ارضی عرضی قبول ہو جائے (قسط ۱۷) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زاہد عظیم

0

بکنگ آفس ہمیشہ کی طرح ایک میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ بہت با رسوخ مقامی عمائدین اور فورسز کے لوگ بھی دفتر میں موجود تھے۔ اس دن کسی کی بھی ٹکٹس کا اندراج نہیں ہونے دیا گیا اور پی آئی اے نے اعلان کر دیا کہ اسلام آباد کی فلائیٹ کا اندراج تواگلے دن صبح آٹھ بجے ہو گا کیونکہ وہ فلائیٹ ہی گیارہ بجے آتی تھی۔

مجھے سمجھ آ گئی کہ اس طریقے سے لوگوں کو پشاور والی آپشن پر دھکیل کر اسلام آباد والی پرواز میں گنجائش پیدا کی جا رہی تھی تاکہ با اثر افراد کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔ پھر اگلے دن کی کنفرم لسٹ کو کس نے چیک کرنا تھا۔ ویسے بھی دونوں جگہ کی ٹکٹ رکھنے والے جب صبح ائر پورٹ پر پشاور کی پرواز کے لیے موجود ہوں گے تو آٹھ بجے وہ اس دفتر میں آ بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ پشاور کی فلائیٹس پہلے سے آنا شروع ہو جاتی تھیں۔ میں نے اپنی پشاور والی ٹکٹس کا اندراج کروایا اور دن گیارہ بجے ہم فارغ ہو کر اس دفتر سے باہر آگئے۔

باہر نکل کر مختلف پروگراموں پر غور ہونے لگا۔ شعیب کا خیال تھا کہ مستوج دیکھنے جایا جائے، لیکن فاصلہ زیادہ ہونے اور وقت کی کمی کی وجہ سے یہ پروگرام نہ بن پایا۔ ویسے بھی مالی حالت خراب ہو رہی تھی اور ہم صرف ضروری اخراجات کرنے پر ہی اکتفا کرنا چاہتے تھے جبکہ مستوج کے لیے جیپ کا کرایہ بہت زیادہ تھا۔

دراصل ہم نے چترال آتے ہی دل کھول کر اوربے دریغ شاپنگ کر لی تھی۔ اب نظر آرہا تھا کہ حالات ایسے ہی رہے تو کچھ سامان واپس کرنا پڑے گا۔ اتنے میں بارش شروع ہو گئی اور مورال بہت گر گیا لہٰذاسب سے اچھا پروگرام یہی تھا کہ کھانا کھایا جائے اور حاجی صاحب کے بقول آرام کیا جائے۔

اپنے پسندیدہ ہوٹل پر ہم وقت سے پہلے ہی پہنچ چکے تھے کیونکہ کھانے کا باقاعدہ آغاز تو ایک بجے ہوتا تھا لیکن ہم سوا گیارہ بجے ہی وہاں پہنچ گئے اور وہاں صرف ہم ہی تھے۔ ہوٹل کا عملہ ابھی دن کے باقاعدہ آغاز کی تیاریاں کر رہا تھا۔

ہمارے آرڈر کو وہ لوگ سمجھ چکے تھے لہٰذا ایک ملازم نے چٹنی اچار اور روٹیاں رکھیں اور سالن لینے چلا گیا۔ جب تک وہ ملازم سالن لے کر آیا ہم چٹنی اور اچار کے ساتھ روٹیاں ختم کر چکے تھے۔ اس نے دوسرے ملازم کو روٹیوں کا کہا اور خود سلاد، چٹنی اور اچار لینے چلا گیا۔ جب وہ واپس آیا ہم سالن کے ساتھ پھر روٹیاں ختم کر چکے تھے۔ اس نے ہمارے سامنے سلاد وغیرہ رکھا اور ہمیں دیکھ کر ہنسنا شروع کر دیا۔ پھر دوسرے لڑکے کو آواز دے کر سالن اور روٹیاں لانے کو کہا اور خود قہقہے لگاتا ہوا ہوٹل کے مالک کے پاس جا کر ہماری کار گزاری با آوازِ بلندسنانے لگا۔ اب سب ملازم اور مالک ہنس رہے تھے اور ہم شرمندہ ہو رہے تھے کہ انہوں نے آج ہمارا اصلی روپ دیکھ ہی لیا۔ وہ سب حیرت زدہ نظروں سے ہمیں دیکھتے تھے اور ہنستے تھے۔

’’ خان ہمیں جہاز کی ٹنشن ہے، اس لیے ایسے کھا رہے ہیں۔ ‘‘ شعیب نے حالات نارمل کرنے کے لیے دلیل دی۔

’’ دو دن جہاز اور نہ آیا تو کیا برتن بھی کھا جاؤ گے‘‘ ایک ملازم نے جواب دیا۔

’’ یار نکلو اب تو ’بیستی‘ ہو رہی ہے‘‘ اظہار نے گردن جھکاتے ہوئے کہا۔

جب ہم ہوٹل سے نکلے تو بہت سے قہقہوں نے ہمارا پیچھا کیا۔ مین بازار تک آتے آتے ہم لوگ بھیگ چکے تھے کچھ بارش اور کچھ عرقِ انفعال میں۔

بازار میںویگن سٹا پ پر بہت بھیڑ تھی۔ قریب گئے تو پتا چلا کہ پشاور سے آنے والی ویگن کو افغانستان میں لوٹ لیا گیا تھا۔ سواریوں کے کپڑے تک اتروا لیے گئے تھے اور مزاحمت کرنے پر دو افراد کو مار دیا گیا تھا۔

اب تو دوستوں کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ گئیں تھیںاور سوائے جہاز کی آپشن کے کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا۔ مایوسیوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ میرے دل میں کئی اور خیال آرہے تھے کہ لواری ٹنل بن چکی ہوتی تو یہ مسئلے نہ ہوتے۔ ایک خیال یہ آیا کہ کیوں نہ کسی سواری پر لواری ٹاپ کے اس مقام تک جایا جائے جہاں سے برف نے راستہ بند کر رکھا تھا۔ پھر پیدل چل کربرف پار کر لی جائے۔ دوسری طرف اتر کر کسی بھی جیپ پر دیر اور سوات کے راستے گھر کا سفر کر لیا جائے یا مستوج تک جا کر شندور ٹاپ کو پیدل پار کر کے گلگت اترا جائے۔

لیکن ضروری سامان کی غیر موجودگی میں یہ سفر ناممکن تھے۔ اتنی زیادہ برف کو ایسے حالات میں عبور کرنا تو مقامی لوگوں کے بس کی بات بھی نہیں تھی ورنہ وہ اس طریقے کو بہت پہلے اختیار کر چکے ہوتے۔

مجھے صرف ایک ہی راہ نظر آ رہی تھی اور وہ بہت سیدھی تھی کہ اللہ سے مدد مانگی جائے۔ اس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے صرف لو لگانے کی ضرورت تھی۔

ہوٹل پہنچے تو حاجی صاحب لوگوں کو ’ آرام کرو جہاز نہیں آئے گا‘ کا درس دے رہے تھے۔ میں نظر بچا کر کمرے میں چلا گیا۔ جب سب لوگ لیٹ گئے تو میں بستر پر لیٹ کر دیوار کی طرف منہ کر کے اللہ کے حضورپیش ہو گیا۔ میں ایک دفعہ پہلے بھی یہ جسارت کر چکا تھا۔

جن دنوں ہم لاہور میں پڑھا کرتے تھے، حضرت علی ہجویری المعروف داتا صاحب کا عرس شروع ہو گیا۔ میں نے واجد اور اپنے گروپ کے دو اور دوستوں سے کہا کہ داتا صاحب جا کر فاتحہ پڑھی جائے اور لنگر بھی وہیں کھایا جائے۔ دعا کرنے کے پروگرام پر تو سب متفق تھے لیکن سب کا خیال تھا کہ کھانا میس میں ہی کھا کر جایا جائے۔

میں اور واجد میس کمیٹی کے ممبر تھے اور عمدہ کھانے پکوایا، کھایا اور کھلایا کرتے تھے لہٰذا واجد بضد تھا کہ کھانا ہوسٹل میںکھا کر عشا کے بعد جائیں گے لیکن میرے کہنے پر سب نے کھانا چھوڑا اور لنگر کھانے کی تجویز مان لی۔

ہم چاروں نے عشا کی نماز کے بعد مزار شریف پر فاتحہ خوانی کی اور پھر لنگر خانے کی طرف آئے تو عجیب منظر تھا۔

لوگوں کا جمِ غفیر لنگر خانے پر گویا قابض تھا اور چھینا جھپٹی کی وجہ سے چاول ہوا میں اڑ رہے تھے جبکہ ایک ایک نان پر دس دس لوگ ٹوٹے پڑے تھے۔ ہم لوگ رات گیارہ بجے تک اسی انتظار میں تھے کہ رش کم ہو اور ہم لنگر کھا سکیں۔ جیسے جیسے رات بھیگ رہی تھی رش بڑھتا ہی جاتا تھا۔ دوستوں نے باتیں کرنا شروع کر دیں کہ گھر میں پکا چھوڑ کر آئے تھے ادھر بھی نہیں مل رہا۔ واجد نے تو کہاکہ کچھ شرینی خرید کر بانٹو اور ہمیں بھی اسی میں سے کھلا دو۔ اس وقت بھی میں نے لو لگائی تھی اور اللہ سے کہا تھا ہم تیرے ولی کے مہمان ہیں اور مہمان نوازی کے متمنی ہیں۔

بارہ بجے تک بھی جب کچھ نہ ملا تو ہم مزار کے احاطے سے باہر آگئے اور بلال گنج کے سنسان بازار میں سے اپنے ہاسٹل کی طرف چل دیے۔

اچانک ایک تاریک گلی سے دو آدمی ایک دیگ بانسوں کے سہارے اٹھائے برآمد ہوئے۔ ہمارے سامنے سڑک پر دیگ رکھ کر ایک آدمی نے چاول نکال کر ایک کنالی میں ڈالے اور ہمیں کھانے کو کہا۔ جب ہم کھانے لگے تو وہ دور جا بیٹھے۔ جب ہماری کنالی میں تھوڑے سے چاول رہ جاتے، وہ پھرکنالی بھر جاتے۔ یہی عمل چار پانچ بار دہرایا گیا تو ہماراپیٹ بھر گیا۔ آخر میں انہوں نے سب سے پوچھا کہ اور بھوک ہے تو اور لنگر کھائیں۔ ہم سب کے انکار کے بعد ایک بولا کہ آپ مہمان ہیں دیر سے آنے پر ہماری معذرت قبول کریں۔ وہ جدھر سے آئے تھے دیگ اٹھا کر واپس اسی طرف چلے گئے۔ ہم نے اس کے بعد آپس میں بھی بات نہ کی تھی۔

آج بھی میں اسی طرح لو لگائے اللہ سے درخواست کر رہا تھا کہ کبھی تیرا نبی یونس بھی تیرے نام کی تسبیح کے ورد کی بدولت ایک قید سے آزاد ہوا تھا، ہمیں بھی نکال۔

بستر پر لیٹے لیٹے دیوار کی طرف منہ کرکے حضرت یونس ؑکی دعا کا ورد کرنے لگا،

لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظالمین

معلوم نہیں واجد کب بیدار ہوا اور شور مچا کر سب کو جگانے لگا،

’’ بارش بھی ہو رہی ہے، بھوک بھی لگی ہے اور ہوٹل پر’ بیستی‘ بھی ہو گئی ہے، کھانا کہاں کھائیں گے‘‘۔ وہ سب کو جھنجوڑ کر پوچھ رہا تھا۔ میں اس کے کہے بغیر ہی اٹھا اور باہر نکل آیا۔ میرے دل میں ورد جاری تھا لہذا میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔

’’کابل ہو ٹل چلو اور عزت سے کھانا کھاکرآؤ‘‘ زبیر نے اعلان کیا۔ میں بھی ورد کرتا سب کے ساتھ چل پڑا۔

’’یہ لیڈر بات نہیں کر رہا‘‘زبیر نے میری خاموشی محسوس کرتے ہوئے کہا۔

’’اسے ٹنشن کا دورہ پڑ گیا ہے۔ اب نہیں بولے گا‘‘ واجد نے اپنی تھیوری پیش کی۔

افغان ہوٹل کے جنگی ماحول میں کسی نے بھی کسی سے بات نہیں کی۔ دیواروں پر لگے ’افغانستان آزادم‘ کے اشتہار دیکھ کر مجھے چترال کااپنا پہلا دن یاد آگیاجب ’افغانستان آزادم، کھانا فری یم‘ کے نعرے لگے تھے۔

کھانا آنے سے پہلے اظہار نے مریم سے ملنے کے حوالے سے بات کرنی چاہی تو سب نے اسے ڈانٹ دیا۔ اس ڈانٹ نے ایک چھوٹی سی لڑائی کی شکل اختیار کر لی تھی جس کے بعد خاموشی کچھ زیادہ ہی تھی۔ افغانی پلاؤ کھا کر سب نے واپسی کی راہ لی کیونکہ نو بجنے والے تھے اور نو بجے زلفی بھائی کا فون آناتھا۔

ہمارے ہوٹل کے ڈائنگ ہال میں حاجی صاحب ہمارے منتظر تھے۔

’’اچھا کیا پانچ منٹ پہلے آگئے، ورنہ اتنی دور سے فون آتا ہے اور ڈھنگ سے بات بھی نہیں ہوتیــ‘‘

’’ جی! آپ درست فرما رہے ہیں حاجی صاحب‘‘ زبیر نے کاؤنٹر سے فون اپنے پاس کھینچتے ہوئے کہا۔ اسے خدشہ تھا کہ فون آئے گا تو پھر حاجی صاحب ہی گپیں مارنے لگیں گے۔

نو بج کر دو منٹ پر فون کی گھنٹی بجی تو زبیر نے حاجی صاحب سے پہلے ریسیور اٹھا لیا اور زلفی بھائی سے بات کرنے لگا۔ اس نے یہاں کے تمام حالات بتائے اور زلفی بھائی نے بھی سب کے گھر والوں کے پیغام ہم تک پہنچائے۔

’’موسم بہت خراب ہے۔ آپ آرام کرو۔ ۔ ۔ ‘‘

’’جہاز آئے گا حاجی صاحب! میں بتا رہا ہوں۔ آپ آج ہم سے حساب کتاب کرلیں پھر نہ کہنا پیسے لے کر بھاگ گئے۔ ‘‘ میں حاجی صاحب کی بات کاٹ کر بولا۔ سب دوستوں نے مجھے ایسے دیکھا جیسے کوئی مردہ بول اٹھا ہو۔

میں کمرے میں آگیا تو کچھ دیر بعد باقی سب لوگ بھی کمرے میں آگئے۔ ان کے ساتھ ہی ترچ میر کوچ والے لوگ تھے۔ انہوں نے پھر بائی روڈ کا راگ الاپنا شروع کیا۔ اس بار سب دوست رسک لینے کو تیار تھے۔

’’ یار ہم کپڑے لٹوا کر بھی گھر پہنچ جائیں تو غنیمت ہے، مرتا تو وہی ہے جو مزاحمت کرتاہے، ہم ایسا نہیں کریں گے‘‘ شعیب تیار تھا۔

’’کتنے پیسے بنتے ہیں‘‘ زبیر نے حساب کے لیے ڈرائیور سے پوچھا۔

’’ٹھہرو بھئی! بس صبح کی فلائیٹ چیک کر لو، اگر نہ آئی تو میں خود بائی روڈ کی بکنگ کرواؤں گا۔ مجھے آخری کوشش کر لینے دو‘‘ میرے کہنے پر کوچ والے واپس چلے گئے تو سب نے مجھ سے پوچھنا شروع کیا کہ تم کونسی آخری کوشش کر رہے ہو۔

میں نے انہیں بتایا کہ میں ایک وظیفہ کر رہا ہوں۔ اس پر سب لوگ مذاق کرتے ہوئے میرے پیچھے پڑ گئے کہ نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو جا رہی ہے۔ شعیب کا کہنا تھا کہ وظائف کے لیے نیک اعمال کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اکیلے وظائف کچھ نہیں کرتے۔

بظاہر تو اس کی یہ بات ٹھیک تھی لیکن مجھے یقین تھا کہ وہ ذات جس نے اپنا تعارف ہی رحمن اور رحیم کے طور پر کرایا ہے وہ اتنا عظیم ضرور ہے کہ مجھ جیسے خطا کار کی عرضی بھی منظور کر لے۔

پچھلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

اگلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: