آرام کرو جہاز نہیں آئے گا (قسط ۱۵)۔۔۔۔۔۔۔۔ زاہد عظیم

0

چترال پہنچ کر ہم اُسی ہوٹل گئے جہاں پہلے ٹھہرے تھے۔ کاؤنٹر پر ہوٹل کے مالک حاجی صاحب تشریف فرما تھے۔ان کی چھوٹی چھوٹی سفید داڑھی، سفید لباس اور حرکات و سکنات سے ان کی حسِ لطیف کا پتا چلتا تھا۔وہ خاصے شرارتی بابے تھے یہی وجہ تھی کہ ہم نے دوبارہ اسی ہوٹل میںٹھہرنا مناسب سمجھا تھا۔

’’آؤ آؤ آپ کے کمرے ہم نے ابھی تک خالی رکھے ہوئے ہیں‘‘حاجی صاحب نے ہمیں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا۔

’’حاجی صاحب یہ تو آپ ویسے ہی کہہ رہے ہیں۔اگر گاہک مل جاتے تو آپ نے کہاں خالی رکھنے تھے ‘‘میں نے کہا۔

’’نہیں نہیں پھر بھی خالی رہتے۔یہ کمرے کوئی اور نہیں لیتا۔ان کمروں پر سایہ ہے‘‘ حاجی صاحب رجسٹر پر اندراج کرتے ہوئے بولے۔

’’جن بھوت کا سایہ؟‘‘اظہار اچھل کر بولا۔

’’تو اور کیا‘‘حاجی صاحب کا چہرہ سپاٹ تھااور وہ اپنے کام میں مگن تھے۔

’’ہم نہیں رہتے اس ہوٹل میں‘‘ زبیر نے بیگ اٹھاتے ہوئے اعلان کیا۔

’’اوہو۔۔گھبراتے کیوں ہو! ان کمروں پر سامنے والے چناروں کا سایہ آتا ہے، اس لیے یہ کمرے ٹھنڈے ہیں۔‘‘حاجی صاحب ہنستے ہوئے بولے۔

’’ہم پھر بھی نہیں رہتے۔آپ ہمیںٹھنڈے کمروں میں ٹھہراتے ہو‘‘ اب اظہار ناراض ہو رہا تھا۔

’’مگر عقلمند انھی کمروں میں ٹھہرتے ہیں کیونکہ یہ استعمال میں کم رہتے ہیں اس لیے صاف ہیں‘‘حاجی صاحب نے چابیاںہماری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

ہم ان کمروں کی طرف جا رہے تھے جن پر سایہ تھا اور وہ صاف تھے۔جب ہم لوگ کمروں میں سامان رکھ رہے تھے تو حاجی صاحب ہمارے پیچھے ہی آ گئے۔

’’اور کتنے دن رکو گے، دس دن یا زیادہ‘‘ حاجی صاحب نے پوچھا۔

’’حاجی صاحب ہماری تو کَل کی فلائیٹ ہے، ہم واپس جا رہے ہیں‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’ لیکن کیسے جاؤ گے جہاز تو نہیں آتا‘‘حاجی صاحب کروشیے کی بُنی ٹوپی اپنے سر پر فِٹ کرتے ہوئے بولے۔

’’حاجی صاحب ہفتے میں دو بار اسلام آباد سے جہاز آتا ہے اور روزانہ تین بار پشاور سے آتا ہے، یہی شیڈول ہے نا‘‘ میں نے جواب دیا۔

’’شیڈول تو یہی ہے لیکن جہاز آتا جاتا نہیں۔موسم خراب ہے نا‘‘ حاجی صاحب نے جب موسم والی بات کی تو میں ٹھٹکا کیونکہ جب ہم کوغذی میں تھے تو نسپاک کے لوگوں نے ہمیں چائے پلائی تھی۔وہاں ایک صاحب نے بتایا تھا کہ کئی بار ان کو جہاز کے لیے پندرہ پندرہ، بیس بیس دن انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ خراب موسم میں جہاز ادھر نہیں آتا۔

 

’’کتنے دنوں سے جہاز نہیں آیا‘‘ میں نے حاجی صاحب سے پوچھا۔

’’اس مہینے میں تو دو تین بار ہی آیا ہے۔ایک بار جب آپ لوگ آئے تھے اور دو بار اس سے پہلے۔آپ کے آنے کے بعد تو ابھی تک کوئی جہاز نہیں آیا۔‘‘ حاجی صاحب نے بیان دیا تو اظہار اور زبیر چارپائیوں پر ڈھیر ہو گئے۔

’’ہاں اسی طرح لیٹے رہو۔آرام کرو۔جہاز نہیں آئے گا‘‘حاجی صاحب نے کہا اور باہر نکل گئے۔

میں نے حالات کی نزاکت کے پیشِ نظر فوراََ پی آئی اے کے دفتر جانے کا اعلان کیااور باقی دوست بھی ٹھنڈے کمرے چھوڑ کر میرے ساتھ ہوٹل سے باہر آگئے۔باہر سڑک پر حاجی صاحب کسی کے ساتھ کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ہمیںہوٹل سے باہر نکلتا دیکھ کر بولے، ’’اب کہاں کا ارادہ ہے؟‘‘۔

’’ذرا ائر لائین کے دفتر سے معلومات لینے جا رہے ہیں‘‘میں نے کہا۔

’’ ہمیں سب معلوم ہوتا ہے۔ہمارے پاس ٹورسٹ آتا جاتا ہے نا۔اس لیے ہم جانتا ہے سب۔جہاز نہیں آئے گا۔موسم سخت خراب ہے نا ‘‘ حاجی صاحب کی باتوں سے ہمارا مورال گرتا جا رہا تھا۔

حاجی صاحب کسی اور آدمی کی طرف متوجہ ہوئے تو ہم وہاں سے نکلے اور اس سڑک پر چلنے لگے جو مین بازار کی طرف جاتی تھی اور جہاں پی آئی اے کا دفتر تھا۔کافرستان کی بارش چترال تک ہمارے ساتھ آئی تھی اور ہم اسی نرم پھوار میں بھیگتے ہوئے چلتے تھے اور ہمیں پرواز نہ ملنے کا خوف لاحق تھا۔

چلتے چلتے ہم ایک ویگن سٹاپ کے پاس سے گزرے تو شعیب کی نظر پشاور کے اڈے پر پڑی۔وہاں بہت سی ویگنیں خالی کھڑی تھیں۔ آفس کے اندر جا کر معلوم کیا تو پتہ چلا کہ لواری ٹاپ پر کئی کئی فٹ برف کی تہیں جمی ہوئی ہیں۔ابھی ا سکی برفیں پگھلنا شروع ہی نہیں ہوئیں۔امید تھی کی اگلے مہینے راستے کھلیں گے۔

ایک اور ویگن اڈے پر، پشاور براستہ کابل‘ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔وہاں بکنگ جاری تھی۔

میں افغانستان کی تاریخ اور جغرافیے سے واقف تھا اور جانتا تھا کہ ’افغانستان آزادم ‘کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ پُر سکون طریقے سے بے خوف و خطر سفر کرتے ہوئے پشاور پہنچ جائیں گے۔افغانستان کی طویل جنگ اور پھر خانہ جنگی نے اس کے شہروں اور راستوں کا جو حال کیا ہو گا میں سوچ سکتا تھا۔ان ٹوٹے پھوٹے راستوں پر بغیر پاسپورٹ کے سفر کرنا کتنا خطرناک ہو سکتا تھا۔اس حماقت کا گمان بھی حماقت تھا اس لیے میں نے اس راستے پر سفر کر نے کی مخالفت کی۔

ہمارے لیے چترال سے نکلنے کا واحد راستہ فضاؤں میں تھا، اور فضاؤں میں ہوائیں تھیں جو بہت منہ زور ہو رہی تھیں اور ان کے ساتھ اٹھکیلیاں کرنے آس پاس کی وادیوں کے بادل ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ادھر ہی کا رخ کیے چلے آتے تھے۔اسی لیے ان موسموں میں یہ تنگ وادیاں جہازوں کے لیے ممنوع قرار پاتی ہیں۔

پی آئی اے کا دفتر چترال بازار کے دوسرے کونے پر تھا۔ہم بہت لمبی اور بھیگی واک کے بعد جب اس دفتر پہنچے تو رش دیکھ کر سٹپٹا گئے۔دفتر میں ہر جگہ لوگ ایسے دکھائی دیتے تھے جیسے نیچے گری ٹافی پر چیونٹیوں کی یلغار۔کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔

کوئی آشنا چہرہ نہ تھا جو آگے بڑھ کر کہتا، ’’زاہد صاحب آپ!!؟۔کیا کام تھا؟ ہمیں بلا لیا ہوتا! آپ نے خود کیوں زحمت اٹھائی‘‘۔

لیکن ہمیں ہر طرح کی زحمت اٹھانا پڑی۔

ہر کھڑکی میں بیٹھے شخص کی کئی کئی بار منت کی اور درخواست کی کہ کسی طرح اگلے دن کی فلائیٹ میں ہمارے ناموں کا اندراج کر لے۔لیکن وہ بھی مجبور تھے۔ہم سے پہلے والے اور ان سے پہلے والوں سے بھی پہلے والوں کی ابھی تک باری نہ آئی تھی۔

’’شاید آرام ہی کرو، شایدجہاز نہیں آئے گا۔حاجی صاحب آپ تو بہت بڑے بزرگ نکلے۔کس آرام سے کہہ دیا آرام کرو۔۔۔کیسے آرام کریں!!!۔‘‘ واجد خود کلامی کا شکار تھا۔

میں نے دیکھا پولیس کے اعلی عہدیداراور انتظامیہ کے لوگ بھی چہروں پر مایوسی لیے گھومتے تھے اور آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔بکنگ کرنے والے لوگ جواب تو انہیں بھی وہی دیتے تھے جو ہمیں دیا گیا فرق صرف اتنا تھا کہ کرسی سے کھڑے ہو کر بات کرتے تھے اور انہیں رخصت کرنے باہر تک جاتے تھے۔

بکنگ والاایک شخص جب اسی طرح باہر تک آیا اور اعلی عہدیدار کو رخصت کر چکا تو میں لپک کر اس تک پہنچا اور وہیں کھڑے کھڑے اپنی دفتری اہمیت، ٹی وی کی مصروفیات، اور دوسرے دوستوں کی مجبوریاں بیان کیںاور بتایا کہ ہمیں جلد از جلد اسلام آباد پہنچنا ہے۔یہ عرض بھی کی کہ ہم لوگ کسی بھی صورت افغانستان کے راستے نہیں جا سکتے جبکہ مقامی لوگوں کے لیے تو یہ روز کا معمول تھا۔میں نے درخواست کی کہ ہمیں کوئی اضافی ہمدردی نہیں چاہیے، بلکہ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ ہماری اسلام آباد کی کنفرم سیٹیں کسی اور با ا ثر شخص کے نام پر درج نہ کر دی جائیں۔میں نے اپنی کنفرم ٹکٹیں بھی دکھائیں اور درخواست کی کہ کل کی فلائیٹ کے کنفرم مسافروں کے رجسٹر میں ہمارے نام درج کرلیے جائیں۔

اللہ بھلا کرے ان صاحب کا انہوں نے ہمیں بہت ہی قیمتی مشورہ دیا کہ اگلے دن اسلام آباد کی تو صرف ایک فلائیٹ ہے جبکہ پشاور کی تین فلائیٹس ہوں گی لہٰذا پشاور کی ٹکٹیں بھی لے لی جائیں تاکہ جس جگہ کا بھی چانس ملے اسے حاصل کیا جا سکے۔

یہ مشورہ اس لیے بھی بہت اہم تھا کہ اگر صبح اسلام آباد کی پروازمنسوخ ہوتی ہے تو پھر تین دن کے بعد اس کی باری تھی اور ہم مزید تین دنوں کاقیام کرنے کے متحمل نہیں تھے۔پشاور کی روزانہ تین پروازوں کے شیڈول کی وجہ سے ہمیں یہ راستہ بھی کھلا رکھنا ضروری تھا۔

ان صاحب نے ہمارے ناموں کا اندراج اسلام آباد کی فلائیٹ میں تو کیا ہی، ساتھ ہی انہوں نے ہمیں پشاور کی کنفرم ٹکٹیں ایسے لوگوں سے لے دیں جو افغانستان کے راستے، پشاور جا رہے تھے اور ٹکٹ ریفنڈ کروانے آئے تھے۔یہی نہیں بلکہ انہوں نے ان کا اندراج بھی پشاور والے رجسٹر پر کنفرم کر دیا۔

پہلا قلعہ فتح ہو گیا تھا۔آرام کرو جہاز نہیں آئے گا کے نعرہ کی آواز دبنے لگی تھی۔حاجی صاحب آپ آرام کرو، کوئی نہ کوئی جہاز ضرور آئے گا۔

بارش ابھی تک نہیں رکی تھی کبھی تیر ہو جاتی تو کبھی ایک پھوار کی صورت برستی تھی۔ہم اب اطمینان سے ویٹنگ روم میں بیٹھ گئے تاکہ تیز بارش جب پھوار بن جائے تو باہر نکلیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ بھی جانے لگے۔ویٹنگ روم میں رش کچھ کم ہوا تو ہم ایک ہی جگہ اکٹھے ہو کر آنے والے دنوں اور موجودہ صورتِ حال کے بگڑنے کی صورت میں وقوع پذیر ہونے والے حالات پر گفتگو کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد میں نے دیکھا ایک دیو قامت سایہ ہماری طرف بڑھ رہا تھا۔باہر بارش کی وجہ سے روشنی قدرے کم تھی اور ہال میں بھی کم ٹیوب لائیٹس کی وجہ سے خاطر خواہ روشنی حاصل نہیں ہو رہی تھی اس لیے فوری طور پر میں اس سائے کو شناخت نہ کر پایا۔جب وہ سایہ میرے بالکل سامنے آیا تو دیکھا وہ ایک دیو قامت مغربی خاتون تھی جس نے کھلا سا سیاہ فلیپر اور سیاہ شرٹ پر لمبی سی سیاہ جرسی پہن رکھی تھی۔

’’ ہیلو ! آئی ایم میری۔مریم۔‘‘ اس نے پاس آ کر خود ہی اپنا تعارف کرایا۔لفظ ’مریم‘ اس نے زور دے کر ادا کیا شاید اسلامی ملک میں وہ ’میری‘ کے بجائے مریم کے طور پر اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھ رہی تھی۔

’’میں چترال کے بارے میں کچھ جاننا چاہتی ہوں‘‘ اس نے ہمیں مخاطب کیا۔اظہار اپنی جگہ سے اٹھا اور فوراََ اسے بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے بولا،

’’پلیز بی سیٹڈ‘‘ اس نے اپنی سیٹ کی طرف اشارہ کیا۔مریم اگلے ہی پل اس کی جگہ پر بیٹھ چکی تھی۔اظہار نے ساتھ والی سیٹ سے زبیر کو اٹھایا اور خود ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔

وہ چالیس پینتالیس سال کی تیز طرار سی یورپی خاتون تھی جس کی حرکتیں بالکل بازاری عورتوں جیسی تھیں۔جب اظہار اپنی وہ معلومات، جو اُس نے وحید صاحب سے لیں تھیں، اس میم کے گوش گزار کرنے کے لیے اپنی ’گلابی انگریزی‘ کا استعمال کرتا تو وہ اظہار کی زبان دانی کی تعریفیں کرتے کرتے آس پاس سے بے نیاز ہو کر اس کے ساتھ جالگتی۔

یہ پہلا موقع تھا کہ ہمیں یہ دخل در معقولات گراں گزر رہی تھی۔ایک تو اس خاتون کی حرکتیں، اوپر سے پرواز والی ٹنشن اور اصل بات یہ تھی کہ واجد اور میرے دفتر میں کچھ اہم پروجیکٹس چل رہے تھے اور ہم نے گارنٹی کے ساتھ کہا تھا کہ پانچ دن میں واپس آجائیں گے۔

زبیر اور شعیب نے بھی زلفی بھائی کے ساتھ ایک گھریلو تقریب میں شرکت کرنی تھی اس لیے ہم سب تناؤ کا شکار تھے۔اگرچہ اظہار کو بھی اپنے کاروبار سے لمبی غیر حاضری کی اور اپنے والدین کی صحت کی فکر تھی، اس کے باوجود وہ سب کچھ سر سے ٹالے، مریم سے ’انگریزی سیکھیے ‘ قسم کی مشق آزما رہا تھا۔

ہم ان کو وہیں چھوڑ کر باہر آگئے۔ویسے بھی وہ اپنی باتوں میں اتنے مگن تھے کی انہیں ہمارے اٹھنے کی خبر بھی نہیں ہوئی۔

شعیب کا بھوک سے برا حال ہو رہا تھا اس لیے اس کی اضطرابی کیفت دیکھ کر میں نے اظہار کو بلا لیا۔وہ اس بات پر ناراض ہو رہا تھا کہ اس کی انگریزی پر نکھار آنے لگتا تھا تو ہم لوگ رنگ میں بھنگ ڈال دیتے تھے۔

ہم بازار سے ایک ویگن میں بیٹھ کر شاہی بازار آگئے۔راستے میں ویگن والے سے ہم نے کھانے کی کسی اچھی جگہ کا معلوم کیا تو اس نے ہمیں ایک ہوٹل کے سامنے اتارا۔اس کے بقول وہاں کا باورچی پورے چترال میں بہترین کھانا بناتا تھا۔

ہم ہوٹل میں پہنچے تو کھانے کی دلفریب خوشبو نے ہمارا استقبال کیا۔پوچھنے پر بیرے نے بتایا کی دال، سبزی اور گوشت پکا ہے۔میں نے دو دال، ایک سبزی اور دو گوشت کا آرڈر دیا۔جب سالن آئے تو اس کے ساتھ گرم چشمے والی حیرتیں بھی آئیں۔دال کے آرڈر پر دال تو بڑی پلیٹ میں تھی لیکن ساتھ دو کٹوریوں میں سبزی اور گوشت کا سالن تھا۔سبزی کے آرڈر میں سبزی بڑی پلیٹ میں اور باقی سالن کٹوریوں میں تھے۔یہی حال گوشت کا تھا۔مجھے اندازہ ہوتا تو شاید ہم کم آرڈر کرتے کیونکہ سالن بچ جانے سے ضائع ہونے کا خطرہ تھا۔

اس کھانے کے انداز اور ذائقے نے ہمیں پرواز اور دفتر سے غیر حاضری کی فکر سے کچھ دیر کے لیے آزاد کر دیا تھا۔ہم نے کھانا بہت تسلی اوررغبت سے کھایا۔

بارش تھم چکی تھی اور پیٹ بھرکے کھانا کھانے کے بعد بقول اظہار ’’مارننگ واک‘‘ ضروری تھی، لہٰذا ہم ’مارننگ واک‘ کرتے ہوئے اپنے ہوٹل پہنچ گئے۔

ہوٹل کے باہر حاجی صاحب کھڑے تھے ان کے پاس ہی ایک ویگن بھی کھڑی تھی۔حاجی صاحب ویگن ڈرائیور اور کنڈکٹر سے غصے میں باتیں کر رہے تھے۔ہمیں دیکھتے ہی ان کا موڈ ٹھیک ہو گیا۔

’’مبارک ہو ! مبارک ہو ! موسم ٹھیک ہو گیا ہے، صبح جہاز ضرور آئے گا‘‘

’’پکی بات ہے نا حاجی صاحب! ‘‘ زبیر نے حیرت سے حاجی صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’کیوں نہیں پکی بات۔بے فکر ہو جاؤ۔کہہ جو دیا ہے۔بس جا کر پیکنگ کرو‘‘ حاجی

صاحب ہمیں ہوٹل میں بھیجنے کو بیتاب تھے۔پھر وہ ویگن ڈرائیور کی طرف منہ کر کے بولنے لگے،

’’تم لوگ جاؤ نا! دیکھ نہیں رہے، صاحب لوگ ہیں۔ویگن پر نہیں جا سکتے۔کل جہاز پر جائیں گے۔تم لوگ جاؤ۔اب ادھر نہ آنا‘‘۔حاجی صاحب کے ان الفاظ سے میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ ہمیں بائی روڈ لے کر جانے کو آئے تھے اور حاجی صاحب اپنی دہاڑی لگانے کے چکر میںان کو رفو چکر کر رہے تھے۔

’’حاجی صاحب بات تو کرنے دیں نا، جی!۔‘‘ ڈرائیور حاجی صاحب کی بات سنے بغیر پھر بولنے لگا،

’’صاحب موسم ابھی تک خراب ہے اور کئی دنوں سے ایسے ہی چل رہا ہے۔آپ بائی روڈ جانے کا پروگرام بناؤ جی۔ہم ہر ہوٹل سے بکنگ کر رہے ہیںتا کہ ٹورسٹ خراب نہ ہو‘‘۔

ڈرائیور ابھی بول ہی رہا تھا کہ حاجی صاحب بول پڑے،

’’میں نے بتایا ہے نا، یہ ٹورسٹ نہیں ہیں۔یہ اپنے مہمان ہیں۔انہیں رہائش کا کوئی مسئلہ نہیں۔پیسے بھی ختم نہیں ہوئے۔جب جی چاہا ہم خو د ہی انہیں بھیج دیں گے۔فی الحال تم لوگ جاؤ‘‘ حاجی صاحب ہمارے تایا ابا بنے لیکچر فرما رہے تھے۔انہوں نے تقریباََ دھکیلتے ہوئے ان دونوں کوویگن میں بٹھایا۔جب وہ چلے گئے تو حاجی صاحب مسکراتے ہوئے ہوٹل میں چل دیے اور میرے قریب سے گزرتے وقت میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے،

’’ کسی گاڑی والے سے بات کرنے کی ضرورت نہیں خوا ہ مخواہ راستے میں کہیں مروائیں گے۔یہ راستے محفوظ نہیں۔ہر دوسرے دن کوئی قافلہ لٹ جاتا ہے۔یا اندھی گولی سے لوگ مر جاتے ہیں۔فکر کی بات نہیں۔جہاز کسی نہ کسی دن توضرور آئے گا۔ابھی آرام کرو‘‘۔

معلوم نہیںحاجی صاحب ہمیں ڈرا رہے تھے یا واقعی ہماری مدد کرنا چاہتے تھے۔ہم نے چترال بازار میں ان مرسڈیز گاڑیوں کو دیکھا تھا جو بہت مضبوط بھی تھیں اور عوام اس پر بے دھڑک سفر بھی کرتی تھی۔یہ سب گاڑیاں چھت تک مسافروں سے بھری ہوتی تھیں۔

ہوٹل جاتے ہی حاجی صاحب نے ہمیں چائے بھجوا دی جسے پیتے ہی ہم بستروں پر دراز ہو گئے۔البتہ اظہارکچھ بے چین سا ہو کر ادھر اُدھر پھرنے لگا۔زبیر نے اس سے میٹھے پیارے بن کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ مریم سے ملنے اس کے ہوٹل جانا چاہتا تھا۔ہوٹل آنے کا وعد ہ مریم نے قسم دے کر لیا تھا۔

اظہار کو کوئی بھی دوست اُدھر جانے نہ دیتا تھا تو وہ بور ہو کر یا احتجاجاََاپنے جاگرز سمیت رضائی میں گھس گیا۔اس کے جوتے چارلی چپلن کی فلم کا منظر یاد دلاتے تھے جس میں وہ تو لحاف میں تھا لیکن اس کے جوتے باہر لٹک رہے تھے۔چارلی کا سر بھی اسی طرف تھا کیونکہ اس نے جوتے اپنے ہاتھوں پر پہنے ہوئے تھے۔اظہار کے سر کی خبر نہیں کس طرف تھا۔

بعض اوقات انسان کو اپنے سر کی واقعی خبر نہیں ہوتی کہ کہاں ہے۔ہوتا اپنے ہی کاندھوں پر ہے لیکن رہتا کسی کے شانوںپر ہے۔دوسروں کے شانوں پر رہنے والا سر، شان والا نہیں رہتا۔۔۔شانوں والا ہی رہتا ہے۔اور وہ سر جو خاک بسرہو!! اور وہ خاک جو سر بسر ہو!!۔کبھی نیزے والا سر اورکبھی نیزے کی انی میں پرویا سر، سر بلند ہوتا ہے۔کچھ سر، تاج سجے بغیر سرتاج اور کچھ تاج سجنے پر سر خوشی اور سرشاری میں سب کچھ بھول جاتے ہیں تو لوگ انہیں بھول جاتے ہیں۔کچھ سر، سر فروشوں کے ہوتے ہیں جو اپنے آج پر آنے والے کل کی تعمیر کرتے ہیںاور کچھ نوسر باز سراسرنا انصافی اور ظلم کی آبیاری کرتے ہیں اور ننگِ قوم و وطن کے طور پر جانے جاتے ہیں چاہے ان کے نام کتنے ہی با برکت حوالوں والے کیوں نہ ہوں، میر جعفر اور میر صادق غدار ہی کہلائیں گے۔

کچھ سر، سرِ دار بھی کلمہء حق کا نعرہ بلند کرتے ہیں اور ابدی حیات کا راز پا لیتے ہیں کہ سر وہی جو ایک ہی در پہ جھکے، لیکن یہ سر رکھنا اور ہونا بہت ہمت اور محنت مانگتا ہے۔

’’ سر جی ! سر جی!‘‘ ایک مدھم اور دبی دبی آواز سے میں جاگا۔دروازے میں تاریکی کا لبادہ اوڑھے دو ہیولے سے کھڑے تھے۔

’’سر جی!‘‘ آواز پھر آئی۔

’’کون ہے بھئی‘‘ میں نے نیم غنودگی میں پوچھا۔

’’ ہم ہیں سر جی ! ترچ میر کوچ والے‘‘ آواز آئی۔

’’یہ ترچ میر، کوچ کب سے ہو گئی، یہ تو پہاڑی چوٹی تھی‘‘ میں نے اٹھتے ہوئے کہا اور کمرے کی بتی جلا دی۔

’’سر جی ہم۔۔ہم پشاور براستہ افغانستان۔۔۔‘‘

’’اچھا اچھاــ تم ہو‘‘ میں نے پہچان کر کہا۔

’’سر جی یہ حاجی صاحب تو ہر مسافر سے ایسے ہی کرتا ہے۔جہاز آئے گا۔جہاز نہیں آئے گا۔لیکن ہم آپکو بول رہے ہیں ان کے چکر میں نہ آنا۔اگر جہاز آگیا تو ٹھیک ورنہ سیدھے ہمارے اڈے پر آ جانا، یہ ہمارے اڈے کا پتا ہے‘‘ ڈرائیور ایک کارڈ میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔

سگریٹ کے پیکٹ کے گتے پر ٹو ٹی پھو ٹی لکھائی میں لکھا ایک ایڈریس انہوں نے مجھے دیا اور چلے گئے۔ان کی آواز سے باقی ساتھی بھی جاگ گئے۔اس وقت رات کے نو بج چکے تھے۔سب کا فیصلہ تھا کہ کھانا نہیں کھایا جائے گابسچائے بسکٹ کے دور چلتے رہیں گے اور اظہار کی مشرقِ بعید کی داستان سنی جائے گی۔

چائے منگوائی گئی اور سب اپنے لحافوںمیں گھس کر اظہار کی سفری داستان سننے لگے۔

’’زاہد بھائی بنکاک ائر پورٹ سے جو فلائینگ کوچ ہمیں لے کر ریزوٹ جا رہی تھی میں اس کی آخری سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔پچھلا اے سی کام نہیں کر رہا تھا اور بہت گرمی تھی۔میں نے اٹھ کربہت زور سے ڈرائیور کو آواز دی، ’مائی بیک سائیڈ از ویری ہاٹ‘ تو سب ویگن والوں نے قہقہہ لگایا تھا۔‘‘

’’اب کیا صورت ہے تمہاری‘‘ واجد نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’یار اسے ٹوکو مت۔اب تو یہ مزے لے لے کر واقعات سنا رہا ہے۔اسے چلتا رہنے دوــ‘‘ میں نے سب کو منع کیا۔
’’میرے ساتھ ایک سردار جی بیٹھے تھے انہوں نے دو جگہوں کے ایڈریس دیے کہ ضرور جانا۔ ایک تو سمندر کے ایک خوبصورت ساحل کا ایڈریس تھا اور دوسرا ایک تھیٹر کا تھا۔تھیٹر کے حوالے سے سردار جی نے بتایا کہ اگلی نشستوں پر نہیں بیٹھنا۔پہلے میں تھیٹر دیکھنے گیا اور اگلی خالی نشستیں چھوڑ کر درمیان والی سیٹوں میں سے ایک پر جا بیٹھا۔لوگ دوڑ دوڑ کر اگلی نشستوں کی طرف ہی جاتے تھے۔

 

پچھلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

اگلی قسط کے لیے اس لنک پر کلک کیجے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: