا ہے۔ دیکھتا ہوں اس کا کیا کرنا ہے۔ ‘‘ وہ مجھے آگاہ کرنے لگے۔

’’اسلام آباد والی فلائیٹ کو کہا ہے وہ آرہی ہے۔ ‘‘ انہوں نے مجھے خوش خبری سنائی۔

’’ میں نے اپنے بکنگ والوں کو کہا ہے کہ وہ اسلام آباد کے میرے پانچ مہمانوں کے لیے رجسٹر پر اندراج کی جگہ خالی چھوڑ کر آ جائیں۔ اس کے بدلے میں ان کو پشاور کی پانچ کنفرم اندراج شدہ ٹکٹیں دوں گا۔ وہ مان گئے ہیں اور ان کی گاڑی ابھی باہر پارکنگ میں آئے گی۔ آپ ان کو پشاور والی ٹکٹیں دے دیں اور ریفنڈ لے لیں۔ اپنا اندراج رجسٹر میں پہلے کروانا ورنہ بورڈنگ کارڈ نہیں ملیں گے۔ ‘‘ انہوں نے ہدایت دی۔

وہ ایک فرشتہ تھا جو اللہ نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا۔

’’آپ اب جائیں دیر ہو رہی ہے۔ ‘‘ میں ان کا شکریہ ادا کر کے باہر دوڑا۔

باہر میرے ساتھی مجھے ڈھونڈ رہے تھے۔ میں نے جلدی سے سب ٹکٹ لیے اور پارکنگ میں چلا گیا۔ کچھ ہی دیر میں پی آئی اے کا ایک سوزوکی کیری ڈبہ آتا ہوا نظر آیا۔ جب وہ پارکنگ میں پہنچا تو میں فوراََ آگے بڑھا۔ اندر بیٹھے ایک شخص کے پاس رجسٹر اور دوسرے کاغذات نظر آرہے تھے۔ جیسے ہی میں اس کی طرف بڑھا اس نے بھی پہچان لیا۔

’’کتنے ٹکٹ ہیں پشاور کے ‘‘ اس نے شاید کوڈ کے طور پر پوچھا۔

’’ پانچ‘‘ میں نے کہا۔

’’ہمارے پانچ اسلام آباد کے اندراج بھی کر لیں‘‘ میں نے اپنے ٹکٹس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ وہ مسکرایا اور رجسٹر کھولا۔ لسٹ کے اندر پانچ سطریں خالی تھیں جن پر اس نے ہمارے نام ٹکٹوں سے دیکھ کر لکھے۔ پھر مجھ سے پشاور والی ٹکٹس لیں اور ان کے پیسے مجھے ادا کیے۔ پھر وہ بکنگ آفیسر عمارت میں چلے گیا۔ ہم بھی پیچھے پیچھے اندر داخل ہوئے۔

کچھ ہی دیر میں پشاور کی پرواز کے کینسل ہونے کا اعلان ہوا۔ میرے ساتھیوں پر اوس پڑ گئی۔ صاف نظر آرہا تھا کہ اگلی پرواز بھی منسوخ ہو جائیں گی۔ زبیر نے تو ترچ میر کوچ کے لیے پیسے بھی گننے شروع کر دیے اور شعیب میرے وظیفے اور ورد کے حوالے سے میرا مذاق اڑانے لگا۔ واجد سامان سمیٹ کر باہر نکلنے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسلام آباد کی پرواز کے آنے کا اعلان ہوا۔

’’اوئے فلائیٹ آ رہی ہیـ‘‘

’’یا آآآآ ہو‘‘

میرے کانوں میں خوشی کے نعرے اور شُکر کے کلمات گونج رہے تھے۔ زبیر مجھ سے ٹکٹیں لے کر بورڈنگ کارڈ لینے دوڑا۔ واجد اور اظہار سامان اٹھا کر بکنگ کاؤنٹر کی طرف بھاگے جہاں پہلے ہی زبیر پہنچ کر قطار میں لگ چکا تھا۔

سائرن کی آواز نے بتایا کہ ہمارا جہاز لواری ٹاپ پر پرواز کر رہا ہے۔ دوسرے سائرن کے بجنے تک ہمارے ہاتھ میں بورڈنگ کارڈ آ چکے تھے۔

بہت سے بااثر افراد ہمیں عجیب سی نظروں سے گھورتے تھے اور بکنگ کاؤنٹر پر کھڑے افسروں پر غضبناک ہو تے تھے۔

شیشے کی دیوار کے اس پار ہم رن وے کو دیکھتے تھے۔ کچھ ہی دیر میں فوکر دوڑتا ہوا ہمارے سامنے سے گزرا اور رن وے کے دوسرے سرے تک اپنے ڈگمگاتے قدم سنبھالتا ہوا واپس مڑا اور ہمارا منتظر ہوا۔

جب ہم طیارے میں بیٹھ گئے تو پہلی بار میرے ساتھوں کے چہروں پر سکون کی لہر دوڑی۔

میں تو پہلے سے پُر امید تھا کہ بلال گنج میں لنگر کی دیگ پہنچ ہی جاتی ہے۔

جب ہمارا طیارہ فضا میں بلند ہوا اس وقت حاجی صاحب کسی اور مسافر کو کہہ رہے ہوں گے ’آرام کروجہاز نہیں آئے گا‘۔

حاجی صاحب اس بار جہاز نے آپ کی نہیں سنی۔ ۔ نہیں مانی۔ ۔ آ ہی گیا۔

’’یار ہم چترال کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں‘‘ واجد نے کہا اور سب نے ایک دوسرے کی طرف یوں دیکھا جیسے ہم ائر پورٹ پر کچھ بھول آئے ہوں۔

اب چترال پھر یاد آنے لگاتھا۔ کہتے ہیں جدائی کے وقت محبت کی کیفیت اوراثرات کا پتا چلتا ہے۔

اب بہت سے منظر آنکھوں کے سامنے سے گزر رہے تھے۔ گرم چشمہ کے لوگ، کوغذی کا حسن اور گولین کی سادگی۔

جب کافرستان کے نیلے شیش محل اور آنکھیں جھپکتے آئینے یاد آئے تو لگا میرے آس پاس بہت سے نیلے کنچے بکھر گئے ہیں۔

کالاش ایک ہرجائی۔ ۔ ۔ جس نے اپنے رقص کے سحر کے شیشے میں ایسا اتارا کہ اب میری سوچیں محوِ رقص تھیں

نمی دانم کہ آخر چُوں دمِ دیدار می رقصم !!!

مگر نازم با ایں ذوقے کہ پیشِ یار می رقصم

میں تمام چترال کی اصل خوبصورتیاں اپنے ساتھ لے آیا تھا۔

یادوں میں۔ ۔ سوچوں میں۔ ۔ تحریروں میں۔ ۔ تصویروں میں۔ ۔

میرا چترال میرے ساتھ جہاز میں سفر کر رہا تھا۔

جب میں نے اسلام آباد ائر پورٹ پر قدم رکھا تو ہم پانچ نہیں چھے تھے۔ چھٹا میرا ساتھی چترال تھا۔ ۔ جو ایک زندگی تو پہاڑوں میں جی رہا تھا۔ ۔ اور دوسری زندگی میدانوں میں جینے میرے ساتھ چلا آیا تھا۔

 

پچھلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: