آرام کرو جہاز نہیں آئے گا (قسط ۱۶) ۔۔۔۔۔۔۔۔ زاہد عظیم

0

اس تھیٹر کے باہر لکھا ہوا تھا کہ اس میں کھیل تماشے دکھانے والی تمام خواتین بے لباس ہوتی ہیں اور وہ لباس کے تکلف سے بے نیاز قدرتی انسانی حالت میں تین گھنٹے تک آپ کی تفریح کا سامان مہیا کرتی ہیں۔یہی وجہ تھی کہ لوگ بھاگ بھاگ کر اگلی سیٹوں پر براجمان ہو رہے تھے اور اپنے سوٹ اور ٹائیاںسیٹ کر تے پہلو بدلتے، شو شروع ہونے کے منتظر تھے۔

جیسے ہی شو شروع ہوا، بہت سی خواتین قدرتی لباس میں میک اپ کے زور پر نقش اجاگر کر کے اور ہر ابھار مزید ابھار کر مختلف رقص اور تماشے دکھانے لگیں۔جب شو اختتام کے نزدیک تھا تو مجھے بہت افسوس تھا کہ میں نے سردار جی کی باتوں میں آ کر بہت سے کلوز اپ ضائع کر دیے۔اُسی لمحے اعلان ہوا کی اب شو کا آخری آئیٹم پیش کیا جائے گا۔اس کے بعد تمام عریاں حسینائیں اپنے ہاتھوں میں کوکا کولا اور شمپئین کی بوتلیں لے کر سٹیج پر آگئیں۔پھر انہوں نے اپنے جسموں کے مختلف حصوں کی اڑیس دے دے کر وہ بوتلیں کھولنی شروع کیں۔حیرت زدہ مجمع یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ بوتلوں کے ڈھکن کیسے اور کہاں سے کھولے جا رہے ہیں۔پھر ان خواتین نے باہر ابلتی بوتلوںکا رخ سامنے بیٹھے تما شائیوں بلکہ تماش بینوں کی طرف کر دیا۔اب اگلی قطاروں میں بیٹھنے والے شراب و شباب سے تر تھے۔ان کے سوٹوں کا کباڑہ ہو گیا تھا۔میں خوب ہنستا رہا کہ اور بیٹھو بھاگ بھاگ کر اگلی سیٹوں پر۔‘‘

’’بس ایک دفعہ ہی وہاں گئے یا بعد میں بھی جانا ہوا‘‘ واجد نے پوچھا۔

’’ بعد میں بھی میں اس تھیٹر میں جاتا رہا، عریاں عورتیں دیکھنے نہیں اور نہ ہی یہ دیکھنے کہ بوتلیں کیسے کھلتی ہیں، بلکہ میں صرف اگلی نشستوں پر بیٹھے لوگوں پر ہنسنے جاتا تھا اور جب وہ بھیگتے تو میں اونچی آواز میں شور مچاتا ـ’ ہور چوپو‘۔‘‘

’’پھر تم نے یہاں آ کر بوتلیں کھولنے کی ٹرائی کی‘‘ واجد نے اس کی پسلی میں انگلی چبھو کر پوچھا۔

’’زاہد بھائی اسے منع کرو ورنہ میں سینڈوچ مساج والا واقعہ نہیں سناؤں گا‘‘

’’یہ کیا ہوتا ہے ‘‘ زبیر نے پوچھا۔

’’یہ دراصل ایک سپیشل مساج ہے جو وہاں لوگ کرواتے تھے۔اس میں دو خواتین بِکنی پہن کر مساج کرتی تھیں اور آخر میں آپ ان دونوں کے درمیان سینڈوچ بن جاتے ہو۔‘‘ وہ ابھی واقعہ شروع کرنے ہی والا تھا کہ واجد نے شور مچا دیا،

’’او یہ کافر ہو گیا ہے۔اس کی باتیں سننا اور اس کے پاس بیٹھنا بھی گناہ ہے‘‘

’’ چپ تو کرو یار واقعہ سننے دو‘‘ زبیر نے کہا۔مگر تب تک پانی سر سے گزر چکا تھا۔واجد اور اظہار نے ایک دوسرے کو دبوچ لیا تھا اور یہ مذاق بہت جلد سنجیدہ لڑائی کا روپ دھار گیا۔میں نے مداخلت کی اور حالات نارمل کیے۔

بعد میں بھی اظہار یہی کہتا رہا کہ اس نے ایسا مساج کبھی نہیں کروایا کیونکہ یہ بہت مہنگا تھا جبکہ واجد کا کہنا تھا کہ یہ سوشل بائیکاٹ سے ڈر کرمُکر رہا ہے۔بہر حال یہ تو طے تھا کہ وہ ان علاقوں میں لگاتار جاتا تھا اب معلوم نہیں وہ صرف مشاہدے ہی کرتا تھا یا تجربات بھی۔

رات بہت ہو گئی تھی اور صبح پانچ بجے ائر پورٹ بھی جانا تھا اس لیے سب سو گئے۔چار بجے اٹھ کر اپنے سامان کی پیکنگ شروع کی اور تیار ہو کر اپنے بیگ ہوٹل سے باہر نکالنے لگے۔

’’کیا ہوا اتنی صبح باہر پھر رہے ہو‘‘ حاجی صاحب لان میں وضو کرتے ہوئے بولے۔

’’حاجی صاحب ائر پورٹ جانے کی تیاری ہے‘‘ میں سامان اٹھاتے ہوئے بولا۔

حاجی صاحب نے ایک طنزیہ قہقہہ لگایا اور بولے ’’ میں کل سے کہہ رہا ہوں کہ تم آرام کرو۔جہاز نہیں آئے گا۔جاؤ سو جاؤ‘‘۔

’’ لیکن حاجی صاحب رات کو تو آپ کہہ رہے تھے کہ جہاز آئے گا‘‘ میں نے درشتی سے کہا۔

’’ ہاں رات کو موسم صاف ہو گیا تھا تب آسکتا تھا۔اب نہیں آئے گا، موسم خراب ہے‘‘ حاجی صاحب نے تشریح کی اور خود نماز پڑھنے چلے گئے۔ان میں بلا کا اعتماد تھا کہ وہ ہم سے بل بھی نہیں لے رہے تھے کہ آپ نے کونسا چلے جانا ہے۔

’’واپس آؤ گے تو آپ کو یہ کمرے کھلے ملیں گے۔یہ کوئی نہیں لیتا۔ان پر سایہ ہے۔‘‘ حاجی صاحب لاپروائی سے بولتے ہوئے مسجد کی طرف چلے گئے اور واجد باہر بازار میں جیپ لانے چلا گیا۔

چترال کے نیم تاریک بازار میں سے جب ہم اپنی جیپ پر ہوائی اڈے کی طرف محوِ سفر تھے تو میں نے دیکھا ہمارے سامنے کے پہاڑوں کے دامن سے نئے بنتے بادلوں کے مرغولے آہستہ آہستہ اوپر کی طرف اٹھ رہے تھے۔جب ہماری جیپ ہوائی اڈے پر پہنچی تو سرمئی صبح میں سفید بادلوں کی ٹکڑے خطرے کی علامت بنے ہمارے سروں پر منڈلا رہے تھے۔

ہوائی اڈے پر بہت زیادہ رش تھا اور لوگوں کے چہرے لٹکے ہوئے تھے۔میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ سب لوگ اتنے مایوس کیوں ہیں، کیا کوئی اطلاع آگئی ہے کہ جہاز نہیں آرہا؟۔اُس شخص نے پہاڑوں کی طرف اشارہ کر کے کہا،

’’وہاں ایک چوٹی ہے۔جب وہ ائر پورٹ سے دکھائی دیتی ہے تو جہاز آتا ہے، ورنہ نہیں‘‘۔

میں نے اس کے ہاتھ کے اشارے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا،

’’کون سی چوٹی ہے مجھے دکھاؤ‘‘

’’دکھا ہی تو نہیں سکتا۔اس وقت وہ بادلوں میں چھپی ہوئی ہے‘‘

’’ آج کوئی فلائیٹ نہیں آ سکے گی‘‘ وہ کہتا ہوا واپس چل دیا۔اس شخص کی مایوسی میں بہت اعتماد تھا۔

میں نے دیکھا صرف وہی نہیں، چترال کے مقامی لوگ اتنے موسم شناس بلکہ ماہر موسمیات ہو گئے تھے کہ انہوں نے پروازوں کی منسوخی کا سرکاری اعلان سنے بغیر محض وہ چوٹی دیکھنے کی کوشش کی اور اسے بادلوں میں لپٹا دیکھ کر واپس چلے گئے۔

صرف ہم جیسے ٹورسٹ آخری امید پر وہاں موجود رہے۔پھر باری باری پشاور والی تمام پروازوں کی منسوخی کا اعلان ہوا۔تب تک آٹھ بج چکے تھے۔پھر ڈیڑھ گھنٹے بعد اسلام آباد والی پرواز بھی منسوخ ہو گئی۔

اب پھر وہی مصیبت تھی کہ پھر بکنگ آفس جایا جائے، ٹکٹوں کا نئے سرے سے اندراج کروایا جائے لیکن پھر بھی پرواز کا آنا کنفرم نہیںتھا۔

ہم نے جیپ لی او رسیدھے پی آئی اے کے بکنگ آفس پہنچے تب تک دس بج چکے تھے۔وہاں ٹکٹ واپس کرنے اور نئے لینے والوں کا جمِ غفیر تھا۔میں نے اپنی پشاور والی ٹکٹیں درج کروائیں کیونکہ اگلے دن اسلام آباد کی پرواز نہیں تھی۔

جب میں واپس آیا تو اظہار غائب تھا۔ڈھونڈنے پر وہ ہال کے ایک رش والے کونے میں لوگوں کے پیچھے چھپا مریم سے گپیں مار رہا تھا۔

’’ کھانے پینے کی چیزیں دیکھ کر شعیب لینڈ کر جاتا ہے اور گوریاں دیکھ کر اظہار کے لینڈنگ گئر کھل جاتے ہیں۔بلکہ کالیاں اور پھینیاں بھی اظہار کے لیے رن وے ہیں۔‘‘ واجد لہر میں آ کر بول رہا تھا۔

’’یہ پھینیاں کیا ہیں‘‘ زبیر نے پوچھا۔

’’بیٹھے ناک والی، فار ایسٹ کی کاکیاں‘‘ واجد نے جواب دیا اور اظہار کو لینے اس کونے کی طرف چل د یا جہاں وہ مریم کے ساتھ چپکا بیٹھا تھا۔

آج ہمارے پاس فراغت ہی فراغت تھی۔کرنے کو کوئی کام نہ تھا۔دیکھنے کو بہت سی جگہیں پڑی تھیں مگر وہ ایک دن میں دیکھی نہیں جا سکتی تھیں۔ہم نے وہیں بکنگ آفس میں کھڑے کھڑے پروگرام بنایا کہ یا تو شاہی شکار گاہ برموغلاشٹ کی ٹریکینگ کریں جو ۹۰۰۰ فٹ بلند ایک خوبصورت چراگاہ تھی یا دروش قلعہ دیکھا جائے۔

سب اس بات پر متفق تھے کہ ٹریکنگ کے لیے یہ موسم مناسب نہیں کیونکہ یا تو بارش ہونے لگتی ہے یا حبس ہو جاتا ہے اس لیے دروش جانے کا پروگرام فائینل ہو گیا۔

ہم سب بکنگ آفس سے باہر نکل آئے اور جیپ کی تلاش میں سٹینڈ کا رخ کیا۔اظہار سب سے پیچھے چلتا تھا اور بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتا تھا۔ذرا دیر بعد مریم بھی عمارت سے نکلی اور تقریباََ دوڑتی ہوئی اظہار کے پاس آگئی۔دونوں پیچھے پیچھے باتیں کرتے سب دنیا سے بے نیاز چلتے تھے اور دنیا اس بے جوڑجوڑے کو دیکھتی تھی۔

اظہا ر مریم کے کندھے تک آتا تھا اوروہ دھوش قسم کی میم ہر طرف سے ٹرپل ایکس تھی۔ایک چوک پر پہنچ کر وہ اپنے ہوٹل کی طرف مڑی اور اس کی آواز آئی،

’’ٹو نائیٹ ایٹ نائین او کلاک‘‘ اور اظہار نے اپنا انگوٹھا ہوا میں بلند کرکے ’’او کے ‘‘ کہا تو زبیر نے بولنا شروع کر دیا،

’’کوئی اچھا سا پیس ہو تو بات بھی ہے۔تم ہر ایرے غیرے کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہو۔‘‘

’’ یار جہاز آ نہیں رہا۔بس ٹینشن کم کر رہا ہوں، میں کونسا اس سے رشتے داری کر رہاہوں‘‘ اظہار نے صفائی پیش کی اور ہمارے آگے آگے چلنے لگا۔

زبیر نے ایک جیپ والے کو دیکھا جو ایک دکان سے نسوار خرید رہا تھا۔موسم حبس والا ہو گیا تھا اس لیے ہم زیادہ چلنا نہیں چاہتے تھے۔سودے بازی کیے بغیر ہم اس جیپ میں سوار ہوئے۔ہم نے اسی دکان سے کچھ جوس بسکٹ اور ٹافیاں لیں اور دروش کی طرف روانہ ہو گئے۔

بیس پچیس منٹ بعد ہم اسی مقام پر پہنچ چکے تھے جہاں سے ہم نے کالاش کا سفر شروع کیا تھا۔یہ جگہ ایون تھی اور اب ہم ایون سے سیدھے لواری ٹاپ کی طرف سفر کر رہے تھے جہاں سے پرے سوات کے راستے اسلام آباد جایا جاتا تھا لیکن اب تک لواری کی بر ف کسی ظالم حسینہ کے دل کی طرح موم نہیں ہو رہی تھی۔

آج ہم اسی سڑک پر تھے جو کالاش جاتے وقت ہمیں کسی کوہ قاف کا جادوئی راستہ لگتی تھی لیکن اب وہ ایک عام سی سڑک نظر آتی تھی کیونکہ آج ہم اس پر مجبوراََ سفر کر رہے تھے۔مجبوراََ کِیا جانے والا کوئی بھی سفر اچھا نہیں لگتا چاہے زندگی کا سفر ہو یا ازدواجی زندگی کا۔

آج ہمارے سفر میں ہمیں وہ مزا نہیں آرہا تھا جو گزشتہ سفروں میں آیا تھا۔ہر نظارہ آنکھوں کے راستے دل میں اترتا تو وہیں گھر کر لیتا تھا۔اگر چہ اب بھی باہر کے مناظر دل موہ لینے والے تھے لیکن ہم شور نہیں مچا رہے تھے۔’واہ واہ‘ کہہ کر۔’ہائے ہائے کیا خوبصورتی ہے ‘اور’ اوئے ہوئے باہر تو لٹ مچی ہے‘ کے نعرے نہیں لگا رہے تھے۔خاموشی سے ہر شے دیکھ کر دل ہی دل میںداد دے رہے تھے۔

ویسے بھی میں نے محسوس کیا ہے اندر اور باہر کا موسم مل کر ہمارے لطف کا سامان کرتے ہیں۔گرمی میںتیز دھوپ ہمارے علاقوں میں سیر کا مزاکر کرا کردیتی ہے۔تیز چمکیلی دھوپ میں باغِ جناح لاہور ایک عام سا پارک لگتا ہے لیکن سایوں کی اوڑھنی اوڑھا دیں تو وہ ایک طلسم کدہ بن جاتا ہے جو اپنی بھرپور رونق کے باوجود آپ کو تنہا کر دیتا ہے۔کبھی جب آپ بہت تنہا ہوں تو یہاں آ کر پر رونق ہو جا تے ہیں۔

ڈونگا گلی سے ایوبیہ تک کی پیراڈئیز واک، دوپہر میں ایک سفر اور فاصلہ معلوم ہوتی ہے جبکہ شام کو اس پر چلنے والوں کو یقین ہوتا ہے کہ اس راستے کے دوسری طرف ضرور جنت کا کوئی دروازہ کھلتا ہو گا۔

اچھے موسم جگہ کے تاثر کو بڑھا دیتے ہیں۔ایبٹ آباد میں چناروں کے جھنڈ بہار کے موسم میں اپنی کچی نازک کونپلوں کی چھاؤںجب گھاس کے سپرد کرتے ہیں او ر آس پاس کھلے رنگ برنگے پھول ہوا کو معطر کرتے ہیں تو جی چاہتا ہے کوئی ساتھ ہو۔پت جھڑ میں انھی چناروں کے سرخ اور سنہری پتے گر رہے ہوں تو جی چاہتا ہے کوئی ساتھ نہ ہو۔ایسی ہی کیفیت دروش کے سفر میں ہماری تھی۔موسم بھی موافق نہ تھا اور دل کو اندیشے بھی کچھ زیادہ ہی تھے۔

دروش کے مین بازار میں لوگوں کا ویسا ہی ہجوم تھا جیسا کسی بھی مرکزی تجارتی علاقے کے بڑے بازار میں ہوتا ہے۔لوگ سبزی، کریانے کا سامان، پھل اور کپڑا وغیرہ خرید کر ویگن کے اڈوں کا رخ کر رہے تھے۔وہ جگہ مچھلی منڈی بنی ہوئی تھی۔ویگنیں لوڈ ہو کر مختلف اطراف میں نکل رہی تھیں اور لوگ ان پر لٹک کر سفر کر رہے تھے۔

اب دھوپ نکل آئی تھی اور حبس میں بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ہم اس بازار کی رونق دیکھتے ہوئے پیاس کے ہا تھوں مجبور ہو کر ایک دکان میں گئے۔وہاں جوس کے ڈبے تو تھے مگر گرم تھے۔ہم نے جوس پی تو لیا لیکن وہ تیل کی طرح حلق سے نیچے اترا۔سوچنے کی بات ہے، یہی جوس اگر ٹھنڈا ہو تو اس کا ذائقہ اچھا، اگر گرم ہو تو ذائقہ ہی کچھ اور ہو جاتا ہے۔یہی حال پگھلی آئس کریم اور ٹھنڈی چائے کا ہے۔

اسی طرح اگر بہت اچھا زردہ پکا یا جائے لیکن اس کا رنگ نیلا یا سرخ ہو تو وہ کوئی نہیں کھائے گا۔دراصل ہماری یاداور دماغ میں ہمارے معیارات بھی محفوظ ہوتے ہیں۔جب کوئی چیز ہمارے سامنے آتی ہے تو ہم اس کا موازنہ اپنے معیار سے کرتے ہیں اور اس معیار پر پرکھ کر قبولیت کے درجے پر پہنچاتے ہیں۔اگر وہ چیز ہمارے معیار سے بڑھ جائے تو ہم اسے بہت پسند کر لیتے ہیں اور ’واہ کیا بات ہے ‘ کہہ کر اپنے فیصلے سے مطلع کرتے ہیں۔معیار کے مطابق ہو تو اسے قبول کر لیتے ہیں اور تیسری صورت میں وہ گرم جوس یا نیلا زردہ بن کر رد ہو جاتی ہے اور ہم ’ یہ کیا تھا‘ کہہ کر اس کے غیر معیاری ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں۔

دروش بازار سے نکل کر ہم مہتر کے قلعے کی طرف چل دیے۔راستہ ایک خشک نالے کے کنارے کنارے اونچائی کی طرف جاتا تھا۔اونچی اور مضبوط فصیلوں والا یہ قلعہ بہت اچھی حالت میں تھا۔باہر ایک چوکیدار نظر آیا۔اس سے مدعا بیان کیا تو اس نے بتایا کہ ہم پورا قلعہ نہیں دیکھ سکیں گے کیونکہ اس میں زنان خانے میں خواتین تھیں۔وہ ہمیں نئے تعمیر شدہ مردان خانے سے ایک بڑے لان میں لے گیا جہاں بہت اچھے پھول تھے۔گھا س اورپودے بھی مکینوں کے اچھے ذوق کا پتا دیتے تھے۔دوسری طرف قلعے کی پرانی عمارت تھی جہاں کچھ پرانی توپیں بھی نصب تھیں۔پہرے دار نے خود ساختہ تاریخ سنا کر ہماری تفریح کا سامان کیا۔اس کے بقول مغلوں کے دادا بابر بادشاہ نے جب یہاں حملہ کیا تو اسے شکست ہو گئی تب اس نے اپنے بیٹوں کو ادھر نہ آنے کی تلقین کی۔بعد میں مغلوں کے آخری بہادر بادشاہ ’سکندر اعظم‘ نے اپنے دادا کا بدلہ لینے کے لیے یہاں حملہ کیا اور وہ یہیں مارا گیا۔اسی وجہ سے انگریز ڈرتا رہا اور اس نے ادھر کا رخ نہیں کیا۔تاریخ کا جتنابڑا جنازہ اس چوکیدار نے نکالا، تاریخ میں نہیں ملتا۔

اس’’ مستند‘‘ تاریخ کے بعد ہم نے اس سے کوئی اور بات پوچھنے کا رسک نہیں لیا اور چپ چاپ واپسی کی راہ لی۔ہمارے ڈرائیور نے وہاں سے نکلتے ہی دروش قلعے کی طرف جانے والی ایک سڑک پر جیپ ڈال دی۔یہ قلعہ ایک اونچی پہاڑی چوٹی پر واقع ہے۔چڑھائی کے بعد قلعے کا بڑا گیٹ آیا۔یہاں سے دریائے چترال ایک نالے کی مانند نظر آرہا تھا اور دروش ایک نقشے کی صورت سامنے بچھا ہوا تھا۔مرکزی دروازے پر ہمیں سیاہ وردیوں میں ملبوس چترال ملیشیا کے جوانوں نے روکا۔ہم نے اپنا مقصد بھی بیان کیا اور درخواست بھی کی کہ ہمیں قلعہ دکھایا جائے۔

ایک جوان نے اندر رابطہ کیا اور کچھ دیر بعد ہمارے استقبال کے لیے ایک آفیسر تشریف لے آئے۔انہوں نے ہمیں قلعہ دکھاتے ہوئے بتایا کہ یہ چترال ملیشیا کا ہیڈ کوارٹر ہے اور جغرافیائی طور پر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔جب ہم ہیڈکوارٹر کا دورہ کر رہے تھے تو بیرکوں میں مصروف جوان ہمیں ترچھی نظروں سے دیکھتے تھے۔ہمیں لگ رہا تھا جیسے ہم دوسری جنگِ عظیم کی کسی فلم کے سیٹ پر ہیںاور فوجی اپنی ریہرسل میں مصروف ہیں۔لوہے کی فولڈنگ میز کرسیاں، درختوں سے لٹکتے آئینوں میں چہرہ دیکھ کر شیو کرتے جوان ہمیںدیکھنے کو صابن اور کریم لگا چہرہ موڑتے، ایک لمحے کو جھاگ بناتااور گال پر گول گول گھومتا برش رکتا اور پھر وہ مصروفِ عمل ہو جاتے۔کہیں منہ میں دبی سلگتی بِیڑیاںاور سگریٹ پیتے جوان جن کے پاس کچھ لوگ تام چینی کے مگوں میں چائے پیتے ہوئے۔یہ ایک منظر تھا۔

ذرا آگے بڑھے تو جیسے کیمرے نے ایک اور منظر دکھانا شروع کیا۔فوجی ٹرکوں کی قطاریںتھیں جن کے سامنے سے ہم گزر رہے تھے۔ایک ٹرک کے پیچھے ایک لمبا تڑنگا جوان اپنے دوسرے ساتھی کو ایک نقشے پر کچھ سمجھا رہا تھا۔مجھے لگا گنز آف نیوران میں گریگوری پیک، ڈیوڈ نیون کو اپنے منصوبے سے آگاہ کر رہا ہے۔آگے گئے تو کچھ جوان درختوں کی چھاؤں میں والی بال کھیل رہے تھے۔اس سے آگے راستہ اونچائی پر کسی نگرانی کی چوکی تک جاتا تھا۔ہم اوپر تک نہیں جانا چاہتے تھے سو واپسی کی راہ لی۔جب ٹرکوں کے پاس پہنچے تو دیکھا ڈیوڈ نیون ایک فوجی ٹرک کوچلاتا ہوا پیچھے جا رہا تھا اور گریگوری پیک ہاتھ کے اشارے سے اسے گائیڈ کر رہا تھا۔

واپسی پر ہمیں چناروں کی چھاؤں میں چائے پیش کی گئی اور پھر بہت سے آفیسرز ہمیں الوداع کہنے ہماری جیپ تک آئے۔

ہم شام کے اترتے سایوں میں دروش قلعے سے اتر رہے تھے۔

دروش کا بازار ابھی تک ہنگامے سے دوچار تھا اور لوگ اندھیرا ہونے سے پہلے اپنے کام ختم کر کے واپسی کی راہ لینے میں جلدی کر رہے تھے۔بہت سے بچے لکڑی کے ڈنڈوں اور درخت کی مڑی شاخوں سے چھوٹے گول پتھروں کو سڑک کے ایک سرے سے دوسرے تک لڑ کھا کر ہاکی نما کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔جب ہماری جیپ ان کے ’’کھیل کے میدان‘‘ میں داخل ہوئی تو ہماری اس’’ غیر قانونی مداخلت ‘‘پر انہوں نے احتجاج کیا اور باقاعدہ ’ اوئے‘ جیسی آواز بھی ہم پر کسی۔

یہ بچے بھی گولین، گرم چشمہ اور کوغذی کے بچوں جیسے ہی تھے جو اپنی سیاہ وردی اتارنا پسند نہیں کرتے۔اس بھر پور کھیل میں بھی ان کی کپڑے کی سیاہ ٹوپیاں جن پر سرخ کپڑے کا چھوٹا سا چاند یا مربع شکل کا ٹکڑا سامنے کی طرف سلا ہوتا ہے، سر سے نہیں گرتیں۔

ہمارے ڈرائیور نے مار ومار ہمیں جیپ میں چترال کی طرف اڑانا شروع کیا۔وہ ہمیں جلد پہنچا کر واپس جاتے نزدیکی وادیوں کے لوگوں کا پھیرا بھرنا چاہتا تھا۔جب ہم ایون کے پاس پہنچے تو وہ دُھلے سبزے کی چادر اور شام کے لمبے سایوں میں لپٹابہت حسین نظر آتا تھااور اس سے پرے کالاش کا نیلا شیش محل تھا اور آنکھیں جھپکتے آئینے تھے۔چمرکن میں سبزے کے قطعات کسی پینٹنگ سے کم نہ تھے جسے مدتوں بہار کے برش کی تجربہ کار محنت نے اس جگہ پینٹ کیا تھا۔

جب ہم چترال میں داخل ہوئے تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ہم نے اپنے جیپ والے سے کہاکہ وہ ہمیں شاہی بازار میں ہی اتار دے تاکہ ہم کھانا کھا کر ہی ہوٹل جائیں اور ظاہر ہے کھانا ہم نے اسی جگہ کھانا تھا جہاں ایک آرڈر میں تین سالن ملتے تھے۔

جیپ سے اتر کر جب ہم کھانے کے لیے بیٹھے تو بس تین سالن ہی منگوائے۔ہوٹل والے کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کی مہمان نواز سکیم اس کے نقصان میں جا رہی تھی لیکن اس نے پھر بھی خوش دلی سے ہمیں کھانا کھلایا۔ہم ’’مارننگ واک‘‘ کرتے ہوئے جب اپنی قیام گاہ پہنچے تو لان میں حاجی صاحب سے ٹاکرا ہو گیا۔

’’اسلام آباد والو! آپ لوگوں کا فون آیا تھا‘‘ حاجی صاحب ہماری طرف بڑھتے ہوئے بولے۔

’’ کوئی زلفی صاحب تھا کہہ رہا تھا نو بجے پھر فون کروں گا‘‘

’’لیکن حاجی صاحب اب تو سوا نو ہو چکے ہیں‘‘ میں نے کہا

’’ٹھیک ہے نا! نو بجے پھر فون آیا تھا، اب دس بجے آئے گا‘‘ حاجی صاحب نے کمال اطمینان سے بات کی اور ہمارے کمرے کی چابیاں آگے بڑھا دیں۔

’’ آپ فکر نہ کرو۔۔بس آرام کرو۔جہاز نہیں آئے گا‘‘ حاجی صاحب کا تکیہ کلام سن کر زبیر بول اٹھا،

’’ فکر کیوں نہ کریں حاجی صاحب ! گھر والے الگ پریشان ہیں۔دفتر سے چھٹیاں ختم ہو چکیں ہیں اور جیب سے پیسے ختم ہو رہے ہیں۔جانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔‘‘ وہ متفکر ہو کر کہہ رہا تھا۔

’’لیکن گھبرانے سے کیا ہو گا؟۔جہاز آ جائے گا؟۔جہاز نہیں آئے گا۔موسم خراب ہے‘‘ حاجی صاحب اپنے رٹے رٹائے جملے دہرانے لگے۔

ہم لوگ فون کے انتظار میں ڈائننگ ہال میں بیٹھ کر چائے پینے لگے۔حاجی صاحب کاؤنٹر پر فون کے پاس آ بیٹھے اور موسم کے حوالے سے ہماری معلومات میں اضافہ کرنے لگے۔

ٹھیک دس بجے فون کی گھنٹی بجی۔حاجی صاحب نے ریسیور اٹھایا اور اپنے کسی جاننے والے سے باتیں کرنے لگے۔

’’ ہاں جی !۔وعلیکم سلام۔آپ کا کیا حال ہے۔جی ادھر کا موسم؟۔ادھر کا موسم تو بس ایسا ہی ہے جی۔کبھی خراب ہو جاتا ہے، کبھی ٹھیک ہو جاتا ہے۔آپ لگاؤ نا چکر یہاں کا بہت خدمت کریں گے۔نہیں نہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ہم ہیں نا ادھر آپ کی سہولت کے لیے۔ہر ضرورت کا خیال کریں گے۔بچے؟ ہاں بچے بھی ٹھیک ہیں شکر ہے اللہ کا۔ہیلو ہیلو !۔آواز ٹھیک نہیں آرہی۔ذرا اونچا بولیں۔ہاں اب ٹھیک ہے۔جی بتا دیا تھا۔بچے ٹھیک اور خوش ہیں۔جی جی بتا دیا تھا۔بہت خوش ہوئے تھے کہ زلفی بھائی نے فون کیا۔۔۔‘‘

زلفی بھائی کا نام سنتے ہی زبیر فون کی طرف لپکااور حاجی صاحب کے ہاتھ سے ریسیور چھین لیا۔دوسری طرف واقعی زلفی بھائی تھے۔اگر زبیر نہ اٹھتا تو شاید حاجی صاحب خود ہی گپیں شپیں مار کر فون بند کر دیتے۔

زبیر نے زلفی بھائی کو سب حالات سے آگاہ کیا اور ہمارے تمام دفاتر کے فون نمبر دیے تاکہ وہاں اطلاع ہو سکے کہ ان کے ملازمین چترال کے ایک اور محاصرے میں نظر بند ہیں۔

زلفی بھائی نے کہا اگر صبح بھی فلائیٹ نہ آئی تو کل رات پھر فون پر بات ہو گی۔انہوں نے باری باری سب سے بات کی اور حوصلہ دیا کہ، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔انہوں نے ہمارے سب گھر والوں کی دعائیں ہمیں پہنچائیں کیونکہ سب کے گھر والے انھی سے رابطے میں تھے۔

ہم نے حاجی صاحب کا حساب زبر دستی بے باق کیا، وہ تو بے باکی سے کہہ رہے تھے کہ ابھی ضرورت نہیں، آرام کرو جہاز نہیں آئے گا۔حاجی صاحب کی سنے بغیر ہم اپنے کمروں میں آگئے اور جلدی سو کر جلدی اٹھے۔پھر ہم تھے، جیپ تھی اور ائر پورٹ تھی۔آج ہم نے کسی سے کچھ نہیں پوچھا اور نہ ہی کسی اعلان کا انتظار کیا۔ائر پورٹ پہنچ کر اس طرف رخ کیا جدھر سے جہاز نے آنا تھا۔وہ چوٹی ہنوز بادلوں کی دبیز تہ کے نیچے تھی۔ہنوز دلی دور است۔

امید پر دنیا قائم ہے سو ہم بھی امید کے سہارے ائر پورٹ پر ہی موجود رہے اور آخر کار نو بجے تمام پروازوں کی منسوخی کا اعلان ہوا تو ہم وہاں سے نکلے کہ پھر بکنگ آفس جانا ضروری تھا اور ایک بات یہ اچھی تھی کی اگلے دن اسلام آباد کی فلائیٹ کا شیڈول تھا۔

 

پچھلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

اگلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: